Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

ضرورت نمائندگان:۔

ضرورت نمائندگان:۔ ملک بھر سے پڑھے لکھے میل، فی میل حضرات فوری رابطہ کریں موبائل نمبر 03469200126

جمعہ، 19 جون، 2020

کرونا توبہ کی مہلت ہے،!! عمران سرورجبی

کرونا توبہ کی مہلت ہے،!!
عمران سرور جبی
اگر موجودہ مہنگائی کا طوفان دیکھا جائے اور ملکی حالات پہ نظر ڈالی جائے تونہ صرف ہم اخلاقی برائیوں میں بری طرح ملوث ہیں بلکہ گناہ کبیرہ میں بھی غرق ہیں۔ زنا شراب جوا ناپ تول میں کمی ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری چیزوں میں ملاوٹ اور بھی بہت کچھ جو ہم  ہہت ہی ذمہ داری سے کررہے ہیں۔۔۔
قارئین!!
گذشتہ دنوں زندگی میں وہ کچھ دیکھنا پڑا جو بہت ہی تکلیف دہ اور اذیت ناک تھا مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہم وہ قوم ہیں جو گزری قوموں کی تمام برائیوں کا مجموعہ ہیں ہر وہ برائی جو پوری پوری قوموں کا تباہی کا باعث بنی۔ چاہیے وہ قوم لوط تھی جو زناکار تھی،چاہے قوم شعیب کی طرح وزن میں کمی کرتے تھے ،یا چیزوں میں ملاوٹ کرتے تھے۔اگلی قوموں کی عذاب کی حامل برائیاں شراب ، جوا ، زنا، جھوٹ و مکروفریب اور بت پرستی تھی ۔اج ان سب برائیوں کا مجموعہ ہم ہیں۔ہماری خوش بختی ہے کہ ہماری بچت ہمارے پیارے آقائے دوجہاں کی امت ہونے کی وجہ سے ہو گئی اور اللہ نے دنیا میں عذاب سے بچائے رکھا ہے،سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساری ساری رات امت کے لیے کئے سجدے ہمیں پار لگا گیے ورنہ پہلے تو ایک برائی پر پوری پوری امت برباد ہوئی،تباہ ہوئی اور نشان عبرت بن گئی۔
ان دنوں کورونا وائرس کی وبا  پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے خوف کی فضا ہر سو پھیلی ہوئی ہے اور افسوسناک امر کہ اب بھی ہم توبہ کیطرف رجوع نہیں کر رہے بلکہ پہلے سے زیادہ لوٹ مار کیطرف بڑھے ہیں انسانی جان بچانے والی ادویات سے لیکر روزمرہ کی اشیاء تک ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری عروج پر ہے۔ ہر کوئی منہ چھپائے پھرتا ہے۔ اوپر سے ہمارے حکمران بھی کسی عذاب الہی سے کم نہیں جنکا ہر فیصلہ عوام کی پریشانیوں میں اور زیادہ اضافے کا باعث بن ہررہا ہے کٹھ پتلی وزیراعظم سے لیکر کٹھ پتلی انتظامیہ کی مثال ۔ڈگڈگی پر ناچتے بندر کی سی ہے جن میں نہ قوت فیصلہ ہے اور نہ ہی حکومتی رٹ قائم رکھنے کی ہمت !۔ایسا لگتا ہے پوری کابینہ جگت بازوں پر مشتمل ہے ایک سے بڑھکر ایک فنکارسٹیج پر موجود ہے ملکی معشیت گھٹنے ٹیک چکی ہے۔۔ حکومت کا کوئی بھی نیا آڈر کتنی پریشانیوں کو بڑھائے  گا،کتنی بری طرح بالخصوص چھوٹے طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے گا،کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔
ہم حکومت کی پالیسیوں اور اعمال کے ذمہ دار نہیں لیکن ہم اپنی حد تک تو تبدیلی لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔جہاں کہیں بھی ہماری ذات سے مثبت تبدیلی آسکتی ہے،ہمیں  رور اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔اپنے طور پہ ہر شخص ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کم کرنے میں مدد کرے،اک دوسرے کے لیے ایثار اختیار کریں،اس دور میں بھی کئی اللہ کے بندے ایثار کا معیار قائم کئے ہوئے ہیں،مفت کپڑے ،کھانا تقسیم کر رہے ہیں،کئی لوگ اک وقت کا کھا کر دوسروں کے لیے آسانیاں مہیا کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں ۔
کوشش کیجئے اپنی ذات کی حد تک اصلاح  کیجئے۔اخلاقی اور معاشرتی برائیوں سے توبہ کر کے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔شاید قدرت کو ہمارے حال پہ رحم آجائے ۔ اب یہی ایک صورت بچت کی رہ  جاتی ہے۔موت سر پر کھڑی ناچ رہی ہے،اللہ ابھی بھی توبہ کا موقعہ دے رہا ہےکہ آخرت کا توشہ کر لیجئے ۔دوسروں کیطرف دیکھتے رہے تو وقت گزر جائے گا۔
اللہ ہم سب کے حال پہ رحم فرمائے۔آمین
 اللہ تعالی آپکا حامی و ناصر ہو۔ ۔۔۔۔۔

فتح پور ۔محمد کامران سے ۔محمد اکرم سندھو میڈیکل سٹور والے کرونا کی وجہ سے وفات پا گئے ۔



جمعرات، 18 جون، 2020

سینئر صحافی و تجزیہ نگار ۔کالم نگار و ادیب و اینکر پرسن //محترم ایم۔ ایچ۔ بابر۔ صاحب کو آر اے نیوز کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر مقرر کر دیا گیا ہے ۔سرکاری و نیم سرکاری ادارے نوٹ فرمالیں ۔ادارہ //03469200126

ہم اپنے پیارے بھائی محترم ایم ایچ بابر صاحب کو اور اے نیوز کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر بننے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سےخوش
۔۔آمدید اور  مبارکباد پیش کرتے ہیں
ظفر اعوان  ایڈیٹر 

اسلام آباد( پ ر )ایم۔این اے محمد ثناءاللہ خان مستی خیل کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر تفصیلی اظہار خیال

