Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

ضرورت نمائندگان:۔

ضرورت نمائندگان:۔ ملک بھر سے پڑھے لکھے میل، فی میل حضرات فوری رابطہ کریں موبائل نمبر 03469200126

بدھ، 29 اپریل، 2020

پنچایت/ /مظہرعلی/ جھنگ

#ًپنچایت
دونوں فریق پہنچ چکے تھے ڈیرے کی  چارپاٸیاں کم پڑ گٸی تھیں ملازم ڈیرہ کے کمرہ میں پڑی دو چار کرسیاں بھی اٹھا لایا
اسی دوران ہی چوہدری صاحب دھوتی کرتا پہنے حقہ ہاتھ میں تھامے سلام کرتے ہوے جج کی کرسی کی طرح سامنے رکھی چارپاٸی پر بیٹھ گٸے اور اپنے ملازم بوٹے کو آواز لگاتے ہوے کہا بوٹے سب کے لیے فسکلاس سی چاۓ بنا کرلاٶ
جس بھاٸی نے حقہ کا کش لگانا ہو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ سکتا ھے یہ کہکر چوہدری صاحب نذیرے سے مخاطب ہوے ہاں نذیرے اپنی بات سناٶ
نذیرے نے بات شروع کرتے ہوے کہا چوہدری صاحب آپکو پتہ ہی ھے کے میں نے اپنی بیٹی کی شادی مختارے کے بیٹے کے ساتھ کی تھی دونوں میں روز لڑاٸی جھگڑا رہتا تھا لڑکا نشہ کرتا تھا اور اپنی بیوی کو خرچہ پانی بھی نہیں دیتا تھا سمجھایا بجھایا بھی بہت مگر سدھرا نہیں مجبوری میں ہم نے عدالت کے ذریعے طلاق لے لی اب لڑکی کا سامان جہیز ان کے گھر پڑا ھے مختارا سامان جہیز واپس نہیں کر رہا  میں نے بیٹی کو آگے کسی کے گھر بٹھانا ھے بغیر سامان کے کوٸی کنواری لڑکی کا رشتہ نہیں لیتا میری بیٹی تو پھر طلاق یافتہ ھے اور دوسری بار پھر نیا سامان جہیز بناٶ اتنی میری پسلی نہیں
چوھدری صاحب نے حقہ کا لمباکش لگاتے ہوے کہا طلاق تو عدالت سے لے لی مگر سامان جہیز عدالت سے کیوں نہیں لیا
  نذیرے نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوے کہا چوہدری صاحب کیا بتاٸیں کیس تو سامان واپس لینے کا بھی کر رکھا ھے مگر سال ہو گیا ھے کیس ابھی ہماری شہادت پر ہی چل رھا ھے اور مختارا کہتا ھے ابھی تو فیملی کورٹ میں کیس ھے پھر سیشن کورٹ ہاٸیکورٹ سپریم کورٹ میں تمہاری زندگی رول دونگا برباد کر دونگا مگر سامان نہیں دونگا طلاق یافتہ بیٹی گھر بٹھا کر میری ایک ایک رات سال کیطرح گزر رہی ھے چوہدری صاحب مجھ پر نیکی کر کے سامان واپس دلوا دیں نذیرا تقریباً رو ہی دیا تھا
چوہدری صاحب پھر مختارے سے مخاطب ہوے ہاں مختارے تو بول تو کیا کہتا ھے مختارے نے عدالت میں دیے گۓ بیان کی طرح کہا چوہدری صاحب ہمیں تو کوٸی سامان ملا ہی نہیں اور باقی یہ خود ہی عدالت میں گٸے ہیں عدالت سے ہی کرواٸیں فیصلہ اب
چوہدری صاحب نے مختارے کی جانب گھوری ڈالتے ہوے کہا زیادہ چالاک بننے کی ضرورت نہیں یہ پنچایت ھے عدالت نہیں اور باقی مجھے سب کچھ سچ سچ اگلوانا خوب اچھی طرح آتا ھے اگلے ہی لمحے مختارا سب کچھ سچ سچ مان چکا تھا  اور سامان واپس کرنے پر بھی رضا مند ہو گیا تھااس دوران ہی چاۓ آ گٸ سب معاملہ نمٹا کر چاۓ پینے لگے مختارا بولا چوہدری صاحب آپکے ڈیرہ کی چاۓ بڑی کمال کی ہوتی ھے چوہدری صاحب کہنے لگے کل ہم سب تمہارے گھر کی چاۓ پینے آٸینگے سامان بھی تیار رکھنا
اگلے دن  مختارے کے گھر سے سامان وصول کروا کر چوہدری صاحب نے نذیرے کو کہا اب عدالت جاکر اپنا کیس واپس اٹھا لاٶ
نذیرا جب کیس واپس لینے عدالت گیا اسے چوہدری کا کچہ پکا ڈیرہ پختہ عدالتی بلڈنگ سے کہیں زیادہ خوبصورت لگا اور جب اس نے انگریزی سوٹ بوٹ میں ملبوس جج کی کرسی کی جانب نظر دوڑاٸی اسے چارپاٸی پر دھوتی کرتے میں ملبوس حقہ پیتا چوہدری یاد آ گیا وہ سوچنے لگا جج تو چوہدری ہوتے ہیں سردار ہوتے ہیں عدالتوں کے بابو تو تاریخیں دیکر تنخواہ وصول کرنے آتے ہیں جب کیس سامان جہیز کا چل رہا ہو تو اس کا مطلب ہوتا ھے کسی بوڑھے کی طلاق یافتہ بیٹی اس سامان جہیز کے فیصلہ کے انتظار میں اپنے بوڑھے ماں باپ کے کندھوں پر مزید بوجھ بن کر بیٹھی ھے خدارا ایسے کیسوں کے فیصلے جج بن کر نہیں چوہدری، سردار یا ملک بن کر کر دیا کرو
مظہر علی بیوروچیف جھنگ 03074297490

