ضرورت نمائندگان:۔
ہفتہ، 2 اپریل، 2022
سرگودھا(ظفر اعوان )زندگی خوابوں کے گرد گھوم رہی ہے ۔ خواب وہ نہیں ہوتے جو نیند میں آتے ہیں۔ درحقیقت خواب تو وہ ہیں جو ہمیں سونے نہ دیں ۔ خوابوں کی تعبیر کے لیے عذابوں کی رت سے گزرنا پڑتاہے۔ وہ تخلیق کار جو معاشرتی اصلاح کے لیے قلم سے جہاد کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ عوام الناس کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ ماہر قانون ، شاعرہ اور مصنفہ محترمہ سعدیہ ہما شیخ کا ناول ” خوابوں کے رنگ“ بے راہ روی اور معاشرتی برائیوں کے خلاف ایک آوازِ حق ہے ۔ اِن خیالات کا اظہار پاکستان ادب اکادمی کے چیئرمین ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے تنظیم برداشت کے زیر اہتمام ناول ” خوابوں کے رنگ“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیاجس کا اہتمام سولو ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ قبل ازیں ڈاکٹر عتیقہ ریحان(ڈائریکٹر سرگودھا ڈرائی پورٹ)، سعدیہ ہماشیخ ایڈووکیٹ ، ملک آفتاب احمد اعوان(ضلعی صدر برداشت)، عاطف ممتاز گوندل(ماہر قانون)، انم خان(نائب صدر برداشت)،عتیق الرحمن(ڈائریکٹر پی جی ایس)، ملک عابد اعوان (ڈسٹرکٹ کوارڈی نیٹر برداشت)، وارث ندیم وڑائچ(ڈائریکٹر کمپرہنسیوی سکول و کالج) ، طارق اعوان(ایڈیٹر سرگودھا پوسٹ)، سید انور(ممتاز آرٹسٹ)، انشراح فیصل اور مصطفی فیصل نے بھی خطاب کیا۔فیصل نور اعوان نے جملہ مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے مزید کہا کہ سچائی اور حق لکھنا مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں ۔ ہمیں کلمہ ¿ حق بلند کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ محترمہ سعدیہ ہما شیخ نے کہا کہ میری رشحات کا مقصد ہے کہ ہماری نسلیں وقتی مفاد اور لذتوں کے لیے جس دلدل میں شوق سے گررہی ہیں وہ بچ جائیں ۔ اس ناول کو پڑھ کر کوئی ایک کالج ، یونی ورسٹی کی بچی بھی اپنے بہکتے قدموں کو روک لیتی ہے تو سمجھیے میرا مقصد پورا ہو گیا یہ کہانی ہے ہوسٹل میں رہنے والی تین لڑکیوں کی ، یہ کہانی ہے اپنی آنکھوں میں اپنی چادر سے بڑے خواب سجانے والی آنکھوں کی۔ وارث ندیم وڑائچ نے کہا کہ تعلیمی زوال کا سبب کتابوں سے دوری ہے ۔ ہمیں کتابوں سے رابطہ رکھنا چاہیے۔ کتابوں کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے ۔ نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے تعلیمی اداروں میں لائبیریوں کا راستہ ہموار کرنا آج کی اہم ضرورت ہے ۔ مغرب نے کتابوں کے بل بوتے پر ہی ایجادات کی ہیں۔ سعدیہ ہما کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ شاہینوں کے شہر سرگودھا کی خواتین تحریر و تقریر میں بہت فعال ہیں جس کی ایک مثال سعدیہ ہما شیخ کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ اُنھوںنے شعر و سخن اور ادب کی کئی اصناف پر طبع آزمائی کی ہے ۔ اُن کا ناول ” خوابوں کے رنگ“ نوجوان نسل کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں وہ اپنی زندگی کے بہت سے راستے ہموار کر سکتی ہیں۔ کم وقت میں 220صفحات پر لکھا گیا یہ ناول اپوا ءپبلی کیشن نے شائع کر کے ایک بہت بڑی ادبی خدمت انجام دی ہے ۔ برداشت کی طرف سے ملک آفتاب اعوان نے محترمہ سعدیہ ہما کو گلدستہ اور ایک شیلڈ سے نوازا۔ بعد از تقریب عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔
منگل، 15 مارچ، 2022