اسلام آباد( پ ر )ایم۔این اے محمد ثناءاللہ خان مستی خیل کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر تفصیلی اظہار خیال۔۔۔۔مستی خیل نے قومی اسمبلی میں اپنے بجٹ خطاب میں حلقے اور ضلع بھکر کے مسائل اجاگر کئے اور اپوزیش پر سخت تنقید کی۔مستی خیل نے ایم ایم روڈ کی تعمیر پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور اسے جلد از جلد تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا مستی خیل نے کہا کہ میٹرو اور اورنج ٹرین پر جھولے لینے والے ایم ایم روڈ پر سفر کرنے والوں کی مشکلات اور تکالیف کیا جانیں ہم اس قاتل روڈ پر لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے یہ بہت بڑا مسئلہ تھا جسے حل کرنے پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے مشکور ہیں اب اس روڈ کی تعمیر کے جلد از جلد ٹینڈر کئے جائیں۔مستی خیل نے کہا کہ بھکر میں تھل انڈسٹریل زون قائم کیا جائے تھل ملکی پیداوار کا 85 فیصد چنا پیدا کرتا ہے۔مستی خیل نے دریا خان کلورکوٹ دلے والا جنڈانوالہ کہاوڑ کلاں کوٹلہ جام کو سوئی گیس کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا جبکہ مستی خیل نے کہا گروٹ اور چشمہ کئ آٹامک انرجی کمیشن کے ہسپتالوں میں بھکر کے مریضوں کے لئے پرائیوٹ چیک آپ کے لئے فیس میں 50 فیصد رعایت دی جائے۔گریٹر تھل کینال کے لئے فنڈز ۔مختص کرنا احسن اقدام ہے۔۔مستی خیل نے کہا کہ بجٹ پر اپوزیشن کی تنقید بلا جواز ہے اپوزیشن پارٹیوں نے 50 سال حکومت کی ہے انہوں نے ملکی معیشت کا کباڑہ نکال دیا ہر ادارہ خسارے میں چھوڑا۔ملک کو تباہ کر دیا اپوزیشن کی حکومت پر تنقید بلا جواز ہے ملک کو تباہ کر کےمظلوم بھی اپوزیشن بن رہی ہے۔اپوزیش کے دور حکومت میں ہر ادارہ خسارے میں تھا ملک کو گروی رکھ دیا گیا تھا وزیر اعظم عمران خان ایک مخلص اور دیانت دار شخص ہے جسکی پوری دنیا معترف ہے سابقہ دور حکومت میں ملک عالمی سطح پر آئسولیٹ ہو چکا تھا عمران خان نے آکر دنیا میں پاکستان کو عزت دلوائی۔انہوں نے کہا کہ کرونا نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے ہر ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے ان حالات میں بجٹ متوازن پیش کیا گیا ہے۔مستی خیل نے کہا کہ 50 سال تک ملک پر حکمرانی کرنے والے اپنا علاج باہر کے ملکوں میں کرواتے ہیں ایل این جی۔آئی پی پیز میں لوٹ مار کی گئی۔نامساعد حالات میں ایک اچھا اور متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے

بھکر (آفتاب برنی) ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر)محمد علی ضیاء کی خصوصی ہدایت پر تھانہ حیدرآباد پولیس نے کیری ڈبہ سوزوکی بولان چور کو گرفتار کر لیا

بھکر (آفتاب برنی)  ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر)محمد علی ضیاء  کی خصوصی ہدایت پر تھانہ حیدرآباد  پولیس نے کیری ڈبہ سوزوکی بولان چور  کو گرفتار کر لیا۔ملزم مسمی عبدالرحمن ولد فرمان علی سکنہ شیخوپورہ کے قبضہ سے ایک  عدد کیری ڈبہ سوزوکی بولان نمبر 8315۔16A۔LE جوکہ شیخوپورہ تھانہ A ڈویژن مقدمہ نمبر 438 میں چوری شدہ برآمد کر کے ملزم کے خلاف زیر دفعہ 411ppc کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے ۔ڈی پی او بھکر نے اچھی کارکردگی پر ایس ایچ او اور پوری ٹیم کو شاباش دی ۔مزید جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی تیز کرنے کی ہدایات کی۔

بھکر (آفتاب برنی) ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء کے زیر صدارت دریاخان سرکل کی کرائم میٹنگ۔تمام مقدمات کا انفرادی طور پر تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تفتیشی افسران کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق جرائم کے خاتمے، مجرمان کی سرکوبی اور پولیس ورکنگ کا جائزہ لینے کیلئے ڈی پی او بھکر نے سرکل وائز تمام تھانوں کی کرائم میٹنگ منعقد کرنے کے احکامات

بھکر (آفتاب برنی) ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء کے زیر صدارت دریاخان سرکل کی کرائم میٹنگ۔تمام مقدمات کا انفرادی طور پر تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تفتیشی افسران کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق جرائم کے خاتمے، مجرمان کی سرکوبی اور پولیس ورکنگ کا جائزہ لینے کیلئے ڈی پی او بھکر نے سرکل وائز تمام تھانوں کی کرائم میٹنگ منعقد کرنے کے احکامات دیے ہیں۔کرائم میٹنگ میں متعلقہ سرکل کے تمام تھانہ جات کے زیر التواء مقدمات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس ضمن میں میٹنگ ہال ڈی پی او آفس میں دریاخان سرکل کی کرائم میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ میں ایس ڈی پی او دریاخان سرکل عامر عباس شیرازی،جملہ ایس ایچ اوز اور انویسٹی گیشن  افسران دریاخان سرکل نے شرکت کی۔ اس دوران تھانہ وائز تمام زیر تفتیش مقدمات کو انفرادی طور پر ڈسکس کیا گیا ۔ ہر تھانے کے زیر تفتیش مقدمات، چوری کی وارداتیں، مجرمان اشتہاریوں کی گرفتاری، نامزد ملزمان کی گرفتاری، اسلحہ و منشیات کی برآمدگی، سود خوروں کے خلاف کاروائی، اخلاقی برائیوں کے خلاف اقدامات اور موٹر سائیکل و دیگر گاڑیوں کی چوری ہونے کے حوالے تفصیلی استفسار کیا گیا۔

ڈی پی او بھکرنے اس موقع پر موجود جملہ پولیس افسران و اہلکاران کو ہدایت کی کہ پولیس ورکنگ کے حوالے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔ موٹر سائیکل و دیگر گاڑی چوری کرنیوالے گینگ کے خلاف کاروائی کرے۔گشت کے نظام کو  مزید موثر بنایا جائے اور اس ضمن میں ملحقہ اضلاع سے بھی معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔مجرمان اشتہاری و نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کو یقینی بناتے ہوئے زیر التواء مقدمات کو حقائق کی روشنی میں جلد از جلد یکسو کیا جائے۔ معاشرتی برائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید موثر و تیز کیا جائے۔ ہر ایس ایچ او و تفتیشی افسر کی انفرادی کارکردگی کو باریک بارینی سے مانیٹر کیا جارہا ہے ۔

