Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

ضرورت نمائندگان:۔

ضرورت نمائندگان:۔ ملک بھر سے پڑھے لکھے میل، فی میل حضرات فوری رابطہ کریں موبائل نمبر 03469200126

ہفتہ، 20 جون، 2020

بلوچستان (رحمت اللہ بلوچ۔ریذیڈنٹ ایڈیٹر ) بلوچستان اسمبلی کے بجٹ میں ڈیڑھ گھنٹے سے زائد کی تاخیر حکومت اور اپوزیشن اراکین بڑی تعداد میں اسمبلی حال میں موجود

بلوچستان اسمبلی کے بجٹ میں ڈیڑھ گھنٹے سے زائد کی تاخیر

حکومت اور اپوزیشن اراکین بڑی تعداد میں اسمبلی حال میں موجود/رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف روح عصر بلوچستان/

وزیر اعلیٰ ‘ وزیر خزانہ اور اسپیکر اسمبلی کی آمد کا انتظار
 ۔مالی سال 2020-21کے لئے پی ایس ڈی پی کا ہجم 118.250ارب روپے

۔49.490ارب روپے جاری جبکہ 56.590ارب روپے  نیۓ منصوبوں کے لئے مختص

۔پی ایس ڈی پی میں کل 2568منصوبے شامل

۔934جاری  جبکہ 1634نئی اسکیمات شامل

۔پی ایس ڈی پی میں 12.177ارب کے بیرونی امداد کے منصوبے بھی شامل

۔بجٹ میں کورونا وائرس اور آفات سے نمٹنے کے لئے 8ارب روپے مختص

۔ریونیو دینے والے اضلاع کے لئے 5ار ب روپے کا ترقیاتی پروگرام بجٹ میں شامل

 ۔صوبے کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ ویلجز کے لئے 1.5ارب روپے مختص

۔صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے 2بلین مختص
 آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 465.528ارب روپے ہے

۔آئندہ مالی سال کا غیر ترقیاتی بجٹ 309.032ارب ہے

۔بجٹ میں 360ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے

۔صوبے کو آئندہ مالی سال میں ریونیو کی مد میں 367.548ارب روپے آمدنی متوقع

۔وفاقی محصولات سے 302.95ارب، صوبے کے محصولات سے 49.945ارب حاصل ہونگے
۔سماجی واقتصادی بہتری کے لئے  پوسٹ کورونا وائرس ریلیف پروگرام کے لئے 3ارب روپے مختص

۔بلوچستان سول ملازمین ہیلتھ انشورنس اسکیم کے لئے 1ارب روپے مختص

۔، وزیراعلیٰ مائیکرو فنانس بلاسود قرضہ جات پروگرام کے لئے 2ارب مختص

۔، وزیراعلیٰ سستا گھر بلاسود قرضہ اسکیم کے لئے 1ارب روپے مختص

۔ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے بجٹ میں 50کروڑ مختص

۔خوراک کے لئے 1ارب کا ریولونگ فنڈ قائم

۔بینشن سرمایہ کاری کے لئے 2ارب روپے مختص
 ۔آئندہ مالی سال میں تعلیم کے بجٹ کا 17فیصد حصہ مختص

۔صحت کے لئے بجٹ کا 10فیصد سے زائد حصہ مختص

۔مواصلات و تعمیرات کے لئے 9فیصد بجٹ مختص

۔آبپاشی کے لئے 4فیصد سے زائد مختص
کوئٹہ، بلدیات کے لئے 4فیصد سے زائد بجٹ مختص

۔زراعت کے لئے ساڑھے تین فیصد سے زائد مختص

۔پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لئے 3فیصد سے زائد مختص

۔توانائ کے شعبہ کے لئے 2فیصد  کھیل کے لئے ڈیڑھ فیصد، مائنز اینڈ منرلز کے لئے 0.97فیصد بجٹ مختص
 حکومت بلوچستان