رانگ نمبر / قرآن مجید کتاب ہدایت۔ /ملک نذر حسین عاصم

رانگ نمبر۔۔۔
قرآن مجید کتاب ہدایت۔
ملک نذر حسین عاصم
0333 5253836
ایک وقت تھا جب یورپ پر کلیسا کے قانون کی حکمرانی تھی بادشاہت بھی اسکے تابع تھی قانون چرچ کا چلتا تھا سزا کے سب قانون پادریوں کے اختیار میں تھے زندہ جلانے یا گلوئین پر سر قلم کرنے کا حکم چرچ سے جاری ہقتا تھا یہ افراتفری کا دور تھا یورپ کا یی تاریک دور بدکاری اور جرائم سے بھرپور تھا پادری اور رہبائیں بھی اس عہدے سے پاک نہ تھے آخرکار اس کا ردعمل ہوا ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے یورپ میں تحریکیں چلیں اور آخر کار پورا یورپ ایک انقلاب کی زد میں آگیا لوگوں نے چرچ کی بالادستی کا جوا اتار پھینکا انہوں نے سماجی اور صنعتی انقلاب کو قبول کیا اور یورپ عہد جدید میں داخل ہوگیا ۔
ہر دور کا یہ ہی دستور ہوتا ہے جب مظالم حد سے گذر جائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے چونکہ مظالم زیادہ ہی تھے لہذا ردعمل بھی زیادہ ہی ہوا اور یورپ کے لوگوں نے اس ردعمل کے نتیجے میں زیادہ ہی آزادی حاصل کرلی پاکستان بھی کچھ ایسے ہی حالات سے گذر رہا ہے فرق صرف یہ ہے کہ یہاں مذہب کی بالادستی کا قانون رائج کرنے کیلئے کوشاں ہیں لیکن افسوس کہ ہم نے مذہب کی بالادستی کو خدا،رسول اور اسلام کی بالادستی کی بجائے چند لوگوں کی بالادستی کو اور لکیر کے فقیر ہونے کے اصول کو سمجھ لیا ہے اور یہ بات انتہائی مضرت رساں ہے ہم اسوقت صرف ملک میں آئین کی ضرورت پر بحث کرتے ہیں یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ قرآن کریم کتاب اللہ ہے اسلام کے تمام قوانین قرآن مجید سے ماخوذ ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن مجید کتاب ہدایت ہے کتاب قانون نہیں، خود اللہ تعالی نے فرمادیا ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور اس میں متقیوں کیلئے راہ ہدایت ہے تو معلوم ہوا کہ وہ ہی لوگ اس کتاب سے اللہ کے قوانین کی روح کو سمجھ سکتے ہیں جن کو خدائے پاک نے ایک خاص قسم کا شعور بخشا ہے اور جو نرے لکیر کے فقیر نہیں ہیں اب قانون کی ایک خاص بات کو سمجھ لیجئے کہ قانون انسان کیلئے بنا ہے اندان قانون کیلئے نہیں بنا ہے ورنہ اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔یہ عملی طورپر نافذ ہی نہیں ہوسکتا۔اگر آئین قرآن کریم کی رو سے بننے کی شرط ہوتی تو قائداعظم کے جیتے جی اس کام کی تکمیل ایک آن ہی میں ممکن تھی یعنی قرآن کریم جو کتاب ہدایت ہے اور جسے اللہ پاک نے باربار کتاب ہدایت کہاہے یہ ہی کتاب قانون بنادی جاتی اور ہمیں کسی آئین کی ضرورت نہ ہوتی اس معاشرے کو ایک ایسا لکھا ہوا مجموعہ قوانین چاہیئے جسے ایک متفقہ معاشرے کی مروجہ صورتحال کو سامنے رکھ کر بنائے اور عدالتیں اسکی تشریح جب ضرورت ہو کرتی رہیں۔ عدالت جب مقننہ کے بنائے ہوئے قانون کی تشریح کرتی ہے تو وہ بنانے والے کے نقطۂ نظر کو دیکھتی ہے اور ان مقاصد کو مدنظر رکھ کر وہ اسکو جاری کرتی ہیں اور مقصد کے مطابق ہی اس کا نفاذ ہوتا ہے اب اگر ہم یہ کہہ دیں کہ قانون میں قرآن مجید مکمل ہے تو ان قوانین کی تشریح عدالتیں کریں گی اور قانون بنانے والے نے یہ قانون کیوں بنایا اسکی وضاحت اسلئے مشکل ہو جائے گی کہ بنانے والا خود خدا ہے جو دانائے راز اور مالک کائنات ہے اور اسکے کوئ قواعد بغیر معنی کے نہیں خدا نے چونکہ اپنے قوانین تمام زمانوں کیلئے بنائے ہیں لہذا اس نے صرف اساسی قوانین بیان کردیئے ہیں اور انکی تشریح نہیں کی ہے تاکہ سماجیات کے بدلنے کے ساتھ اور مختلف قوموں میں اسلام پھیلنے کے ساتھ جغرافیائی و زمانی تبدیلیوں کے ساتھ انسان ان کو بنیاد بنا کر تبدیلیاں کرتا جائے اب ہر معاشرے کے حالات اور مطالبات مختلف ہیں برطانیی کا آئین لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ جو دستور انکے ہاں صدیوں سے رائج ہے وہی اب ان کا آئین ہے چونکہ آئین انسان کیلئے ہے انسان آئین کیلئے نہیں ہے اسلئے آئین میں ترمیم رکھی گئ ہے کیونکہ معاشرے اور اس کی ضروریات بدلتی رہتی ہیں آئین میں ترمیم کی گنجائش رکھنے سے آئین میں معنی پیدا ہوجاتے ہیں اور حالات کے مطابق یہ پر اثر ہوجاتا ہے اسلئے کہتے ہیں کہ آئین کو قابل شکست نہ بناؤ تاکہ اس میں حسب ضرورت ترمیم کی گنجائش رہے اور وہ لوگوں کے مطالبے پورا کرتا رہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا قانون قرآن کے قانون کے مطابق ہو تو ایسا کرنے کے بعد ظاہر ہے کہ اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہوگی اور جب بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں پر پورا نہیں اترے گا تو لوگ اس آئین سے انحراف کریں گے اسطرح لوگوں کا ایمان جاتا رہے گا اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ قوانین بنائیے اور پھر قرآن کریم میں اسکی روح کو ڈھونڈیئے قرآن مجید چونکہ کتاب ہدایت ہے اسلئے اسکی روح معاشرے کو فلاح کیطرف لے جائے گی ۔

منگل، 28 اپریل، 2020

ادبا تعارفی سلسلہ تعارف: محترمہ سعدیہ ہماشیخ ۔۔

ادبإ کا تعارفی سلسلہ

تعارف:
محترمہ سعدیہ ہما شیخ

آج آپکی ملاقات کرواتے ہیں بہت ہی مشہور و معروف  شخصیت سے جو شاید ہمارے خیال میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔
آپ پیشے سے وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ  بہت اچھی مضمون نگار، کہانی مصنفہ،شاعرہ اور آپ کو اب تک ادبی خدمات پر ملنے والے بہت سے ایورڈز سے نوازا جا چکا ہے۔۔۔
تو آٸیے ملتے ہیں محترمہ سعدیہ ہما شیخ صاحبہ سے۔۔۔

والدہ چاچو پھپھو اور ماموں کی کاوشوں کا نتیجہ مرا نام
قلمی نام نہیں اصلی نام سے ہی لکھا
سعدیہ ہما صاحبہ 26 جنوری کو سرگودھا میں پیدا ہوٸیں۔۔
آپ کے والد محترم کا نام مجید احمد ہے۔۔۔
آپ اپنے والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ کہتی ہیں۔۔
والدین کی خوبی
ہر خواہش پوری کی اور دنیاوی تعلیم سے پہلے دینی تعلیم کا خیال کیا۔۔۔
خراج تحسین۔
ہر ایک لب پہ ہے جو مرا نام.....ان کے نام
جو مرے دل میں ہے سب احترام......ان کے نام
خدا کے بعد جنہوں نے مجھے زباں دی ہے
اسی زباں سے نکلا کلام......ان کے نام
انہیں کے نام سے پہچان ہے ہما میری
میرے خلوص و محبت ودوام.....ان کے نام

سعدیہ ہما اپنے اساتذہ  کے بارے میں کہتی ہیں۔۔
سب سے پہلے استاد توطقاری صاحب تھے اور وہ بہت سخت مزاج تھے
بہترین اساتذہ میں لاء کالج کے پرنسپل ظفر علی نصیر چیمہ اور سجاد نیازی ہیں
اور اسکالر نگہت ہاشمی جنہوں نے قران کی محبت دل میں ڈالی۔۔۔
محترمہ سعدیہ ہما شیخ کی تعلیم۔۔
بی ایس سی ایم اے پول سائنس
ایم اے پاک سٹڈیز
ڈپلومہ ان اسلامک ایجوکیشن
ایل ایل بی
اور آپ اس وقت وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں۔۔۔
سعدیہ ہما صاحبہ  اپنی بہترین اور اعلیٰ کارکردگی پر ملنے والے ایوارڈ کے بارے میں کہتی ہیں۔۔
ایوارڈز تو الحمداللہ بہت ہیں اور شاباشی بھی
بی ایس سی کے دوران دو دفعہ مجھے پی ٹی وی پر بلایا گیا میں اپنے کالج کی اور شہرکی پہلی کراٹے لیڈی انسٹکٹر تھی اور کرکٹ باسکٹ بال لان ٹینس کی پلیر اور یونین کی صدر اس کے ساتھ بیسٹ ڈیبیٹر۔
پاک نوبل ایوارڈ۔
امن گولڈ میڈل۔
ماہنامہ پاکیزہ سے چھ ایوارڈز۔
ماہنامہ ریشم سے دو ایوارڈ۔
بیسٹ شاعرہ 2018،2019۔
نظر یہ پاکستان ایوارڈ
آل پاکستان مضمون نویسی ایوارڈ۔
فروغ ادب ایوارڈ۔
پاکستان ایوارڈ۔
ایوارڈ براے صحافتی و ادبی خدمات۔
ایکسیلنٹ ایوارڈ2020
تمغہ براے حسن کارکردگی۔۔۔

سعدیہ ہما صاحبہ کی
بچپن سے ہی آپکی  دوست آپکی کتابیں ہیں آپ کو کسی کی ضرورت محسوس نہیں ہوٸی اور نہ وقت ملا دوستیاں پالنے کا۔۔۔
سعدیہ ہما صاحبہ شادی شدہ ہیں اور ازدواجی زندگی کے بارے میں کہتی ہیں۔۔۔۔۔
روۓ زمین پر جو پہلا رشتہ بنا وہ میاں بیوی کا تھا اگر نیک نیتی سے نبھایا جاے تو یہ سب رشتوں پر بھاری ہے اس کی اہمیت کے لئے اتنا ہی کہوں گی کہ جنت میں بھی یہی رشتہ ہو گا
مرے شوہر کی خامی رات دیر تک باہر رہنا اور دیر تلک سونا
خوبی دوسروں کی مدد اور رشتے داروں کی خبر گیری
محترمہ کی موجودہ مصروفیات۔۔۔
ہای کورٹ کی وکالت
شاعری کہانیاں اور کالم نگاری مستقبل ميں بھی یہی کریں گے اور اب قرآن پاک لکھ رہی ہوں۔۔۔۔

آپ کی پسندیدہ کتابیں۔۔
 راجہ گدھ،شہاب نامہ،انسان،شیطان،خالی گھر،شکست آرزو،چلمن گڈریا،چلتے ہو تو چین کو چلیے،پیار کا پہلا شہر،ٹھنڈا گوشت۔۔۔

سعدیہ ہما صاحبہ کےپسندیدہ لکھاری اور شعراۓ کرام۔۔۔
اشفاق احمد،علیم الحق حقی،محی الدین نواب، سعادت حسن منٹوڈ عصمت چغتاٸی، ممتاز مفتی،اقبا ل بانو،عقیلہ حق اور باقی اچھا لکھنے والے شعراءکرام

