Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

ضرورت نمائندگان:۔

ضرورت نمائندگان:۔ ملک بھر سے پڑھے لکھے میل، فی میل حضرات فوری رابطہ کریں موبائل نمبر 03469200126

بدھ، 25 مارچ، 2020

لوکل/ریجنل اخبارات کو مسائل سے نکالنے کا عزم ///تحریر رخشندہ چوہدری //بول کہ لب آزاد ہیں


لوکل/ریجنل اخبارات کو مسائل سے نکالنے کا عزم بول کہ لب آزاد ہیں تحریر رخشندہ چوہدری لوکل/ریجنل اخبارات کے مسائل کون حل کرے گا اس کے لئے جدوجہد کتنی ضروری ہے۔آج میں پاکستان کی ایک ایسی ایسوسی ایشن کے حوالہ سے بات کرنا چاہتی ہوں اور بتانا چاہتی ہوں کہ APRNSکے قیام کی ضرورت کیوں کر محسوس کی گئی۔اورکس نے یہ قدم اٹھایا۔پرنٹ میڈیا کے لوکل/ریجنل اخبارات کی بندش کا زمہ دار کس کو ٹہرایا جائے پاکستان میں اس وقت لوکل/ریجنل اخبارات شدید مالی بحران کاشکار ہیں ۔حکومتی زمہ داران خصوصا" وزارت اطلاعات نے ایسی پالیسیاں بنائیں کہ پرنٹ میڈیا انڈسٹری کے لوکل/ریجنل اخبارات سینکڑوں کی تعداد میں میڈیا لسٹ سے اتار دئے گئے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بڑے بزنس مین اخبار مالکان کی تنظیم سے منسلک اکثر ایڈور ٹائزنگ ایجنسیاں وزارت اطلاعات کے چند کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے لوکل/ریجنل اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے واجبات ہڑپ کر گئیں اور کئی سالوں سے لوکل/ریجنل اخبارات کو بلوں کی ادائگیاں نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے کئی اخبارات بند ہوگئے جبکہ اس پرحکومتی زمہ داران نے پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے جسکی وجہ سے مزید لوکل/ریجنل اخبارات بند ہو رہے ہیں جس سے ہزاروں خاندان شدید معاشی مسائل کا شکار بن چکے ہیں حکومت 25℅ریجنل کوٹہ اشتہارات کو سیاسی مقاصد اور حکومتی تشہیر کے لئے استمال کر لیتی ہے جبکہ انٹرنیشنل سطح پر آج بھی حالات مختلف ہیں امریکہ جیسے ترقی یافتہ لیڈنگ ملک میں بھی لوکل/ریجنل اخبارات اور ہفت دوزہ اخبارات کامیابی سے اپنی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔وجہ حکومتی سطح پر پرنٹ میڈیا کے لئے بنایا گیا ساز گار ماحول ہے لیکن پاکستان میں لوکل حلقوں سے منتخب ہونے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی جب اسمبلی میں قانون بناتے ہیں تو بیورو کریسی کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں اس وقت لوکل/ریجنل اخبارات کے لئے بدترین حالات بنا دئے گئے ہیں ان بدترین حالات میں ایک کہنہ مشق معروف صحافی و اخبار نویس غلام مرتضیٰ جٹ ( G M Jatt)نے 14اگست 2019ء کو اسلام آباد میں چند پروفیشنل ساتھیوں کی مشاورت سے APRNS آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کی بنیاد رکھی ممبر سازی کےبعد 25دسمبر2019ء کو پہلے انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں ممبران نے متفقہ طور پر بانی APRNS کو ایسوسی ایشن کا سربراہ/صدر منتخب کر لیا اور انکی نامزد کردہ ٹیم کو بھی بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا اس کے بعد اس ایسوسی ایشن کی باقائدہ لانچنگ سرمنی لاہور میں 4 مارچ 2020ءکی شام کی گئی ایسوسی ایشن کے بانی غلام مرتضیٰ جٹ نے شمع روشن کر کے APRNS کی باقائدہ لانچنگ کی۔ لانچنگ کے بعد ایسوسی ایشن کے باقائدہ آن گراونڈ ورک کا آغاز کر دیا گیا۔ اس سے قبل اس ایسوسی ایشن کی لانچنگ کا پروگرام 23مارچ 2020ءکو اسلام آباد میں تشکیل دیا گیا تھا ۔23 مارچ 2020ءکی قومی پریڈ کی وجہ سے قبل از وقت لاہور میں APRNSکی لانچنگ کردی گئی ۔پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں یہ واحد ایسوسی ایشن ہے جس نے لانچنگ سے قبل ہی کمیونٹی کو لاکھوں روپے کا ریلیف دلوایا ۔رجسٹریشن فیس 10000ہزار سے کم کروا کر ایک ہزار کروائی ۔این اوسی فیس بھی ایک ہزار کروا دی اور جرمانے بھی معاف کروائے جس سے فی کس اخبار ہزاروں روپے کاریلیف مل گیا اور نئے نکلنے والے اخبارات کو بھی فی این او سی 9000 اور رجسٹریشن میں 9000کا ریلیف مل گیا اس تاریخی جدوجہد کا سہرا کہنہ مشق معروف اخبار نویس بانی APRNS غلام مرتضیٰ جٹ کے سر ہے اس تاریخی جدوجہد اور ریلیف دلوانے پر پاکستان بھر کے لوکل/ریجنل اخبارات وجرائد کے مالکان وزمہ داران نے زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور پاکستان بھر کےسینکڑوں اخبارات نے اس کو مین خبر کے طور پر شائع کیا ایڈیشن نکالے گئے اور آن لائن ڈیجٹل اخبارات نے بھی بریکنگ نیوز کے طور پر شائع کیا اس کے علاوہ APRNS کے سربراہ غلام مرتضیٰ جٹ نے وزارت اطلاعات کے عوام دوست ایماندار سینئر آفیسر Pioطاہر حسن کی سپورٹ سے pid میں لوکل/ریجنل اخبارات کے زمہ داران کے لئے ڈیجٹل میڈیا ورکشاپ کا سلسلہ شروع کیا لیکن بدقسمتی سے کورونا کی وجہ سے یہ سلسلہ فی الحال رک گیا۔APRNS کی شمع روشن کر کے لانچنگ نے بھی سنجیدہ حلقوں میں بہترین پزیرائی حاصل کی اس ایسوسی ایشن APRNS نے کمیونٹی کے مسائل حل کرنے اور انکی پرموشن کرنے کا عزم۔کیا ہوا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی جاری ہے لوکل/ریجنل اخبارات کی ڈیجٹل میڈیا پر لائیو نشریات کا آغاز کروایا جا رہا ہے ۔اخبارات کو شوشل میڈیا کے زریعے ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر پھیلایا جا رہا ہے۔اخبارات کےزمہ داران کے لئے فلاحی منصوبہ جات بنائے جا رہے ہیں،تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کروایا جا رہا ہے ۔فری لیگل ایڈ فراہم کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے،سوشل ریلیشن کو فروغ دینے کے لئے فیملی گالاز پروگرام ترتیب دیا گیا ہے پنجاب میں عدالتی اشتہارات کی بحالی کی قانونی جدوجہد شروع کر دی گئی ہے ۔%25ریجنل کوٹہ پر عمل درامد کی کوششیں شروع کر دی گئیں ہیں۔حکومتی زمہ داران سے ملاقاتیں کر کے انہیں ABC کے طریقہ کار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے قائل کیا جارہا ہے پریس کونسل آف پاکستان کی فیس ختم کرنے KpK میں 20ہزار فیس ختم۔کروانے اور خصوصی طور پر اشتہارات کی رقم pid کے زریعے دینے اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کی اجارہ داری ختم کروانے اور اخبارات کے کئی سالوں سے ہڑپ شدہ واجبات ڈالر کی قیمت کے حساب سے واپس دلوانے کی جدوجہد جاری ہے اس عظیم جدوجہد پر پوری کمیونٹی APRNS کے سربراہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ویلڈن غلام مرتضیٰ جٹ آپکی کمیونٹی کی آواز بنے ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اس مشن کو کامیاب کریں گے