اختر مینگل کے 6 مطالبے . . تحریر کائنات ملک

. .   اختر مینگل کے 6 مطالبے
. .  تحریر کائنات ملک
میں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اختر مینگل کےحکومت سے  6 مطالبے کی تائید کرتی ہوں ۔لاپتہ افراد کے مسلے کو بختہ جزبوں کے ساتھ حل کیا جاے۔اور ائندہ اسے واقعات سے گریز کیا جاے۔نیشنل ایکشن پر مکمل عمل کیا جاے۔تمام سیاسی جماعتیں مل کر بلوچستان کی ابادیاتی تشخص اور بلوچستان کےحقوق کا تحفظ کیا جاے۔قدرتی معدنیات کی تقسیم پر از سر نو جائزہ لیا جاے۔اور شفافیت کوبرقرار رکھتے ہوے صوبے کو اس کا فایدہ دیا جاے۔سونا ۔تانبہ۔اور دیگرے معد نیات کی ریفائر بلوچستان میں لگائی جائیں۔زیر زمین پانی کے زخیرے بھرنے کے لیے بڑے بڑے ڈایمز پلوچستان میں تعمیر کیے جاے۔فیڈرل سروسز میں پلوچستان کا کوٹہ 6,فیصد اور فارن سرسوسز میں بھی بلوچستان کا کوٹہ ہونا چاہیے۔۔
وقت اگیا ہے کہ بلوچستان کی محرمیوں کا ازالہ کرتے ہوے۔بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنی چاہیئے ۔اس کے حقوق انہیں  دیے جانے چاہے ۔سابقہ حکومتوں نے جس طرح اس صوبے کا حق کھایا اسے تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا اج یہ وقت ان تمام سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کا وقت ہے سردار اختر مینگل کے تمام مطالبات جائز ہیں بلوچستان کو اللہ تعالی نے قدرتی  معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے ۔جب قدرت نے اس صوبے کو مالا مال کیا ہوا ہے تو اس کو پسماندہ رکھ کر پورے ملک کو پسماندہ رکھا ہوا ہے۔حکومت وقت کو چاہیے کہ اپنے ملک پاکستان کی قدرتی وسائل کو بروے کار لاکر یہاں کی عوام کا مطالبہ پورا کرے ناراض بلوچ بھائیوں کو واپس قومی دھارے میں منا کر شامل کیا جاے ۔اپ سب کو پتہ ہے کہ دشمن وطن اور خاص کر بھارت نے ہمیشہ بلوچستان میں اپنی گندی سرگرمیاں جاری رکھے ہوے ہے۔اور یہاں کے لوگوں کو پاکستان سے علیحدگی پر اگساتا رہتا ہے۔را کےایجنٹ اور کئی خطرناک  دہشت گرد بلوچستان سے گرفتار کیے جاچکے ہیں اور کئی خفیہ گمین گائیں بھی موجود ہونگی جہاں معصوم اور محروم لوگوں کو پنجاب اور پاکستان کی نفرت کی تربیت دی جاری ہوگی ماضی میں یہ سب ہوتا رہا ہے۔اور ہمارے احساس اداروں نے ایسے کئی کمین گاہوں پر چھاپے ڈالے ہیں جہاں پاکستان کے خلاف پرنٹ مواد کے زریعے سے لوگوں کی پاکستان کے خلاف زہین سازی کی تربیت دی جاری تھی۔۔۔یہ پی ٹی ائی حکومت کا امتحان ہے اور سابقہ دور حکومتوں کے دیے گے محرمیوں غلط پالیسوں کی بدولت بلوچستان کی عوام اور حکومت میں بے چینی کو ختم کرکے ان کے حقوق اور جائز مطالبات تسلیم کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست کا میدان جیت سکتی ہے۔تمام سیاسی پارٹیوں پر سبقت لے کر بلوچستان کی عوام کا دل جیت سکتی ہے۔اور سپماندہ علاقوں۔اور صوبوں کی ترقی اور خوشحالی  نئے پاکستان  کا جو نعرہ پی ٹی ائی حکومت نے لگایا تھا اس کو شرمندہ تعبیر کرسکتی ہے یہ اس کے لیے سنہری موقع ہے ۔۔۔

کیاحال سنائیں دُنیا کا، کیا بات بتائیں لوگوں کی////انتخاب ۔۔۔تابندہ ضیاء

کیا حال سنائیں دُنیا کا،
کیا بات بتائیں لوگوں کی..
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں،
لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی!

کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں،
دنیا کو سنانے کے قابل..
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں،
بس دل میں چھپانے کے قابل!

کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں،
اک بار گئے تو آتے نہیں..
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں،
پرچھائیں بھی انکی پاتے نہیں!

کچھ لوگ خیالوں کے اندر،
جذبوں کی روانی ہوتے ہیں..
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح،
پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں!

کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں،
کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں..
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو،
تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں!

کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ،
کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا..
کچھ لوگ مثال ابر رواں،
کچھ اونچے درختوں کا سایہ!

کچھ لوگ چراغوں کی صورت،
راہوں میں اجالا کرتے ہیں..
کچھ لوگ اندھیروں کی کالک،
چہرے پر اچھالا کرتے ہیں!

کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں،
دو گام چلے اور رستے الگ..
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا،
ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ!

کیا حال سنائیں اپنا تمہیں،
کیا بات بتائیں جیون کی ؟
اک آنکھ ہماری ہستی ہے،
اک آنکھ میں رت ہے ساون کی!

ہم کس کی کہانی کا حصہ،
ہم کس کی دعا میں شامل ہیں۔؟
ہے کون جو رستہ تکتا ہے،
ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں!

کس کس کا پکڑ کر دامن ہم،
اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں،
اس بات کو صاحب جانے دیں!

کچھ درد سنبھالے سینے میں،
کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے..
اک عمر گنوائی ہے اپنی،
کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے!

دل خرچ کیا ہے لوگوں پر،
جان کھوئی ہے غم پایا ہے..
اپنا تو یہی سرمایہ ہے،
اپنا تو یہی سرمایہ ہے!!

اللّه اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا ۔۔انتخاب //گلشن ناز

اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !
وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ہے !
یوسف کو بادشاہی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !
خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !
یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ہے ،،خوشبو نہیں آنے دی !
اگر خوشبو آ گئی تو باپ ے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !
سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ہے
 کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !
اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !
یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،
جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔
یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا
اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : این آر او " کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،،
 وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وہی قحط ہانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ،
فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ہے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں،یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔
تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے :
سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !
واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون !
اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !
یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !
منقول

اہمیت_تحریر: گلشن ناز

#اہمیت___!!
                         (تحریر: گلشن ناز)
زندگی میں گرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سنبھلنا,
ہارنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جیتنا,
زندگی میں زوال کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی عروج کی,
ناکامیوں کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کامیابی کی,
رونا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ہنسنا مسکرانا!!
غمگین کیفیت کو بھی اتنی ہی ترجیح ہے جتنی خوشی کو،
ٹوٹنا بکھرنا بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا اپنی ذات اپنے وجود کا استحکام لازم ہے،
انسانی رویوں کی تلخی کو سہنا اور سمجھنا اتنا خآص ہے جتنا رشتوں کو جاننا،
مشکلات اتنی ہے قابل قدر ہیں جتنی آسودگی و خوش حالی،
گمنامی , بدنامی بھی اتنی ہے مستحق ہیں جتنی شہرت اور عزت,
مرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ جینا،
دراصل زندگی ہے ہی دہرے آئینہ کی طرح جس کا ایک رخ پر کچھ ہے تو دوسرے پر کچھ
ہم نے مثبت سوچنا چھوڑ دیا مسائل کو بوجھ اور آزمائش کو ظلم سمجھنے لگے ہیں ..
ہمارا یہ تو کامل یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا ہم اللہ کی حکمت کے خیال سے دل کو تسلی اور صبر کی طرف لے آتے ہیں لیکن ہم برے وقت کو خوشدلی سے قبول نہیں کرتے ہم اللہ کی نعمتوں کے ناشکرے بن کر اس کی قدر وشان پر شکوے کرنے لگتے ہیں لقد صدق اللہ
”و ما قدر اللہ حق قدرہ .“
اللہ تبارک و تعالٰی  نے سچ ہی فرمایا کہ انھوں نے اللہ کی شایان شان قدر نہیں پہچانی .
ہم رب العزت کے اس دعوے کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں جو کہتا ہے کہ
”لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا“.
 کہ اللہ تعالٰی کسی پر اس کی جان سے زیادہ بوجھ نہں ڈالتے
ہم مالک کائنات کی اس خوش خبری پر بھی شکی رہتے ہیں کہ جو تاکیدا کہتا ہے
”ان مع العسر یسرٰی فان مع العسر یسرٰی“
بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے, بےشک ے بعد آسانی ہے
زندگی میں مایوسی کو جب جگہ ملتی ہے جب ہم مثبت ڈگر سے ہٹ جاتے ہیں سہل پسند ہونے لگتے ہیں امیدوں کو حتمی نتائج سمجھ کر خدا کی حکمتوں پر عقل انسانی کی جگتں لگانے کی کوشش کرتے ہیں, جب تک وقت برا نہ ہو انسان کو خود کی بھی پہچان نہیں ہوتی انسان اپنے رب کو پہچانتا ہی اپنے عزائم اپنی امیدوں کے ٹوٹنے سے ہے,
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے
”عرفت ربی بفسخ العزائم“
اور میں نے اپنے ارآدوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا ,
بس مشکلات کو مثبت رخ دیجیے
دکھوں کے سیلاب پر توکل کے بند باندھ دیجیے
غموں کے حبس کو صبر کی باد نسیم سے دور کیجیے
اپنے رب کی پہچان اور قرب ہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے جو زندگی کی تلخیوں کو سہے بغیر نہ پڑھا جا سکتا ہے نہ سیکھا جا سکتا ہے,