اپنے پڑھنے والوں کو نصیحت۔۔۔۔
عرض ہے کہ اپنی نسلوں کی بقإ کے لئے خود کو دین اسلام سے جوڑیں کیونکہ اسلام ہی وہ واحد چھتری ہے جو ہماری نسلوں کو بے حیاٸی کے طوفان سے بچا سکتی ہے۔۔
محترمہ حوصلہ کے بارے میں کہتی ہیں۔۔۔
حوصلہ ماشاء اللّٰہ بہت سے لوگوں کا حوصلہ بن گیا ہے اور بہت ضرورت تھی راٸٹرز کے لیے کسی ایسی تنظیم کی جس سے انا مجروع نہ ہو ہاں اسے شعبدہ بازوں سے دور رکھیں

سینئر صحافی رانا اقبال سکندر پر قاتلانہ حملہ کی پر زور مذمت/ /ظفر اعوان



سنئیر صحافی رانا اقبال سکندر پر قاتلانہ حملہ کی پر زور مذمت

بھکّر  (ظفر اعوان ) سنئیر صحافی مرکزی صدر ۔سینٹرل میڈیا جرنلسٹس ایسوسی ایشن رانا اقبال سکندر پر قاتلانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ روح عصر نیوز  اورورلڈ یونین آف جرنلسٹ  کی صحافتی برادری کی جانب سے پر زور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔سعدیہ ھماشیخ۔فیصل ندیم۔ مرید خان۔طارق صدیقی ۔حسن چھینہ  ۔سمیت صحافی برادری نے وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزیر داخلہ،  وفاقی وزیر اطلاعات، آئی جی اسلام پولیس، آئی جی پنجاب پولیس سے فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر، 27 اپریل، 2020

ادبا کا تعارفی سلسلہ//



ادباء کا تعارفی سلسلہ

تعارف:
سلمان یوسف سمیجا
آج ہم ملارہے ہیں ایسے ادیب سے جنہوں نے بہت کم عمر میں  بچوں کے ادب کے لیے اپنا تن من قربان کرنے کی ہمت رکھتے ہوئے  دن دگنی رات چگنی محنت کی اور ماشاءاللہ آج اعلیٰ مقام پر ہیں ـ آئیے ہم جانتے ہیں ان کے بارے میں ان ہی کے منہ زبانی-

آپ اپنے قلمی نام اور جاۓ پیداٸش کے بارے میں کہتے ہیں۔۔
میرے دادا ابو نے یہ نام رکھا تھا اور پھر ” سلمان،، کہلانے لگاـ اب یہ ہی نام میری پہچان ہےـ قلمی نام کا ارادہ بھی نہیں ہے ـ مجھے اپنے اصل نام سے شناخت بنانا اچھا لگتا ہےـ میں اپنے آبائی گاؤں” باڑہ بنگلہ،، میں پیدا ہوا تھاـ اور اب” علی پور،، شہر میں مقیم ہوں، میری تاریخ پیدائش 5 اپریل 2005 ہے-

آپ اپنے  والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ کہتے ہیں۔۔۔
میرے والد محترم کا نام ” محمد یوسف سمیجہ،، ہے میں اپنے والدین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا ہے زندگی میں کوئی بھی مشکلات آئی مگر ان کے حوصلے بلند رہے ہیں، اور انہوں نے میرے حوصلے بھی بلند کیے رکھے میری حوصلہ افزائی کی کہ لکھتے رہو اور آگے بڑھتے رہو میرے والدین کی خاص خوبی یہ ہے کہ وہ مشکلات میں ہمت نہیں ہارتے، محنتی ہیں، ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے، ہم سب کا حوصلہ اور ہمت بڑھاتے ہیں، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں - اللہ انہیں لمبی عمریں عطا فرمائے آمین -

اپنے اساتذہ کے بارے میں آپ کا کہنا ہے۔۔۔
میرے پہلے استاد تو میرے والدین ہیں جنہوں نے مجھے جینے کا ڈھنگ سکھایا ـ اس کے بعد میرے ماموں ” غلام یاسین سمیجہ،، ہیں جو سرکاری اسکول میں استاد ہیں - میں کچی سے اول تک انہیں کے پاس پڑھا ہوں، ان کی دی ہوئی مار مجھے کبھی نہیں بھولے گی ـ میرے بہترین استاد ” طارق شیدی صاحب،، ہیں جنہوں نے مجھے جماعت دہم میں اردو پڑھائی انتہائی بہترین استاد ہیں، پڑھانے کا انداز زبردست ہے ـ لہجہ بہت خوب صورت ہے مزے مزے کی باتیں بتاتے ہیں ـ میں ہی نہیں باقی بچے اور لوگ بھی انہیں پسند کرتے ہیں- انہوں نے ہمیں نصیحت کی تھی کہ محنت کرو، ترقی کرو!

آپ کا تعلیم اور مشاغل کے بارے میں کہنا ہے۔۔۔

میں جماعت دہم کے امتحانات دے کر فارغ ہوا ہوں، اب چھٹیوں کے بعد گیارہویں میں جاؤں گا ان شاءاللہ تعالیٰ- اس کے ساتھ میرے مشاغل بھی بہت ہیں؛ کہانیاں لکھنا، مضامین لکھنا، مصوری کرنا، تبصرے کرنا، ٹی وی دیکھنا، کتابیں اور رسالے پڑھنا، خصوصاً بچوں کےـ مشاغل ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہر بندہ کسی نا کسی کام میں مصروف رہنا چاہتا ہے اور اپنا وقت اچھے کاموں میں صرف کرنے لگتا ہے ـ تو میں نے بھی مشاغل اپنائے اس میں لکھنا پڑھنا میرا جنون، میرا آکسیجن ہے، خوراک ہےـ

اعلیٰ کارکردگی پر ملنے والے ایورڈز اور اعزازی خطوط کے بارے میں آپ کا کہنا ہے۔۔۔
جی ہاں! فی الحال تین ایوارڈ ملے ہیں:
١ بچوں کا پرستان ایوارڈ ـ
٢ بچوں کا گلستان ادب ایوارڈ ـ
٣ بچوں کا خصوصی ایوارڈ ـ
اسناد بھی تین ملی ہیں؛
١ سند فضیلت ـ
٢ سند اعزاز ـ
٣ سند توصیف ـ
اور شاباش بہت سے لوگوں نے دی ہے جیسے: ماں باپ، اور عزیز او قارب، حکیم محمد سعید، شہداء سعدیہ ارشد صاحب نے بھی شاباشی دی اور کئی خطوط مجھے لکھتے ہیں جیسا کہ یہ ایک خط ہے؛
1) عزیزِ من! ” سلمان یوسف سمیجہ،،  مجھے یقین ہے کہ تازہ شمارہ آپ کو ہمدرد نو نہال کا مل چکا ہوگا ـ اس میں آپ نے اپنی تحریر بھی پڑھ لی ہوگی اور آپ کا دل خوش ہوا ہوگا! مجھے بھی خوشی ہے اس لیے اس خوشی میں آپ کو اچھی سی کتاب کا تحفہ بھجوارہی ہوں ـ مجھے یقین ہے آپ کا شوق آپ کو محنت پر آمادہ کرتا رہے گا ادبی کاموں کے لیے شوق اور محنت کے ساتھ صبر بھی درکار ہوتا ہے ـ اس لیے میرا مشہورہ ہے کہ چاہے آپ نظم لکھو، یا نثر لکھو، یا مضمون لکھو کہانی مگر  پوری محنت اور توجہ سے لکھو، پھر ایک بار سے زیادہ نظر ثانی کرو، اور خوب سے خوب سفر جاری رکھو ـ ایک مشہورہ ہے اگر تم ہمدرد  نو نہال یا باقی کوئی اور رسالے کو اپنی کوئی تحریر بھیجو اور وہ شایع نہ ہو تب بھی دل پر ہر گز نہ لو لکھنے کا سفر جاری رکھوـ میں ادب کی دنیا میں آپ کے لیے کامیابی کی دعا کرتی ہوں-
"مخلص سعدیہ راشد"
یہ وہ خطوط ہیں میری ہمت بندھاتے ہیں اور مجھے مزید محنت پر ابھارتے ہیں ـ اس کے علاوہ
بچوں کے معروف ادیب "شاعر امان اللہ شیر"
پروفیسرمحمد اسلم بیگ صاحب،معروف شاعر جمیل الرحمن عباس صاحب نے بھی مجھے خطوط لکھے۔۔۔
اس کے علاوہ اور لوگوں نے بھی میری حوصلہ افزائی فرمائی اور مجھے شاباشی دی ـ میں ان کا بہت مشکور ہوں...
میری 150 سے زیادہ کہانیاں چھپ چکی ہیں اور 50 کے قریب مضامین شاٸع ہوچکے ہیں۔۔۔
آپ کا اپنے پسندیدہ موضوعات کے بارے میں کہنا ہے۔۔۔
جاسوسی، سائنس فنکشن، مافوق الفطرت،طنز، و مزاح! طنز مزاح بہت ہی پسندیدہ موضوع ہے کیوں کہ مزاح زندگی کا رنگ ہے، مزاح ہی سے زندگی کا رنگ ہے، مزاحیہ جملے پسند کرتا ہوں ـ اپنی سنجیدہ کہانیوں میں بھی مزاح ڈالنے کی سعی کرتا ہوں مجھے طنز، مزاح لکھنا اور پڑھنا بے حد پسند ہے ـ

دوستوں کی دنیا کے بارے میں آپ کہتے ہیں۔۔۔
میرے بہت سارے دوست ہیں جیسے؛ حسین نیاز، اظہر بھٹہ، مصطفیٰ ریاض، فیضان حیدر، اس کے علاوہ بھی اور بھی بہت سارے ہیں بچپن کے بہتریں دوست کتابیں ہیں ـ جو جینے کا طریقہ سکھاتی ہیں وفا بھی کرتی ہیں انسانوں کی طرح بے وفائی نہیں کرتی!