قول ھما ۔تحریر سعدیہ ھما شیخ ۔ایڈوکیٹ /گروپ ایڈیٹر روح عصر نیوز


قول ھما ۔

منگل، 24 مارچ، 2020

اجتماعی دعا ۔۔۔۔۔۔ظفر اعوان


السلام علیکم 🌹صبح بخیر 🌹 اللہ پاک سے دعا گو ہوں کہ اللہ پاک 🌹محمد مصطفی 🌹صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے تمام امت مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے میرے اللہ ہم گنہگار ہیں بدکار ہے مگر تیری رحمت کے طلبگار ہے ۔ یا میرے اللہ اپنے پیارے محبوب 🌹محمد عربی🌹 کے صدقے کرونا کے امتحان سے نجات عطا فرما ۔۔۔۔آمین طالب دعا ۔۔۔ظفر اعوان ۔۔۔۔۔ نوح کو جب موج طوفاں میں کنارہ مل گیا اور کلیم اللہ کو لطف نظارہ مل گیا حسن یوسف کو زلیخہ کا اشارہ مل گیا الغرض ہر ایک بے چارے کو چارہ مل گیا ہم غریبوں کو محمد کا سہارا مل گیا 🌹🌹🌹🌹 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 منور جس طرح چاند ہے تاروں کے جھرمٹ میں مسیحا جس طرح بیٹھا ہوں بیماروں کے جھرمٹ میں شمع جس طرح چلتی ہے پر داروں کے جھرمٹ میں بروز حشر اے ایمان والو بس اسی صورت 🌹محمد مصطفی🌹 ہوں گے گناہ گاروں کے جھرمٹ میں 🍃🍃🍃🍃🍃🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺 ارباب نظر کو کوئی ایسا نہ ملے گا انسان تو مل جائیں گے مولانہ ملے گا تاریخ اگر ڈھونڈے گی ثانی اے 🌹محمد ص 🌺 ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

کرونا کی تباہ کاریوں سے انکار نہیں !


کرونا کی تباہ کاریوں سے انکار نہیں!!! لیکن کرونا کا ایک دوسرا رخ بھی ہے: 1. کرونا نےانسان کودوبارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کےخالق کی طرف اور اس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیاہے۔ 2. اس نے پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بند کردیے ہیں ۔سینما گھر، نائٹ کلب، رقص گاہیں، شراب خانے،جواخانے اور جنسی بے راہ روی کےمراکز بند ہیں بلکہ سودکی شرح بھی کم کردی گئی ہے ۔ 3. اس نےخاندانوں کوایک طویل جدائی کے بعد ان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھا کیا ہے۔ 4. اس نے اجنبی مرد اور عورت کو ایک دوسرے کو بوسا دینے سے بھی روکا۔ 5. اس نے عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پر مجبور کیا کہ شراب پینا تباہی ہے، لہذااس سے اجتناب کیاجائے۔ 6. اس نے صحت کے تمام اداروں کویہ بات کہنے پر مجبور کیا کہ درندے، شکاری پرندے، خون، مردار اور مریض جانور صحت کے لیے تباہ کن ہیں۔ 7. اس نے انسان کوسکھایا کہ چھینکنے کا طریقہ کیا ہے،صفائی کس طرح کی جاتی ہے جوہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے1450 سال پہلے بتایا ہے۔ 8. اس نےفوجی بجٹ کا ایک تہائی حصہ صحت کی طرف منتقل کیاہے۔ 9. اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کومذموم قراردیاہے۔ 10. اس نےدنیا کے بعض بڑے ممالک کے حکمرانوں کوبتادیا کہ لوگوں کوگھروں میں پابند کرنے، جبری بٹھانے اور ان کی آزادی چھین لینےکا معنی کیا ہوتے ہیں۔ 11. اس نے لوگوں کو اللہ سے دعا مانگنے ، زاری کرنے اوراستغفار کرنے پر مجبور اور منکرات اورگناہ چھوڑنے پر آمادہ کیاہے۔ 12. اس نے متکبرین کے کبر وغرور کا سر پھوڑدیا اور انہیں عام انسانوں کی طرح لباس پہنایا۔ 13. اس نے دنیامیں کارخانوں کی زہریلی گیس اوردیگر آلودگیوں کو کم کرنے کی طرف متوجہ کیا جن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کوگندہ کیا ہے۔ 14. اس نے ٹیکنالوجی کو رب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیاہے۔ 15. اس نے حکمرانوں کوجیلوں اورقیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پرآمادہ کیاہے۔ 16. اورسب سے بڑا کارنامہ اس کا یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا. آج عملی طورپریہ بات واضح ہوگئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس لیکن حقیقت میں اللہ کا ایک سپاہی انسانیت کے لیے شر کے بجائے خیر کاباعث بن گیا۔ تواے لوگو! کرونا وائرس پرلعنت مت بھیجو ! یہ تمہارے خیر کے لیے آیا ہے کہ اب ا نسانیت اس طرح نہ ہوگی جس طرح پہلے تھی۔۔ ہمیں نقاب کرنا آگیا، ہمیں وضو کا طریقہ آگیا، ہمیں صفائی کی سمجھ آگئی، نامحرم سے سلام نہیں کرنا ہمیں پتا چل گیا، شادی ہال بند ، سادگی سے شادی عقل میں آگیا، کولڈ ڈرنک، آئس کریم, شراب،جنک فوڈ، فضول خرچی سے بچنا وغیرہ وغیرہ سب سمجھ آگیا ، واہ رے کرونا.... جو علماء دین چیخ چیخ کے سمجھاتے رہے سمجھ نہ آیا ، قربان جاوں کرونا تونے کتنی جلدی اسلام سمجھا دیا!!!

