Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

ضرورت نمائندگان:۔

ضرورت نمائندگان:۔ ملک بھر سے پڑھے لکھے میل، فی میل حضرات فوری رابطہ کریں موبائل نمبر 03469200126

بدھ، 13 اپریل، 2022

انتخاب/ظفر اعوان//شاعرہ نمره ملک

اسے کهنا بیت دنوں سے مرے آنگن میں کوئ پهول نهیں کھلا اسے کهنا بهت لمحے بیتے کسی درد کو جگاۓ اسے کهنا که لوٹ آے که بے اندازه محبت اب هم سے یه کهتی هے جنون عشق بھی مری جاں کب اتنا بار سهتا هے اسے کهنا دکھوں کو کم کر دے مگر اتنا ستم کر دے مری آنکھیں جو بنجر هیں انهیں پهر سے رلاۓ وه اسے کهناکه اک بار تو لوٹ آے وه ( نمره ملک)

بدھ، 6 اپریل، 2022

سن سجن مینڈا میں سچ آکھاں ترا ناں سدا مینڈے نال راہسی جے ناں راسی تے مینڈی نال وفا لجپال راہسی تینڈے حسن تے عاشق بہوں ہوسن کوئ اکھ عاشق کوئ لکھ عاشق میں کملی،کوجھی یملی آں مینڈی گلی نا ہر اک ککھ عاشق سن سجن مینڈا میں سچ آکھاں تینڈے لگدے پیارے بہوں ہوسن ترے اک اک وال تے وکدے وی سارے شہر دے شیشے ڈل پوسن مینڈی اکھ نا شیشہ توں ویکھ گھدا اس شیشے وچ کوئ لکھ نہ ککھ اس شیشے وچ تینڈے ناں دی رکھ سنڑ سجن مینڈا میں سچ آکھاں ہک گل تے ہزارہا مطلب نیں تینڈی ہک ہک گل تے سئیں وکدے مینڈے ساہ نے ہر ہر ورقے تے تینڈی خشبو اے مہنڈی روح وچ چن مہنڈا توں ای توں ہر سو ایں اسی دل رکھیا اسی سائیاں لکھن دا ول سکھیا مینڈے لیکھاں وچ رب محرم نے قلماں دی چھاں لکھیا مہنڈا سوہنڑا سجن تینڈا ناں لکھیا میں کوجھی ،کملی یملی سہی پر سجن مہنڈا ای سچ آکھااااا۔۔۔۔۔ نمرہ ملک۔۔۔۔۔مجموعہ کلام مہنڈی روح دے یوسف بولیں نہ) (جبی شاااااہ کی بصارتوں کے نام۔۔۔۔میرے نئے ناول میں شامل پہلی نظم)

منگل، 5 اپریل، 2022

راولپنڈی(عارف اعوان ) سی۔پی۔او ۔راولپنڈی نے 39 كانسٹیبل کو ہیڈ كانسٹیبل پرموٹ کیا ۔ ہم اپنے دوست عاطف ظہور کو ہیڈ کانسٹیبل پرموٹ ہونے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔اللّه پاک ان کو ہر قدم پر کامیابیاں عطاء فرماۓ۔آمین۔

ایک دن نشا کے ساتھ //انٹرویو۔ تمنا ظفر

ایک دن نشا راؤ کے ساتھ انٹرویو! تمناظفر پاکستان میں پہلا خواجہ سرا وکیل نشا راؤ .... ملاقات میں پہلی فرست میں میرے نام کو پسند کرنے کے ساتھ میرے نام کی تعریف کرتے ہوئے، یک دم اپنی کہانی سنانا شروع کردی، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ میرا انتظار کررہا تھا کیوں کہ ہوتا ہے عموماً ایسا کہ جب بندہ سڑکوں پر بھیک مانگ کر کوئی مقام حاصل کرلے، اور پھر چاہے کتنا ہی بڑا بن جائے مگر! وہ اذیت وہ درد بھولے سے بھی نہیں بھولا جاتا ـ کوئی بھی نارمل بندہ سامنے آجائے تو بے شک وہ داستان یاد آتی ہے ـ کرا چی میں بھیک مانگنے والوں کی اکثریت دوسرے شہروں سے تعلق رکھتی ہے پھر چاہے اس میں خواجہ سرا ہوں یا باقی بچے بوڑھے... اسی طرح نشا نے بھی لاہور سے کراچی میں داخل ہوکر ہر وہ کام کیا جو ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا کے قابل سمجھا جاتا ہے، اپنی داستانِ حیات سناتے ہوئے مجھے متاثر کردیا... کیوں کہ نشا دس سال تک بھیک مانگ کر دن میں کلاسز لیتا اور رات کو پڑھائی کرتا یوں وکیل کی ڈگری حاصل کرلی بلکہ اب اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے تنظیم بھی بنائی ہے جس میں دس سے زائد خواجہ سراؤں کے مسلے مسائل حل کیے گئے ہیں ـ موجودہ وقت میں کوئی بھی مرد خواجہ سرا کے مسائل سننا یا کھڑا ہونا تو دور کی بات پر ان سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا، ایسے میں نشا نے میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب جب کراچی یونیورسٹی میں فیس اد کرنے جاتا تھا یا کوئی بھی ایسا اقدام اٹھانا چاہا ہے تو یہ وہ شخص ہے جو میرا سہارا بن کر کھڑا تھا ـ مجھے تم سندھی لوگوں سے بہت عقیدت ہے محبت ہے ـ آخر میں نشا نے کہا تمنا میری تمنا ہے کہ میری داستانِ حیات پر آپ بھی لکھیں ـ ساتھ میں وہ مجھے نقاب میں دیکھ کر اپنے روزہ نماز کی ادائیگی کا بھی ذکر کرنے لگے وہ روزہ نماز کا پابند بھی ہیں اور تحریک بھی چلا رہے ہیں ـ تو میں سوچ میں پڑ گئی اسی وقت کہ جس پر ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر سے لوگوں نے لکھا ہے، کئی ٹی وی چینلز نے ڈاکو مینٹری بنائ ہے اس شخصیت پر میرے الفاظ تو کچھ بھی نہیں ـ مگر! ان سے مل کر مجھے خوشی اس بات کی ہوئی ہے کہ بقول نشا کے میرے اپنے لوگ میری ہم زبان لوگ ان کو کامیاب کرنے میں ساتھ کھڑے ہیں ـ تو یہ بات میرے لیے قابل فخر ہے الحمد للہ! #تمناظفر #alhamdulillahforeverything #meet #transgenderawareness #with #nisharao #moodobservation #happiness #Tammanazafar #fellingpositive #sadarkarachiایک دن نشا راؤ کے ساتھ انٹرویو! تمناظفر پاکستان میں پہلا خواجہ سرا وکیل نشا راؤ .... ملاقات میں پہلی فرست میں میرے نام کو پسند کرنے کے ساتھ میرے نام کی تعریف کرتے ہوئے، یک دم اپنی کہانی سنانا شروع کردی، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ میرا انتظار کررہا تھا کیوں کہ ہوتا ہے عموماً ایسا کہ جب بندہ سڑکوں پر بھیک مانگ کر کوئی مقام حاصل کرلے، اور پھر چاہے کتنا ہی بڑا بن جائے مگر! وہ اذیت وہ درد بھولے سے بھی نہیں بھولا جاتا ـ کوئی بھی نارمل بندہ سامنے آجائے تو بے شک وہ داستان یاد آتی ہے ـ کرا چی میں بھیک مانگنے والوں کی اکثریت دوسرے شہروں سے تعلق رکھتی ہے پھر چاہے اس میں خواجہ سرا ہوں یا باقی بچے بوڑھے... اسی طرح نشا نے بھی لاہور سے کراچی میں داخل ہوکر ہر وہ کام کیا جو ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا کے قابل سمجھا جاتا ہے، اپنی داستانِ حیات سناتے ہوئے مجھے متاثر کردیا... کیوں کہ نشا دس سال تک بھیک مانگ کر دن میں کلاسز لیتا اور رات کو پڑھائی کرتا یوں وکیل کی ڈگری حاصل کرلی بلکہ اب اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے تنظیم بھی بنائی ہے جس میں دس سے زائد خواجہ سراؤں کے مسلے مسائل حل کیے گئے ہیں ـ موجودہ وقت میں کوئی بھی مرد خواجہ سرا کے مسائل سننا یا کھڑا ہونا تو دور کی بات پر ان سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا، ایسے میں نشا نے میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب جب کراچی یونیورسٹی میں فیس اد کرنے جاتا تھا یا کوئی بھی ایسا اقدام اٹھانا چاہا ہے تو یہ وہ شخص ہے جو میرا سہارا بن کر کھڑا تھا ـ مجھے تم سندھی لوگوں سے بہت عقیدت ہے محبت ہے ـ آخر میں نشا نے کہا تمنا میری تمنا ہے کہ میری داستانِ حیات پر آپ بھی لکھیں ـ ساتھ میں وہ مجھے نقاب میں دیکھ کر اپنے روزہ نماز کی ادائیگی کا بھی ذکر کرنے لگے وہ روزہ نماز کا پابند بھی ہیں اور تحریک بھی چلا رہے ہیں ـ تو میں سوچ میں پڑ گئی اسی وقت کہ جس پر ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر سے لوگوں نے لکھا ہے، کئی ٹی وی چینلز نے ڈاکو مینٹری بنائ ہے اس شخصیت پر میرے الفاظ تو کچھ بھی نہیں ـ مگر! ان سے مل کر مجھے خوشی اس بات کی ہوئی ہے کہ بقول نشا کے میرے اپنے لوگ میری ہم زبان لوگ ان کو کامیاب کرنے میں ساتھ کھڑے ہیں ـ تو یہ بات میرے لیے قابل فخر ہے الحمد للہ! #تمناظفر #alhamdulillahforeverything #meet #transgenderawareness #with #nisharao #moodobservation #happiness #Tammanazafar #fellingpositive #sadarkarachi

رپورٹ/ظفر اعوان//راولپنڈی اسلام آباد بیوروز جرنلسٹس ایسوسی ایشن (RIBJA) کے نومنتخب ایگزیکٹو، گورننگ عہدیداران 2022-23 ء، کے پہلے باضابطہ اجلاس کی صدر رانا زاہد حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا ،نظامت کے فرائض سیکرٹری سردار شاید نے ادا کئے تلاوت کلام پاک سیکرٹری فنانس رازق بھٹی نے ادا کی اس کے بعد باضابطہ ایجنڈے پر کارروائی کا آغاز کیا گیا جاری کردہ انفارمیشن سیکرٹری فائزہ شاہ کاظمی (ربجا)