آپ کی ازدواجی زندگی کا آغاز نہیں ہوا۔

موجودہ مصروفیات کے بارے میں آپ کا کہنا ہے۔۔۔
میں فی الحال تعلیم کے زیور سے آراستہ ہورہا ہوں ـ مستقل کے منصوبے بھی بنا رکھے ہیں؛ بڑا ہو کر  صحافی بنوں گا، بچوں کے لیے ایک رسالہ نکالوں گا، ٹیلی-ویژن کے لیے کچھ لکھوں گا ـ بچوں کے ادب کے لیے اپنا تن من دھن وقف کردوں گا، مرتے دم تک بچوں کے ادب کی خدمت کروں گا ان شاءاللہ تعالیٰ

آپ کی پسندیدہ کتابیں۔۔

قرآن مجید، حضرت یوسفؑ (ازحکیم محمد سعید)
ننھا سوراخ راہاں (از مسعود احمد برکاتی)
پیاری سی پہاڑی لڑکی، (از مسعود احمد برکاتی)
راجو کی کہانی (از اعتبار ساجد)
نورِعالم، (از علی عمران ممتاز)
کیا حکم ہے میرے آقا، (از شوکت منظفر)
آزادی کی کہانیاں، (نذیر انبالوی)
چالاک خر گوش کے کارنامے (از معراج)
آخری سیڑھی (از راکعہ رضا)

آپ کے پسندیدہ
پسندیدہ لکھاری؛
نذیر انبالوی،علی اکمل تصور صاحب، احمد عدنان طارق صاحب، ڈاکٹر عمران اشتیاق صاحب،بینا صدیقی،نائلہ صدیقی،عائشہ تنویر، سیما صدیقی، راحت عائشہ، عائشہ غضنفر اللہ صاحبہ، ـ

آپ کااپنے پڑھنے والوں کو پیغام۔۔۔۔
جی میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ” بہت محنت کریں، کسی کی طنز و حوصلہ شکنی پر کان نہ دھریں، صرف اپنا کام کریں، کیوں کہ میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں اور پھر لوگ مجھے محنتی اور اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا کہتے ہیں، آپ بھی اس پر عمل کریں شکریہ ـ
حوصلہ کے بارے میں سلمان صاحب کی رائے۔۔۔
حوصلہ کے بارے میں نیک اور مثبت خیالات ہیں، یہ بہت اچھا کام کررہا ہے ـ ادیبوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے، انہیں جلا بخش رہا ہے اس گروپ کے تمام لوگوں کے لیے نیک تمنائیں اور پھر ڈھیر  ساری دعائیں، مجھے اس کے اعراض و مقاصد سے مکمل اتفاق ہے ـ میں اس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہوں آپ کے مقاصد کے حصول میں اللہ بہت تیزی لائے اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین ـ

بھکر۔ وزارت داخلہ کی طرف سے ابھی تک نادرا دفاتر کھولنے کے لئے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ۔جیسے ہی کوئی حکم نامہ جاری ہوا عوام الناس کو ملطع کر دیا جائے گا۔ وقاص اعوان انچارج نادرا آفس بھکر

بھکر۔ وزارت داخلہ کی طرف سے ابھی تک نادرا دفاتر کھولنے کے لئے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ۔جیسے ہی کوئی حکم نامہ جاری ہوا عوام الناس کو ملطع کر دیا جائے گا۔
وقاص اعوان
انچارج نادرا آفس بھکر

اردو کے عظیم شعرا ۔۔۔

: اردو کے عظیم شعرا کرام
امیر خسرو 1253-1325
میرا بائ 1488-1560
قلی قطب شاہ 1565-1611
ولی محمد ولی 1667-1707
شاہ مبارک 1683-1733
مرزا خان جاناں 1699-1781
رفیع سودا 1713-1780
خواجہ میر درد 1721-85
میر تقی میر 1723-1810
جرات بخش 1748-1810
نظیر اکبر آبادی 1740-1830
غلام حمدانی مصحفی 1750-1824
انشا خان انشا 1756-1817
بہادر شاہ ظفر 1775-1862
خواجہ حیدر آتش 1778-1846
ابراہیم ذوق 1789-1854
اسداللہ خان غالب 1797-1869
مومن خان مومن 1801-52
سلامت دبیر 1803-75
بابر انیس 1803-74
امیر مینائی 1828-1900
داغ دہلوی 1831-1905
الطاف حسین حالی 1837-1914
اکبر الٰہ آبادی 1846-1921
شبلی نعمانی 1857-1914
ظفر علی خان 1873-1956
حسرت موہانی 1875-1951
شاہ جہاں پوری 1875-1959
علامہ اقبال 1877-1938
فانی بدایونی 1879-1941
جگر مراد آبادی 1890-1960
جوش ملیح آبادی 1894-1982
فراق گورکھپوری 1896-1982
حفیظ جالندھری 1900-1982
اختر شیرانی 1905-48
ن م راشد 1910-1975
فیض احمد فیض 1911-1984
ریئس امروہوی 1914-88
احسان دانش 1914-82
مجید امجد 1914-74
احمد ندیم قاسمی 1916-2006
ضمیر جعفری 1916-1999
شکیل بدایونی 1916-70
آغا شورش کاشمیری 1917-75
شان الحق حقی 1917-2005
جگن ناتھ آزاد 1918-2004
قتیل شفائی 1919-2001
وزیر آغا 1922-2010
ناصر کاظمی 1925-72
ابن انشاء 1927-78
حبیب جالب 1928-93
دلاور فگار 1928-98
منیر نیازی 1928-2006
احمد فراز 1931-2006
جون ایلیا 1931-2003
شکیب جلالی 1932-66
محسن بھوپالی 1932-2007
انور مسعود 1935
محمود شام 1940
کشور ناہید 1940
افتخار عارف 1943
امجد اسلام امجد 1944
ن م دانش 1958
زاہدہ حنا 1962
ادریس آزاد 1969
 شاعروں اور ادیبوں کے اصل نام

  قلمی نام............................ اصل نام

آثم فردوسی              میاں عبدلحمید
آرزو لکھنوی            سید انور حسین
اختر شیرانی             محمد داود خان
اختر کاشمیری              محمد طفیل
اختر ہاشمی                 محمد جلیل
اختر وارثی                  عبدالعزیز
آئی آئی قاضی  امداد امام علی قاضی
ابن انشاء            شیر محمد خان
انشاء               سید انشاءاللہ خان
اسلم راہی            محمد اسلم ملک
افسر ماہ پوری      ظہیر عالم صدیقی
تبسم کاشمیری  ڈاکٹر محمد صالحین
انور سدید             محمد انورالدین
انیس ناگی                  یعقوب علی
جاذب قریشی             محمد صابر
پطرس بخاری          سید احمد شاہ
تبسم رضوانی             حبیب اللہ
تنویر بخاری                فقیر محمد
ثاقب حزیں        محمد غلام مصطفیٰ
ثمر جالندھری             محمد شریف
جان کاشمیری             محمد نصیر
بہزاد لکھنوی         سردار حسن خان
جعفر بلوچ                 غلام بلوچ
جلیل قدوائی             جلیل احمد
جمال پانی پتی           گلزار احمد
جوش ملیح آبادی        شبیر حسن
تابش دہلوی               مسعودالحسن
حافظ امرتسری          محمد شریف
حبیب جالب              حبیب احمد
حفیظ جالندھری        ابوالاثر حفیظ
خاطر غزنوی          محمد ابراہیم بیگ
سہیل بخاری              محمود نقوی
شاعر لکھنوی              حسین پاشا
شکیب جلالی             حسن رضوی
شوکت تھانوی            محمد عمر
صبا اکبر آبادی            محمد امیر
قتیل شفائی               اورنگزیب
جمیل جالبی          محمد جمیل خان
حافظ لدھیانوی    محمد منظور حسین
رئیس امروہوی      سعید محمد مہدی
حسن عسکری             محمد حسن
ن م راشد                    نذر محمد
صہبا اختر             اختر علی رحمت
قمر جلالوی                محمد حسین
کوثر نیازی                 محمد حیات
محسن بھوپالی           عبدالرحمٰن
محسن نقوی              غلام عباس
محشر بدایونی           فاروق احمد
نسیم حجازی             محمد شریف
منو بھائی                  منیر احمد
ناسخ                      شیخ امام بخش
ذوق                          محمد ابراہیم
راسخ                      شیخ غلام علی
داغ                       نواب مرزا خان
دبیر                     مرزا سلامت علی
درد                        سید خواجہ میر
سرشار                    پنڈت رتن ناتھ
ساحر لدھیانوی           عبدالحئ
سودا                     مرزا محمد رفیع
ماجد صدیقی             عاشق حسین
ماہر القادری               منظور حسین
مجنوں گورکھپوری      احمد صدیق
مومن                     حکیم مومن خان
آتش                     خواجہ حیدر علی
آرزو                          محمد حسین
حسرت موہانی           فضل الحسن
ابوالکلام آزاد              محی الدین
اصغر گونڈوی             اصغر حسین
افسوس                    میر شیر علی
فراق گورکھپوری    رگھو پتی سہائے
فانی بدایونی             شوکت علی
مصحفی                    غلام ہمدانی
میرا جی                    ثناءاللہ ڈار
حسن                     میر غلام حسن
میر                           محمد تقی      
نظیر اکبرآبادی         شیخ محمد ولی
نظم طباطبائی          سید حیدر علی
ناصرکاظمی         ناصر رضا کاظمی
مرزا غالب                اسداللہ خان
نسیم                     پنڈت دیا شنکرم
یاس یگانہ چنگیزی    مرزاواجد حسین
ولی دکنی         شمس الدین محمدولی
محروم                      تلوک چند
امیر خسرو      ابوالحسن یمین الدین
عمر خیام           غیاث الدین ابوالفتح
اشرف صبوحی           ولی اشرف
امانت لکھنوی        سید اکبر حسین
امیر مینائی                امیر احمد
انیس                       میر ببر علی
بےخود دہلوی             سیدوحیدالدین
بےدل                        مرزا عبدلقادر
پریم چند                   دھیت رائے
تاباں                         غلام ربانی
جوش ملیسانی          پنڈت لبھو رام
جرأت                        یحیٰ امان
جگر مرادآبادی            علی سکندر
حالی                مولاناالطاف حسین
چکبست             پنڈت برج نارائن
امام غزالی       ابوحامدمحمدبن غزالی
شیخ سعدی                مصلح الدین
بلھے شاہ                    سید عبداللہ
سچل سرمست            عبدالوہاب

ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کی سربراہی میں راشن کی سیاسی تقسیم کا نوٹس لیا جائے/ نیشنل پارٹی جھل مگسی کے سرگرم کارکن میر عصمت اللہ گاجیزئی بلوچ میر دولت خان دیناری و دیگر کارکنان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ راشن مستحقین کے بجائے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کی سربراہی میں سیاسی افراد میں تقسیم ہوا ہے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی ایک سیاسی سپورٹر کی کردار ادا کررہے ہیں نیشنل پارٹی جھل مگسی نے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کے خلاف تحقیقات کرنے اور کاروائی کرنے کامطالبہ کیا ہے

ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کی سربراہی میں راشن کی سیاسی تقسیم کا نوٹس لیا جائے/ نیشنل پارٹی جھل مگسی کے سرگرم کارکن میر عصمت اللہ گاجیزئی بلوچ میر دولت خان دیناری و دیگر کارکنان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ راشن مستحقین کے بجائے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کی سربراہی میں سیاسی افراد میں تقسیم ہوا ہے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی ایک سیاسی سپورٹر کی کردار ادا کررہے ہیں نیشنل پارٹی جھل مگسی نے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کے خلاف تحقیقات کرنے اور کاروائی  کرنے کامطالبہ کیا ہے

اباوڑو(رپورٹ اقبال انجم ملک) اباوڑو میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لئے اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو اور ایس ایچ او اوباڑو کا شہر کا دورا کھلی دوکانیں وارننگ دے کر بند کرا دی

اباوڑو(رپورٹ اقبال انجم ملک)  اباوڑو میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لئے اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو اور ایس ایچ او اوباڑو کا شہر کا دورا کھلی دوکانیں وارننگ دے کر بند کرا دی
تفصیلات کے مطابق اوباڑو کوروناوائرس کے باعث لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لئے اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو ریاض احمد شیخ، ایس ایچ او اوباڑو منصور احمد ہطار کا اوباڑو شہر کا دورہ لاک ڈاون پر عملدرآمد کراتے ہوئے شہر میں کھلی دوکانیں وارننگ دے کر بند کرادی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو ریاض احمد اور ایس ایچ او اوباڑو منصور علی ہطار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہری حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایت پر عملدرآمد کریں اس میں انھوں کی اور ملک کی بھلائی ہے اس مہلک وائرس کا ابھی تک علاج نہیں مل سکا پوری دنیا کے ڈاکٹرز سائنسدان دن رات اس موذی مرض کورونا وائرس کے علاج ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں لہٰذا ضروری کام کے علاوہ گھروں سے باہر نہ نکلیں سینیٹائزر اور فیس ماسک کا استعمال کریں ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھوئیں سوشل ڈسٹینسن لازمی رکھیں آئندہ دو ہفتے اہم ہیں لاک ڈاؤن کے حکومتی احکامات پر عمل کیا جائے بصورت دیگر سختی سے عملدرآمد کرائے جائے گا
دوسری جانب سیاسی سماجی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث دہاڑی دار طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے حکومتی امداد بھی ان تک نہیں پہنچ سکی بیروزگاری کے باعث جانی نقصانات کے خطرات بڑھ گئے ہیں

اتوار، 26 اپریل، 2020

وٹس آپ یا ٹیلی گرام //

وٹس ایپ یا ٹیلی گرام

آپ لوگ وٹس ایپ سے بہت حد تک واقف ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹیلی گرام جو ایک روسی ایپلیکیشن ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے اور ہائی پروفائل شخصیات آج کل اس پر منتقل ہورہی ہیں ؟

نہیں نا تو چلیں آپ کو اس کی چند خصوصیات بتاتے ہیں
1- سیکرٹ چیٹ : ٹیلی گرام میں یہ آپشن آپ کو سہولت دیتا ہے کہ چیٹ پر ٹائم لگا دیں کہ کتنے سیکنڈ یا منٹ بعد میسج خودبخود ڈیلیٹ کردے ۔

2- گروپ : ٹیلی گرام آپ کو ایک گروپ میں 2 لاکھ ممبرز رکھنے کی اجازت دیتا ہے جو وٹس ایپ میں 255 ہے جس کا مطلب ہے بڑے کاروباری ادارے یا تنظیمیں اسے اپنی افرادی قوت کو منظم رکھنے کے لیے استعمال کرسکتی ہیں ۔

3- ایڈمن : وٹس ایپ کی نسبت ٹیلی گرام میں ایڈمن کنٹرول زیادہ ہے ایک ایڈمن کسی بھی ممبر کا کمنٹ یا پوسٹ ڈیلیٹ کرسکتا ہے ممبر آسانی سے سرچ کرسکتا ہے  جو وٹس ایپ میں نہیں ۔

4- ٹیلی گرام کی خاص بات یہ ہے کہ کوئی ممبر نیا ایڈ کریں تو اسے بھی پچھلی ساری پوسٹس نظر آتی ہیں جو وٹس ایپ میں نہیں ۔

5- کوئی بھی شخص اپنی پرائیوسی لگا سکتا ہے کہ اپنی مرضی سے نام اور نمبر چھپا سکے جسے تمام ممبرز نہ دیکھ سکیں ۔

6- جو لوگ اپنی بھاری فائلز اور ڈیٹا سٹور کرنے کے لیے پریشان رہتے وہ یہاں اپنا سارا ڈیٹا سٹور کریں اور فون سے ڈیلیٹ کردیں پھر بھی فائلز گروپ میں موجود رہتیں جنہیں جب چاہیں دیکھ سکتے ہیں  ۔

7 - ٹیلی گرام کا اپنا پاسورڈ لگا سکتے ہیں اگر کوئی آپ کا فون کھول بھی لے ٹیلی گرام کا الگ پاسورڈ ہونے کی وجہ سے اسے نہیں کھول سکتا ۔

8- گروپ میں موجود فائلز ویڈیوز دیکھ کہ بے شک موبائل گیلری سے ڈیلیٹ کردیں وہ گروپ میں موجود رہتی ہیں جب چاہیں دیکھ
https://play.google.com/store/apps/details?id=org.telegram.messenger

بھکر(ظفر اعوان ) ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے ہفتہ کی شب ایک بجے داجل چیک پوسٹ کا دورہ کیا

بھکر(ظفر اعوان ) ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے ہفتہ کی شب ایک بجے داجل چیک پوسٹ کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر محکمہ خوراک،پولیس اور رینجرزکے جوانوں کو ہدایات جاری کیں کہ ضلع سے گندم کی ترسیل کسی صورت باہر نہ ہونے پائے۔ڈپٹی کمشنر نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں سے کہا کہ تمام داخلی و خارجی راستوں سمیت دریائی پتنوں پر کڑی نگرانی کا عمل برقرار رکھا جائے تاکہ ضلع سے گندم کی منتقلی ہر گز نہ ہونے پائے۔ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے محکمہ خوراک کے عملہ کو احکامات جاری کئے کہ چیک پوسٹ پر موئثر مانیٹرنگ کے عمل کو ہمہ وقت جاری رکھا جائے اس ضمن میں کسی قسم کے تساہل کو قطعی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا چیک پوسٹوں پر متعلقہ اہلکاران کو سونپی گئی ذمہ داریوں کوبھی مانیٹر کیا جائے گا #