بول کہ لب آزاد ہیں لوکل/ریجنل اخبارات کے مسائل کون حل کرے گا 🌺 تحریر رخشندہ چوہدری🌹


بول کہ لب آزاد ہیں لوکل/ریجنل اخبارات کے مسائل کون حل کرے گا تحریر رخشندہ چوہدری آج میں پاکستان کی ایک ایسی ایسوسی ایشن کے حوالہ سے بات کرنا چاہتی ہوں اور بتانا چاہتی ہوں کہ APRNSکے قیام کی ضرورت کیوں کر محسوس کی گئی۔اورکس نے یہ قدم اٹھایا۔ پرنٹ میڈیا کے لوکل/ریجنل اخبارات کی بندش کا زمہ دار کس کو ٹہرایا جائے پاکستان میں اس وقت لوکل/ریجنل اخبارات شدید مالی بحران کاشکار ہیں ۔حکومتی زمہ داران خصوصا" وزارت اطلاعات نے ایسی پالیسیاں بنائیں کہ پرنٹ میڈیا انڈسٹری کے لوکل/ریجنل اخبارات سینکڑوں کی تعداد میں میڈیا لسٹ سے اتار دئے گئے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بڑے بزنس مین اخبار مالکان کی تنظیم سے منسلک اکثر ایڈور ٹائزنگ ایجنسیاں وزارت اطلاعات کے چند کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے لوکل/ریجنل اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے واجبات ہڑپ کر گئیں اور کئی سالوں سے لوکل/ریجنل اخبارات کو بلوں کی ادائگیاں نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے کئی اخبارات بند ہوگئے جبکہ اس پرحکومتی زمہ داران نے پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے جسکی وجہ سے مزید لوکل/ریجنل اخبارات بند ہو رہے ہیں جس سے ہزاروں خاندان شدید معاشی مسائل کا شکار بن چکے ہیں حکومت 25℅ریجنل کوٹہ اشتہارات کو سیاسی مقاصد اور حکومتی تشہیر کے لئے استمال کر لیتی ہے ان بدترین حالات میں ایک کہنہ مشق معروف صحافی و اخبار نویس غلام مرتضیٰ جٹ ( G M Jatt)نے 14اگست 2019ء کو اسلام آباد میں چند پروفیشنل ساتھیوں کی مشاورت سے APRNS آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کی بنیاد رکھی ممبر سازی کےبعد 25دسمبر2019ء کو پہلے انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں ممبران نے متفقہ طور پر بانی APRNS کو ایسوسی ایشن کا سربراہ/صدر منتخب کر لیا اور انکی نامزد کردہ ٹیم کو بھی بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا اس کے بعد اس ایسوسی ایشن کی باقائدہ لانچنگ سرمنی لاہور میں 4 مارچ 2020ءکی شام کی گئی ایسوسی ایشن کے بانی غلام مرتضیٰ جٹ نے شمع روشن کر کے APRNS کی باقائدہ لانچنگ کی۔ لانچنگ کے بعد ایسوسی ایشن کے باقائدہ آن گراونڈ ورک کا آغاز کر دیا گیا۔ اس سے قبل اس ایسوسی ایشن کی لانچنگ کا پروگرام 23مارچ 2020ءکو اسلام آباد میں تشکیل دیا گیا تھا ۔23 مارچ 2020ءکی قومی پریڈ کی وجہ سے قبل از وقت لاہور میں APRNSکی لانچنگ کردی گئی ۔پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں یہ واحد ایسوسی ایشن ہے جس نے لانچنگ سے قبل ہی کمیونٹی کو لاکھوں روپے کا ریلیف دلوایا ۔رجسٹریشن فیس 10000ہزار سے کم کروا کر ایک ہزار کروائی ۔این اوسی فیس بھی ایک ہزار کروا دی اور جرمانے بھی معاف کروائے جس سے فی کس اخبار ہزاروں روپے کاریلیف مل گیا اور نئے نکلنے والے اخبارات کو بھی فی این او سی 9000 اور رجسٹریشن میں 9000کا ریلیف مل گیا اس تاریخی جدوجہد کا سہرا کہنہ مشق معروف اخبار نویس بانی APRNS غلام مرتضیٰ جٹ کے سر ہے اس تاریخی جدوجہد اور ریلیف دلوانے پر پاکستان بھر کے لوکل/ریجنل اخبارات وجرائد کے مالکان وزمہ داران نے زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور پاکستان بھر کےسینکڑوں اخبارات نے اس کو مین خبر کے طور پر شائع کیا ایڈیشن نکالے گئے اور آن لائن ڈیجٹل اخبارات نے بھی بریکنگ نیوز کے طور پر شائع کیا اس کے علاوہ APRNS کے سربراہ غلام مرتضیٰ جٹ نے وزارت اطلاعات کے عوام دوست ایماندار سینئر آفیسر Pioطاہر حسن کی سپورٹ سے pid میں لوکل/ریجنل اخبارات کے زمہ داران کے لئے ڈیجٹل میڈیا ورکشاپ کا سلسلہ شروع کیا لیکن بدقسمتی سے کورونا کی وجہ سے یہ سلسلہ فی الحال رک گیا۔APRNS کی شمع روشن کر کے لانچنگ نے بھی سنجیدہ حلقوں میں بہترین پزیرائی حاصل کی اس ایسوسی ایشن APRNS نے کمیونٹی کے مسائل حل کرنے اور انکی پرموشن کرنے کا عزم۔کیا ہوا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی جاری ہے لوکل/ریجنل اخبارات کی ڈیجٹل میڈیا پر لائیو نشریات کا آغاز کروایا جا رہا ہے ۔اخبارات کو شوشل میڈیا کے زریعے ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر پھیلایا جا رہا ہے۔اخبارات کےزمہ داران کے لئے فلاحی منصوبہ جات بنائے جا رہے ہیں،تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کروایا جا رہا ہے ۔فری لیگل ایڈ فراہم کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے،سوشل ریلیشن کو فروغ دینے کے لئے فیملی گالاز پروگرام ترتیب دیا گیا ہے پنجاب میں عدالتی اشتہارات کی بحالی کی قانونی جدوجہد شروع کر دی گئی ہے ۔%25ریجنل کوٹہ پر عمل درامد کی کوششیں شروع کر دی گئیں ہیں۔حکومتی زمہ داران سے ملاقاتیں کر کے انہیں ABC کے طریقہ کار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے قائل کیا جارہا ہے پریس کونسل آف پاکستان کی فیس ختم کرنے KpK میں 20ہزار فیس ختم۔کروانے اور خصوصی طور پر اشتہارات کی رقم pid کے زریعے دینے اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کی اجارہ داری ختم کروانے اور اخبارات کے کئی سالوں سے ہڑپ شدہ واجبات ڈالر کی قیمت کے حساب سے واپس دلوانے کی جدوجہد جاری ہے اس عظیم جدوجہد پر پوری کمیونٹی APRNS کے سربراہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ویلڈن غلام مرتضیٰ جٹ