پیر، 4 اپریل، 2022

انتخاب//ظفر اعوان //علاقے کے ایک مشہور و معروف کردار کی کہانی وادی سون اورمحمد خان محمد خان اور اس کا بھائی ہاشم خان وادی سون کے پہاڑوں کواپناگھربنا چکے تھے ۔ پولیس ان کی گرفتاری کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے تھی لیکن وہ پولیس کے لئے چلاوہ بن چکے تھے۔ کئی مرتبہ پہاڑوں پر پولیس نے ریڈکیا کئی مرتبہ ان کے قریب سے پولیس گزر گئی لیکن وہ پولیس کے ہتھے نہ چڑھ سکے۔ پولیس کو آرڈر تھا کہ زندہ یا مردہ ان دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا جائے۔ اس دوران آس پاس کے علاقوں میں جرائم پیشہ افراد نے لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا جس سے پولیس نے یہ تاثر دیا کہ یہ وارداتیں محمد خان خود کرتا ہے یا اپنے بندوں سے کرواتا ہے حالانکہ ایسا نہیں تھاوہ رو پوش ضرور تھا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پیر مکھڈ شریف اور دوسرے بااثر اشخاص پولیس کے ہاتھوں اسے مروا دینا چاہتے تھے اگراسے پولیس کے اس ارادے کا علم نہ ہوتا تو یقیناًعدالت میں حاضر ہو جاتا ہر شخص اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے وہ فوج سے گھر چھٹی آیا تھا تو ملک لال خان نے ڈاکے اور قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا پھر گھیر کر اسے ٹھکانے لگانے کی کوشش کی گئی بااثر افراد کی وجہ سے مولابخش اور اس کے آدمی مقدمات میں ایک بار بھی کڑی سزا نہیں پا سکے‘ پھر محمد خان کے گھر کا محاصرہ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے مسلح افراد نے دھاوا بول دیا مگر مقدمات بھی محمد خان اور اس کے خاندان پر قائم ہوئے مخالف فریق صاف بری ہو گیا یہ واقعات اس کے ذہن میں پتھر پر لکیر کی طرح نقش تھے ان بے انصافیوں نے اسے ایک نیا ذہن نئی سوچ اور الگ تھلگ کردار کا مالک بنا دیاتھا وہ ظالم سفاک قاتل اور لٹیرا نہیں تھا وہ تو اپنی جان بچانے کیلئے پہاڑوں کی وادی میں تنہائی کے مظالم سہ رہا تھا اگرچہ اس کا والد وفات پا چکا تھا تا ہم گھر میں بھائی فتح شیر ایک بوڑھی ماں اور بہن موجو دتھی اسکا دھیان ہر وقت ان کی جانب رہتا تھا وہ کئی مرتبہ پولیس کا گھیرا توڑ کر گھر آیا اور بہت دیر تک گھر رہ کر پھر رو پوش ہو جاتا پولیس یہ خیال کر رہی تھی کہ اس نے ڈاکوﺅں‘ چوروں اور قاتلوں کا ایک گروہ تیار کر رکھا ہے جو ہینڈ گرنیڈوں‘ آتشیں اسلحہ اور جدید ہتھیاروں سے مسلح ہے یہی وجہ ہے کہ کئی مرتبہ اسکے قریب ہوتے ہوئے پولیس نے گولی نہیں چلائی۔وادی سون میں محمد خان کے ساتھیوں‘ عزیز رشتہ داروں اور بعض پولیس والوں کا تعاون بھی اسے حاصل رہا۔ بہت سے مقامی اعوان اس کے دوست بن چکے تھے وہ اسے خطرات سے آگاہ کر دیتے اور حالات سے پوری طرح باخبر رکھا کرتے یہی وجہ تھی کہ وہ پولیس کارروائی سے قبل ہی حفاظتی انتظامات کر لیا کرتا تھا۔ اس دوران اس کے دوستوں نے محمد خان کو بچانے کیلئے یہ مشہور کر دیا کہ وہ ایک خونی لٹیرا بن گیا ہے۔ اس نے پہاڑوں میں ایک بنک قائم کر رکھا تھا اس کے ہزاروں ساتھی وادی سون میں گھومتے رہتے اور وہ لوگوں کو پکڑ کر قتل کر دیا کرتا تھا اس کے خفیہ اڈے قائم تھے یہ تاثر بالکل غلط ہے‘ وہ فلمی ڈاکووں کی طرح پہاڑ میں سردار نہیں بنا بیٹھا تھا‘ اسکے پاس اسلحہ تھا ‘ حفاظت خود اختیاری کا پورا سامان تھا اسے لمحہ لمحہ کی خبر رہتی تھی لیکن اس نے ڈاکووں کا کوئی گینگ تیار نہیں کیا ہوا تھا بلکہ اس نے اس علاقہ میں امن و امان بحال کرنے کی پوری کوشش کی تھی ہو سکتا ہے بعض اوچھے لوگ اس کا نام استعمال کر کے وارداتیں کرتے ہوں اگر کبھی کوئی ایسا واقعہ اس کے علم میں لایا گیا تو اس نے سختی سے اس کا نوٹس لیا‘ اسے تو ہر وقت اپنے بھائی ہاشم خان کی فکر لگی رہتی وہ درد گردہ کا پرانا مریض تھا۔ ابھی رن باز خان کو قتل ہوئے چارماہ کاوقت ہی گزرا تھا کہ ہاشم خان طبیعت خراب ہو گئی۔ اس کے پاس دوائیاں موجودتھیں لیکن ان سے آرام نہیں آیا۔ کسی ہسپتال میں وہ بھائی کو لیکر نہیں جا سکتا تھا۔ بالآخر اسی رات محمد خان کی جھولی میں ہاشم خان کا دم نکل گیا۔ صبح ہوئی تو اس نے اپنے ساتھیوں کو کہاکہ ہاشم خان کی تدفین کا بندوبست کرنے کیلئے اس کی لاش کو اس کے دیرینہ دوست محمد خضر حیات کے ڈیرے پر پہنچادیں ۔ یہ لاش وہ اس لئے بھجوا رہا تھا کہ معززین کی نگرانی میں اس کے بھائی کی لاش کو سپرد خاک کیا جا سکے۔ پولیس کو اس کی اطلاع ہو ئی پولیس نے راستے میں ہی ساتھیوں سے اس بھائی کی لاش چھین لی اور لاش پر گولیاں برسا کر پولیس مقابلہ کی کہانی گھڑ لی‘ اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ ڈاکو محمد خان کا بھائی ہاشم خان پولیس مقابلہ میں مارا گیا‘ محمدخان کو اس کا بے حد دکھ ہوا وہ تو رو پوش تھا اس وقت کیا کر سکتا تھا پولیس خود اس کی تاک میں تھی‘ لیکن اب محمد خان حکمت عملی تبدیل کرلی۔۔ اس نے اپنا مسلح گروہ بنا لیا۔۔ اس کے ارد گرد رضا کار لوگ اکھٹا ہو گئے۔۔ روپوشی کے دوران وہ وادی سون ، تھوہا محرم خان، چینجی کوٹیڑہ اور بھلومار کے غریب لوگوں کی بے انتہاء مدد کیا کرتا تھا۔۔ اس بنا پر غریب لوگ اسے مسیحا ماننے تھے۔۔ جب وہ طاقت اختیار کر گیا تو ہاشم کی وفات کے ٹھیک پانچ ماہ بعد اس نے رو پوشی کی زندگی ترک کرتے ہوئے پولیس تھانہ ٹمن میں واقعہ ڈھوک مصائب میں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ ڈھوک مصائب تلہ گنگ میانوانی روڈ پر بڈھر ونہار سے تھوڑا پہلے دائیں جانب ہے۔ اب مخالفین نے جب اس کے ساتھ رضا کاروں کی فوج دیکھی تو وہ بھی خوفزدہ ہو گئے ہزاروں کی تعدادمیںرضا کار ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔ اب مولا بخش پارٹی کو جان کے لالے پڑ چکے تھے وہ بھی محمد خان سے راضی نامہ کے لئے کوشاں تھے۔ اس دوران محمد خان نے ملک امیر محمد خان کا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے انتظامیہ میں بھی اپنی جان پہچان بنا لی۔ قتل کے مقدمے بدستور اس کے خلاف قائم تھے پولیس کو اس کو تلاش بھی کر رہی تھی لیکن اس کے حالات بدل چکے تھے ۔ پولیس جہاں چھاپہ مارتی مقامی لوگ ڈنڈے لیکر پولیس کو بھگا دیتے۔ بلکہ اب تو اس کے نام کا اتنا ڈنکا بج چکا تھا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران اس سے دوستی کے خواہاں تھے۔ جب محمد خان نے ڈھوک مصائب پر ڈیرہ لگایا تو اس کی دہشت کے سائے وادی سون سے نکل کر تحصیل چکوال‘ تحصیل پنڈی گھیب اور نواحی علاقوں تک پھیل گئے تھے‘ اس نے اس جگہ آتے ہی تمام گھر والوں کو بھی بلالیا‘ اس کا مخالف فریق چل کر اس کے پاس آگیا‘ اس نے اس سے صلح کر لی اب محمد خان کا وہ دور شروع ہوتا ہے اس کی الگ ریاست قائم کرنے سے تشبیہ دی جاتی ہے‘ محمد خان نے جس طرح قانون و انصاف کا خون ہوتے ہوئے دیکھا انسانیت کی توہین اپنی آنکھوں سے دیکھی اس کے ساتھ جو ظلم و ستم روا رکھا گیا اس نے نفسیاتی رد عمل کے طور پر اسے ایک ایسا نظام قائم کرنے کی تحریک دی جس میں کمزور اور طاقتور برابر ہو سکیں جہاںرشوت ، سفارش اور ٹیلی فونوں پر انسانی قسمت کے فیصلے نہ ہوں‘ ظالم کو کڑی سزا ملے اور مظلوم کو اس کا حق دلا سکے ۔ محمد خان کی شخصیت کا رعب دبدبہ تھا کہ پورے ضلع میں پولیس کے ڈی ایس پی سے لیکر اک سپاہی تک اس کی اجازت کے بغیر گاﺅں میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔ اپنے ڈیرے سے دور دور تک اس کے چیک پوسٹیں بنا رکھیں تھیں جن میں چڑیا کا بچہ بھی پر نہیں مارسکتا تھا۔ ۔۔ اور پھرمحمد خان نے اپنی ریاست قائم کرلی ۔۔۔ جب محمد خان نے اپنے گرد حصار مستحکم کرلیا ۔ پولیس اورانتظامیہ کو اپنا ہم نوا بنا لیا تو لوگوں اس کو مسیحا ماننے لگے۔ لوگ پولیس کے پاس جانے کی بجائے اپنے مسائل اورمقدمات کے حل کیلئے محمد خان سے رجوع کرنے لگے۔ وہ زیادہ پڑھا ہوا نہیں تھا لیکن تجربے نے بہت کچھ سکھایا تھا اس نے اپنی الگ عدالتیں لگانا شروع کر دیں وہ لوگ جو جان کے دشمن تھے اس کے خوف سے لرزنے لگے پولیس آفیسر‘ تحصیل دار‘ دوسرے محکموں کے سربراہ اس کے پاس آیا کرتے اور پاس بیٹھ کر فیصلے کیا کرتے ہیں۔ محمد خان ان عدالتوں کا سربراہ اعلیٰ ہوا کرتا تھا۔ اس کے پاس سینکڑوں سپاہی ہوا کرتے جنہیں وہ خود بھرتی کیا کرتا انہیں باقاعدہ تنخواہ دی جاتی تھیں۔ ہزاروں رضا کار تھے۔ باقاعدہ مقدمات کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا سب کاروائی عام عدالتوں کی طرح لکھی جاتی۔ شہادتیں لی جاتیں مقدمات کی انکوائری کی جاتی وارنٹ جاری کئے جاتے اور محمد خان نے اپنے مسلح سپاہی ملزموں کو پکڑ کر لایا کرتے تھے۔ محرر تمام کارروائی نوٹ کرتا اس کے ساتھ علمائے کرام بیٹھا کرتے تھے تمام مقدمہ کی کاروائی سننے کے بعد و ہ قرآن و سنت کے روشنی میں جو فیصلہ دیا کرتے ہیں وہ ان پر دستخط کر کے اور اپنے سامنے عمل درآمد کرایا کرتا تھا۔ سپاہیوں کے پاس اسلحہ ہوا کرتا تھا اگر کوئی شخص محمد خان کی عدالت کا حکم ماننے سے انکار کر تا دیتا تو طاقت کے ذریعے اس پر عمل کرایا جاتا جب اس کی عدالتیں لگا کرتی تھی تو ارد گرد کے تھانے اجڑ گئے، تحصیلیں سونی ہو گئی تھیں اور دوسرے انصاف مہیا کرنے والے ادارے بالکل ویران ہو گئے‘ چار سال تک متذکرہ علاقوں پر اسکا مکمل کنٹرول رہا۔ وادی سون ‘ تحصیل چکوال ‘ تحصیل پنڈی‘ گھیب اور تلہ گنگ کے علاقوں میں اس کا سکہ جاری تھا۔ اس کی اجازت کے بغیر ان علاقوں پرمشتمل ریاست میں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔ ان علاقوں کی انتظامیہ بالکل بے کار ہو کر رہ گئی تھی یہ درست ہے کہ وہ 1963ء سے 1966 میں تک اپنی ریاست کا بے تاج باد شاہ تھا اس کی عدالتوں میں 302 کے علاوہ ہر قسم کے مقدمات پیش ہوا کرتے تھے ۔ اس دوران 1964ءکے صدارتی انتخابات آ گئے۔ محمد خان کی اتنی طاقت تھی کہ وادی سون، تحصیل تلہ گنگ اور پنڈی گھیب کے تمام بی ڈی ممبروں اور چیئرمینوںکے ووٹ صدر ایوب خان کو دلوائے تھے‘ 1965ء میں جب بھارت نے پاکستان سے جنگ شروع کی تو اس نے جنرل محمد موسیٰ اور صدر ایوب خان کو تار دی کہ اسے پانچ ہزار مجاہدین کو لے کر محاذ جنگ پر جانے کی اجازت دی جائے اسے اس تار کا جواب آیاکہ ابھی انتظار کرو بعد میں جنگ بندی کے باعث اس کی یہ حسرت پوری نہ ہو سکی۔ اس دوران اس کا اثرو رسوخ پورے علاقے میں مشہور ہوچکا تھا۔ پولیس بھی اس کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کرتی تھی۔ لیکن اس وقت کے تمام لوگ شاہد ہیں کہ اس نے اتنی طاقت پکڑنے کے باوجود اپنے مخالفین کو تنگ نہ کیا۔ پورے علاقے میں مشہور زمانہ امن و امان قائم کیا۔ کسی بندے کو تنگ نہ کیا۔ کوئی چوری یا ڈاکہ نہیں ڈالا۔ ہاں جو کیس اس کی عدالت میں لائے جاتے ان سے واجبی جیب خرچ لیا جاتا جرمانہ کی صورت میں اصل رقم مالک کو واپس کر دی جاتی تھی اور اس میں سے صرف 30 روپے رکھے جاتے تھے تاکہ اہلکاروں کی تنخواہیںادا ہو سکیں۔ اس دوران سارا سارا دن وہ کچہری لگائے رکھتا اورلوگوں کے فیصلے کرتا رہتا۔ حتی ٰ کہ بعض اوقات رات بھی ہو جاتی۔ یہ قدرتی امر ہے کہ جب کوئی طاقت پکڑتا ہے تو لوگ اس کے گرد اکھٹا ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں اس نے یہ عدالتیں مختلف علاقوں میں سرکاری ریسٹ ہاﺅسوں میں لگانی شروع کر دیں۔ وہ ہفتہ وارپروگرام ترتیب دیتا اس کے اہلکار ہر علاقے کی مساجد میں اعلان کراتے ہیں کہ محمد خان فلاں دن فلاں جگہ کچہری لگائے گا۔ اس کے اہلکاروں کے پاس بے پناہ اسلحہ تھا لیکن سارے اسلحہ کے اس نے لائسنس بنوا رکھے تھے۔ ہزاروں اہلکاروں اس کے ایک اشارے پر کٹ مرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔ حکومت اور افسران بھی اس بات سے آگاہ تھے۔ اس کی عدالتوں اور الگ ریاست کے قیام سے حکومت بھی لاعلم نہیں تھی۔ اس وقت اس کے پاس ایک نئی گاڑی بھی تھے اور کچھ گھوڑے تھے۔ اسکی عدالتوں کا نظام ٹھیک ٹھاک انداز سے چل رہاتھا چار سال کے طویل عرصہ میں اس کی ریاست سے رشوت کامکمل خاتمہ ہو گیا تھا۔ امیر کبیر لوگ خود اس کی خدمت کر جاتے اس لئے اس کی ریاست اور عدالتیں کبھی مالی بحران سے دوچار نہیں ہوئیں ۔ اس کی عدالت کے قاضی کا نام عبدالرحمٰن تھا ۔ جو بڑی عرق ریزی اور اسلام کی روشنی میں اپنے جونیئر قاضیوں کے مشورے سے مقدمات کا فیصلہ کیا کرتا تھا۔ وقت نے اچانک انگڑائی لی ملک امیر محمد خان اور صدر ایوب خان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گئے ملک امیر محمد خان نے گورنری سے استعفیٰ دے دیا‘ محمد خان کے مخالف عناصر نے صدر ایوب کو اس کے خلاف بھڑکا دیا اور حکومت کی پوری مشینری اس کے خلاف دوبارہ حرکت میں آ گئی یہاں سے محمد خان کی کہانی ایک نیا رخ اختیار کر گئی۔ وہی درباری افسران جو کل تک اسے جھک کر سلام کرتے تھے اس کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ صدر ایوب خان تک بات پہنچائی گئی کہ محمد خان اسے ملک امیر محمد خان کی ایما پر قتل کرنے کاپروگرام بنا رہا ہے۔ جب محمد خان نے وقت کا تیور دیکھا تو سب کچھ سمیٹ کر رپورش ہو گیا۔ یہ اگست 1966ءکی بات ہے۔ ۔۔ صدر ایوب خان نے آئی پولیس کو محمد خان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔ لیکن محمد خان وقت کے تیور دیکھ کر پہلے ہی اپنے سپاہیوں کا حساب بے باق کر کے ملتان جا کر رپوش ہو چکا تھا۔ ابھی اسے ملتان آئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ملک امیر محمد خان اور محمد خان کے مخالف پولیس افسران کو حکم دیا گیا جس طرح بھی ہو محمد خان کو تلاش کر کے گولی سے اڑا دیا جائے۔ اسے بھی اس حکم کا علم ہو گیا وہ اپنی جان بچانے کیلئے بہاولپور چلا گیا اور بال بچوں کو سرگودہا میں ایک رشتہ دار کے ہاں بھیج دیا پولیس کی بھاری نفری اسکی گرفتاری کیلئے تعینات کر دی گئی تھی حتیٰ کہ سپیشل دستے تعینات کر دیئے گئے اب وہ باقاعدہ رو پوش ہو گیا اسے خطرہ تھا کہ اگر وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تو کبھی زندہ نہیں بچے گا پولیس نے اسکے رشتہ داروں اور جان پہچان رکھنے والوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دیں جب وہ پولیس کے ہاتھ نہ لگ سکا تو ایک نہایت اعلیٰ خفیہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ رو پوشی کی حالت میں کسی بھی طرح اسے پکڑ کر مار دیا جائے اور ملک امیر محمد خان کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر کے پابہ زنجیر کر دیا جائے۔ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنچانے کیلئے یہ حربہ استعمال کیا گیا کہ اس کی ضعیف ماں سے ایک سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوا لیا گیا اس کاغذ پر بعد میں یہ لکھا گیا کہ ملک محمد خان کو ملک امیر محمد خان نے قتل کر دیا ہے اس حلفیہ بیان کی روشنی میں استغاثہ تیار کر کے عدالت کو دے دیا گیا جب محمد خان کو اس کا علم ہوا کہ ملک امیر محمد خان کی زندگی خطرے میں ہے اور حکومت انہیں اسکے قتل کے کیس میں الجھا کر سزا دینا چاہتی ہے تو اس سے برداشت نہ ہو سکا اس نے 27 جولائی 1967 کو رات کے 9 بجے خفیہ مقام سے مختلف اخبارات اور بی بی سی لندن کو فون کیا اس نے انہیں بتایا کہ کسی نے اسے قتل نہیں کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کیلئے رو پوش ہے کیونکہ جن پولیس افسران کی نگرانی میں سپیشل پولیس کی گار ڈیں تیار کی گئی وہ سب اس کے جانی دشمن ہیں وہ پولیس مقابلہ کی کہانی گھڑ کے اسے ٹھکانے لگا دیں گے اس لئے وہ گرفتاری پیش نہیں کر رہا اگر غیر جانبدانہ پولیس مقرر کر دی جائے تو وہ خود بخود گرفتاری پیش کرے گا‘ اس کے بعد سید اکبر شاہ انسپکٹر پولیس کو سپیشل گارڈ دے کر محمد خان کی گرفتاری پر مامور کر دیا گیا یہ ایک مخلص نیک کردار اور اچھا انسان تھا۔ محمد خان نے اپنے آدمی کے ذریعے سید اکبر شاہ سے رابطہ کیا اور اس سے معاہدہ طے کیا کہ اسے جان سے نہ مارا جائے تووہ گرفتاری پیش کر دے گا۔ سپیشل پولیس کے انسپکٹر سید اکبرشاہ نے وعدہ کیا کہ اگر محمد خان اسے گرفتار دے گا تو اپنی جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کرے گا۔ چنا نچہ طے پا گیا کہ محمد خان تھانہ لاوا میں واقع ڈھوک شیر آکر اسے گرفتار کر لے ۔ ایک طرف یہ طے پا چکا تھا تو دوسری طرف پنجاب پولیس اسے جان سے مارنے کیلئے ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔ پولیس کا خیال تھا کہ محمد خان پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی وادی سون میں چھپا ہوا ہے۔ صرف وادی سون میں ایس ایس پی عبداللہ خان کی نگرانی میں تین ہزارپولیس اہلکار تعینات تھے۔ خود آئی جی پنجاب پولیس قریشی صاحب ہیلی کاپٹر پر اس آپریشن کی نگرانی کررہے تھے۔ میڈیا پر محمد خان کی خبروں کی دھوم مچی تھی۔ بی بی سی ، وائس آف امریکہ اور وائس آف جرمنی محمد خان پر خصوصی بلیٹن نشر کررہے تھے۔ ملک میں اخبارات کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوچکا تھا۔ لوگ صبح سویرے سویرے محمد خان کی خبروں کی تلاش میں اخبارات خریدتے۔ محمد خان نے جب یہ صورتحال دیکھی تو انسپکٹر سید اکبرشاہ سے رابط کر کے اپنی گرفتاری کی تاریخ موخر کرنے کو کہا محمد خان کو پتہ تھا کہ اسے پولیس نہیں چھوڑے گی۔ اورپھر یوں گیارہ ماہ تک پولیس نے دن رات ایک کر دیا لیکن محمد خان کو گرفتار کرکے مارنے میں ناکام رہی۔ یہ تمام حالات ستمبر 1966ءسے اگست 1967ءتک کے ہیں۔ گیارہ ماہ تک پولیس اورمحمد خان کی آنکھ مچولی ہوتی رہی اور پولیس سے سامنا ہونے کے باوجود ہر مرتبہ محمد خان بچ نکلنے میں کامیاب ہوا رہا۔ دراصل محمد خان بہروپیے کا روپ دھار چکا تھا۔ جب وہ اپنے علاقے میں ہوتا تو مونچھیں رکھ لیتا جب باہر جاتا تو مونچھیں صاف کرا لیتا۔ عام طور پر شلوار قمیض پہنتا تھا لیکن رو پوشی کے دوران میں پینٹ کورٹ‘ نکٹائی‘ ٹائی اور ہیٹ بھی استعمال کرتا تھا آنکھوں پر مختلف رنگوں کی عینک بھی لگالیتا‘ یعنی کہیں بھی جاتے ہوئے وہ مکمل طور پر اپنا حلیہ بدل لیا کرتا رو پوشی کے دوران 6 ماہ یزمان منڈی میں اس نے ایک اینٹوں کے بھٹے پر پناہ لئے رکھی ایک ماہ ملتان میں ہوٹل کا کمرہ کرایہ پر لے کر رہا تین ماہ میانوالی میں گزارے یہاں اس نے 30 روپے ماہانہ میں ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا جس کا خاص افراد کو علم تھا‘ اس طرح لیہ میں بھی اپنے قیام کیلئے اس نے ایک جگہ کرایہ پر لے رکھی تھی اور گرفتاری پیش کرنے سے قبل ایک ماہ ادھر ادھر بھاگ دوڑ میں گزرا‘ پولیس نے بہاولپور میں چھاپہ مار کر شاہ نواز آف حاصل پور کو گرفتار کر لیا حالانکہ اس سے اسکی کوئی شناسائی نہیں تھی خانیوال سے اسکے چچا بشیر اور ملک جان بیگ کو پکڑ لیا‘ اس کی تلاشی کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا ان میں سے ایک شخص بھی نہیں جانتا تھا کہ محمد خان کہاں رو پوش ہے پھر ان میں سے بعض افراد پر بے پناہ تشدد کیا گیا اور پولیس نے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا تاکہ اسکا پتہ چلایا جا سکے‘ تھوہا محرم خان کے ڈیرہ پر سو افراد کے مکانوں کو پولیس نے صرف اس لئے آگ لگا دی کہ ان سے محمد خان کے تعلقات تھے لیکن وہ اس کے کسی بھی کام میں شریک نہ تھے پولیس ان کو کہتی کہ محمد خان کو لاکر پیش کر دو بھلا وہ اسے کہاں سے لاکر پیش کرتے اس طرح موضع ڈھرنال میں رہنے والے رشتہ داروں اور عزیزوں کو گرفتار کر کے سخت اذیتیں دی گئیں پولیس نے شک و شبہ میں ہزاروں افراد کو گرفتار کر کے ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے لیکن محمد خان کا سراغ نہ پا سکے‘ وہ بعض اوقات ان کے بیچ سے گزر جاتا انہیں بعد میں پتہ چلتا کہ محمد خان دھوکہ دے کر نکل گیا ہے ۔ اسی طرح ایک مرتبہ دندہ شاہ بلاول میں پناہ لئے ہوئے تھاکہ پولیس کو اطلاع مل گئی۔ پولیس کیل کانٹے سے لیس دندہ پہنچ گئی۔ جب محمد خان کو پتا چلا کہ پولیس نے جانے کے تمام راستے بند کر رکھے ہیں اس نے گھر سے سفید ٹوپی والا برقعہ لیا عورتوں کے سینڈل لے کر پاو ¿ں میں ڈالی شلوار اور کرتا پہلے ہی پہنا ہوا تھا پاو ¿ں میں جرابیں تھی ایک مرد بوڑھی عورت اور پانچ سالہ بچی کو ساتھ لیا اور بس پر سوار ہونے کیلئے نکل کھڑا ہوا مر د کو اس کا خاوند ظاہر کیا گیا جب کہ بوڑھی عورت اس کی ساس بنی اور لڑکی بیٹی۔ چنانچہ محمد خان عورت کے بھیس میں ٹھمک ٹھمک چلتا پولیس کے بیچ میں سے گزر کر میانوالی کی لاری پر سوار ہو گیا اورصحیح سلامت نکل جانے میں کامیاب رہا۔ جب ہر حربہ استعمال کرنے کے باوجود پولیس محمد خان کوگرفتار کرنے میں ناکام ہوئی تو اکبرشاہ نے صدر ایوب کو رپورٹ دی کہ اگر مجھے اختیارات دیئے جائیں تو میں محمد خان کو گرفتارکرسکتا ہوں۔ صدرایوب خان نے انسپکٹر اکبر شاہ کو اجازت دے دی کہ وہ محمد خان کو گرفتار کرے۔ انسپکٹر اکبر شاہ نے محمد خان تک اپروچ کی اور اسے گرفتار دینے پر رضا مند کیا ۔ جب اس بات کا علم ایس ایس پی عبداللہ اور ڈی آئی جی بنگش کو ہوا تو انہیں بہت برا لگا۔ انہوں نے اکبر شاہ پر پابندی لگا دی اور اسے نظر بند کر دیا۔ انسپکٹر اکبر کے ساتھیوں کو علم تھا کہ یکم اگست 1967ءکو ڈھوک شیرا داخلی لاوہ پر محمد خان نے دوبارہ گرفتاری دینی ہے تو انہوں نے ایس ایس پی عبداللہ اور ڈی آئی جی بنگش کو بتا دیا اور پولیس ہزاروں سپاہیوں کو لے کر یکم اگست 1967ءکو دن گیارہ بجے ڈھوک شیر پہنچ گئی اور اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں ڈھوک شیر ایسا علاقہ ہے جہاں چھوٹے چھوٹے نالے‘ کھائیاں اور پہاڑیاں ہیں۔ یکم اگست کو محمد خان ڈھرنال نے اکبر شاہ انسپکٹر سے گرفتاری دینے کا وعدہ کررکھا تھا۔۔۔ لیکن موقع پر الگ الگ پولیس ٹیمیں پہنچ گئیں۔۔ ایس ایس پی عبداللہ نے آتے ہی اسے گرفتاری کو کہا وہ اس وقت دھوتی اور بنیان پہنے ہوئے تھا وہ جب سے رو پوش تھا اس کے پاس ہینڈ گرینڈ‘ تہہ کی جانیوالی رائفل‘ ریوالور اور ڈھیر ساری گولیاں تھی جنہیں وہ ایک صندوق میں بند رکھتا تھا‘ ایس ایس پی عبداللہ نے کہا کہ محمد خان ہاتھ کھڑے کر دو اور خود کو گرفتاری کیلئے پیش کر دو پولیس نے چاروں طرف سے تمہیں گھیر لیا ہے اب تم کسی صورت نہیں بچ سکتے‘ اس نے جواب میں کہا کہ اس وقت بالکل خالی ہاتھ ہوں اکبر شاہ کو بھیجو کہ مجھے گرفتار کر لے یہ سنتے ہی ایس پی عبداللہ نے فائر کھول دیا وہ اس وقت بالکل نہتا تھا پہلی گولی اس کی چھاتی میں لگی اس نے بھاگ کر بیٹھک سے تہہ بند لیا جہاں گولی لگی وہاں باندھا گھنی جھاڑیوں کے درمیان گہری کھائی میں جا چھپا پولیس نے چاروں طرف سے گھیرا ڈال رکھاتھا اورفائرنگ کر رہی تھی حتیٰ کہ شام کے ساڑھے پانچ بج گئے۔ پولیس اس کے قریب جانے سے خوفزدہ تھی۔ جب پولیس کو پتہ چلا کہ محمد خان کسی صورت گرفتاری نہیں دے گا تو مجبوراً انسپکٹر اکبر شاہ کو بلایا گیا انسپکٹر اکبر شاہ نے تمام اہلکاروں کو افسران سے وعدہ لیا کہ محمد خان کو گولی نہیں ماری جائے گی جب تمام طرف سے تسلی ہوئی تو آگے بڑھ کر گہری کھائیوں میں اتر گیا اور اسے آواز دی محمد خان میں اکبر شاہ ہوں تو محمد خان ڈھرنال نے خود کو اس کے حوالے کر دیا اتنے وقت میں اس کا بہت سا خون ضائع ہو چکا تھا ۔ اسی وقت وائرلیس پر صدر ایوب کو محمد خان کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی اور انہیں اس کے زخمی ہونے کا بھی بتایا گیا صدر ایوب نے اس وقت حکم دیا کہ اسے بلاتا خیرملٹری ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا جائے چنانچہ رات کے دس بجے کے قریب اسے پنڈی ملٹری ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہاں اس کا آپریشن ہوا گولی نکالی گئی اور اٹھارہ دن تک وہ یہاں زیر علاج رہا۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں تعینات تھی۔ محمد خان کی گرفتاری کے بعد میڈیا پر شور مچ گیا۔۔ میڈیا نے اسے بڑے عجیب و غریب القابات دینا شروع کردیئے۔ کسی نے قاتل کہا کسی نے ڈاکو کہا۔ بے سروپا باتیںاورواقعات اس سے منسوب ہونے لگے۔ اس سے وہ وارداتیں بھی منسلک کر دی گئیں جن کا اسے پتہ تک نہیں تھا یکطرفہ میڈیا پر اس کے خلاف پروپیگنڈہ جاری تھا۔۔ ہسپتال سے فار غ ہوتے ہی اسے شاہی قلعہ لاہورمنتقل کر دیاگیا۔ جہاں اے آئی جی کرائم برانچ کے عبدالوکیل خان نے اس سے تفتیش کا آغازکیا۔ چھ ماہ تک اس سے تفتیش ہوتی رہی۔ اسے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کررکھا گیا۔ حکومت کاسارا زور اس بات پرتھاکہ امیر محمد خان صدر ایوب کو محمد خان کے ہاتھوں قتل کرانا چاہتا تھا۔ یہ بات غلط تھی اس بیان کی روشنی میں حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو الجھانا چاہتی تھی انہوں نے اس سے یہ بیان حاصل کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا دفتروں کے دفتر دیکھے گئے کہیں سے بھی محمد خان اور امیر محمد خان کی ملاقات کا ریکارڈ حاصل نہ کیا جاسکا اس نے بھی حالات کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے ہر وار اپنی جان پر سہہ لیا لیکن وعدہ معاف گوا ہ بن کر اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا پولیس نے اس کے ڈیرے کا مال و متاع لوٹ لیا، گھروں کو آگ لگا دی اس کی پانچ مربعہ اراضی بحق سرکار ضبط کر کے نیلام کر دی گئی شاہی قلعہ میں اسے کڑے پہرے میں رکھاگیا‘ 6 ماہ بعد اسے گوجرانوالہ جیل منتقل کر دیا گیا وہاں اسے پھانسی کی کوٹھڑی میں رکھا گیا حالانکہ ابھی اسے کسی مقدمہ میں سزا نہیں ہوئی تھی یہاں بھی اتنے سخت حفاظتی انتظامات تھے کہ پھانسی کی کوٹھڑی کے اوپردائیں بائیں اور آمنے سامنے مسلح سپاہی تعینات تھے حتیٰ کہ پھانسی کوٹھڑی کے اندر بھی اس کے ہاتھوں کو ہتھکڑیاں لگائی جاتیں پاو ¿ں میں بیڑیاں اور ایک موٹا سنگل ہتھکڑی کے ساتھ باند ھ کر پھانسی کوٹھڑی کے لوہے کے دروازے کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا کھاناکھانے اور وضو کرنے کیلئے بھی اسکی ہتھکڑیاں نہیں کھولی جاتی تھیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل خود آکر صرف ایک ہاتھ کی ہتھکڑی کھولتا اسی حالت میں وضو کر کے نماز پڑھتا اور کھانا کھاتا تھا‘ جیل میں قتل کے 19 اور 5 زخمیوں کے کیس کی سماعت شروع ہوئی اس کیلئے حکومت نے جج مظہرالحق اور سپیشل مجسٹریٹ اعجاز احمد چیمہ پر مشتمل خصوصی پینل تشکیل دیا 8 ماہ تک سماعت جاری رہی بالآخر 12 ستمبر 1968ء کو محمد خان ڈھرنال کو 4 بار سزائے موت اور 149 سال قید مشقت کی سزا سنادی گئی‘ اس نے کم و بیش 12 سال اسی حالت میں پھانسی کوٹھڑی میں گزارے اس مقدمہ میں نہ وکیل کی اجازت تھی اور نہ ہی وہ کسی سے مل سکتا تھا مکمل طور پر اسے قید تنہائی میں رکھا گیا اسے اتنی ذہنی اذیتیں دی گئیں کو کوئی اورہوتا تو پاگل ہو گیا ہوتا‘ اس فیصلے کے خلاف اسے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ سیشن کورٹ نے محمد خان کو قتل کے جرم میں چار مرتبہ سزائے موت سنائی۔اس کے بھائی نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی کہ ہمیں اپیل کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا۔ ہائی کورٹ نے پٹیشن سماعت کیلئے منظور کرلی اور محمد خان کو ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق مل گیا لیکن یہاں بھی اس اسے پیش ہونے سے مستثنی قرار دے دیا گیا۔ محمد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ اسے تفتیش کرنے والے ڈی ایس پی پر جرح کرنے کی اجازت دی جاے?۔ دودفعہ اس کی درخواست نامنظور کردی گی۔ بالاخر اک ڈویژن بنچ نے جس میں جسٹس مشتاق حسین بھی شامل تھے ، نے اسے ڈی ایس پی پر جرح کرنے کی اجازت دے دی کہ اک آدمی جسے چار مرتبہ سزائے موت سنائی گئی ہو اس کی حسرت کو پورا کیا جائے۔ محمد خان کی تفتیشی افسر پر ہونے والی جرح کو سننے و دیکھنے کے لیے لوگوں کا مجمع عدالت میں جمع ہوگیا۔ محمد خان درمیانے قد کا مضبوط قد کاٹھ کا حامل شخص تھا۔خوبصور ت بھاری بھرکم چہرہ، سفیدی بہ مائل گھنی مونچھیں اور ذہین و مسحور کردینے والی آنکھیں۔عدالت میں نہایت ادب و احترام اور خوداعتمادی سے آیا، اور نہایت اطمینان سے تفتیشی ڈی ایس پی پر جرح کرنے لگا۔کہ تفتیشی افسر کو مجھ سے ذاتی انا ہے اور جرح میں ثابت کردیاکہ تفتیشی ڈی ایس پی نے عدالت کو ساری من گھڑت کہانی سنائی ہے ۔ بہر حال محمد خان عدالت سے سلام کے بعد اجازت لینے کے بعد یہ کہتا ہوا نکلا کہ میری تقدیر میں جولکھا ہے وہ ضرور دیکھوں گا لیکن مجھے اطمینان ہے کہ عدالت نے مجھے سنا۔ اس جرح کے بعد ہائی کورٹ نے محمد خان کو دو سزائے موت کی سزا سے بر ی کردیا جبکہ دو میں سزا برقرار رکھی۔ ۔۔ سے موت کی سزامیں بار پھانسی کی تاریخ مقرر ہوئی لیکن وہ اپنی تقدیر سے لڑ کر آزاد ہوا ۔ بالآخر فیصلہ ہواکہ اسے 8 جنوری1976ءکو تختہ دارپرلٹکا دیاجائے گا۔ اس کے چھوٹے بھائی فتح شیر نے6 جنوری کوہائی کورٹ میں اپیل کردی۔ وہ اس وقت اٹک جیل میں تھا اس مرتبہ اس کے بچنے کے کوئی امکانات نہیںتھے۔ صبح چار بجے اسے تختہ دار پر لٹکانے کے تمام انتظامات مکمل تھے۔ اسے پتہ تھاکہ صبح اسے پھانسی دے دی جائےگی۔ لیکن اس کا دل مطمئن تھا سارا دن دوسرے قیدی اس کے پاس آتے رہے اور الوداعی ملاقات کرتے رہے۔ وہ بے خوف و خطر پھانسی سیل میں بیٹھا رہا معمول کے مطابق اس نے روٹی کھائی‘ چائے پی اور ملنے والوں سے گپیں ہانکتارہا حتیٰ کہ رات کو گہری نیند سویا جیل حکام کو مصیبت پڑی ہوئی تھی وہ پھانسی گھر میں خصوصی انتظامات کرنے میں لگے ہوئے تھے اور جیل کے باہر بھی غیر معمولی انتظامات تھے‘ پھانسی دینے والے جلاد کو بھی بلا لیا گیا تھا محمد خان نے معمول کے مطابق عشاءکی نماز اداکی اور اطمینان کی نیندسوگیا۔ رات کے گیارہ بجے کے بعد پھانسی پانے سے صرف 5 گھنٹے قبل ہائی کورٹ کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا حکم مل گیا اسے جگا کر اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اوراٹھا شکرانے کے نوافل ادا کئے اور پھر گہری نیند سوگیا۔ 6 جنوری 1976ءکو اس کے بھائی نے ہائی کورٹ میں جو اپیل دائر کر دی تھی وہ منظور ہو گئی اور اس کی سزاپر عملدرآمد روک دیا گیا۔ اس کا کیس دوبارہ ہائی کو رٹ میںسنا گیا اور 1978ءمیں اس کی سزائے موت کو عمر قیدمیں تبدیل کر دیا گیا ۔ محمد خان 22 برس کی سزا کاٹنے کے بعد بالآخر 1989ءمیں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں صدارتی آڈیننس کے تحت 60 سال سے زائد عمر قیدیوں کی سزا کی معافی کے تحت آزاد ہوگیا۔ رہائی کے وقت اس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میری تمام رقابتیں، رنجشیں اور دشمنیاں ختم ہو چکی ہیں۔ رہا ہو کر ملک و قوم کی خدمت کروں گا۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ انسانیت دکھاﺅں گا۔ محمد خان بہت اچھا مقرر بھی تھا وہ رہائی کے بعد بینظیر بھٹو کی موجودگی میں جلسوں سے خطاب بھی کرتا تھا۔ بالآخر تلہ گنگ کی تاریخ کا یہ طلسماتی کردار 29 ستمبر 1995 کو طبعی موت مرا۔ اسے آبائی گاﺅں ڈھوک مصائب تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال میں دفن کیا گیا۔ آخری بات: اور یوں ایک بہادری اور دلیری کی داستان کا خاتمہ ہوگیا۔۔۔ محمد خان ڈھرنال اور ہاشم خان دونوں انتہائی دلیر اوربہادر جوان تھے۔۔۔ تلہ گنگ پہلے ضلع اٹک کا حصہ ہوا کرتا تھا اور ہمارے علاقے میں پیر آف مکھڈ کی سیاسی اجارہ داری تھی۔۔۔ پاکستان بننے کے بعد تلہ گنگ کی ایم این اے اور ایم پی اے کی سیٹیں ہمیشہ پیر آف مکھڈ جیتا کرتے تھے۔۔۔۔ اور یہ دونوں جوان پیر آف مکھڈ کے سیاسی نظریے کے مخالف تھے۔۔۔۔ انہیں صرف اور صرف پیر آف مکھڈ کی سیاسی مخالفت کی بنا پر عبرت کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔۔ محمد خان ڈھرنال نے اپنی زندگی میں نہ تو کبھی ڈاکہ مارا نہ ڈاکے کا کوئی کیس اس کے خلاف درج تھا۔۔۔ مفروری کے دوران اور بعد ازاں جب اس نے عدالتیں لگانا شروع کیں تو غریب لوگ اس کے ہمنوا بن گئے۔۔۔ اور غریبوں کا حقیقی ساتھی اورمسیحا تھا جبکہ ظالموں کے خلاف ہمیشہ برسر پیکار رہا۔۔۔ محمد خان ڈھرنال نے ابھی جوانی میں قدم ہی رکھا تھا کہ اسے مختلف مقدمات میں الجھا دیا گیا۔۔۔ اپنی ساری زندگی وہ انصاف کی تلاش میں رہا۔۔۔ زندگی کا زیادہ وقت مفروری اور جیل میں گزارا۔۔۔ انتہائی مضبوط اعصاب کا مالک محمد خان ڈھرنال میری ذاتی رائے کے مطابق سیاسی انتقام کا نشانہ بنا نہ تو وہ ڈاکو تھا اور ہی ظالم و جابر تھا۔۔۔۔ وہ غریب لوگوں کا ایک حقیقی مسیحا تھا۔۔۔ اور یہی سچ ہے۔۔ ۔۔۔ ماخذ: -1 محمد خان کا طویل انٹرویو جو فدا الرحمان نے روزنامہ خبریں کیلئے لیا تھا۔ (روزنامہ خبریں اسلام آباد) -2 ممتاز ناول نگار خلش ہمدانی مرحوم کی کتاب ” محمد خان ڈھرنال کی سوانح حیات“ (جو اب نا یاب ہے) -3 خوشاب نیوز ڈاٹ کام پر بھی محمد خان ڈھرنال کی سوانح حیات شائع ہو چکی ہے -4 محمد خان ڈھرنال پر ”سپوتنک لاہور “ کا بھی خاص نمبر شائع ہو چکا ہے۔ /