😝😝😝شیخ زندگی میں پہلی بار دُنبہ کھانے کے لیے ذبح کروا رہا تھا، دنبے کے پاس بیٹھ کر خود کلامی کر رہا تھا. بولا: جگر اور گُردوں کی تو کڑاہی بنے گی، نرم گوشت کے کباب بناؤں گا اور چربی، سری پائے یخنی کے لیئے الگ رکھوں گا. چمڑے کی جیکٹ بنواؤں گا اور اس کی اُون شال بنانے کے کام آئے گی. قصائی چُھری پکڑے اُس کی طرف مُڑا اور بولا: "شیخ جی! ایدی آواز وی ریکارڈ کر لو موبائل رنگ ٹون دے کم آئے گی.۔۔۔۔😀😀😀
ہفتہ، 12 مارچ، 2022
عورتوں کے وکیل اسلام سے پہلے عورت کی حالت بہت قابل رحم تھی اور اس بات کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں عورت پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے دنیا کے ہر خطے میں عورت کا استحصال کیا گیا زندہ دفن کر دیا جاتا تھا سورہ نحل میں ہے (جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر ملتی تو غم کے سبب ان کا رنگ کالا پڑ جاتا وہ غمناک ہو جاتا اور اس خبر کو لوگوں سے چھپاتا اور سوچتا تھا اس لڑکی کو زندہ رہنے دیں یا زمین میں گاڑ دیں) شوہر وفات پا جاتا تو بیوہ کو اس کی لاش کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا ،کہیں ونی کر دیا جاتا کہیں بھیڑ بکری کی طرح بازاروں میں بیچ دیا جاتا اور کہیں لونڈی بنا کر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا جاتا اسلام سے قبل عورت کو کوئ حق حاصل نہ تھا یورپی اقوام اسے حیوانوں اور شیاطین میں شمار کرتی تھیں حتی کہ انہیں مقدس کتابیں پڑھنے کا بھی کوئ حق نہ تھا یونانی تہذیب میں عورت، مردوں سے کم تر تھی اسے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا یونانی معاشرے نے صرف جنسی استمال کی چیز بنا رکھا تھا بلکہ کہا جاتا تھا : عورت ایک ایسا حیوان ہے جس کے بال لمبے اور سوچ چھوٹی ہوتی ہے رومی تہذیب میں عورت کی یہ اہمیت تھی کہ شوہر انہیں قتل بھی کر سکتے تھے اس کے علاؤہ عورت کو عصمت فروشی کے لئے استعمال کیا جاتا مصری عورت کو برائ سمجھتے اور انہیں شیطان کی نشانی قرار دیا جاتا تھا یہودی بھی عورتوں کو کمتر سمجھتے عورت کی گواہی کی کوئ حثیت نہ تھی کہ یہاں تک کہتے کہ اگر تم نے دیکھ لیا کہ ایک گدھا لکڑی کی سیڑھی پر چڑھ گیا تو پھر عورت میں بھی عقل ا جائے گی پھر عرب معاشرے میں انقلاب آیا جس نے سب بدل دیا اس معاشرے میں محمد ص نبی بن کر آئے جنہوں نے عورت کی حالت بدل دی آپ عورتوں کے وکیل بن گئے اور پھر ایسی وکالت کی کہ عورت کا ہر روپ معتبر ہو گیا وہ مرد کے سر کا تاج بن گئ بیٹی کے روپ میں جنت کی بشارت بن گئ ماں کے روپ میں مرد کی جنت اس کے پیروں میں رکھ دی بیوی کی صورت میں مرد کا لباس بنا دیا اور بہن کے روپ میں شرم وحیاء کا پیکر قرار دیا آپ آقائے کل نے عورت کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر بلند مقام اور عزت عطا کی وہ عورت جسے جینے کا حق بھی حاصل نہ تھا اس کے وکیل بن کر اسے اس کے حقوق دلوائے جن میں سرفہرست جینے کا حق تھا ایسی آزادی دلوائے جس کا مغربی عورت آج بھی تصور نہیں کر سکتی آپ ص نے سا بقہ عالمی نظام میں خواتین پر روا رکھے گئے تمام مظالم کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی ارشاد فرمایا! اے لوگو! بے شک تمہارے کچھ حقوق عورتوں پر واجب ہیں اور اسی طرح عورتوں کے کچھ حقوق تم پر واجب ہیں (ان کی پوری طرح حفاظت کرنا) عورتوں سے ہمیشہ بہتر سلوک کرنا اور عورتوں کے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کی عزت کی بلندی اور اس کے سماجی،معاشی،قانونی،عائلی اور اخلاقی حقوق کا تعین و تحفظ کر کے حقوق نسواں کے مسائل کا متوازن حل نکال دیا آپ ص نے بنی نوع انسان کو یہ ھدایت کی اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش ایک جان سے کی ہے پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں کو پھیلایا مزید کہا و عاشرو ھن بالمعروف اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو آپ نے درج ذیل حقوق عورت کو دلوائے جن کی نظیر کسی معاشرے میں نہیں ملتی تعلیم کا حق آپ ص نے عورت کو تعلیم کا حق دیااور یہ تعلیم ہی ہے جو حقوقِ سے آشنا کرتی ہے آپ نے فرمایا! مروں کی طرح عورتوں کو بھی علم حاصل کرنے کا حق ہے کمانے کا حق آپ ص نے عورت کو کمانے کا حق دیا اور کہا کہ وہ اپنے مال پر پورا تصرف رکھتی ہے اور اس کا آزادانہ استعمال کر سکتی ہے جبکہ مرد اپنا مال عیال پر خرچ کرنے کا پابند ہے اس کی سب سے بڑی مثال حضرت خدیجہ ہیں جو عرب کی مالدار تاجر خاتون تھیں گواہی کا حق دین اسلام نے اس عورت کو گواہی کا حق دیا جسے جینے کا حق بھی حاصل نہ تھا بحث و مباحثہ اور رائے کا حق عورت جو بحث اور رائے کی آزادی دی وہ اپنی بھرپور رائے کا اظہار کر سکتی ہے سوالات کر سکتی ہے اس کی بہترین مثال حضرت عائشہ ہیں جو آپ ص سے سوالات کرتی تھیں اور بغیر تحقیق کے کوئ بات قبول نہ کرتیں اور یہ مقام مرے نبی نے ہر عورت کو دیا اسے کمتر نہ سمجھا نکاح کا حق آپ ص کی نبوت سے پہلے عورت کو بھیڑ بکری سمجھا جاتا تھا مگر اسلام نے عورت کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا حق دیا اور یہاں تک کہ دیا کہ عورت کی مرضی کے بغیر کوئ اس کا نکاح نہیں کر سکتا بلکہ عورت بھی مرد کو نکاح کا پیغام دے سکتی ہے دوسری شادی کا حق اسلام سے پہلے عورت کو مرد کے ساتھ مرنے پر مجبور یعنی ستی کیا جاتا تھا مگر اسلام نے عورت کو دوبارہ نکاح کا حق دیا یوں آپ بیوہ اور مطلقہ کے وکیل بنے انہیں مرتبہ دیا جنہیں منحوس سمجھا جاتا تھا اور انہیں عقد ثانی کا حق دیا اور اس حق نے بے راہ روی اور گناہ کا راستہ روکا آپ ص نے فرمایا! عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے حلال ہیں دو دو اور تین تین اور چار اور یہ حکم اسی لئے دیا تا کہ معاشرتی متوازن ہو اور جنسی مسائل نہ پیش آئیں لوگ بیوہ اور مطلقہ کو چھوت نہ سمجھیں بلکہ۔ جاے کر کے انہیں عزت دیں طلاق کا حق یہ دین اسلام کی ہے جس نے عورت کو مرد سے آزاد ہونے کا حق عطا کیا اسے ناپسندیدہ رشتے سے آزاد ہونے کا حق دیا خدمت خلق کا حق آپ ص نے عورت کو آزاد انسان کی طرح زندگی بسر کرنے کا حق عطا کیا وہ ا،اد ہے دین کے لئے دین نے لئے کام کرنے کےئے اور گھر سے نکلنے کے لئے وراثت کا حق اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ عورت کو وراثت میں حصہ دار بنا کر اسے معاشرتی طور پر مضبوط کرنا یے مسلمان عورت کو آگاہ ہونا چاہئے کہ جو توقییر اور عزت اس کے رب اور اس کے رسول نے اسے عطا کی دوسری اقوام اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں ہیں آپ ص نے فرمایا! مجھے دنیا کی نعمتوں میں عورت اور خوشبو پسند ہیں زمانہ جہالت میں بیٹوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے اپ نے بیٹی کا وکیل بن کر اسے رحمت قرار دیا اور بیٹی کی پرورش کرنے والے کو جنت کی بشارت دے دی آپ ص اپنی پیاری بیٹی فاطمی کی آمد پر کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور ان کے لئے خود کپڑا بچھاتے بیٹی کو حیا کا مرکب بنا دیا آپ ص نے فرمایا! جس مسلمان کی دو بیٹیاں یوں اور وہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرے تو وہ اس کو جنت میں داخل کروائیں گی اسی طرح ماں کے قدموں ے جنت رکھ کر عورت کو بلند مقام عطا کیا آپ ص نے فرمایا میرا سر سجدے میں ہوتا