رجوع_الی_اللہ__تحریر:گلشن ناز


#رجوع_الی_اللہ___

                             (تحریر:گلشن ناز)

"انسان کی زندگی میں مشکلات بھی آتی ہیں غم بھی ملتے ہیں،
تکلیف بھی سہنا پڑتی ہے، اداسی سے بھی گزرنا پڑتاہے،
 ملال بھی ہوتا ہے اضطراب کی کیفیت بھی طاری ہوتی ہے،
 انسان جذبات و کیفیات کے کئ پُر پیچ مراحل سےگزر جاتا ہے
وہ دھوکے بھی کھاتا ہے،
ٹھکرایا بھی جاتا ہے،
رویوں کی تلخیاں بھی جھیلتا ہے،
امیدوں کے ٹوٹنے پر آزردہ بھی ہوتا ہے،
اور خوابوں کے بکھرنے پر خود بھی بکھر جاتا ہے، .
الغرض غم و تکلیف کی ہر کیفیت کو سہتے سہتے انسان مضبوط اور مستحکم ہوجاتاہے اور یا تو تعمیر نو کی طرف گامزن رہتا یے یا پھر مایوسی کا شکار ہوکر تخریبی راستے پر چل پڑتا ہے,
انسان مصائب و مشکلات سے مقابلہ اپنی قوت ایمانی سے کرتا ہے کیوں کہ مصآئب کے پے درپے حملوں سے اس کی قوت ارادی بھی ایک مقام پر جواب دے چکی ہوتی ہے اس وقت اس کے پاس صرف ”قوت ایمانی“ ہی سرمایہء کُل ثابت ہوتا ہے ,
”رجوع الی اللہ“ یعنی یہ خیال کہ عنقریب ہم سب مشکلات , دکھ درد ,تکالیف , مصائب ,غم و حزن ہر قسم کے اضطراب کا بوجھ اس فانی دنیا میں اپنے کاندھوں سے پھینک کر اپنے رب کی طرف خوشی خوشی لوٹ جائیں گے،
جب انسان ہر مشکل میں ایسا سوچنے لگتا ہے تو اللہ کے قرب اور بخشش کا احساس باقی رہنے والی زندگی کی جانب توجہ اس کے ہر غم کو عارضی کیفیت میں بدل دیتی ہے اور صبر و توکل اور جوش ایمانی سے اس کا دل نفس مطمئنہ کا پیکر بن جاتا ہے اور وہ اس دن کا منتظر ہوتا ہے جب اس کے لیے بھی کہا جارہا ہوگا،

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ،ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً،فَادْخُلِي فِي عِبَادِي،وَادْخُلِي جَنَّتِي  (سورۃ الفجر آیت نمبر30_89:27)

”اے اطمینان پانے والی روح! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، تومیرے ممتاز بندوں میں شامل ہوجا اور میری بہشت میں داخل ہوجا“

بدھ، 17 جون، 2020

بلوچستان /رحمت اللہ بلوچ /۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلی بلوچستان رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل وفاق میں حکومت کی اتحادی تھے