ہفتہ، 2 اپریل، 2022

بھکّر//رپورٹ ۔ظفر اعوان //کل رات بزمِ رفیقِ پاکستان جہان خان بھکر کے زیر اہتمام ایک شام پروفیسر قلب عباس عابس کے نام سے محفل مشاعرہ کا انعقاد گورنمنٹ گریجویٹ کالج 48 ٹی ڈی اے جہان خان بھکر میں کیا گیا جس کی صدارت معروف ادیب اور دانشور جناب ناصر ملک چوک اعظم نے کی جبکہ سرپرستی محترم نذیر ڈھالہ خیلوی صاحب کی تھی لاہور ، سمندری ، لیہ ، میانوالی ،مظفرگڑھ، جمن شاہ ، کروڑ ، فتح پور اور بھکر سے شعراء کرام کی شرکت نے پروگرام کو چار چاند لگائے نظامت کے فرائض ریڈیو کمپئیر سجاد حسین راز صاحب نے باخوبی نبھائے اس پروگرام کو معروف افسانہ نگار ، شاعر محترم ڈاکٹر خالد جاوید اسراں اور بندہ ناچیز عابد علیم سہو نے اورینج کیا اس کے علاوہ پرنسپل شہزاد ساجد ، ماسٹر افضل صاحب ،علی حسن ، سہیل اکرم ودیگر اراکین بزمِ رفیقِ پاکستان نے پروگرام کو کامیاب بنانے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کیا آخر پر صاحب شام اور صاحب صدارت کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا اور مہمان شاعروں کی دستار بندی کی گئی ۔ بزمِ رفیقِ پاکستان جہان خان بھکر تہہ دل سے شکر گزار ھے تمام دور و نزدیک سے تشریف لائے ھوئے شعراء حضرات اور معزز مہمانوں کی جن کی آمد سے اہل علاقہ کو ایک یادگار اور شاندار پروگرام دیکھنے اور سننے کو ملا ۔ آخر پر پروگرام کی چند تصاویری جھلکیاں بار دیگر تمام احباب کا شکریہ ان شاءاللہ بشرط زندگی بزمِ رفیقِ پاکستان جہان خان بھکر آئندہ بھی اس طرح کے پروگرام منعقد کرواتی رہے گی اور فروغ علم و ادب کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی دعاؤں میں یاد رکھیے گا اللّٰہ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین

سرگودھا(ظفر اعوان )زندگی خوابوں کے گرد گھوم رہی ہے ۔ خواب وہ نہیں ہوتے جو نیند میں آتے ہیں۔ درحقیقت خواب تو وہ ہیں جو ہمیں سونے نہ دیں ۔ خوابوں کی تعبیر کے لیے عذابوں کی رت سے گزرنا پڑتاہے۔ وہ تخلیق کار جو معاشرتی اصلاح کے لیے قلم سے جہاد کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ عوام الناس کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ ماہر قانون ، شاعرہ اور مصنفہ محترمہ سعدیہ ہما شیخ کا ناول ” خوابوں کے رنگ“ بے راہ روی اور معاشرتی برائیوں کے خلاف ایک آوازِ حق ہے ۔ اِن خیالات کا اظہار پاکستان ادب اکادمی کے چیئرمین ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے تنظیم برداشت کے زیر اہتمام ناول ” خوابوں کے رنگ“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیاجس کا اہتمام سولو ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ قبل ازیں ڈاکٹر عتیقہ ریحان(ڈائریکٹر سرگودھا ڈرائی پورٹ)، سعدیہ ہماشیخ ایڈووکیٹ ، ملک آفتاب احمد اعوان(ضلعی صدر برداشت)، عاطف ممتاز گوندل(ماہر قانون)، انم خان(نائب صدر برداشت)،عتیق الرحمن(ڈائریکٹر پی جی ایس)، ملک عابد اعوان (ڈسٹرکٹ کوارڈی نیٹر برداشت)، وارث ندیم وڑائچ(ڈائریکٹر کمپرہنسیوی سکول و کالج) ، طارق اعوان(ایڈیٹر سرگودھا پوسٹ)، سید انور(ممتاز آرٹسٹ)، انشراح فیصل اور مصطفی فیصل نے بھی خطاب کیا۔فیصل نور اعوان نے جملہ مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے مزید کہا کہ سچائی اور حق لکھنا مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں ۔ ہمیں کلمہ ¿ حق بلند کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ محترمہ سعدیہ ہما شیخ نے کہا کہ میری رشحات کا مقصد ہے کہ ہماری نسلیں وقتی مفاد اور لذتوں کے لیے جس دلدل میں شوق سے گررہی ہیں وہ بچ جائیں ۔ اس ناول کو پڑھ کر کوئی ایک کالج ، یونی ورسٹی کی بچی بھی اپنے بہکتے قدموں کو روک لیتی ہے تو سمجھیے میرا مقصد پورا ہو گیا یہ کہانی ہے ہوسٹل میں رہنے والی تین لڑکیوں کی ، یہ کہانی ہے اپنی آنکھوں میں اپنی چادر سے بڑے خواب سجانے والی آنکھوں کی۔ وارث ندیم وڑائچ نے کہا کہ تعلیمی زوال کا سبب کتابوں سے دوری ہے ۔ ہمیں کتابوں سے رابطہ رکھنا چاہیے۔ کتابوں کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے ۔ نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے تعلیمی اداروں میں لائبیریوں کا راستہ ہموار کرنا آج کی اہم ضرورت ہے ۔ مغرب نے کتابوں کے بل بوتے پر ہی ایجادات کی ہیں۔ سعدیہ ہما کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ شاہینوں کے شہر سرگودھا کی خواتین تحریر و تقریر میں بہت فعال ہیں جس کی ایک مثال سعدیہ ہما شیخ کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ اُنھوںنے شعر و سخن اور ادب کی کئی اصناف پر طبع آزمائی کی ہے ۔ اُن کا ناول ” خوابوں کے رنگ“ نوجوان نسل کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں وہ اپنی زندگی کے بہت سے راستے ہموار کر سکتی ہیں۔ کم وقت میں 220صفحات پر لکھا گیا یہ ناول اپوا ءپبلی کیشن نے شائع کر کے ایک بہت بڑی ادبی خدمت انجام دی ہے ۔ برداشت کی طرف سے ملک آفتاب اعوان نے محترمہ سعدیہ ہما کو گلدستہ اور ایک شیلڈ سے نوازا۔ بعد از تقریب عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔

ہفتہ، 12 مارچ، 2022

عورتوں کے وکیل اسلام سے پہلے عورت کی حالت بہت قابل رحم تھی اور اس بات کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں عورت پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے دنیا کے ہر خطے میں عورت کا استحصال کیا گیا زندہ دفن کر دیا جاتا تھا سورہ نحل میں ہے (جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر ملتی تو غم کے سبب ان کا رنگ کالا پڑ جاتا وہ غمناک ہو جاتا اور اس خبر کو لوگوں سے چھپاتا اور سوچتا تھا اس لڑکی کو زندہ رہنے دیں یا زمین میں گاڑ دیں) شوہر وفات پا جاتا تو بیوہ کو اس کی لاش کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا ،کہیں ونی کر دیا جاتا کہیں بھیڑ بکری کی طرح بازاروں میں بیچ دیا جاتا اور کہیں لونڈی بنا کر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا جاتا اسلام سے قبل عورت کو کوئ حق حاصل نہ تھا یورپی اقوام اسے حیوانوں اور شیاطین میں شمار کرتی تھیں حتی کہ انہیں مقدس کتابیں پڑھنے کا بھی کوئ حق نہ تھا یونانی تہذیب میں عورت، مردوں سے کم تر تھی اسے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا یونانی معاشرے نے صرف جنسی استمال کی چیز بنا رکھا تھا بلکہ کہا جاتا تھا : عورت ایک ایسا حیوان ہے جس کے بال لمبے اور سوچ چھوٹی ہوتی ہے رومی تہذیب میں عورت کی یہ اہمیت تھی کہ شوہر انہیں قتل بھی کر سکتے تھے اس کے علاؤہ عورت کو عصمت فروشی کے لئے استعمال کیا جاتا مصری عورت کو برائ سمجھتے اور انہیں شیطان کی نشانی قرار دیا جاتا تھا یہودی بھی عورتوں کو کمتر سمجھتے عورت کی گواہی کی کوئ حثیت نہ تھی کہ یہاں تک کہتے کہ اگر تم نے دیکھ لیا کہ ایک گدھا لکڑی کی سیڑھی پر چڑھ گیا تو پھر عورت میں بھی عقل ا جائے گی پھر عرب معاشرے میں انقلاب آیا جس نے سب بدل دیا اس معاشرے میں محمد ص نبی بن کر آئے جنہوں نے عورت کی حالت بدل دی آپ عورتوں کے وکیل بن گئے اور پھر ایسی وکالت کی کہ عورت کا ہر روپ معتبر ہو گیا وہ مرد کے سر کا تاج بن گئ بیٹی کے روپ میں جنت کی بشارت بن گئ ماں کے روپ میں مرد کی جنت اس کے پیروں میں رکھ دی بیوی کی صورت میں مرد کا لباس بنا دیا اور بہن کے روپ میں شرم وحیاء کا پیکر قرار دیا آپ آقائے کل نے عورت کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر بلند مقام اور عزت عطا کی وہ عورت جسے جینے کا حق بھی حاصل نہ تھا اس کے وکیل بن کر اسے اس کے حقوق دلوائے جن میں سرفہرست جینے کا حق تھا ایسی آزادی دلوائے جس کا مغربی عورت آج بھی تصور نہیں کر سکتی آپ ص نے سا بقہ عالمی نظام میں خواتین پر روا رکھے گئے تمام مظالم کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی ارشاد فرمایا! اے لوگو! بے شک تمہارے کچھ حقوق عورتوں پر واجب ہیں اور اسی طرح عورتوں کے کچھ حقوق تم پر واجب ہیں (ان کی پوری طرح حفاظت کرنا) عورتوں سے ہمیشہ بہتر سلوک کرنا اور عورتوں کے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کی عزت کی بلندی اور اس کے سماجی،معاشی،قانونی،عائلی اور اخلاقی حقوق کا تعین و تحفظ کر کے حقوق نسواں کے مسائل کا متوازن حل نکال دیا آپ ص نے بنی نوع انسان کو یہ ھدایت کی اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش ایک جان سے کی ہے پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں کو پھیلایا مزید کہا و عاشرو ھن بالمعروف اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو آپ نے درج ذیل حقوق عورت کو دلوائے جن کی نظیر کسی معاشرے میں نہیں ملتی تعلیم کا حق آپ ص نے عورت کو تعلیم کا حق دیااور یہ تعلیم ہی ہے جو حقوقِ سے آشنا کرتی ہے آپ نے فرمایا! مروں کی طرح عورتوں کو بھی علم حاصل کرنے کا حق ہے کمانے کا حق آپ ص نے عورت کو کمانے کا حق دیا اور کہا کہ وہ اپنے مال پر پورا تصرف رکھتی ہے اور اس کا آزادانہ استعمال کر سکتی ہے جبکہ مرد اپنا مال عیال پر خرچ کرنے کا پابند ہے اس کی سب سے بڑی مثال حضرت خدیجہ ہیں جو عرب کی مالدار تاجر خاتون تھیں گواہی کا حق دین اسلام نے اس عورت کو گواہی کا حق دیا جسے جینے کا حق بھی حاصل نہ تھا بحث و مباحثہ اور رائے کا حق عورت جو بحث اور رائے کی آزادی دی وہ اپنی بھرپور رائے کا اظہار کر سکتی ہے سوالات کر سکتی ہے اس کی بہترین مثال حضرت عائشہ ہیں جو آپ ص سے سوالات کرتی تھیں اور بغیر تحقیق کے کوئ بات قبول نہ کرتیں اور یہ مقام مرے نبی نے ہر عورت کو دیا اسے کمتر نہ سمجھا نکاح کا حق آپ ص کی نبوت سے پہلے عورت کو بھیڑ بکری سمجھا جاتا تھا مگر اسلام نے عورت کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا حق دیا اور یہاں تک کہ دیا کہ عورت کی مرضی کے بغیر کوئ اس کا نکاح نہیں کر سکتا بلکہ عورت بھی مرد کو نکاح کا پیغام دے سکتی ہے دوسری شادی کا حق اسلام سے پہلے عورت کو مرد کے ساتھ مرنے پر مجبور یعنی ستی کیا جاتا تھا مگر اسلام نے عورت کو دوبارہ نکاح کا حق دیا یوں آپ بیوہ اور مطلقہ کے وکیل بنے انہیں مرتبہ دیا جنہیں منحوس سمجھا جاتا تھا اور انہیں عقد ثانی کا حق دیا اور اس حق نے بے راہ روی اور گناہ کا راستہ روکا آپ ص نے فرمایا! عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے حلال ہیں دو دو اور تین تین اور چار اور یہ حکم اسی لئے دیا تا کہ معاشرتی متوازن ہو اور جنسی مسائل نہ پیش آئیں لوگ بیوہ اور مطلقہ کو چھوت نہ سمجھیں بلکہ۔ جاے کر کے انہیں عزت دیں طلاق کا حق یہ دین اسلام کی ہے جس نے عورت کو مرد سے آزاد ہونے کا حق عطا کیا اسے ناپسندیدہ رشتے سے آزاد ہونے کا حق دیا خدمت خلق کا حق آپ ص نے عورت کو آزاد انسان کی طرح زندگی بسر کرنے کا حق عطا کیا وہ ا،اد ہے دین کے لئے دین نے لئے کام کرنے کےئے اور گھر سے نکلنے کے لئے وراثت کا حق اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ عورت کو وراثت میں حصہ دار بنا کر اسے معاشرتی طور پر مضبوط کرنا یے مسلمان عورت کو آگاہ ہونا چاہئے کہ جو توقییر اور عزت اس کے رب اور اس کے رسول نے اسے عطا کی دوسری اقوام اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں ہیں آپ ص نے فرمایا! مجھے دنیا کی نعمتوں میں عورت اور خوشبو پسند ہیں زمانہ جہالت میں بیٹوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے اپ نے بیٹی کا وکیل بن کر اسے رحمت قرار دیا اور بیٹی کی پرورش کرنے والے کو جنت کی بشارت دے دی آپ ص اپنی پیاری بیٹی فاطمی کی آمد پر کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور ان کے لئے خود کپڑا بچھاتے بیٹی کو حیا کا مرکب بنا دیا آپ ص نے فرمایا! جس مسلمان کی دو بیٹیاں یوں اور وہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرے تو وہ اس کو جنت میں داخل کروائیں گی اسی طرح ماں کے قدموں ے جنت رکھ کر عورت کو بلند مقام عطا کیا آپ ص نے فرمایا میرا سر سجدے میں ہوتا اور مجھے مری ماں پکارتی تو میں دوڑا چلا جاتا ماں کو سراہا دعا بنا دیا حدیث نبوی کے الجنتہ تحت اقدام الامھات جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے بیوی کے روپ میں وفا بنا دیا جسے لونڈی سمجھتے تھے اسے مرد کا لباس قرار دیا آپ ص ازدواج کے ساتھ انصاف کرتے ان کے ساتھ گھر کے کاموں میں مدد کرتے اور ان کے لاڈ اٹھاتے آپ ص نے فرمایا نیک بیوی مرد کے لئے دنیا میں جنت ہے آپ ص نے فرمایا! خیر کم خیر کم لاھلہہ و انا خیر کم لاھلہہ :تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے لئے بہتر ہوں: اسی طرح بہن کے رشتے کو توقیر عطا کیا سے درد آشنا بنا ڈالا آپ ص کی بین شیما آپ سے اور آپ ان سے بیت محبت کرتے تھے آپ ص نے عورت کا وکیل بن کر اسے مرد کے برابر درجہ دیا آپ ص نے انہیں نازک آبگینے کیا اور ان کے ساتھ نرم سلوگ اور درگزر کرنے کی ھدایت کی اسی طرح آپ ص نے فرمایا! دنیا ایک متاع بے اور دنیا کی سب سے خوبصورت متاع نیک اور پرہیز گار عورت ہے آپ نے ایک بیوی کی وکالت کر کے اسے اس کے حقوق سے روشناس کرایا بیٹی کے وکیل بن کر اسے اس کا حق دلوایا آپ نے ماں کو اس کا درجہ دلوایا اور کہا کہ حسن سلوک کی زیادہ حق دار تمہاری ماں ہے ایک شخص نے عرض کی میرے حسن سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے آپ ص نے فرمایا تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیری ماں اور پھر تیرا باپ آپ ایک بہن کے وکیل بنے اور ان سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا آپ ص نے فرمایا! عورتوں کی عزت،عزت والا ہی کرتا ہے اور ان سے توہین آمیز سلوک وہی کرتا ہے جو کمینہ ہو آپ ص نے نہ صرف حقوق دئے بلکہ انہیں پورا نہ کرنے پر سزائیں اور عمل کرنے پر انعام بھی دئے جیسے تین اور دو بیٹیوں کی پرورش اور تربیت پر جنت کی بشارت ازدواج میں انصاف نہ کرنے پر روز قیامت آدھا دھڑ لٹکا ہو گا بہن اور بیٹی کو وراثت نہ دینے پر سزا ماں کی نافرمانی کر نے پر سزا آپ ص نے فرمایا انسان کے والدین اس کی جنت اور دوزخ ہیں مختصر یہ کہ جس عورت کو استعمال کی شے اور مرد کا کھلونا سمجھا جاتا تھا اسے جہالت اور غلامی سے آزادی دلا کر بلند مقام عطا کیا اور اس کے بنیادی حقوق دلوائے اور ادا کرنے کی سختی سے تلقین کی اسے ذلت کے گڑھے سے نکال کر معتبر رشتے دئے عزت اور وقار کے ساتھ آزادی سے اپنی مرضی سے جینے کا حق دیا اور آخر میں یہی کہوں کہ نبی ص پر اترنے والی آخری کتاب القرآن میں ایک پوری سورت النساء کے نا سے عورتوں کے بارے میں نازل کی جس نے بنت حوا کو جو شان عطا کی اس کی اور کسی معاشرے اور مزہب میں مثال نہیں ملتی تحریر سعدیہ ہما شیخ