زندہ قومیں مشکل وقت میں ایثار کی مثال قائم کرتی ہیں🌹 تحریر نمرہ ملک


زندہ قومیں مشکل وقت میں ایثار کی مثال قائم کرتی ہیں جب کہ ہمارے ہاں آٹے کی قیمت ابھی سے آسمان سے باتیں کرنے لگ گئی ہے۔تلہ گنگ فلور ملز کے مالکان بھی مسلمان ہیں اور کرو نا ان کے لیے بھی اتنا ہی کافر ہے جتنا باقی لوگوں کے لیے،بیس کلو تھیلے کی قیمت ساڑھے آٹھ سو سے بڑھا کر بارہ سو کے قریب بیچنے والے لوگ یہ ذہن میں رکھیں کہ اس بحران میں آٹے کی کمی سے تو شاید لوگ نہ مریں گے مگر اس ذخیرہ اندوزی اور جان بوجھ کے اشیاء خوردونوش مہنگی کرنے والوں کو اگر کرو نا نے لپیٹ میں لے لیا تو جنازہ،کفن ،رشتے دار اور آٹے کا منافع کچھ بھی نصیب نہیں ہوگا۔ انتظامیہ بھی نوٹس لے اور آٹے کی قیمت کم کروائے۔ سلام ہے ان تمام لوگوں کو جو راشن لے کر لوگوں کے گھروں میں پہنچا کر ایثار کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ کرو نا سے مت ڈریں،اللہ سے ڈریں اور عبرت کی موت سے پناہ مانگیے۔ نمرہ ملک

تلہ گنگ ۔ظفر اعوان سے ۔۔۔۔چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد ارشد اعوان کا اہم اعلان ۔۔۔۔اپنے بچوں کی بیماری کے لئے گھر بیٹھے واٹس اپ / فون پر مشورہ کر سکتے ہیں


میرے بھائیو ،بہنوں اپنے بچوں کی بیماری کے بارے میں مشورہ کے لئے 03219696503 پر میسج یا واٹس اپ کریں ۔ صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال آئیں۔

پیر، 23 مارچ، 2020

23 مارچ ۔اور کرونا وائرس ۔۔۔تحریر ایم ۔ایچ ۔ بابر ۔۔۔


تحریر ڈاکٹر ایم ایچ بابر آج 23 مارچ ہے جسے یوم پاکستان کہا جاتا ہے اور 2020 کے اس یوم پاکستان کو ہم بحثیت قوم بوجہ ایک بلائے ناگہانی یعنی کورونا وائرس کی وجہ سے اس انداز میں منا نہیں پا رہے ہیں مگر کچھ سوچ تو سکتے ہیں کہ پاکستان بناتے b وقت ہم نے اس دھرتی سے کیا عہد کیا تھا کیا ہم ایفائے عہد کی تکمیل کر رہے ہیں جب سے کورونا وائرس پاکستان میں داخل ہوا میرے وطن کے چند ناعاقبت اندیش اس پر اپنی سیاست کرنے اور مذہبی منافرت کے پرچار میں مصروف عمل ہوگئے ہیں سیاسی لوگ سوائے سیاسی نکتہ چینیوں کے کچھ نہیں کر رہے اور مذہبی و فرقہ واریت کے پروردہ اس پر فرقہ واریت کو ہوا دینے میں مصروف عمل ہیں یہ ہم کس ڈگر پر نکل کھڑے ہوئے ہیں قابل افسوس ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ہے ایسی سوچ جو اس مشکل کی گھڑی میں اپنی ڈگڈی لے کر ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں مذہبی تعصب کی عینک لگائے کچھ لوگ زائرین کو نشانہ بنارہے ہیں کہ یہ پاکستان میں کورونا لے کر آرہے ہیں کیا ان کو شوق تھا یا انہوں نے منت مانی تھی کہ ہم پاکستان میں کورونا لے کر جائیں گے صرف زائرین ہی کیوں نظر آرہے ہیں ان مذہبی تعصب کے حاملین کو ارے خدارا ایسی سوچ کو ایک طرف رکھ کر سوچیں چھ ہزار کے قریب زائرین آئے ہیں اور باقی جو اٹلی ،سپین ،جرمنی انگلینڈ اور دوسرے ممالک سے اکتالیس ہزار کے قریب لوگ واپس وطن آئے ہیں انکی بھی کوئی خبر ہے ان تفرقہ بندی کے ٹھیکیداروں کو ان اکتالیس ہزار لوگوں میں سے کتنے ہیں جو قرنطینہ میں ہیں اسپین سے آنے والے اس شخص کو جسے ائر پورٹ سے ہی کورونا وائرس مثبت ہونے کے باوجود نکلنے دیا گیا بعد ازاں وہ گجرات کے نواحی علاقے شادیوال میں ریوڑیوں کی طرح کرونا بانٹتا پھرا یہاں تک کے اس کے دو بیٹے بھی کورونا کے مریض بنے ناجانے کتنے لوگوں کو اس نے کورونا کا شکار بنایا سعودیہ سے آنے والے بھی کئی لوگ کورونا لے کر آئے اور سیدھے گھروں کو چلے گئے ان کی طرف کسی کی نظر گئی ؟ بالکل نہیں کیونکہ ایسے لوگوں کی نظر صرف زائرین پر ہے خدا کے لیئے یہ مشکل کی گھڑی آفت و بلا سے نمٹنے کے لیئے شیعہ سنی وہابی دیوبندی کارڈ کھیلنے کے لیئے نہیں اٹلی پر جو قیامت گزر رہی ہے وہاں بھی زائرین قصور وار ہیں کیا ؟ چائنہ میں بھی کورونا زائرین لے کر گئے کیا ؟ ایران میں یہ زائرین لےکر گئے کورونا کو ؟ جرمنی ،اسپین ،امریکہ، یا دیگر دنیا بھر کے ممالک میں کورونا زائرین نے پھیلایا ؟ خدا کے لیئے سوچ کو قومی سوچ بنائیں اور مشکل اور مصیبت کی گھڑی میں سوچ کو بچاؤ پر مرکوز کریں نا کہ فرقہ واریت پر ۔ دوسری بات یہ کہ قرنطینہ سینٹرز مختلف شہروں میں بنائے گئے ہیں اور ہر شہر سے ان مراکز کی مخالفت میں آواز اٹھ رہی ہے یہ بجا کہ یہ مراکز شہری آبادی سے ہٹ کر بنانے چاہیئں مگر یہ سوچ کہ ہمارے شہر میں بنایا ہی کیوں گیا غلط ہے ۔ صرف چھ ہزار زائرین ہی نہیں جو دوسرے اکتالیس ہزار بیرونی ممالک سے آ کر گھروں کو چلے گئے ہیں ان کی بھی بات کریں ہاں اس وائرس کی احتیاطی تدابیر کے طور پر لاک ڈاؤن از حد ضروری ہے جو ہونا چاہیئے مخیر حضرات ان لوگوں کی طرف دیکھیں جو گھروں میں محصور ہوکر غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں ایسے لوگوں کو راشن پہنچائیں تاکہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور کورونا کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ رہیں جتنے پاکستانی اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ان کی صحت و سلامتی کے لیئے دعا کریں پاکستان کو گھر سمجھ کر گھر کے افراد کو بچانے کے لیئے ہر ممکن کوشش کریں حکومت کے دست و بازو بن کر قومی سلامتی کی سوچ کو فروغ دیں یوم پاکستان کو تجدید عہد کے طور پر پاکستان میں بسنے والے تمام پاکستانیوں کی خیر خواہی چاہیں مذہبی اور سیاسی دوکانداریاں نہ چمکائیں خدا کے لیئے سنبھل جائیں