اور مجھے مری ماں پکارتی تو میں دوڑا چلا جاتا ماں کو سراہا دعا بنا دیا حدیث نبوی کے الجنتہ تحت اقدام الامھات جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے بیوی کے روپ میں وفا بنا دیا جسے لونڈی سمجھتے تھے اسے مرد کا لباس قرار دیا آپ ص ازدواج کے ساتھ انصاف کرتے ان کے ساتھ گھر کے کاموں میں مدد کرتے اور ان کے لاڈ اٹھاتے آپ ص نے فرمایا نیک بیوی مرد کے لئے دنیا میں جنت ہے آپ ص نے فرمایا! خیر کم خیر کم لاھلہہ و انا خیر کم لاھلہہ :تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے لئے بہتر ہوں: اسی طرح بہن کے رشتے کو توقیر عطا کیا سے درد آشنا بنا ڈالا آپ ص کی بین شیما آپ سے اور آپ ان سے بیت محبت کرتے تھے آپ ص نے عورت کا وکیل بن کر اسے مرد کے برابر درجہ دیا آپ ص نے انہیں نازک آبگینے کیا اور ان کے ساتھ نرم سلوگ اور درگزر کرنے کی ھدایت کی اسی طرح آپ ص نے فرمایا! دنیا ایک متاع بے اور دنیا کی سب سے خوبصورت متاع نیک اور پرہیز گار عورت ہے آپ نے ایک بیوی کی وکالت کر کے اسے اس کے حقوق سے روشناس کرایا بیٹی کے وکیل بن کر اسے اس کا حق دلوایا آپ نے ماں کو اس کا درجہ دلوایا اور کہا کہ حسن سلوک کی زیادہ حق دار تمہاری ماں ہے ایک شخص نے عرض کی میرے حسن سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے آپ ص نے فرمایا تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیری ماں اور پھر تیرا باپ آپ ایک بہن کے وکیل بنے اور ان سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا آپ ص نے فرمایا! عورتوں کی عزت،عزت والا ہی کرتا ہے اور ان سے توہین آمیز سلوک وہی کرتا ہے جو کمینہ ہو آپ ص نے نہ صرف حقوق دئے بلکہ انہیں پورا نہ کرنے پر سزائیں اور عمل کرنے پر انعام بھی دئے جیسے تین اور دو بیٹیوں کی پرورش اور تربیت پر جنت کی بشارت ازدواج میں انصاف نہ کرنے پر روز قیامت آدھا دھڑ لٹکا ہو گا بہن اور بیٹی کو وراثت نہ دینے پر سزا ماں کی نافرمانی کر نے پر سزا آپ ص نے فرمایا انسان کے والدین اس کی جنت اور دوزخ ہیں مختصر یہ کہ جس عورت کو استعمال کی شے اور مرد کا کھلونا سمجھا جاتا تھا اسے جہالت اور غلامی سے آزادی دلا کر بلند مقام عطا کیا اور اس کے بنیادی حقوق دلوائے اور ادا کرنے کی سختی سے تلقین کی اسے ذلت کے گڑھے سے نکال کر معتبر رشتے دئے عزت اور وقار کے ساتھ آزادی سے اپنی مرضی سے جینے کا حق دیا اور آخر میں یہی کہوں کہ نبی ص پر اترنے والی آخری کتاب القرآن میں ایک پوری سورت النساء کے نا سے عورتوں کے بارے میں نازل کی جس نے بنت حوا کو جو شان عطا کی اس کی اور کسی معاشرے اور مزہب میں مثال نہیں ملتی تحریر سعدیہ ہما شیخ
ظفراعوان/ //۔۔۔۔ سعدیہ ہما شیخ سعدیہ ہما شیخ 26 جنوری 1979 کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے میٹرک ایم سی ہائی سکول 2 بلاک سرگودھا سے کیا۔ ایم اے ان پول سائنس ایم اے ان میں پاک اسٹڈیز ڈ پلومہ ان اسلامک ایجوکیشن اور قانون کی ڈگری قائد اعظم لاء کالج سرگودھا سے حاصل کی۔ پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ انہوں نے شاعری کا آغاز طالب علمی کے زمانہ سے کیا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ''وصل میں تشنگی '' 2007 میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد ، بال ہما 2019 اقوال ہما 2020 وادی کالام کا فسوں سفرنامہ 2021 وہ شاعرہ ، ادیبہ ، کالم نگار، سفرنامہ نگار ناول نگار اور اب سیرتﷺ پر کام کر رہی ہیں۔ وہ ادبی خدمات پر کئی ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہیں جن میں ،نوبل ایوارڈ، نظریہ پاکستان ایوارڈ، شمسی ایوارڈ بک ایوارڈ، بال ہما وصل میں تشنگی علامہ اقبال گولڈ میڈل ایوارڈ برائے فروغِ ادب حسن کارکردگی میڈل ایوارڈ ادبی سماجی خدمات ایوارڈ بیسٹ رائٹر، ناول میں نے خوابوں کے رنگ دیکھے ہیں ایگل لائرز ہائی کورٹ کی طرف سے ادبی ایوارڈ ماہنامہ پاکیزہ چھ ایوارڈ ماہنامہ ریشم دو ایوارڈ ایکسیلنٹ ایوارڈ برائے علمی قانونی خدمات قائد اعظم شیلڈ آل پاکستان رائٹرز ویلفیر ایسوسی ایشن کی طرف سے گیسٹ آف آنر فاطمہ جناح گولڈ میڈل چیرپرسن جیل ریفارمر کمیٹی پہلی خاتون انسٹرکٹر کراٹے ان سرگودھا گولڈ میڈل ان کراٹے ا150 سے زائد ٹرافیز سپورٹس میں بیسٹ رائٹر ایواڈ اوج ڈائجسٹ بیسٹ رائٹر ایوارڈ ایکسپریس پوسٹ ممبر آف انٹرنیشنل بار چیئرپرسن لٹریری کمیٹی برداشت لیگل ایڈوائزر آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن چیئرپرسن خواتین ونگ گلوبل ورلڈ آف جرنلسٹ دو دفعہ پی ٹی وی کے پروگرام شو جوان میں خصوصی شرکت کر چکی ہیں ریڈیو ایف ایم پاکستان ان کی ادبی خدمات پر بارہا خصوصی پروگرام نشر کر چکا
جمعرات، 10 فروری، 2022
سید آصف گیلانی کی طرف سے اہم اعلان
بھکر۔ظفر اعوان//سید آصف گیلانی ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر احساس کفالت پروگرام تحصیل بھکر۔
کی طرف سےاہم اعلان
📢📢📢📢📢📢
احساس کفالت پروگرام کی جانب سے آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اہل بینیفشری کو 8171 سے میسج انکے دیے گئے موبائل نمبر پر سینڈکردیے گئے ہیں وہ اپنے اصل شناختی کے ہمراہ احساس کفالت پروگرام کے دفتر آکر اپنا اندراج کروائیں اور اس پروگرام کا حصہ بنیں
واضح رہے کہ وہ خواتین احساس کفالت پروگرام کے دفتر نا آئیں جن کو 8171 سے درج ذیل میسج موصول نہیں ہوا
محترمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ احساس کفالت امداد کیلئےاہل ہیں لیکن آپ نے سروے میں اپنے قومی شناختی کارڈ کا اندراج نہیں کروایا۔ لہذا اپنے قریبی احساس رجسٹریشن سنٹر پر فارم نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے مطابق اپنے شناختی کارڈ کا اندراج کروائیں۔
منجانب
سیدآصف گیلانی
اسسٹنٹ ڈائریکٹر احساس کفالت پروگرام تحصیل بھکر
*ڈی پی او بھکر سید علی رضا نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال قائم کردی* ڈی پی او بھکر کی گزشتہ رات دریاخان تھانے کے وزٹ کے دوران کی اندورنی کہانی سامنے آگئی سید علی رضا نے تھانہ سٹی دریاخان کے وزٹ کے دوران حوالات کو چیک کیا تو ایک انتہائی غریب شخص حوالات میں بند تھا ڈی پی او بھکر نے ملزم سے پوچھا کہ آپ کس مقدمہ میں گرفتار ہوئے تو غریب شخص نے بتایا کہ میں نے بنک کے پیسے ادا کرنے ہیں، جعلی چیک کے مقدمہ میں گرفتار ہوں ڈی پی او بھکر نے پوچھا کہ کتنے پیسے ادا کرنے ہیں تو ملزم نے بتایا کہ ایک لاکھ انتیس ہزار، ڈی پی او نے ڈی ایس حافظ بدر منیراورایس ایچ او ملک اشرف اعوان کو فوری احکامات جاری کئے کہ مخیر حضرات سے پیسے اکٹھے کریں اور مداعی مقدمہ کو ادا کریں ڈی ایس پی نے فوری مخیر حضرات سے رابطہ کیا اور مداعی مقدمہ کو ایک لاکھ انتیس ہزار روپے ادا کروا دیئے پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کردیا مداعی مقدمہ کے بیان پر معزز عدالت نے ملزم کی ضمانت کنفرم کردی مداعی مقدمہ اور ملزم نے ڈی پی او بھکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے واحد ایسا آفیسر دیکھا ہے جو مخلوقِ خدا سے پیار کرتا ہے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی پی او کے اس احسن اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او بھکر سید علی رضا نے واقع ہی غریب پرور ہونے کا ثبوت دیا