روزے کے دوران ہمارے جسم کی کچھ دلچسپ معلومات

روزے کے دوران ہمارے جسم کی کچھ دلچسپ معلومات

       *پہلے دو روزے*
پہلے ہی دن بلڈ شوگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا یعنی بی پی گر جاتا ہے ۔اعصاب جمع شدہ گلائیکوجن کو آزاد کر دیتے ہیں جس کی وجہ جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادوں کی صفائی کے پہلے مرحلہ میں نتیجتا سر درد ۔ چکر آنا ۔ منہ کا بد بودار ہونا اور زبان پر مواد کےجمع ہوتا ہے
*تیسرے سے ساتویں روزے تک*
جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور پہلے مرحلہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنا ہو جاتی ہے ۔جسم بھوک کا عادی ہونا شروع کرتا ہے اور اس طرح سال بھر مصرف رہنے والا نظام ہاضمہ رخصت مناتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی خون کے سفید جرسومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہو جا تا ہے
ہوسکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لیے کہ زہریلے مادوں کی صفائ کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔ انتڑیوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے

*آٹھویں سے پندرھویں روزے تک*
آپ پہلے سے توانا محسوس کرتے ہیں ۔ دماغی طور پر چُست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں ۔ہو سکتا ہے پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہونا شروع ہوں ۔ اس لیے کہ اب آپ کا جسم اپنے دفاع کے لیےپہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہو چکا ہے ۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیل کو کھانا شروع کر دیتا ہے جسے عمومی حالات میں کیموتھراپی کے ساتھ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے  اسی وجہ سے خلیات سے پرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتا بڑھ جاتا ہے اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے ۔ یہ قوت مدافعت کے جاری عمل کی نشانی ہے روزانہ نمک کے غرارے اعصابی اکڑاؤکا بہترین علاج ہے
*سولویں سے تیسویں روزے تک*

جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برداشت کا عادی ہو چکا ہے ۔ آپ اپنے آپ کو چست ۔ چاک و چو بند محسوس کرتے ہیں ۔ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہو جاتی ہے ۔ سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے ۔ جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ نظام ہاضمہ کی مرمت ہو چکی ہے ۔ جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہو چکا ہے۔بدن اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ بیس روزوں کے بعد دماغ اور یاداشت تیز ہو جاتے ہیں۔ توجہ اور سوچ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔ بلا شک بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھر پور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔
یہ تو دنیا کا فائدہ رہا جو بے شک ہمارے خالق ہماری ہی بھلائ کے لیے ہم پر فرض کیا ۔ مگر دیکھیے اس کی رحمت کا اندازِکریمانہ کہ اس کے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بہترین بندوبست کر دیا ۔
*سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم*

رانگ نمبر۔۔۔ روزہ نظم و ضبط کی علامت۔ ملک نذر حسین عاصم

رانگ نمبر۔۔۔
روزہ نظم و ضبط کی علامت۔
ملک نذر حسین عاصم
0333 5253836
روزہ کھانے پینے اور نفسیاتی خواہشات روکے رکھنے کا نام ہے یہ آنکھوں کانوں اور اعضائے انسانی کو غلط کاریوں سے روکے رکھنے کا نام بھی ہے جب انسان اعضائے جسمانی اور حواس خمسہ کی پاکیزگی اختیار کر لیتا ہے تو ایسے ہی لوگوں کو قرآن متقی اور پرہیزگار ہونے کی سند عطا کرتا ہے۔ روزے حضرت آدم سے لیکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریبا" ہر امت میں کسی نہ کسی صورت میں پائے جاتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ مختلف اقوام میں روزوں کی تعداد وقت کا تعین سحر اور افطار کا وقت مختلف رہا ہے
ارشاد باری تعالی ہے " اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے قوموں پر  فرض کئے گئے تھے "
روزہ نام ہے ایک مقررہ مدت تک اپنی جائز خواہشات سے دستبرداری کا، روزہ تعمیل ارشاد خداوندی کے ساتھ تزکیہ نفس اور تربیت جسمانی دونوں کا ایک بہترین دستورالعمل ہے ۔
جدید و قدیم میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہے کہ روزے کے اثرات انسانی جسم پر مثبت اور مفید ہوتے ہیں روزہ شرعی اعتبار سے تزکیہ نفس اور تعمیل حکم خداوندی کے علاوہ جسمانی بیماریوں کو دور کرنے کا بہترین نسخہ ہے مختلف موسموں میں رمضان کے آنے سے  مسلمان ہر موسم میں صبراوع برداشت  کے عادی ہو جاتے ہیں
اجتماعی اعتبار روزہ مسلم معاشرے کو ڈسپلن کا پابند بناتا ہے یہ ایک مقررہ ماہ، مقررہ وقت بالغ مردوزن اور غریب امیر پر فرض ہیں اس کا اطلاق پورے عالم اسلام پر ہے شریعت نے ایک ایسا دائمی اور غیر متغیر نظام الاوقات سحر و افطار مقرر کیا ہے جسکی پابندی سب کیلئے ایک جیسی ہے امت مسلمہ کی اس یکجہتی، وحدت اور ڈسپلن کو دیکھکر غیر مذہب  پر اعتراف پر مجبور ہوگئے ۔

سکھر:(اسداللہ-بیورو چیف-روح عصر نیور): سکھر کے تعلقہ پنوعاقل سے تعلق رکہنے والا محمد یاسین ملک کورونا وائرس سے زندگی کی جھنگ ھار گیا۔جس کی تدفین کے لیے تعلقہ سول ھاسپیٹل پنوعاقل


سکھر:(اسداللہ-بیورو چیف-روح عصر نیور):
سکھر کے تعلقہ پنوعاقل سے تعلق رکہنے والا محمد یاسین ملک کورونا وائرس سے زندگی کی جھنگ ھار گیا۔جس کی تدفین کے لیے تعلقہ سول ھاسپیٹل پنوعاقل کے سلیکٹید ڈاکٹروں کی ٹیم ایس ڈی ڈی ایم،ایم ایس، پولیس اھلکاروں اور ڈی ایس پی ضروری کاروائیوں کے لیے الرٹ۔
52 برس کا مرحوم محمد یاسین ملک،کورونا وائرس سے پہلے بلڈ کینسر کا بہی مریض رہ چکا تھا۔6 مہینہ تبلیغی جماعت کے ساتھ صوبہ پنجاب میں تھا،جہاں سے کورونا وائرس میں مبتلا ہوا۔جس کو سکھر قرنطینہ سینٹر میں منتقل کیا گیا تھا۔کچھ دن پہلے اس کی طبیعت ناساز ھونے کی وجھ سے گمبٹ کے گمس سینٹر میں ریفر کیا گیا،جہاں سے وفات پا گیا۔
آج صبح پنوعاقل کے مصطفائی قبرستان میں سرکار پاراں بنی ھوئی ٹیم ذریعے پانچ خاندان کے افراد سمیت جنازے نماز کے بعد اس کی تدفین ھوئی۔
ضلعہ سکھر کا یے تیسرہ اور تعلقہ پنوعاقل کا یے پہلا کورونا وائرس میں مبتلا شخص کا  کیس تھا۔

علاقائی اخبارات کا 25 فیصد کوٹہ ختم ہونے سے ہزاروں صحافی بےروزگار ہو جائینگے، محمد فیصل ندیم

علاقائی اخبارات کا 25 فیصد کوٹہ ختم ہونے سے ہزاروں صحافی بےروزگار ہو جائے گے، محمد فیصل ندیم
اسلام آباد(پریس رلیز) ورلڈ یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر محمد فیصل ندیم نے علاقائی اخبارات کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جناب وزیراعظم عمران خان صاحب نے اشتہاری پالیسی میں نظر انداز ہونے والے علاقائی اخبارات نے ہمیشہ آپ کی آواز گھر گھر تک پہنچائیں لیکن آج آپ کی حکومت اس نئی اشتہاری پالیسی کے ذریعے ہزاروں صحافیوں کو بے روزگار کر رہی ہے اگر سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد کوٹہ جس پر صرف ریجنل اخبارات کا حق ہے یہ ختم کردیا گیا تو آپ کا کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ پورا نہ ہو سکے گا
ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ علاقائی اخبارات کا 25 فیصد کوٹہ ختم نہ کیا جائے اور فورا نوٹس لیتے ہوئے علاقائی اخبارات کا 25 فیصد کوٹہ ختم نہ کیا جائے اور فورا نوٹس لیتے ہوئے علاقائی اخبارات کو اشتہارات جاری کروائے جائیں۔