تحریر رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان/ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلی بلوچستان رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل  وفاق میں حکومت کی اتحادی تھے بدھ کو قومی اسمبلی میں 50 منٹ کی طویل خطاب میں حکومت سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا اکثر سیاستدان بجٹ کے دنوں میں ایک دوسرے سے گلے شکوے  ناراضگی کی اظہار کرکے اتحاد ختم کرنے کی اعلان کرتے ہیں پھر اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے سے رابطوں میں شروع ہوجاتے ہیں جمعت علماء اسلام نے بھی بی این پی کی علیحدگی کو سراہا پپلز پارٹی نے بھی بی این پی کی سربراہ سے رابطہ کیا مگر سیاستدانوں کی ایک دوسرے پر اعتماد کی فقدان ہے ہر ایک دوسرے کو کراس کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں  عدم بھروسہ کیوجہ سے اپوزیشن میں اتحاد مشکل نظر آرہا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آجکل یو ٹرن نے بھی شہرت حاصل کر رکھی ہے یعنی پیچھے چل کا بھی موقع مل جائے تو دیر نہیں اعلانات بھی ہوتے ہیں اتحاد بھی ہوتے ہیں جدائی بھی سیاست میں ہوتی ہے منانے والے بھی سیاستدانوں کو واپس آنے دوستی کو قائم رکھنے میں ذہین ذین راستے ہموار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں سیاست میں کوئی اعلان حرف          آخر نہیں ہوتا ہے  2018 کے عام  انتخابات کے بعد جب بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل) نے مرکز میں پاکستان تحریک انصاف
 بی این پی نے پی ٹی آئی کی حمایت کا فیصلہ کیا چھ نکات پی ٹی آئی کے سامنے رکھے جو انھوں ان چھ نکات کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی جو ابھی تک چھ نکات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
انتخابات کے بعد خان صاحب بظاہر بدل گئے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے وعدوں سے مکر گئے اور بلوچستان ان کی ترجحات میں شامل نہیں رہا۔ سرداراخترمینگل صاحب اسوجہ سے بھی حکمران جماعت سے نالاں تھے اور بدھ کے روز بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے مکمل حکومت کی اتحاد سے علیحدگی کی اعلان کیا انھوں نے اپنے خطاب میں کہا
پی ٹی آئی بلوچستان کے مسائل حل کرے لیکن تسلیوں کے باوجود کچھ نہ ہوا
 پی ٹی آئی کو بی این پی کے خدشات سے آگاہ کرنا تھا۔آگاہ کیا ہوگا
  پی ٹی آئی حکومت کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں مانگی جس سے میری ذات یا جماعت کو فائدہ ہو۔ ہم نے صرف صوبہ ( بلوچستان) کے لوگوں کے لیے انصاف مانگا ہے۔ ہم تو بلوچستان اور بلوچ قوم کی صرف حقوق کی بات کرتے ہیں مگر وہاں بھی پی ٹی آئی نے بی این پی کو مایوس کیا
 پی ٹی آئی  نے لاپتہ افراد کے معاملہ میں اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے اور نہ ہی وفاقی ملازمتوں پر بلوچستان کے چھ فیصد کوٹہ پر عمل درآمد کیا ہے۔
 اختر مینگل نے بتایا کہ حکمران جماعت نے ہمارے ساتھ لاپتہ افراد اور بلوچستان کی ترقی کے حوالہ سے معاہدہ کیا،لیکن کیا ان معاہدوں پر عمل کیا گیا، آج بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس معاہدہ پر شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور یار محمد رند کے دستخط ہیں۔ اختر مینگل نے کہا کہ ہم کوئی کالونی نہیں، ہمیں اس ملک کا شہری سمجھا جائے،ہم نے دو سال انتظار کیا، ابھی بھی وقت مانگا جارہا ہے۔اخترمینگل نے یہ بھی بتایا کہ ایک لڑکی جس کا بھائی 4 سال سے لاپتہ ہے، اس نے احتجاج کرتے کرتے خود کشی کرلی۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ پہلے بلوچ مردوں کی لاشیں ملتی  اب بلوچ عورتو کی انھوں نے کہا
صوبے سے متعلق انھوں کہ ہم ایوان میں موجود رہنگے اور اپنی آواز بلند کرتے رہینگے سوئی گیس کی رائلٹی کو چھوڑ کر ہم کو گیس سونگھنے کیلئے بھی نہیں ملتی ہے لوگوں کے مجھے میسجز آئے کہ ہمارے بچوں کو مت پڑھاٶ اگر ہمارے بچے پڑھ کر تو حق اور نا حق میں فرق کرنا سیکھ جائیں گے نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، ہم نے سیاسی طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کی، ہمارے نکات سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہونے تھے لیکن ساتھ لے کر تو چلا جائے۔
انھوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ آج دن تک بتائیں کہ بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ہوا تھا،اگر نوٹیفکیشن ہوا تو کیا ایک میٹنگ بھی بلائی گئی یا ٹی او آرز بنائے گئے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں کے ساتھ تو تعاون کیا جائے،آئی ڈی پی کیمپوں میں جاکر پوچھا جائے کہ کون ذمہ دار ہے۔
پی ٹی آئی سے تعلق پر اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے حکمرانوں سے ہاتھ ملایا، جب بھی ووٹ مانگا دیا لیکن آپ نے کیا دیا۔
اختر مینگل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ بوسنیا اور فلسطین کےلئے احتجاج کرتے ہیں، ٹماٹر ، چینی پر بحث ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کے خون پر بات نہیں ہوتی۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا بلوچستان کے لوگوں کے خون کا رنگ ٹماٹر سے زیادہ سرخ نہیں ہے اس لئے اس پر بات نہیں کرتے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کو کالونی سمجھتے ہیں اور ہمارے ساتھ وہی ہورہاہے جو غلاموں کے ساتھ ہوتاہے
تحریک انصاف کو شاید ہماری ضرورت نہیں تھی ‘ حکومت نے وعدے پورے نہیں کئے
سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی اجلاس سے 50 منٹ طویل خطاب
انصاف ملتا نہیں بکھتا ہے ‘ آج تک اس ملک میں کسی کو انصاف نہیں ملا۔
بلوچستان اس ملک کا حصہ ہے کالونی نہیں ‘ ہمیں شہری سمجھو’’
آٶ حساب کرو ‘ آپکے سر کا بال بھی بلوچستان کا قرضدار ہے۔
 ‘بلوچستان آپکا نہیں
بلوچستان جو آپکے ہاتھ سے جارہا ہے اس کے مسئلہ پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟
بلوچستان کو موٹروے نہیں چاہیے صرف ایک ڈبل شاہراہ چاہیے مگر اسکو بجٹ سے نکال دیا گیا۔
 قومی اسمبلی میں اخترمینگل کی گھن گرجدار خطاب
چمن سے کراچی تک سڑک کی بنیاد 1973 میں رکھی گئی تھی، ساڑھے چار ہزار لوگ اس سڑک پر حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔ ہمیں 6 لین سڑک کی بجائے دو لین سڑک ہی دے دیں۔
گزشتہ پی ایس ڈی پی میں جو رقم اس سڑک کے لیے رکھی گئی تھی اس کو کورونا یا ٹڈی دل کھا گئی
کورونا کی علاج کے بارے میں کوئی کہتا ہے ثنامکی کھا لو، کوئی کہتا کلونجی کھا لو، ہم تو سب سجیاں کھا کر تھک گئےہم نے کورونا کو نظر انداز کرکے تفتان بارڈر ایسے کھولا جیسے ماضی کی طرح ڈالرز آئیں گے
تفتان بارڈر کھولنا تھا تو احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں
تفتان بارڈر پر نالائقی سے جو ہلاکتیں ہوئیں انکی ایف آئی آر حکمرانوں کیخلاف کاٹی جائیں
ٹڈی دل سے بلوچستان کے 32 اضلاع متاثر ہیں، کوئی فصل اور باغ نہیں بچا
جب بھی کہا تو جواب آیا کہ اسپرے کے لیے جہاز نہیں ہے
وزیراعلی کے لیے تو جہاز لیا جاسکتا لیکن اسپرے کے لیے کیوں نہیں
اگر اب بھی اسکا تدارک نہ کیا گیا تو اگر آج اسکی تعداد لاکھوں میں تو اگلے سال کروڑوں میں ہوگی
ٹڈی دل سے پھر آپکے عرب دوست بھی نہیں بچا سکیں گے
بلوچستان روز اول سے معاہدات کا مارا ہوا ہے
نواب اکبر بگٹی کو کہا گیا کہ آپ اسلام آباد آئیں
اس ضعیف شخص کو اسلام آباد لانے والے جہاز میں فنی خرابی ہوجاتی ہے، بعد میں نواب اکبر بگٹی کو شہید کردیا گیا۔ جمہوری وطن پارٹی نے بھی حکومت کی اتحاد سے علیحدگی کی عندیہ دیا ہے
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے سردار اختر مینگل کو منانے کیلئے کوششیں جاری ہیں شبلی فرازوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ‏اخترمینگل ہمارے حلیف تھے اور رہیں گے،
 ‏اخترمینگل سے رابطہ کررہے ہیں، بی این پی کی سربراہ کے تمام تحفظات جلد دور کرلیں گے
 ‏اختر مینگل کے6نکاتی مطالبے پر کمیٹی بنائی تھی،
‏ممبر کا تقرر ہوتےہیں اختر مینگل کےتحفظات دور ہوجائیں گے
‏بلوچستان صوبہ ہمارےلیے بہت اہم ہے،
ایک دو روز میں تمام مسائل حل ہوجائیں گے،وزیراطلاعات  شبلی فراز

سرکاری ملازمین اور بجٹ کا جھٹکا۔ ملک نذر حسین عاصم

سرکاری ملازمین اور بجٹ کا جھٹکا۔
ملک نذر حسین عاصم

0333 5253836

================
موجودہ حکومت نے ایک کروڑ خاندانوں کو 12000 روپے دیئے ہیں 60 فیصد آبادی کو ہیلتھ کارڈ جاری کئے ہیں بیواؤں کیلئے راشن کارڈ بنائے گئے ہیں لیکن بجٹ کے بعد سرکاری ملازمین کی امیدوں پر پانی پھر گیا اکثریتی نچلے طبقے کے ملازمین کے گھریلو اخراجات کا دارومدار صرف اور صرف تنخواہ پر e بڑھتی ہوئ گرانی کے ساتھ اگر تنخواہ میں اضافہ نہ ہوتو ملازمین سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں یہی صورتحال پینشنرز کی بھی ہے لیکن آمدہ اطلاعات کے مطابق ملکی حالات ذرا سے بہتر ہونے پر منی بجٹ کے ذریعے تنخواہ اور پینشن میں اضافے کیلئے سوچ بچار جاری ہے آئ۔ایم۔ایف نے تنخواہ اور پینشن میں اضافے کی حمایت کردی ہے وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشن میں اضافے کا عندیہ دیا ہے کہ حالات بہتر ہونے پر حکومت درآمدات میں پانچ فیصد سرچارج لگا کر پیسے اکھٹے کرسکتی ہے جس سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے یہ اضافہ منی بجٹ میں ہی ممکن ہے ادھر اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف نے بھی تنخواہیں اور پینشن نہ بڑھانے پر حکومتی فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئ۔ایم۔ایف کے کہنے پر تنخواہ اور پینشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہے۔ ہر دور حکومت میں خواہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہو،مسلم لیگ ( ن) نواز شریف کی حکومت ہو یا پرویز مشرف مسند اقتدار پر ہو سبھی نے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کا خیال رکھا ہے بلکہ پیپلز پارٹی نے تو ایکبار 50 فیصد تک تنخواہ میں اضافہ کیا تھا لیکن 20 فیصد 15 فیصد اور 10 فیصد کی مثالیں عام ہیں اگر مختلف ادوار میں مہنگائ کا تناسب دیکھا جائے تو بھٹو دور میں یعنی 1978 میں سونے کی قیمت 714 روپے تولہ تھی ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں 714 سے بڑھکر 3300 تک پہنچ گئ 1988 میں یہ قیمت 3478 اور 1999 میں 6100 تک بڑھ گئ پھر 2008 میں 23500 تک پہنچ گئ زرداری دور میں 29500 تک اور 2013 میں 49500 تک چلی گئ 2014 میں نواز شریف حکومت میں 50 ہزار سے تجاوز کرگئ 2017 میں 56200 اور 2018 میں 56200 سے یکدم 68000 تک چھلانگ لگائ 2019 میں 73430 سے 85660 اور 2020 میں یہ قیمت بڑھکر 86500  سے 101000 تک پہنچ گئ۔
اب گرانی کی چھلانگیں دیکھیں اور ایک مزدور کے شب وروز دیکھیں۔ ہر حکومت نے ملازمین کی تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے جو محض ایک دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوئے

*” اسلام میں عورت کا سماجی مقام و مرتبہ،،تحریر /تمنا ظفر کراچی

تحریر :تمنا ظفر کراچی

الحمد للہ رب العالمین ایاک نعبدو وایا ک نستعین

 کراچی، سکھر، حیدرآباد، لاڑکانہ مٹیاری، نواب شاہ، سانگھڑ دادو، جیکب آباد، ٹھٹھہ، میر پور خاص، حیدرآباد، کینجھر سے کشمور  تک............. ،،،،، مقابلہ میں شامل ہوئے بھائیو، بہنوں ماؤں اور میری سہلیوں کو مبارک باد دینا چاہوں گی کہ  مقابلہ میں شامل ہر فرد کی جیت ہے مقابلہ میں فقط حصہ لینا ہی اول جیت ہے ـ
اور میری سندھ میں موجود جدید یا قدیم  لکھاری” خدا کی دانش اور طاقت سے بے شمار تحائف سے اتھا گہرائیوں میں بند ہیں،،
مگر! جب ایمان والے آدمی جاگتے ہیں تو خدا کے تحفے تحائف کی جانب حرکت کرتے ہیں ـ
جیسا کہ:
"اسلامک راٸٹرزموومنٹ پلیٹ فورم پاکستان" پاک وطن کی سرزمین کے لیے ترقی کے لیے محنت کرتا ہے پاک وطن کے نوجوانوں میں چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ” ایمان اور سچ،، قبول کرنے سے لکھاریوں کو عقل اور ذہانت مسترد کرتا ہے ـ منہ بولتا ثبوت ہے جو صوبہ سندھ کو مدنظر رکھتے ہوئے،
” بعنوان اسلام میں عورت کا سماجی مقام،، مقابلہ کے لیے  عنوان انتخاب کیا ہے ـ
میں مبارک باد دینا چاہوں گی اسلامک راٸٹرزموومنٹ پلٹ فورم پاکستان کی انتظامیہ کو اور اس میں صوبہ سندھ کے زمہ داران کو کامیابی تحریری مقابلہ کے انعقاد پر سلیوٹ کرتی ہوں آپ کا کام سر انجام دینے پر،،،، ،،، _____________________ موجودہ دور میں اب تک اسلامک راٸٹرزموومنٹ پلیٹ فورم مختلف نظر آتا ہے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں اسلامک رائٹرز پلیٹ فورم پاکستان سے  لکھاری اپنی زندگی کی ترقی اورانکشاف کے لیے  نہایت شدت کے ساتھ دلچسپی لیتا ہے ـ
____________*___________
میں شکر گزار ہوں انتظامیہ اور ججز کی 40 بڑے شہروں پر مشتمل، صوبہ سندھ اور اس سے ہونہار لکھاریوں کی تحریروں میں شامل میری تحریر ملک بھر کے نامور پلیٹ فورم  اسلامک رائٹرزموومنٹ پلیٹ فورم پاکستان میں جھلک رہا میرا نام الحمدللہ ثم الحمدللہ

ہمارے ملک پاکستان کے چارو صوبوں میں ابھی تک عورت کے ساتھ بعض باطل قسم کے تصورات وابسطہ ہیں- اور جب بات ہو صوبہ سندھ کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اکثریت ایسی ہے جہاں عورت ذات کو ناجائز طور پر آج بھی دبایا جاتا ہے- ”ایسی صورت میں واحد طاقت *خداﷻ* ہے اور جو لوگ *خداﷻ* کے   ساتھ ہیں ان کے اچھے خیالات کے ساتھ *خداﷻ* ان کے اندر زندہ روح کی مثال ہے-
 ایسے ہی اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان صوبہ سندھ کے زیرِ اہتمام صوبائی تحریر مقابلہ بعنوان
*” اسلام میں عورت کا سماجی مقام و مرتبہ،،* کا موقع فراہم کر کے سندھ بھر کے لکھاری خواتین و حضرات میں موجود قلم کی طاقت کی قدر کرتے ہوئے لکھاری،  کو ایک اہم درجہ دیا ہے-

منگل، 16 جون، 2020

کیا واقعی ہم جاحل قوم ہیں ؟؟؟ کائنات ملک کے قلم سے

۔ ۔ کیا واقعی ہم جاہل قوم ہیں ؟؟؟
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (تحریر کائنات ملک )
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان میں اس وائرس
سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
ایک طرف اپوزیشن جماعتیں اور لوگ کرونا وائرس کے بڑھتے ہوے مریضوں اور ہلاکتوں پر حکومت حکومتی اقدامات پر تنقید کررہی ہے۔تو دوسری طرف یہی لوگ کرونا وائرس کے حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کرکے اس اپنے لیے موت کا سامان پیدا کررہے ہیں۔ اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر نام نہاد فلاسفر اور تجزیہ نگار بنے ہوے ہیں۔

سلام ہے ڈاکٹر راشدہ یاسمین صاحبہ کو جہنوں نے لہوریوں کو عجیب مخلوق اور پوری قوم کو جاہل کہہ کے لہوریوں کے حوالے سے پوری قوم کو ان کا ایئنہ دیکھایا ہے ۔ ہمیں کرونا وبا کے بارے جو ردِ عمل دکھایا گیا ہے ، کچھ لوگ تو برا مان گے تو کچھ لوگ سوشل میڈیا پر اس بات کو مزاق سمجھ کر چٹ پٹے مسالہ دار لطیفے بنا کر خوب انجواے کررہے ہیں۔ اور شوخیاں بکھیرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحبہ کی سیریس اور اہم بات کو سمجھنے کی بجاے ان کی اس بات کا مزاق اڑارہے ہیں، یہ وہ سازشی عناصر ہیں۔جو چاہتے کہ ملک میں کروناوبا کی وجہ سے معاشی سماجی ملکی حالات بگڑیں۔اور افراتفری پھیلے۔ اور ہم ان کی باتوں پر عمل کرکے خود کو اور اپنے پیاروں کو خطرے میں روز بروز ڈالتے جارہے ہیں ۔ ملک میں کرونا کی وجہ سے اس وقت مشکل حالات پیدا ہورہے ہیں۔ اور روز بروز بگڑتے جارہے ہیں۔اور لوگ حکومتی بیانوں اور ڈاکٹر حضرات کی دی گی ہدایات کو نظر انداز کرتے جارہے رہے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے اقدامات کو ہوا میں اڑا رہے ہیں۔حکومت سوشل میڈیا۔ پرنٹ میڈیا۔ الیکڑنک میڈیا۔ کے ساتھ ساتھ ۔ریڈیو اور فون سم تک ۔بار بار اشتہارات۔ جاری  پیغامات کے زریعے سے کرونا وبا کے نتائج سے ان کو اگاہ اور  خبردار کررہی ہے۔ اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ان کو بار بار ہدایات دے رہی ہے۔ مگر بدقسمتی سے  یہ قوم فضول باتوں پر کئی کئی گھنٹے بحث کرکے اپنا اور دوسرے لوگوں کا وقت ضائع کرنے والی کے دماغ میں کام کی اور قیمتی باتیں  ان کی اپنی جان کی حفاظت کی یہ سب باتیں ان  کے دماغ میں گھستی ہی نہیں ہیں۔ یہ قوم احتیاطی تدابیروں کو فضول سمجھ کر کرونا وائرس کو اپنے گھروں میں لے کر ارہے ہیں۔ اور حکومت پر بے جا تنقید بھی فرما رہے ہیں کہ حکومت اس کرونا وبا کے پھیلاو کو کنٹرول کیوں نہیں کررہی ہے جب کہ لوگ خود کنٹرول سے باہر ہوچکے ہیں ۔ یہ سب باتیں ہم سب عوام کو جاہل ثابت کرنے لیے کافی ہیں۔