پنجاب پولیس کا بڑا فیصلہ وزیراعظم شکایت پورٹل پر دوران ڈیوٹی پولیس ملازمین کا "ٹک ٹاک" استعمال کرنے کی شکائتیں پنجاب پولیس نے دوران ڈیوٹی ملازمین کو "ٹک ٹاک" اپلیکیشن استعمال کرنے سے روک دیا یہ طرز عمل سوشل میڈیا پر محکمہ پولیس کی نرم شبیہ، وقار اور وقار کو مجروح کرتا ہے، مراسلہ عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، مراسلہ اے آئی جی آپریشنز پنجاب کی طرف سے پنجاب بھر کے تمام آر پی اوز کو مراسلہ جاری
پنجاب پولیس کا بڑا فیصلہ وزیراعظم شکایت پورٹل پر دوران ڈیوٹی پولیس ملازمین کا "ٹک ٹاک" استعمال کرنے کی شکائتیں پنجاب پولیس نے دوران ڈیوٹی ملازمین کو "ٹک ٹاک" اپلیکیشن استعمال کرنے سے روک دیا یہ طرز عمل سوشل میڈیا پر محکمہ پولیس کی نرم شبیہ، وقار اور وقار کو مجروح کرتا ہے، مراسلہ عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، مراسلہ اے آئی جی آپریشنز پنجاب کی طرف سے پنجاب بھر کے تمام آر پی اوز کو مراسلہ جاری
تحریر۔ ظفراعوان۔*سنگر غضنفر احمد* فوک میوزکل اوراسٹیج کے بے تاج بادشاہ کا میوزیکل پروگرام 12 فروری کومحلہ عالم آباد بھکّراور 15 فرووی کو منڈی ٹاون بھکرہوگا۔ ۔سنگر غضنفرکا شمار نئے ابھرتے فنكاروں میں ہوتا ہے۔انہوں نےبہت کم عرصے میں اپنے فن کا لوہا منواتے ہوئے اپنا نام بنایا ہے ۔اورانکے چند سپر ہٹ گیت اور البم بھی ریلیز ہو چکے ہیں۔وہ پپ٠خ٠ ومخلص انسان ہیں۔ہم دعاگوہیں الله پاک انکودن دوگنی اور رات چگنی تراعطافرماے۔ آمین
بدھ، 9 فروری، 2022
بدھ، 8 دسمبر، 2021
جمعہ، 3 دسمبر، 2021
پی ایف یو جے،آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے وفد کی وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات، پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کی منظوری پر وزیراعظم اور ان کا شکریہ ادا کیا
اسلام آباد () پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس،راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے وفد نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی اور پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کی منظوری پر ان کا شکریہ ادا کیا،وفد نے بل کی تیاری سے منظوری تک ان کی کاوشوں کو سراہا،نیشنل پریس کلب کی دعوت پر ڈاکٹر شیریں مزاری پیر کو ساڑھے دس بجے نیشنل پریس کلب آئیں گی تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز پی ایف جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی کی سربراہی میں پی ایف یو جے،آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے وفد نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی وفد میں پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی،سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ،صدر آر آئی یو جے عامر سجاد سید،سیکرٹری طارق علی ورک، فنانس سیکرٹری حنیف الرحمن،نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم ،سیکرٹری انور رضا،سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے فوزیہ شاہد،سابق صدر نیشنل پریس کلب طارق چوہدری آصف بشیر چوہدری،نیئر علی،خلیل راجہ،شکیلہ جلیل،بلال ڈار،شہزاد چوہدری،زاہد فاروق ملک،علمدار حسین ودیگر شامل تھے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ صحافیوں کو چاہیے کہ ایسی چیزیں نہ لکھیں جس سے انتشار پید ہو ،جو خبر پتہ ہے درست نہیں وہ نہ شائع کی جائے ،حکومت کے وکیل نے یہ بل ڈرافٹ نہیں کیا انہوں نے شکوہ کیا کہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کے پاس ہونے کے حوالے سے،نیوز پیرز میں بل پاس ہونے کی خبر نہیں آئی جو ہمیں اچھا نہیں لگا انہوں نے کہا کہ جو ٹربیونل بنایا جائے گا اس میں نمائندگی صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں کو دی جائے گی جبکہ مالکان کی نمائندگی نہیں ہو گی انہوں نے کہا کہ انشورنس اور ہیلتھ کی سہولت تمام صحافیوں ملنی چاہیں آپ کے تعاون سے اس کو چلایا جا سکے گا اس بل کے اب رولز بھی جلد بن جائیں گے ،یہ ہماری وزارت میں نہیں آتا لیکن اطلاعات و نشریات کی وزارت سے کہا گیا تو ہم نے اس کی تیاری میں اپنا رول ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ بل پر مالکان کو عمل تو کرنا پڑے گا میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے کوئی ڈرافٹ ہی نہیں تیار کیاگیا صرف رف سی تجاویز تھیں سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کے حوالے سے ہمارے 21 تجاویز کو شامل کر لیا گیا ہے ہم اس بل کی منظوری پر ڈاکٹر شیریں مزاری کا شکریہ ادا کرتے ہیں،صدر آر آئی یو جے نے صحافیوں کے مسائل کے حوالے سے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کہ بل میں ایڈیٹر،سب ایڈیٹر، بیوروچیف، کیمرہ مین اورفوٹو گرافرز کو جرنلسٹ کی کیٹگری کی بجائے میڈیا پروفیشنلز میں ڈال گیا جس کی وجہ سے صحافیوں میں تشویش پائی جارہی ہے ،پی آر اے کے سیکرٹری آصف بشیر چوہدری نے بل کے آرٹیکل چھ پر تحفظات کا اظہار کیا جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ رولز بناتے وقت گیٹگری اور آرٹیکل چھ کے حوالے سے ابہام کو دور کر دیا جائے گا وفد نے بل کی تیاری سے لیکر منظوری تک ڈاکٹر شیریں مزاری کی کاوشوں کو سراہا اور اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ایوان صدر میں بل کی منظوری کے حوالے سے تقریب میں ہمیں دعوت ہی نہیں دی گئی نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم نے ڈاکٹر شیریں مزاری کو پریس کلب میں آنے کی دعوت دی انہوں نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیر کے روز صبح دس بجے پریس کلب آئیں گی
طارق علی ورک
سیکرٹری آر آئی یو جے
پروٹیکشن أف جرنلجرنلسٹس اینڈپروفیشنلزبل کی منظوری
پی ایف یو جے،آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے وفد کی وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات، پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کی منظوری پر وزیراعظم اور ان کا شکریہ ادا کیا
اسلام آباد () پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس،راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے وفد نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی اور پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کی منظوری پر ان کا شکریہ ادا کیا،وفد نے بل کی تیاری سے منظوری تک ان کی کاوشوں کو سراہا،نیشنل پریس کلب کی دعوت پر ڈاکٹر شیریں مزاری پیر کو ساڑھے دس بجے نیشنل پریس کلب آئیں گی تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز پی ایف جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی کی سربراہی میں پی ایف یو جے،آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے وفد نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی وفد میں پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی،سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ،صدر