سعودی عرب کے بارے ایسی معلومات ۔۔//انتخاب /ظفر اعوان

سعودی عرب کے بارے ایسی معلومات ۔

1-: یہاں پانی مہنگا اور تیل سستا هے۔۔۔
2-: یہاں کے راستوں کی معلومات مردوں سے زیادہ عورتوں کو هیں اور یہاں پر مکمل خریداری عورتیں ھی کرتی هیں مگر پردے میں رہ کر۔۔۔
3-: یہاں کی آبادی 4 کروڑ هے اور کاریں 9 کروڑ سے بھی زیادہ هیں۔۔۔
4-: مکہ شہر کا کوڑا شہر سے 70km دور پہاڑیوں میں دبایا جاتا هے۔۔۔
5-: یہاں کا زم زم پورے سال اور پوری دنیا میں جاتا هے اور یہاں بھی پورے مکہ اور پورے سعودیہ میں استعمال ھوتا هے، اور الحمدلله آج تک کبھی کم نہیں ھوا۔۔۔
6-: صرف مکہ میں ایک دن میں 3 لاکھ مرغ کی کھپت ھوتی ھے۔۔۔
7-: مکہ کے اندر کبھی باھمی جھگڑا نہیں ھوتا هے۔۔۔
8- سعودیہ میں تقریبا 30 لاکھ بھارتی، 18 لاکھ پاکستانی، 16 لاکھ بنگلہ دیشی، 4 لاکھ مصری، 1 لاکھ یمنی اور 3 ملین دیگر ممالک کے لوگ کام کرتے هیں،
سوچو اللہ یہاں سے کتنے لوگوں کے گھر چلا رھا هے۔۔۔
9-: صرف مکہ میں 70 لاکھ AC استعمال ھوتے ھیں۔۔۔
10-: یہاں کھجور کے سوا کوئی فصل نہیں نکلتی پھر بھی دنیا کی ھر چیز، پھل، سبزی وغیرہ ملتی هے اور  بے موسم یہاں پر بِکتی هے۔۔۔
11-: یہاں مکہ میں 200 کوالٹی کی کھجور بِکتی هے اور ایک ایسی کھجور بھی هے جس میں گٹھلی نہیں۔۔۔
12: مکہ کے اندر کوئی بھی چیز لوکل یا ڈپلیکیٹ نہیں بکتی یہاں تک کے دوائی بھی۔۔۔
13-: پورے سعودی عرب میں کوئی دریا یا تالاب نہیں هے پھر بھی یہاں پانی کی کوئی کمی نہیں هے۔۔۔
14-: مکہ میں کوئی پاور لائن باھر نہیں تمام زمین کے اندر ھی هے۔۔۔
15-: پورے مکہ میں کوئی نالہ یا نالی نہیں هے۔۔۔
16-: دنیا کا بہترین کپڑا یہاں بِکتا هے۔ جبکہ بَنتا نہیں۔۔۔
17: یہاں کی حکومت ھر پڑھنے والے بچے کو 600 سے 800 ریال ماھانہ وظیفہ دیتی هے۔۔۔
18-: یہاں دھوکا نام کی کوئی چیز ھی نہیں۔۔۔
19-: یہاں ترقیاتی کام کے لئے جو پیسہ حکومت سے ملتا هے وہ پورا کا پورا خرچ کیا جاتا هے۔۔۔
20: یہاں سرسوں کے تیل کی کوئی اوقات نہیں، پر بِکتا تو هے، یہاں سورج مُکھی اور مکئی  کا تیل کھایا جاتا هے۔۔۔
21-: یہاں هريالی نہیں یعنی درخت پودے نہ ھونے کے برابر ھیں، پہاڑ خشک اور سیاہ ھیں مگر سانس لینے میں کوئی تکلیف ھی نہیں، یہاں یہ سائنسی ریسرچ فیل هے۔۔۔
22-: یہاں ھر چیز باھر سے منگائی جاتی هے پھر بھی مہنگائی نہیں ھوتی۔۔۔

*🌹آبِ زم زم کا سراغ لگانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی🌹*

 عالمی تحقیقی ادارے آبِ زم زم اور اس کے کنویں کی پُر اسراریت اور قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ھو کر رہ گئے۔۔۔

 مزید نئے روشن پہلوؤں کے انکشافات سامنے آ گئے۔۔۔

 تفصیلات کے مطابق آبِ زم زم اور اس کے کنویں کی پُر اسراریت پر تحقیق کرنے والے عالمی ادارے اس کی قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ھو کر رہ گئے۔
عالمی تحقیقی ادارے کئی دھائیوں سے اس بات کا کھوج لگانے میں مصروف ھیں۔۔۔

کہ آب زم زم میں پائے جانے والے خواص کی کیا وجوھات ھیں۔۔۔

اور *ایک منٹ میں 720 لیٹر*
 جبکہ *ایک گھنٹے میں43 ھزار 2 سو لیٹر*
 پانی فراھم کرنے والے اس کنویں میں پانی کہاں سے آ رھا ھے۔۔۔

جبکہ مکہ شہر کی زمین میں سینکڑوں فٹ گہرائی کے باوجود پانی موجود نہیں ھے۔۔۔

جاپانی تحقیقاتی ادارے ھیڈو انسٹیٹیوٹ نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ھے کہ

 *آب زم زم ایک قطرہ پانی میں شامل ھو جائے تو اس کے خواص بھی وھی ھو جاتے ھیں جو آب زم زم کے ھیں*
 جبکہ زم زم کے ایک قطرے کا بلور دنیا کے کسی بھی خطے کے پانی میں پائے جانے والے بلور سے مشابہت نہیں رکھتا۔۔۔

ایک اور انکشاف یہ بھی سامنے آیا ھے کہ ری سائیکلنگ سے بھی زم زم کے خواص میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔۔۔

 آب زم زم میں معدنیات کے تناسب کا ملی گرام فی لیٹر جائزہ لینے سے پتا چلتا ھے۔
کہ اس میں
 *سوڈیم 133،*
 *کیلشیم 96،*
*پوٹاشیم 43.3،*
*بائی کاربونیٹ 195.4،*
*کلورائیڈ 163.3،*
 *فلورائیڈ 0.72،*
*نائیٹریٹ 124.8،*
 اور
*سلفیٹ 124ملی گرام فی لیٹر موجود ھے۔۔۔*

آب زم زم کے کنویں کی مکمل گہرائی 99 فٹ ھے۔۔۔

 اور اس کے چشموں سے کنویں کی تہہ تک کا فاصلہ 17 میٹر ھے۔۔۔

واضح رھے کہ دنیا کے تقریباً تمام کنوؤں میں کائی کا جم جانا، انواع و اقسام کی جڑی بوٹیوں اور خود رَو پودوں کا اُگ آنا نباتاتی اور حیاتیاتی افزائش یا مختلف اقسام کے حشرات کا پیدا ھو جانا ایک عام سی بات ھے جس سے پانی کا رنگ اور ذائقہ بدل جاتا ھے۔۔۔

 اللہ کا کرشمہ ھے کہ اس کنویں میں نہ کائی جمتی ھے، نہ نباتاتی و حیاتیاتی افزائش ھوتی ھے، نہ رنگ تبدیل ھوتا ھے، نہ ذائقہ۔۔۔

*🌺تھوڑی سی زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے

عربوں* کی عیاشی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہے۔۔انتخاب /ظفر اعوان

*عیاش عربوں* کی عیاشی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گintkha

*‏UAE* نے *دس ہزار* سے زیادہ  پاکستانیوں کو *واپس* بھیجنے کا اعلان کر دیا

*2020 ایکسپو* کینسل کردی گئی

*سعودیہ* دنیا سے آئے مُلازموں کو واپس بھیج رہا ہے

*آسٹریلیا* میں موجود تمام غیر ملکیوں کو زندہ رہنے کیلئے *5 ڈالر فی گھنٹہ* کام کرنا پڑ رہا ہے۔۔

*برطانیہ* میں غیر ملکی کاروباری اپنی معاشی تباہی کے بھیانک خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔
*امریکی تیل* دنیا کی  معلوم تاریخ میں پہلی بار *37- ڈالرز فی بیرل* بک رہا ہے۔
جی ہاں *37- ڈالرز فی بیرل۔*
 
*یعنی جو امریکا سے 1 بیرل تیل خریدے گا ، امریکن اس کو  37 ڈالرز دیں گے*

اِس *دنیا* کو اپنی *تین سو سال کی ترقی* کا بہت زعم تھا نا۔

*امریکہ یورپ* جنہوں نے اپنی *سپیس شیلڈ* تک بنائی ہوئی تھی، اُلٹے مُنہ گرے پڑے ہیں

ایک *کرونا وائرس* نے اس دنیا کی ‏تین سو سال کی ترقی کو زیرو کر دیا۔۔۔

*آسمانوں* پر اُڑتے جہاز زمین پر اُتروا دیئے،

 *سمندر* بحری جہازوں سے صاف کر دئیے

تیل کی کمائی پر پلنے والے جو کہتے تھے کہ *نا تیل ختم ہوگا، نا  غربت آۓ گی*۔۔

 اب انہیں کہنا کہ تیل پی لیں پانی کی جگہ!!!!!!