بلوچستان ۔/تحریر رحمت اللہ بلوچ /تمپ کے علاقہ دازن میں ایک اور خاتون کلثوم ڈکیتوں کے ہاتھوں شہید

تحریر رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان/تمپ کے علاقہ دازن میں ایک اور خاتون کلثوم ڈکیتوں کے ہاتھوں شہید ہوئی بلوچستان کیچ میں یہ دوسرا خاتوں ڈکیتوں نے شہید کردیا مگر سوچنے کی بات ہے کہ ڈکیت اس گھر میں جاکر ڈکیتی کرتے ہیں جہاں خواتین اکیلی بچوں کے ہمراہ رہتی ہے ایسے واقعات میں ڈکیتوں کی پشت پناہی کہیں سے ضرور ہورہی ہوگی اور اہل علاقہ کو یہ اندازہ ضرور ہوگا کہ علاقہ میں ایسے واردات کون کس کے ذریعہ کرارہی ہیں یہ ایسے واردات ہیں کہ خاموشی سے ایسے وارداتوں میں آئے روز اضافہ ہوسکتا ہے کمی نہیں ہوگی خاموشی اسکی بنیادی وجہ ہوسکتی ہے اور مقامی انتظامیہ کیلئے مسائل میں اضافہ ہو سکتی ہے اگر مقامی انتظامیہ نے ایسے حالات میں شامل افراد کو قابو میں نہیں لایا تو ڈکیت مزید ایسی کاروائیاں تیز کرسکتے ہیں خواتین کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتیی ہے اور بڑھ کر مالدار لوگ بھی ایسے واقات کی لپیٹ میں آسکتے ہیں یہ ایک جتھا نہیں بلکہ یہ ایک گینگ ہوسکتا ہے اسکے نتائج بہت ہی بیانگ نکل سکتے ہیں ایسے واقعات کے اثرات دوردراز تک پھیل سکتی ہیں ایسے واقعات میں سیاست سے ہٹ کر قومی رسم و رواج کو پروان چڑانے کیلئے پورے صوبے کے بااثر افراد کو یکجہتی سے آواز بلند کرنا پڑے گا اگر ایسے نہیں کیا گیا تو ہر گھر طاقتور ہو یا غریب متاثر ہوگا جب غریب کے پاس کچھ نہ ہوگا تو پھر ان ڈکیتوں سے طاقتور گھر بھی محفوظ نہیں ہونگے وجہ یہ کہ پھر ڈکیت ہی طاقتور ہونگے
 سانحہ ڈنک کے بعد تمپ دازن میں دوسری خاتون کو ڈکیتوں نے شہید کردیا
 ڈکیتی کے دوران کلثوم نامی خاتون  کے کانوں سے سونے اتارے اور گھر کے دیگر قیمتی سامان لے گئے۔
::::: مقامی انتظامیہ کے مطابق ضلع کیچ کا علاقہ تمپ میں گھر پر ڈکیتی کی واردات،

مزاحمت کرنے پر ڈاکؤں نے خاتون کا گلہ کاٹ کر قتل کردیا،
 ڈاکو جانبحق خاتون کے کان سے (بیس مسکال) بالیاں اتارنے اور گھر کا صفایا کرنے کے بعد فرار ہوگئے.  (لیویز زرائع)
 ڈاکو گھر میں موجود بائیس ہزار روپے کیش رقم بھی اپنے ہمراہ لے گئے.
خاتون کا شوہر خلیج میں مزدوری کا کام کرتا ہے
 جانبحق خاتون کے چار چھوٹے بچے ہیں جو واقعہ کے وقت ماں کی آغوش میں سو رہے تھے.::::: خاندانی زرائع
گزشتہ پندرہ دنوں میں ضلع کیچ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر خاتون کی ہلاکت کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے.
 اس سے پہلے تربت ڈھنُک میں ڈاکؤں کی فائرنگ سے ایک خاتون جانبحق اور بچی زخمی ہوگئی تھی.
:::: علاقائی ذرائع کے مطابق نامعلوم ڈاکو گذشتہ رات ایک گھر میں داخل ہوئیں جہاں گھر کے قیمتی سامان کا سفایا کیا گیا جبکہ کلثوم نامی خاتون کو اسی دران چھری سے قتل کردیا گیا۔

خیال رہے گذشتہ دنوں اسی نوعیت کا ایک واقعہ تربت کے علاقے ڈھنک میں پیش آیا تھا جہاں ملک ناز نامی خاتون جانبحق اور اس کی بچی برمش زخمی ہوئی تھی۔
ڈھنگ واقعے کے خلاف بلوچستان سمیت بیرون ممالک میں احتجاج کیا جارہا ہے۔
بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں کے مطابق ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر معاشرتی برائیوں اضافہ ہونے لگا
آج تمپ میں پیش آنے والے واقعے میں آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ :::::
نیشنل پارٹی کیچ کے ترجمان نے کیچ کے علاقے دازن میں پیش آنے والے دلخراش واقعہ جس میں کلثوم نامی خاتون کا گلا اسکے کمسن بچوں کے سامنے کاٹا گیا، پر ردعمل دیتے ہوۓ کہا کہ اس واقعہ نے نہ صرف  ہمیں گہرے رنج و غم اور صدمے سے دوچار کیا ہے بلکہ پورے معاشرے کو سخت ترین ذہنی کوفت اور خوف  میں مبتلا کردیا ہے۔ ترجمان نے کہا جب سے باپ کی نام نہاد حکومت وجود آئ ہے تب سے نہ صرف کیچ بلکہ پورا بلوچستان شدید بدامنی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ چوری، ڈکیتی،راہزنی اور دیگر جرائم خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا یہ عوام دشمن حکومت ہے اسکو عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نہ صرف امن و امان بلکہ یہ کسی بھی شعبہ میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ شہید کلثوم کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جاۓ::::::
انسانی حقوق کی رپورٹ تمپ میں خاتون کو بچوں کے سامنے چھری سے ذبح کیا گیا،
ایچ آر سی پی(پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق) اسپیشل ٹاسک فورس تربت مکران کے ترجمان نے تمپ دازن میں پیش آنے والے واقعہ جس میں مسلح ڈاکو ایک گھر میں داخل ہوئے اور ڈکیتی کے دوران کلثوم بنت سعید نامی عورت کو مزاحمت کے دوران قتل کرنے کی پر زور مذمت کی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ یہ واقعہ رات وقت تین بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب مسلح ڈاکو دازن میں ایک گھر میں لوٹ مار کی نیت سے داخل ہوئے اس دوران کلثوم بنت سعید نامی عورت جس کی شوہر نبی بخش مزدوری کے لیئے ملک سے باہر ہیں گھر میں موجود اکیلی خاتون چار کمسن بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں خاتون نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو  ڈاکوﺅں نے ان کی چار کمسن بچوں کے سامنے خاتون کو چھری سے ذبح کردیا۔
 یہ واقعہ انتہائی سفاکانہ، غیر انسانی، غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس سے پہلے ڈنک میں 26 مئی کی رات ایک ایسا سانحہ پیش آیا تھا جب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ملک ناز نامی عورت کو شھید کردیا گیا جن کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کچھ عرصے سے تربت اور ضلع کیچ میں ایسے واقعات پے در پے پیش آرہے ہیں جو باعث تعجب ہیں۔
 جو تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سے پہلے تربت گلشن آباد میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا اس کے بعد آبسر، گوکدان، نوک آباد میں بھی ایسے دلخراش واقعات ہوئے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت ان واقعات کی روک تھام میں مسلسل ناکام ثابت ہورہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کے جان و مال کی تحفظ جیسی بنیادی ذمہ داری کی فریضہ ادا کرے لیکن تربت اور ضلع کیچ میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں مسلسل ناکام ہورہے ہیں۔
انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے کہا ہے کہ دازن تمپ واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرے اور حالیہ مہینوں میں رونما ہونے والے ایسے تمام واقعات کے ملزمان کا فوری سراغ لگا کر ان کو گرفتار کر کے قانون کے تقاضے پوری کرے۔

میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے ۔۔انتخاب ظفر اعوان


بیوی کو شادی کے چند سال بعد خیال آیا
کہ اگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے
تو شوہر کیسا محسوس کرے گا
یہ خیال اس نے کاغذ پر لکھا
"اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی
میں اب بور ہو گئی ہوں تمہارے ساتھ
میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے"
اس کاغذ کو اس نے میز پر رکھا
اور جب شوہر کے آنے کا ٹائم ہوا تو
اس کے رد عمل دیکھنے کے لئے بستر کے نیچے چھپ گئی
شوہر آیا اور اس نے میز پر رکھا کاغذ پڑھا
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اس کاغذ پر کچھ لکھا
پھر وہ خوشی کے مارے جھومنے لگا
گیت گانے لگا، رقص کرنے لگا اور کپڑے بدلنے لگا
پھر اس نے اپنے فون سے کسی کو فون لگایا اور کہا
"آج میں آزاد ہو گیا
شاید میری بیوقوف بیوی کو سمجھ آ گیا
کہ وہ میرے لائق ہی نہیں تھی
لہذا آج وہ گھر سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی
اس لئے اب میں آزاد ہوں
اور تم سے ملنے کے لئے میں آ رہا ہوں
کپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کے
میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ"
شوہر باہر نکل گیا
آنسو بھری آنکھوں سے بیوی بستر کے نیچے سے نکلی
اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذ پر لکھی لائن پڑھی
جس پر لکھا تھا
"بیڈ کے نیچے سے پاؤں دکھائی دے رہے ہیں باولی
پارک کے قریب والی دکان سے بریڈ لے کے آ رہا ہوں
تب تک چائے بنا لینا
میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے

  1. آدھی تجھے ستانے سے ہے

 آدھی تجھے منانے سے ہے

پیر، 15 جون، 2020

بھکر: دریاخان کے پانچ صحافیوں کو عدالت نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا

بھکر: دریاخان کے پانچ صحافیوں کو عدالت نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا گو یہ صحافتی حلقوں کے لیئے ایک بڑی خبر ہے  یقیناً  اس سے صحافتی حلقوں میں خوشی کی لہر بھی پیدا ہوئی ہو گی اور اس کا سہرا روزنامہ سچائی کے چیف ایڈیٹر آصف خان نیازی کے سر جاتا ھے نیشنل پریس کلب رجسٹرڈ بھکر کر تمام ممبران کی طرف سے آصف خان اور باعزت بری ہونے والے تمام صحافیوں کو مبارک باد قبول ہو
علاقہ تھل سے تعلق رکھنے والے صحافی چونکہ پیڈ نہیں ہوتے اس لیئے وہ فل ٹائم صحافت نہیں کر سکتے اس لئے ان کا ذریعہ معاش دوسرا بھی ہو سکتا ہے یہ کوئی اچنبھے والی بات بھی نہیں ھے انسان کئی درائع سے روزی کما سکتا ھے لیکن دریا خان کے ڈی ایس پی نے پولیس اختیارات کا غلط استعمال کرتے ھوئے جس طرح صحافت کی تذلیل کی اور اپنے منصب کا غلط استعمال کیا وہ کسی طرح بھی قابل ستائش اقدام نہیں ھے ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر) محمد علی ضیا ایک فرض شناس آفیسر ھیں ہمیں امید ہے وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کیس کو میرٹ پر دیکھیں گے اور ڈی ایس پی دریاخان کے خلاف اخیارات کے غلط استعمال پر ان کے خلاف کاوائی عمل میں لائیں گے

ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا ۔جس سے وہ بے حد پیار کرتی تھی ۔۔۔انتخاب ۔ظفر اعوان

ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ بے حد پیار کر تی تھی ،سانپ تقریباً سات فٹ لمبا تھا جس نے اچانک ایک دن کھانا پینا بند کردیا..
خاتون نے کئی ہفتوں سانپ کو کھانا کھلانے کی کوشش جاری رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس پر خاتون اپنے پالتو سانپ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئی..
خاتون نے ڈاکٹر کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا جس پر ڈاکٹر نے سوال کیا کہ کیا ہر رات سانپ آپ کے ساتھ سوتا تھا؟
خاتون نے جواب دیا جی ہاں..
ڈاکٹر نے پھر سوال کیا ‘ جب سے اس نے کھانا پینا چھوڑ ہے کیا یہ آپ کے جسم کے بے حد قریب لیٹ کر اپنے جسم کو اکٹراتا تھا؟
جس پر خاتون نے برجستہ جواب دیا‘ جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے اور مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں اپنے سانپ کو بہتر محسوس کرانے کیلئے اس کی کوئی مدد نہیں کر پار ہی ہوں..
ڈاکٹر نے خاتون کا جواب سننے کے بعد کہا ‘محترمہ آپ کا سانپ بیمار نہیں ہے بلکہ یہ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہاہے‘سانپ آپ کی جسامت کا روزانہ اندازہ لگاتا رہا ہے اور اس نے کھانا پینا اس لیے بند کر دیا ہے کہ آپ کو کھانے کیلئے وہ جگہ بنا سکے..
خاتون ماہر کی یہ بات سن کر سکتے میں آ گئی..
اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے ارد گرد موجودسانپوں کو پہچاننا ہے جوکہ آپ کے نہایت قریب ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں..
ضروری نہیں کہ آپ کے آس پاس پھرنے والے لوگ آپ کے ساتھ کھانے پینے اوراٹھنے بیٹھنے والے تمام لوگ آپ کے ہمدرد ہیں ‘ بس آپ نے ان کو پہچاننا ہے..نجانے کتنے ایسے سانپ ہیں جو آپکی آستین میں چھپے بیٹھے ہیں۔۔

*