میانوالی۔ اختر ہاشمی سے ایس پی انوسٹی گیشن رانا محمد ارشد SHO سٹی عمران یقوب کے ہمراہ سٹی ایریا بازار کا وزٹ کیا اور عوام کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت دی۔ رانا محمد ارشد نے روح عصر سے بات کرتے ہو کہا ہم اس وقت جس مشکلات کا سامنا کررہے ہیں یہ دوسری قوم سے بھی گزار چکا ہے ہم پاکستانی قوم ہیں پائندہ قوم ہیں کبھی بھی مشکل سے نہیں گھبراتے بس اب وقت آ گیا ہے پھر ایک ہونے کا اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنا ہے اپنے گھروں میں رہیں ۔ انشاء اللّٰہ ۔ اللّٰہ پاک وہ کریم ذات ہے جو ہر مشکل وقت میں مسلمانوں پر کرام کرتی ہے اب بھی کرام کراہے گئی۔


میانوالی۔ اختر ہاشمی سے ایس پی انوسٹی گیشن رانا محمد ارشد SHO سٹی عمران یقوب کے ہمراہ سٹی ایریا بازار کا وزٹ کیا اور عوام کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت دی۔ رانا محمد ارشد نے روح عصر سے بات کرتے ہو کہا ہم اس وقت جس مشکلات کا سامنا کررہے ہیں یہ دوسری قوم سے بھی گزار چکا ہے ہم پاکستانی قوم ہیں پائندہ قوم ہیں کبھی بھی مشکل سے نہیں گھبراتے بس اب وقت آ گیا ہے پھر ایک ہونے کا اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنا ہے اپنے گھروں میں رہیں ۔ انشاء اللّٰہ ۔ اللّٰہ پاک وہ کریم ذات ہے جو ہر مشکل وقت میں مسلمانوں پر کرام کرتی ہے اب بھی کرام کراہے گئی۔

فیس بک ۔وٹس ایپ۔ اور افواہوں کے۔ سیلاب میں ۔۔خالد مسعود خان


*فیس بک‘ واٹس ایپ اور افواہوں کے سیلاب میں* *خالد مسعود خان* تاریخ اشاعت 2020-03-23 چینیوں نے حدیث پڑھے بغیر ووہان میں وہ کچھ کیا جو میرے آقا نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ نے چودہ سو سال قبل فرمایا تھا۔ یہ لاک ڈائون کیا ہے؟ شہر کو‘ علاقے کو اور ملک کو آمد و رفت کے لیے بند کر دینا۔ لوگوں کو آنے جانے سے روک دینا اور سفری سرگرمیاں معطل کر دینا۔ یہ لاک ڈائون ہے۔ میرے آقا نے یہی فرمایا کہ جب وبا پھیلے تو جس شہر میں وبا ہو وہاں سے کوئی باہر نہ جائے اور باہر سے کوئی شخص اس شہر میں نہ آئے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس سے کسی علاقائی وبا یعنی Epidemic کو عالمی وبا یعنی Pandemic بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ لشکر میں طاعون کا مرض پھیل گیا۔ امیر ِملت حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ سپہ سالار کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ طاعون کی خبر خلیفہ وقت حضرت عمر ابن الخطاب ؓ تک پہنچی۔ انہیں لشکر کی فکر تو تھی ہی‘ لیکن یکے از عشرہ مبشرہ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کی فکر سب سے بڑھ کر تھی۔ ابھی جناب ابو عبیدہ بن جراحؓ محفوظ و مامون تھے اور انہیں طاعون کا مرض بھی لاحق نہ ہوا تھا۔ حضرت عمرؓ نے پیغام بھجوایا کہ آپ مدینہ شریف لے آئیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے جواب بھجوایا: اے عمرؓ! کیا آپ کو خبر نہیں کہ ہمارے آقاؐ نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے؟ آپ وہ کیسے کہہ سکتے ہو جس سے آخری نبیؐ نے منع فرمایا ہے؟ اور میں وہ کیسے کر سکتا ہوں جس سے مجھے روک دیا گیا ہے؟ روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے خود آ کر حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ سے ملنا چاہا تو کہا: آپ مدینہ سے باہر کیسے آ سکتے ہیں؟ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو طاعون لاحق ہو گیا اور ان کی شہادت اسی مرض سے واقع ہوئی‘ لیکن طاعون کا مرض لشکر سے نکل کر مدینہ نہ پہنچ سکا اور اہلِ مدینہ اس وبا سے محفوظ رہے۔ اور صرف اہل مدینہ ہی نہیں‘ بلکہ ان کے محفوظ ہونے سے دیگر آبادیاں بھی اس وبا سے محفوظ رہیں۔ اگر تفتان بارڈر اور ائیر پورٹس پر متاثرین کو بروقت قرنطینہ منتقل کر دیا جاتا تو معاملات کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ ایک انگریزی کہاوت ہے : Nip the evil in the bud یعنی برائی کو اس کے آغاز میں ہی پکڑنا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم حکومتی سطح پر بھی اور عوامی حوالوں سے بھی ایک غیر ذمہ دار رویے کے حامل ہیں۔ سرکار اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی اور ہم اجتماعی طور پر خود پرلے درجے کے غیر ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا معاملات خراب ہوں تو پھر حد سے زیادہ خراب ہونے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ شنید ہے کہ تفتان پر حکومتی رکاوٹوں کا معاملہ زلفی بخاری نے خراب کیا اور ائیر پورٹس پر وہاں تعینات سرکاری اہلکاروں نے ۔گجرات والے بشارت کا قصہ تو آپ سن ہی چکے ہوں گے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ پر سپین سے آنے والے بشارت میں کورونا مرض کی علامات ملیں۔ ٹیسٹ کیا گیا تو وہ پازیٹو آیا۔ موصوف چھ ہزار روپے دے کر گھر آ گئے۔ تین دن تک گھر والوں اور ملنے جلنے والوں سے ''بخیریت آمد‘‘ کی خوشی میں جپھیاں ڈالتے رہے۔ اب بیٹے سمیت پوری فیملی کورونا کا شکار ہے۔ خدا جانے ابھی کتنے ملنے جلنے والوں نے اس ایک شخص کی وجہ سے کورونا بھگتنا ہے‘ جسے چھ ہزار روپے کے عوض سرکاری اہلکاروں نے بیماری پھیلانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔ اب خان صاحب نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹر پر دو سطری پیغام کے ذریعے چمن بارڈر کھول دیا ہے۔ کبھی ہم طورخم بارڈر کھول دیتے ہیں کبھی بند کر دیتے ہیں اور یہی حال ائیر پورٹس کا ہے۔ اللہ جانے ہمارے ہاں ایسے نازک فیصلے کسی باقاعدہ طریقہ کار کو اپنانے کے بجائے فرد واحد کیسے کر لیتا ہے؟ پوری دنیا میں اس قسم کی صورتحال میں ایسے فیصلے انتہائی غور و خوض کے بعد Proper forums پر کیے جاتے ہیں‘ مگر ہمارے یہ فیصلے وہ کر رہے ہیں جنہیں تقریر کرنے کے علاوہ اور کچھ کرنا نہیں آتا بلکہ اب تو تقریر کا معیار بھی روز بروز گرتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ خوف زیادہ پھیلایا جا رہا ہے اور عملی طور پر درست آگاہی کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ فی الوقت سب سے بڑا مشیر فیس بک ہے‘ سب سے لائق فائق اور قابل ڈاکٹر واٹس ایپ ہے اور باقی کی رہی سہی کسر افواہوں نے پوری کر رکھی ہے۔ ام القریٰ یونیورسٹی مکہ کے میڈیکل کالج کے ایک دل کے ماہر یعنی Cardiologist صاحب نے (اللہ جانے موصوف وہاں کمپائوڈر بھی ہیں یا نہیں)کورونا کو مارنے کا بڑا آسان نسخہ بتایا ہے کہ اگر آپ اس وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں تو عام ہیئر ڈرائیر کی گرم ہوا سانس کے ذریعے اندر لے جائیں اس گرم ہوا سے کورونا وائرس فوراً ہلاک ہو جائے گا۔ اگر ہیئر ڈرائیر نہ ہو تو پانی ابال کر برتن کے اوپر خود کپڑا ڈال کر بھاپ لیں۔ کورونا وائرس کی ایسی تیسی۔ اب ہمارے ایڈوائزر ایسے ایسے چپڑ قناتی لوگ ہوں گے تو قوم کا کیا حال کریں گے؟ اگر ایسی بات ہو تو انسانی جسم کا اندرونی درجہ حرارت ویسے ہی 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور اگر کورونا کا مرض (خدانخواستہ) لاحق ہو جائے تو بخار کی شدت میں یہ درجہ حرارت بڑھ کر از خود (100 درجہ فارن ہائیٹ سے 104 درجہ فارن ہائیٹ تک) 37.77 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو جاتا ہے۔ اس طرح تو وائرس کو جس کے بارے میں بڑا شور سن رہے ہیں کہ 28 ڈگری سینٹی گریڈ پر مر جائے گا‘ انسانی جسم میں بغیر علاج کے مر جانا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں درست ہیلتھ ایڈوائزری کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ سے ڈاکٹر مبین سید کی گفتگو سے چند اہم نکات: -:1 ہم نے کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک بشمول پاکستان سے اس مرض کے سمپل لیے ہیں اور ان کا تجربہ کیا ہے۔ -:2 ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے ہم پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں۔ -:3 پاکستان میں وائرس شارحانہ (Exponential)سٹیج پر ہے اور جلد ہی ہزاروں لوگ اس مرض میں مبتلا نظر آسکتے ہیں۔ -:4 یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر متاثرہ مریض اسے کم از کم تین لوگوں تک منتقل کرتا ہے۔ یعنی ہر روز اس کے تین گنا ہونے کے امکانات ہیں۔ -:5 پچاس سال سے زائد العمر لوگ اس کے آسان شکار ہیں۔ -:6 اسے پھیلانے والے عموماً پچاس سال سے کم لوگ ہیں۔ -:7 پاکستان میں کاروبار کا پیشتر حصہ نقد پر مشتمل ہے اس لیے کرنسی نوٹ اس کے پھیلائو کا ایک بنیادی ذریعہ ہیں۔ -:8 پاکستان میں خاندان کے اکٹھے رہنے کی وجہ سے گھر کے نوجوان‘ والدین اور ان کے والدین کو اس وائرس سے متاثر کرنے میں مرکزی کردار سر انجام دیں گے۔ -:9 اس بیماری سے مرنے کی شرح پچاس سال سے زائد العمر لوگوں میں 4 فیصدہے یعنی ہر گھر میں پچاس سال سے زائد عمر کے اوسطاًتین افراد کا حساب کریں تو ہر آٹھ میں سے ایک گھر اپنے کسی پیارے سے محروم ہو سکتا ہے۔ -:10 ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ صرف لاہور جیسے شہر کے لیے 4000 وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے۔ تین گنا بستروں کی اور اسی حساب سے آکسیجن کی فراہمی کی۔ جو موجودہ حالات میں نا ممکنات میں سے نظر آتا ہے۔ -:11 سب سے ہولناک بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں سڑک پر بے یار و مددگار مرنے والوں کی امکانی شرح بڑھ سکتی ہے‘ اگر اس وائرس کے مراکز پر قابو نہیں پایا جاتا۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے واحد قابلِ عمل حل صرف اور صرف تین سے چار ہفتوں پر مشتمل لاک ڈائون ہے۔ (جاری)