ایٹم بم اور پتہ نہیں کیا کیا بنانے والے سب ‏بندروں کی طرح ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے ہیں

سب کچھ کسی کام کا نہیں اور وہیں پڑا رہ گیا

آج کے کسی انسان نے سوچا تھا؟ کہ وہ اپنی بے بسی کے یہ دن دیکھے گا؟

*2020* چڑھا۔۔۔۔۔
 مبارکیں
 پارٹیاں
 خوشیاں

*ہیپی نیو ائیر*

*لے لو* نیو ایئر

*کیسا چڑھا پھر سال؟*

 ‏
لوگ مگن  تھے، *گناہوں* میں۔۔
*بے بسوں* پر ظلم کر کے قہقہے لگانے میں،  اور ہمیشہ رہنے کی پلاننگ کرنے میں۔ ۔

سوچتے تھے کہ  شاید
*لا الہٰ الا اللہ*‎ کہنے والے *لاوارث* ہیں۔

*برما* والے،  *عراق و افغانستان* والے۔

*کشمیر و فلسطین و چیچنیا* والے۔ ۔

پھر یوں ہوا کہ *رب کائنات* ناراض ہو گیا۔

*اُلٹا کر رکھ دیا اُسنے ساری دنیا کو*

مالک *ارض و سماء*

*تمام جہانوں کا تنہا مالک*

کہتا ہے کہ
*سب زمانے اُسکے ہیں*

قربان جاؤں اپنے ‏اللہ کے۔۔۔

مجھے باوجود انتہائی سیاہ کار اور گنہنگار ہونے کے مگر اللہ کا احسان ہے کہ اُس کے ہونے پر *مکمّل  یقین* ہے۔۔

مگر
مگر

میرے *وہم و گمان* میں بھی نہیں تھا کہ اپنی زندگی میں اُسکے *جلال* اور *قہاریت*  کی جھلک بھی  دیکھوں گا۔۔۔

میں اللہ سے پناہ مانگتے ہوۓ کہہ رہا ہوں کہ مجھے تو اُسکی طاقت کی معمولی جھلک دیکھ کر *قیامت* کا احساس ہو گیا کہ روز محشر کیا ہو گا؟؟؟؟

ابھی *ہواؤں اور پانیوں* کو حکم نہیں ہوا۔۔۔۔

*زمین و آسمان*  کو حکم نہیں ہوا۔۔۔۔
ابھی *پہاڑوں* نے *روئی کے گالوں* کی طرح *اڑنا* شروع نہیں کیا۔

 صرف *خورد بین* سے بمشکل نظر آنے والا ایک عجیب حرکت کرنے والا *وائرس* ہے جس کے ڈر سے تصورات دم توڑے جا رہے ہیں۔۔۔۔

*لوگ* ایک دوسرے سے *خوفزدہ* ہیں۔ ۔

کوئی کسی کی *پرواہ* نہیں کر رہا۔

کوئی کسی کے *قریب* آنے کو تیار نہیں۔

بے شک وہی اکیلا ہی *غالب* ہے.
خیال رہے اگر اُس نے *رحم نا* کیا، اور *خوراک* کیلئے *بلوے* شروع ہوئے۔۔۔۔۔

 تو یہ جو *کاغذ کا نوٹ* اور *پلاسٹک کا کریڈٹ کارڈ* ہے اسے ہم کھا کر بھوک نہیں مٹا سکیں گے ‏جب بھوک غالب آجاۓ تو کونسا *قانون*؟کونسی *تہذیب*؟
کونسی *معاشرت*؟
کونسی *اخلاقیات*؟

اللہ کے بندو لوٹ آؤ، ابھی بھی وقت ہے *روٹھے خدا* کو *منا لو*

*آ جاؤ*  اپنے *رب* کی طرف۔۔

*آ جاؤ*
*آ جاؤ*
*آ جاؤ*

*وہ* *ماننے* میں *دیر* *نہیں*   لگاتا۔ ۔

وہ *انتظار* کر رہا ہے۔ ۔۔

کفّار نے *استغفار* نہیں کرنا۔

یہ کام تم مسلمانوں نے  ہی کرنا ہے۔ ۔۔

کر لو۔ *استغفار*۔۔

منا لو *رب* کو

عزیز بھائیو میری اس تحریر کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں، کہ شاید  *میں اس کل عالم کے نگہبان (رب عظیم)کو اس کی گمشدہ بھیڑیں لوٹانے میں کامیاب ہو جاؤں*۔

*شاید جہنّم کی طرف کسی کے بڑھتے قدم رک جائیں*۔

*شاید جنّت کی حسین وادی کے کچھ باسی بڑھ جائیں*۔

اگر ایسا ہوا تو یہ میری محنت کا ثمر ہو گا۔
ورنہ میں نے اپنی زندگی اپنے ہی ہاتھوں برباد کر ہی لی ہے

*آواز دے کر دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے*
*ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے*

جمعرات، 23 اپریل، 2020

رانگ نمبر۔// ناخواندہ افراد کیلئے تعلیم//ملک نذر حسین عاصم

رانگ نمبر۔۔۔۔
ناخواندہ افراد کیلئے تعلیم۔
ملک نذر حسین عاصم
0333 5253836
جب رسالت مآب پر سب سے پہلی وحی نازل ہوئ تو اللہ پاک  نے ارشاد فرمایا: " پڑھ اپنے رب کا نام لیکر جس نے پیدا کیا انسان کو منجمد خون سے"
اس میں پہلے لفظ میں ہی پڑھنے کا حکم دیا گیا اور پڑھنے لکھنے کی تاکید کی گئ ہے۔ علم کی اہمیت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے  کہ  " علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے"
قرآن کریم نے حضرت آدم علیہ السلام کے خلافت ارضی کے استحقاق کا سبب یہی بتایا کہ وہ علم میں فرشتوں پر فوقیت رکھتے تھے پھر یہ بھی کہا گیا کہ "علم حاصل کرو پنگھوڑے سے لحد تک" یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ تعلیم کو اہمیت دی ہے حکومت پاکستان بھی اپنی تاسیس کے وقت سے ہی تعلیمی شرح کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے لیکن اسکے باوجود ہمارے ہاں شرح خواندگی انتہائ پست ہے جس کا ضروری نقطہ یہ ہے کہ ہم  ناخواندہ افراد کو علم حاصل کرنے کی طرف مائل نہیں کرتے۔مائل ہو بھی جائیں تو معاشی مسائل انکے پاؤں کی زنجیر بن جاتے ہیں اگر تھوڑا سا ماضی کیطرف جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کا اثر تھا کہ عالم اسلام میں خواندگی کا تناسب بہت زیادہ تھا اندلس کے بارے میں ایک غیر مسلم مؤرخ "ڈوزی" لکھتا ہے کہ سپین کا تقریبا" ہر شخص پڑھ لکھ سکتا ہے یہ اسوقت کی بات ہے جب مسیحی یورپ صرف علم مبادیات ہی جانتا تھا اور یہ مبادیات بھی بڑی حد تک گنتی کے اراکین کلیسا جانتے تھے۔
مقام افسوس ہے کہ قیصرو کسری کے استبداد کو چھونے والے آج تعلیمی خواندگی میں پستی اور گراوٹ کی جانب جا رہے ہیں ہمارے بچے تو پڑھ رہے ہیں لیکن ہم نے کبھی غور کیا ہے ہمارے اڑوس پڑوس میں دائیں بائیں آگے پیچھے کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو حروف تہجی سے بھی نابلد ہیں قدم قدم پر  دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں کیا ایسے لوگوں کے بارے میں بھی ہم نے کبھی سوچا ہے۔؟
نبئ کریم نے اپنی تعلیمات میں حصول علم پر اسقدر اہمیت دی کہ آپ نے مدینہ میں مسجد نبوی کے ساتھ سب سے پہلی اسلامی درسگاہ " صفہ " کی بنیاد رکھی جہاں مردوخواتین کیلئے علم کا حاصل کرنا لازمی قرار دیا اور فرمایا:
"علم کا حصول ہر مردوزن کیلئے ضروری ہے"
کسی بھی نظام کی اصلاح کا آغاز ہمیشہ تعلیمی نظام سے کیا جاتا ہے اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کی ہمہ گیر اصلاح کیلئے انقلابی اقدامات کریں نصاب تعلیم میں یکسانیت پیدا کرکے متوازن نصاب مرتب کیا جائے اور ناخواندہ افراد کے بارے میں حکمت عملی تیار کی جائے۔

بھکر شاعر و موسیقار //مطلوب حسین مطلوب //اعوان کی حقیقت

ضلع بھکر کے مشہور و معروف شاعر۔ موسیقار۔ طبلہ نواز
انہوں نے شاعری اور موسیقی میں اپنے فن کا لوہا منوایا
شاعر و موسیقار مطلوب حسین مطلوب ۔پاکستان میں نوعمر گلوکاروں کیساتھ پرفارمنس کرچکے ہیں 
حمد۔ نعت۔ قصیدہ۔ نوحہ۔ 
سیکڑوں گیت۔ 
ہزاروں دوہڑے۔ ماہیے
//جو کہ نعت خواں
 گلوکار اپنے اپنے اسٹیجوں پر پرفارمنس کر چکے ہیں 

لاتعداد شاگردوں کی فہرست موجود ہے جو کہ ابھی بھی اپنے فن کا لوہا منوا رہے ہیں