ظفراعوان/ //۔۔۔۔ سعدیہ ہما شیخ سعدیہ ہما شیخ 26 جنوری 1979 کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے میٹرک ایم سی ہائی سکول 2 بلاک سرگودھا سے کیا۔ ایم اے ان پول سائنس ایم اے ان میں پاک اسٹڈیز ڈ پلومہ ان اسلامک ایجوکیشن اور قانون کی ڈگری قائد اعظم لاء کالج سرگودھا سے حاصل کی۔ پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ انہوں نے شاعری کا آغاز طالب علمی کے زمانہ سے کیا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ''وصل میں تشنگی '' 2007 میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد ، بال ہما 2019 اقوال ہما 2020 وادی کالام کا فسوں سفرنامہ 2021 وہ شاعرہ ، ادیبہ ، کالم نگار، سفرنامہ نگار ناول نگار اور اب سیرتﷺ پر کام کر رہی ہیں۔ وہ ادبی خدمات پر کئی ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہیں جن میں ،نوبل ایوارڈ، نظریہ پاکستان ایوارڈ، شمسی ایوارڈ بک ایوارڈ، بال ہما وصل میں تشنگی علامہ اقبال گولڈ میڈل ایوارڈ برائے فروغِ ادب حسن کارکردگی میڈل ایوارڈ ادبی سماجی خدمات ایوارڈ بیسٹ رائٹر، ناول میں نے خوابوں کے رنگ دیکھے ہیں ایگل لائرز ہائی کورٹ کی طرف سے ادبی ایوارڈ ماہنامہ پاکیزہ چھ ایوارڈ ماہنامہ ریشم دو ایوارڈ ایکسیلنٹ ایوارڈ برائے علمی قانونی خدمات قائد اعظم شیلڈ آل پاکستان رائٹرز ویلفیر ایسوسی ایشن کی طرف سے گیسٹ آف آنر فاطمہ جناح گولڈ میڈل چیرپرسن جیل ریفارمر کمیٹی پہلی خاتون انسٹرکٹر کراٹے ان سرگودھا گولڈ میڈل ان کراٹے ا150 سے زائد ٹرافیز سپورٹس میں بیسٹ رائٹر ایواڈ اوج ڈائجسٹ بیسٹ رائٹر ایوارڈ ایکسپریس پوسٹ ممبر آف انٹرنیشنل بار چیئرپرسن لٹریری کمیٹی برداشت لیگل ایڈوائزر آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن چیئرپرسن خواتین ونگ گلوبل ورلڈ آف جرنلسٹ دو دفعہ پی ٹی وی کے پروگرام شو جوان میں خصوصی شرکت کر چکی ہیں ریڈیو ایف ایم پاکستان ان کی ادبی خدمات پر بارہا خصوصی پروگرام نشر کر چکا

شاعر جعفرجوڑا۔ انٹرویو ظفراعوان

جمعرات، 10 فروری، 2022

سید آصف گیلانی کی طرف سے اہم اعلان

بھکر۔ظفر اعوان//سید آصف گیلانی ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر احساس کفالت پروگرام تحصیل بھکر۔ کی طرف سےاہم اعلان 📢📢📢📢📢📢 احساس کفالت پروگرام کی جانب سے آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اہل بینیفشری کو 8171 سے میسج انکے دیے گئے موبائل نمبر پر سینڈکردیے گئے ہیں
وہ اپنے اصل شناختی کے ہمراہ احساس کفالت پروگرام کے دفتر آکر اپنا اندراج کروائیں اور اس پروگرام کا حصہ بنیں واضح رہے کہ وہ خواتین احساس کفالت پروگرام کے دفتر نا آئیں جن کو 8171 سے درج ذیل میسج موصول نہیں ہوا محترمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ احساس کفالت امداد کیلئےاہل ہیں لیکن آپ نے سروے میں اپنے قومی شناختی کارڈ کا اندراج نہیں کروایا۔ لہذا اپنے قریبی احساس رجسٹریشن سنٹر پر فارم نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے مطابق اپنے شناختی کارڈ کا اندراج کروائیں۔ منجانب سیدآصف گیلانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر احساس کفالت پروگرام تحصیل بھکر

*ڈی پی او بھکر سید علی رضا نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال قائم کردی* ڈی پی او بھکر کی گزشتہ رات دریاخان تھانے کے وزٹ کے دوران کی اندورنی کہانی سامنے آگئی سید علی رضا نے تھانہ سٹی دریاخان کے وزٹ کے دوران حوالات کو چیک کیا تو ایک انتہائی غریب شخص حوالات میں بند تھا ڈی پی او بھکر نے ملزم سے پوچھا کہ آپ کس مقدمہ میں گرفتار ہوئے تو غریب شخص نے بتایا کہ میں نے بنک کے پیسے ادا کرنے ہیں، جعلی چیک کے مقدمہ میں گرفتار ہوں ڈی پی او بھکر نے پوچھا کہ کتنے پیسے ادا کرنے ہیں تو ملزم نے بتایا کہ ایک لاکھ انتیس ہزار، ڈی پی او نے ڈی ایس حافظ بدر منیراورایس ایچ او ملک اشرف اعوان کو فوری احکامات جاری کئے کہ مخیر حضرات سے پیسے اکٹھے کریں اور مداعی مقدمہ کو ادا کریں ڈی ایس پی نے فوری مخیر حضرات سے رابطہ کیا اور مداعی مقدمہ کو ایک لاکھ انتیس ہزار روپے ادا کروا دیئے پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کردیا مداعی مقدمہ کے بیان پر معزز عدالت نے ملزم کی ضمانت کنفرم کردی مداعی مقدمہ اور ملزم نے ڈی پی او بھکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے واحد ایسا آفیسر دیکھا ہے جو مخلوقِ خدا سے پیار کرتا ہے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی پی او کے اس احسن اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او بھکر سید علی رضا نے واقع ہی غریب پرور ہونے کا ثبوت دیا

پنجاب پولیس کا بڑا فیصلہ وزیراعظم شکایت پورٹل پر دوران ڈیوٹی پولیس ملازمین کا "ٹک ٹاک" استعمال کرنے کی شکائتیں پنجاب پولیس نے دوران ڈیوٹی ملازمین کو "ٹک ٹاک" اپلیکیشن استعمال کرنے سے روک دیا یہ طرز عمل سوشل میڈیا پر محکمہ پولیس کی نرم شبیہ، وقار اور وقار کو مجروح کرتا ہے، مراسلہ عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، مراسلہ اے آئی جی آپریشنز پنجاب کی طرف سے پنجاب بھر کے تمام آر پی اوز کو مراسلہ جاری

پنجاب پولیس کا بڑا فیصلہ وزیراعظم شکایت پورٹل پر دوران ڈیوٹی پولیس ملازمین کا "ٹک ٹاک" استعمال کرنے کی شکائتیں پنجاب پولیس نے دوران ڈیوٹی ملازمین کو "ٹک ٹاک" اپلیکیشن استعمال کرنے سے روک دیا یہ طرز عمل سوشل میڈیا پر محکمہ پولیس کی نرم شبیہ، وقار اور وقار کو مجروح کرتا ہے، مراسلہ عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، مراسلہ اے آئی جی آپریشنز پنجاب کی طرف سے پنجاب بھر کے تمام آر پی اوز کو مراسلہ جاری

R A News: تحریر۔ ظفراعوان۔*سنگر غضنفر احمد* فوک میوزکل اوراس...

R A News: تحریر۔ ظفراعوان۔*سنگر غضنفر احمد* فوک میوزکل اوراس...

تحریر۔ ظفراعوان۔*سنگر غضنفر احمد* فوک میوزکل اوراسٹیج کے بے تاج بادشاہ کا میوزیکل پروگرام 12 فروری کومحلہ عالم آباد بھکّراور 15 فرووی کو منڈی ٹاون بھکرہوگا۔ ۔سنگر غضنفرکا شمار نئے ابھرتے فنكاروں میں ہوتا ہے۔انہوں نےبہت کم عرصے میں اپنے فن کا لوہا منواتے ہوئے اپنا نام بنایا ہے ۔اورانکے چند سپر ہٹ گیت اور البم بھی ریلیز ہو چکے ہیں۔وہ پپ٠خ٠ ومخلص انسان ہیں۔ہم دعاگوہیں الله پاک انکودن دوگنی اور رات چگنی تراعطافرماے۔ آمین