اتوار، 22 مارچ، 2020

اے وطن پاک وطن 🌹پیارے وطن 🌺اے میرے پیارے وطن 🌻


اے وطن پاک وطن پیارے وطن

اے میرے پیارے وطن 🌹پاک وطن پاک وطن 🌺اے میرے پیارے وطن 🌹


اے وطن پیارے وطن پاک وطن اے میرے پیارے وطن

بھکّر ۔کے ۔ایم ۔عزیزی سے *پریس ریلیز* *پنجاب ایمرجنسی سروس* *ریسکیو 1122بھکر* بھکر (ریسکیو 1122بھکر) کرونا وائرس سے بچاو کیلئے ریسکیو 1122کا بھکرکا مختلف مقامات پر سپرے کیا گیا۔شہری باہر گھومنے پھرنے کی بجائے گھروں میں رہیں اور اپنی جانوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر طاہر محمود کی سپرے کرنے کے بعد گفتگو، تفصیلات کے مطابق ریسکیو 1122بھکر کی جانب سے کرونا وائرس کے خطرے سے بچاو کیلئے بھکر کے بس سٹینڈز، ریلوے اسٹیشن، ویگن سٹینڈز، رکشہ سٹینڈز, بازاروں سمیت دیگر مقامات پر سپرے کیا گیا۔ سپرے ایکسرسائز میں سماجی نمائندوں, لوکل گورنمنٹ، سول ڈیفنس اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے معاونت کی۔ ریلوے سٹیشن،جنرل بس سٹاپ اور چنگ چی سٹاپ، ویگن سٹینڈ میں سپرے کیا گیاجس کی قیادت ڈپٹی کمشنر آصف علی فرخ اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر طاہر محمود نے کی۔ عوام نے ریسکیو 1122 اور معاون محکموں کی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف اس کاوش کو سراہا، اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر طاہر محمود نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری احکامات کی پابندی کرتے ہوئے گھروں تک محدود رہیں جو احتیاطیں حکومتی اداروں کی جانب سے بتائی جارہی ہیں ان پر سختی سے عمل کریں اور اپنے آپ اور گھر والوں کو مہلک وائرس سے بچانے کیلئے حکومتی کوششوں کو کامیاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔


*پریس ریلیز* *پنجاب ایمرجنسی سروس* *ریسکیو 1122بھکر* بھکر (ریسکیو 1122بھکر) کرونا وائرس سے بچاو کیلئے ریسکیو 1122کا بھکرکا مختلف مقامات پر سپرے کیا گیا۔شہری باہر گھومنے پھرنے کی بجائے گھروں میں رہیں اور اپنی جانوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر طاہر محمود کی سپرے کرنے کے بعد گفتگو، تفصیلات کے مطابق ریسکیو 1122بھکر کی جانب سے کرونا وائرس کے خطرے سے بچاو کیلئے بھکر کے بس سٹینڈز، ریلوے اسٹیشن، ویگن سٹینڈز، رکشہ سٹینڈز, بازاروں سمیت دیگر مقامات پر سپرے کیا گیا۔ سپرے ایکسرسائز میں سماجی نمائندوں, لوکل گورنمنٹ، سول ڈیفنس اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے معاونت کی۔ ریلوے سٹیشن،جنرل بس سٹاپ اور چنگ چی سٹاپ، ویگن سٹینڈ میں سپرے کیا گیاجس کی قیادت ڈپٹی کمشنر آصف علی فرخ اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر طاہر محمود نے کی۔ عوام نے ریسکیو 1122 اور معاون محکموں کی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف اس کاوش کو سراہا، اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر طاہر محمود نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری احکامات کی پابندی کرتے ہوئے گھروں تک محدود رہیں جو احتیاطیں حکومتی اداروں کی جانب سے بتائی جارہی ہیں ان پر سختی سے عمل کریں اور اپنے آپ اور گھر والوں کو مہلک وائرس سے بچانے کیلئے حکومتی کوششوں کو کامیاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ہوش میں آ جائیں ۔۔تحریر ۔سعدیہ ھما شیخ ۔ایڈووکیٹ۔۔۔۔۔ گروپ ایڈیٹر ۔روح عصر


عثمان بزدار صاحب ہوش میں آ جایں آج میں مطمئن تھی کہ کسی نے نہیں آنا تو نیند پوری کر لوں کہ ڈور بل بجی دودھ والا تھا میں اسے دیکھ کر حیران کہ سب بند ہے تو یہ کیسے آ گیا میں نے کہا ماسک کیوں نہیں پہنا تو کہنے لگا باجی اللہ دا ناں لو اسی مسلمان آں مجھے تپ چڑھ گئی اور کہا کیا میں مسلمان نہیں جو گھر میں بھی ماسک لگا کر بیٹھی ہوں پوچھا سینئٹایزر لگاتے ہو کہنے لگا او کی ہندا اے میں نے کہا ہاتھ دھوتے ہو بار بار بولا تسی ڈرو سانوں رب دی رکھ اے اب میں سوچوں دودھ بند کراوں تو اس کو 500 کا نقصان لوں تو خود خطرے میں اخبار والا آیا تو وہ بھی بغئر ماسک کے یہ جہلاء نہیں سمجھنے والے انہیں ایسے وقت ہی خدا یاد آتا ہے کیا کشمیر ی مسلمان نہیں شام میں اسلام نہیں افغانی مسلمان نہیں تھے کہ جانوروں کی طرح کاٹا گیا اور بیماری کے معاملے میں رب پر تکیہ کرنے والے رزق کے معاملے میں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ رازق بھی رب ہے وہ پتھر میں کیڑے کو رزق دیتا ہے دو دن باہر نہ نکلنے سے کوی بھوک سے نہیں مرنے والا ہمارے صحابہ کی کہ دن بھوکے رہتے خود آپ ص نے بھوک سے پئٹ پر پتھر باندھے انسان جب پیدا ہوتا تو اس کے گلے میں رزق کی تختی لٹکا دی جاتی ہے نہ نصیب سے زیادہ نہ نصیب سے کم پھر یہاں عقیدہ کیوں کمزور ہو جاتا ہے رات کو ضروری اشیاء لینے حی تو ساتھ گاڑی میں صاحب بیوی بچوں کے ساتھ فل ڈئک لگا کر انجواے کر رہے ہیں کوی فکر نہیں انہیں کون سمجھاے وقت نازک ہے احتیاط ضروری ہے اپنی فکر خود کرنا ہو گی حکومت نے بارڈر کھول کر جو فاش غلطی کی ہے اس کا تدارک صرف لاک ڈاون میں ہے مکمل لاک ڈاون وگرنہ اللہ نہ کرے ہمیں بھی چائنہ ایران اور اٹلی جیسے حالات کا سامنا کرنا ہو گا بے بس زندگی سسکتی ہوی موت لاوارث لاشے بے گور و کفن نہ نمازہ جنازہ نہ تدفین نہ کوی ساتھ چلنے والا نہ کوی گواہی دینے والا اس لیے لاک ڈاون ناگزیر ہے کیونکہ ہمارے ملک میں جہالت عام ہے جب تک کسی کا کوی اپنا نہیں جاتا وہ احتیاط نہی کرے گا یہ قوم سمجھنے والی نہیں ان کا علاج صرف ڈنًڈا ہے اور اب بارڈر بند کر دیں خدارا فلایٹس روک دیں کہ دین یہی کہتا ہے کہ جہاں وباء ہو وہاں سے ہجرت مت کرو عثمان بزدار صاحب پلئز ہوش میں آ جایں اس سے پہلے کہ دیر ہو جاے از قلم سعدیہ ہما شیخ

ہفتہ، 21 مارچ، 2020

ہم محفوظ ۔۔۔پاکستان محفوظ ۔۔تحریر ۔رانا محمد اسلم جرنلسٹ ۔


ہم محفوظ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان محفوظ تاریخ گواہ ہے جب بھی جس قوم نے کسی مصیبت کا مذاق بنایا خدا نے اس قوم کو برباد کر دیا۔ یہ وقت مذاق، بے احتیاطی اور غیر ذمہ داری کا نہیں۔ بلکہ ایک قوم بن کے دیکھانےکا ہے ہمیں ریاست کی پالیسوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور دی گئی ہدایات پر من و عن عمل پیرا ہونا چاہیے۔ خصوصاً۔۔۔۔بطور شہری ,,ڈپٹی کمشنربھکر آصف علی فرخ ،، کی جانب سے موجودہ کورونا وائرس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو بھرپور الفاظ میں سراہتے اور ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کی جانے والی کورونا وائرس کے پھیلاو میں روک تھام کیلئے احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر فالو کرتے ہیں ۔ بطور بھکر کا شہری ہونے کے ناطے اس نازک گھڑی میں ڈپٹی کمشنر آصف علی فرخ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل گلزار کے شانہ بشانہ اور ہر فورم پر فرنٹ مین کا کردار ادا کریں گے اسی میں ہماری، ہمارے بچوں اور ہمارے ملک کی بہتری ہے۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔۔۔آمین رانا عامراسلم۔ ۔۔۔۔ روزنامہ ایکسپریس/ایکسپریس نیوز/ ڈیلی ٹرائیبون۔ ۔۔۔۔بھکر