آر آئی یو جے عامر سجاد سید،سیکرٹری طارق علی ورک، فنانس سیکرٹری حنیف الرحمن،نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم ،سیکرٹری انور رضا،سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے فوزیہ شاہد،سابق صدر نیشنل پریس کلب طارق چوہدری آصف بشیر چوہدری،نیئر علی،خلیل راجہ،شکیلہ جلیل،بلال ڈار،شہزاد چوہدری،زاہد فاروق ملک،علمدار حسین ودیگر شامل تھے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ صحافیوں کو چاہیے کہ ایسی چیزیں نہ لکھیں جس سے انتشار پید ہو ،جو خبر پتہ ہے درست نہیں وہ نہ شائع کی جائے ،حکومت کے وکیل نے یہ بل ڈرافٹ نہیں کیا انہوں نے شکوہ کیا کہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کے پاس ہونے کے حوالے سے،نیوز پیرز میں بل پاس ہونے کی خبر نہیں آئی جو ہمیں اچھا نہیں لگا انہوں نے کہا کہ جو ٹربیونل بنایا جائے گا اس میں نمائندگی صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں کو دی جائے گی جبکہ مالکان کی نمائندگی نہیں ہو گی انہوں نے کہا کہ انشورنس اور ہیلتھ کی سہولت تمام صحافیوں ملنی چاہیں آپ کے تعاون سے اس کو چلایا جا سکے گا اس بل کے اب رولز بھی جلد بن جائیں گے ،یہ ہماری وزارت میں نہیں آتا لیکن اطلاعات و نشریات کی وزارت سے کہا گیا تو ہم نے اس کی تیاری میں اپنا رول ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ بل پر مالکان کو عمل تو کرنا پڑے گا میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے کوئی ڈرافٹ ہی نہیں تیار کیاگیا صرف رف سی تجاویز تھیں سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کے حوالے سے ہمارے 21 تجاویز کو شامل کر لیا گیا ہے ہم اس بل کی منظوری پر ڈاکٹر شیریں مزاری کا شکریہ ادا کرتے ہیں،صدر آر آئی یو جے نے صحافیوں کے مسائل کے حوالے سے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کہ بل میں ایڈیٹر،سب ایڈیٹر، بیوروچیف، کیمرہ مین اورفوٹو گرافرز کو جرنلسٹ کی کیٹگری کی بجائے میڈیا پروفیشنلز میں ڈال گیا جس کی وجہ سے صحافیوں میں تشویش پائی جارہی ہے ،پی آر اے کے سیکرٹری آصف بشیر چوہدری نے بل کے آرٹیکل چھ پر تحفظات کا اظہار کیا جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ رولز بناتے وقت گیٹگری اور آرٹیکل چھ کے حوالے سے ابہام کو دور کر دیا جائے گا وفد نے بل کی تیاری سے لیکر منظوری تک ڈاکٹر شیریں مزاری کی کاوشوں کو سراہا اور اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ایوان صدر میں بل کی منظوری کے حوالے سے تقریب میں ہمیں دعوت ہی نہیں دی گئی نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم نے ڈاکٹر شیریں مزاری کو پریس کلب میں آنے کی دعوت دی انہوں نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیر کے روز صبح دس بجے پریس کلب آئیں گی
طارق علی ورک
سیکرٹری آر آئی یو جے
اتوار، 6 دسمبر، 2020
کسی کو دوش کیا دینا میرا یار ہی منافق ہے کام کے وقت یاد کرتا ہے ترا پیار ہی منافق ہے دیکھ غیر قاتل نہیں ہوگا! سن دلدار ہی منافق ہے ہر بات میں سیاست ہے ہر معیار ہی منافق ہے ترے عشق سے پیسے تک کاروبار ہی منافق ہے منافقوں سےاب نہیں ڈرتی میرا سرکار ہی منافق ہے جیتنے کی خواہش عبث ہے جب سردار ہی منافق ہے جا! میری پیشگوئی ہے سب دربار ہی منافق ہے سچ پوچھو تو کہانی میں ترا کردار ہی منافق ہے عشق تو چل جھوٹا سہی تو کیا دار بھی منافق ہے؟؟ اب خواب ہی نہیں آتے جیآ بازوئے یار بھی منافق ہے نمرہ ملک
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