وبا اور محبت ۔۔انتخاب ۔۔تابندہ ضیاء


وبا اور محبت۔ ........................................................ ہوا کے دن ہیں میں سن رہا ہوں مکان قبروں کی خامشی سے بھرے ہوئے ہیں مکین سانسوں کی سرحدوں پر گھٹن کے حملے کا شور سن کر ڈرے ہوئے ہیں تری گلی سے گزر کے دن کی فصیل کو پار کرنے والے سیاہ راتوں کی بیرکوں میں دھرے ہوئے ہیں بلا کے دن ہیں میں دیکھتا ہوں پناہ گاہوں کی چوکھٹوں پر خدا کی مخلوق ہاتھ جوڑے ہوئے کھڑی ہے ہجوم چہرے چھپائے پھرتا ہے خوف کی اک صلیب ہر ایک راہ پر گڑی ہوئی ہے میں آئینہ بن کے دیکھتا ہوں تو آنکھ منظر کےخالی پن سے اٹی ہوئی ہے سزا کے دن ہیں میں سوچتا ہوں زمین فاقے سے مرنے والوں کی اجتماعی لحد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے کوئی بھی آفت دلوں میں پلتے حسد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے کسی بھی اجڑے دیار کا دکھ ترے تبسم کو ڈھونڈتے خال و خد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے دُعا کے دن ہیں میں بولتا ہوں مری مناجات سن کے شب کی ضعیف پیشانی جُھک گئی ہے سوال کے پیرہن میں لپٹی پکار بھی تا اُفق گئی ہے ہمارے ہاتھوں کے درمیاں جتنا فاصلہ ہے دعا اثر سے بس اتنی دوری پہ رُک گئی ہے خدا کے دن ہیں میں جانتا ہوں زمین کے خلق ہونے پر جتنا خرچ آیا خدا نے سارا ادا کیا تھا اسی تعاون کے پیش منظر میں ساری خلقت نے اس کو اپنا خدا کیا تھا اُسی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جب بھی چاہے گا بستیوں کو اجاڑ دے گا چھڑائے گا ہاتھ اور دلوں کو اجاڑ دے گا وبا کے دن ہیں میں مانتا ہوں یہ دُکھ بھری رات کا سفر ہے جواب کی جستجو میں چلتے ہوئے سوالات کا سفر ہے مگر مجھے کوئی ڈر نہیں ہے کہ مجھ کو درپیش ہجر کی رات کا سفر ہے۔🙏🏻😟😢

بھکّر ۔۔۔۔حسن چھینہ ۔۔۔۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلع بھر کی تمام مارکیٹس، شاپنگ مال اور ریسٹورنٹس 21مارچ2020بروز ہفتہ بوقت 9بجے رات سے 24مارچ2020بروز منگل صبح 9بجے تک کرونا وائرس سے مزاحمتی وحفاظتی اقدامات کے سلسلہ میں بند رہیں گے۔ تاہم ضلع بھکر کی تمام فارمیسیز، ڈسپنسریز، کریانہ سٹور، بیکریز، آٹا چکی، تندور، دودھ کی دکانوں، آٹو ورکشاپس، پٹرول پمپس، مرغی اور چھوٹے بڑے گوشت کی دکانوں ، پھلوں اور سبزیوں کی دکانوں،اور تمام قسم کی پھلوں ،سبزیوں اور غلہ منڈیوں پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ ضلع بھر کے تمام ریسٹورنٹس سے کھانا لے جانے کی اور ہوم ڈلیوری کی اجازت ہو گی ۔ ضلع بھکر کے تمام باشندگان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مندرجہ بالا حکومتی احکامات پر عملدرامد کو یقینی بنایا جائے ۔ عدم تعمیل کی صورت میں حسب ضابطہ قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی


حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلع بھر کی تمام مارکیٹس، شاپنگ مال اور ریسٹورنٹس 21مارچ2020بروز ہفتہ بوقت 9بجے رات سے 24مارچ2020بروز منگل صبح 9بجے تک کرونا وائرس سے مزاحمتی وحفاظتی اقدامات کے سلسلہ میں بند رہیں گے۔ تاہم ضلع بھکر کی تمام فارمیسیز، ڈسپنسریز، کریانہ سٹور، بیکریز، آٹا چکی، تندور، دودھ کی دکانوں، آٹو ورکشاپس، پٹرول پمپس، مرغی اور چھوٹے بڑے گوشت کی دکانوں ، پھلوں اور سبزیوں کی دکانوں،اور تمام قسم کی پھلوں ،سبزیوں اور غلہ منڈیوں پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ ضلع بھر کے تمام ریسٹورنٹس سے کھانا لے جانے کی اور ہوم ڈلیوری کی اجازت ہو گی ۔ ضلع بھکر کے تمام باشندگان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مندرجہ بالا حکومتی احکامات پر عملدرامد کو یقینی بنایا جائے ۔ عدم تعمیل کی صورت میں حسب ضابطہ قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی

بحثیت قوم تاحال پاکستانیوں اور حکومت نے کرونا وائرس کو سیریس نہیں لیا گیا جس کی مثال پورے ملک میں معمول کے مطابق نقل وعمل جاری ہے میں اپنے علاقہ کی صورتحال دیکھ کر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس تھل کے باسیوں کو یا تو اس جان لیوا کرونا وائرس کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں یا پھر لوگ جان بوجھ کر اس کرونا وائرس کو سیر یس نہیں لے رہے کیوں کہ ہوٹلز بیکرز فوڈ اینڈ جوس پوائنٹ روزمرہ معمول کے مطابق کسی بھی حفاظتی تدبیر کے چل رہے ہیں اسی طرح ہمارے گھریلو زندگی ہمارے مذہبی معاملات جن میں مساجد میں نماز اور دیگر معاملات جن میں شادیاں قل خوانیاں گھریلو فنگنشن ا۔نجوائے کئے جارہے ہیں گلیوں بازاروں میں میں قلفیاں برف کے گولے بار بی کیو پوائنٹ دیگر کھانے پینے کی اشیاء روز مرہ کی طرح فروخت کر رہے ہیں حکو مت نے سکول مدارس سرکاری دفاتر تو بند کر دیے ہیں لیکن عام زندگی میں کوئی حفاظتی تدابیر پر ایک فیصد پر عمل نہیں ہورہا لوگ اسی طرح مصافحہ اور گلے مل رہے ہیں ہوٹلز فورڈ پوائنٹس پر عوام اسی طرح کھا پی رہے ہیں ایک مقام پرلوگ بیٹھ کر گپیں لگا رہے ہیں گلیوں میں بچے معمول کے مطابق اکھٹے کھیل ود میں مصروف ہیں نیوز چینلز پر ہر وقت کروناوائرس کی نیوز ٹاک شو دیکھنے کے باوجود کوئی احتیاطی تدبیر عمل نہیں کر رہے اس کے علاوہ منچلے نوجوان اس کرونا وائرس کو مذاق لے طور پر لے رہے ہیں جو قابل مذمت ہے اس آفت سے نمٹنے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھنے کے لئے سیریس ہو کرمقا بلہ کر نا ہے اللہ ہم سب کا حامی ناصر ہو . . . . . . . . . . . . . . . . . . تحریر =عنایت اللہ ند یم ملک دلے والوی

قول ھما ۔تحریر سعدیہ ہما شیخ ایڈوکیٹ ۔


قول ھما