کورونا وائرس کی وبا
بروقت عملی اقدامات ، بحالی و تعمیر نو

بجٹ تقریر برائے مالی سال 2020-2021






میر ظہور احمد بلیدی
صوبائی وزیر خزانہ حکومت بلوچستان
20 جون 2020

بجٹ تقریر 2020-2021
جناب اسپیکر!
میں اپنی بجٹ تقریر کا آغاز رب کائنات کے بابرکت نام سے کرتا ہوں جو تمام جہانوں کا مالک ہے اور جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، ہماری مخلوط حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ 2020-2021 اس مقدس ایوان کے سامنے پیش کرنا میرے لیے بڑے اعزاز اور مسرت کا باعث ہے ۔
جناب اسپیکر!
ہم Covid-19کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک تھکا دینے والا سفر طے کر رہے ہیں، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وباءنے عالمی وباءکی شکل اختیار کی اور پوری دنیا میں تیزی سے پھیل گئی، اس وباءنے پاکستان کو بھی متاثر کیا اور اب ہم کورونا وائرس کے اثرات اپنے سماجی اور معاشی شعبے پر بھی ہوتا دیکھ رہے ہیں، Covid-19کے تباہ کن اثرات کے پیش نظر قیمتی انسانی جانوں کو بچانے اور سکڑتی ہوئی معیشت کو بحال کرنے کے لیے حکومت بلوچستان کی کاوشوں اور وسائل کو درست سمت میں منظم کرنے کی ضرورت تھی جس کے لیے ہماری حکومت نے بہتر حکمت عملی کے تحت بروقت اقدامات اٹھائے۔
جناب اسپیکر!
حکومت بلوچستان نے محض لاک ڈا ¶ن پر انحصار نہیں کیا ہم نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے عوام کو ریلیف پہنچانے اور طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر سطح پر ممکن بنایا ، میں حکومت بلوچستان کی جانب سے Covid-19 کی صورتحال کے تناظر میں اٹھائے گئے بعض اقدامات کے نمایاں پہلو ¶ں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
جناب اسپیکر!
٭ کورونا وائرس کے پیشگی اقدامات اور اس کے پھیلاو ¿ کو روکنے کے لیے صوبہ بھر میں 8 مارچ کو ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا، بین الاقوامی بارڈرز پر عارضی قرنطینہ سینٹرز کا قیام ، محکمہ صحت، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایمرجنسی ٹیموں کی بارڈرز اور ایئرپورٹس پر تعیناتی سمیت ان کی جدید خطوط پر ٹریننگ اور استعداد کار بڑھانے کو یقینی بنایا۔
٭ حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس ایمرجنسی فنڈ کا اجراءکرتے ہوئے اس کے لیے 1 ارب روپے مختص کئے، جس میں صوبائی سرکاری ملازمین نے اپنی تنخواہوں میں سے 318 ملین روپے کا حصہ بھی ڈالا۔
٭ کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی تعداد کی صلاحیت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، روزانہ کی بنیاد پر 1500افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا جارہا ہے اس کی تعداد میں مزید اضافے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں
٭ کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ اور آئیسولیشن سینٹرز میں رکھنے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں 68قرنطینہ ، 2148 بستروں پر مشتمل آئیسولیشن سینٹرز قائم کئے گئے۔
٭ طبی سہولیات ،ادویات اور سروسز کی بروقت فراہمی کے لیے میڈیکل پروکیورمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ، کمیٹی نے طبی آلات ، کورونا وائرس کے حفاظتی لباس، لیبارٹری آلات و مشینری کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا ۔
٭ حکومت نے محکمہ اطلاعات کے ذریعے پرنٹ، الیکٹرانک ،سوشل میڈیا اور ریڈیو پر بھرپور انداز میں تشہیری و آگاہی مہم کا بروقت آغاز کیا جس سے عوام میں کرونا وائرس سے بچاو ¿ سے متعلق احتیاطی تدابیر و دیگر معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
٭ کرونا وائرس کے پیش نظر صوبے میں لاک ڈا ¶ن کے نتیجے میں مزدور پیشہ اور دہاڑی دار طبقہ بہت زیادہ متاثر ہوا ، کاروبار کی بندش سے معیشت کا پہیہ جیسے رک سا گیا تھا، اس صورتحال کے جائزہ کے بعد حکومت بلوچستان نے رفاعی ادارے اخوت کے مشترکہ تعاون سے 588.5ملین روپے سے باقاعدہ "وزیر اعلی قرضہ سکیم "کا اجرا کیا ، سکیم کے تحت 25000 مستحق افراد کو بلا سود قرضے کی فراہمی جاری ہے۔
٭ کورونا وائرس کی غیر معمولی صورتحال کے سبب صوبے بھر عوام کو ٹیکسز کی مد میں ریلیف دینے کے لیے اپریل تا جون 2020 اہم سروسز سیکٹر، Electricity Duty اور گاڑیوں پر لاگو ٹیکسز سے استثنیٰ دی گئی ہے۔
٭ صوبے بھر میں خدمات کے مخصوص شعبوں پر Balochistan Sales Tax on Services ، الیکٹرسٹی ڈیوٹی اور گاڑیوں پر لاگو ٹیکسز پر استثنیٰ کو 30جون 2021 تک توسیع دی گئی ہے۔
٭ کورونا وائرس سے متاثرہ خاندانوں میں راشن کی تقسیم میں بھی حکومت کو وفاقی حکومت، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، اپوزیشن اور مخیر حضرات سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے حکومت بلوچستان نے تمام ضلعی انتظامیہ کو غریب ، نادار اور مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم کے لیے فوری طور پر صوبے کی تمام ضلعی انتظامیہ کو 985ملین روپے جاری کر دئیے ۔
٭ مالی سال 2020-2021کے لیے صوبائی حکومت نے مالی بحران کے باوجود کورونا وائرس کی وبا سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنے وسائل سے .5 4 ارب روپے مختص کیے ہیں جو کہ صوبے کی تاریخ میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب سے بڑی رقم ہے۔
جناب اسپیکر!
میں اس مقدس ایوان کے سامنے اپنی تمام اتحادی جماعتوں سمیت اپوزیشن کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے کرونا وائرس کی وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیا ، مزید برآں میں طب کے مقدس پیشے سے وابستہ افرادی قوت، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسز، ضلعی انتظامیہ،حکومتی افسران و اہلکاروں سمیت تمام شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر ڈیوٹی سر انجام دینے والے اداروں کا جنہوں نے اس وبائی صورتحال میں حکومت اور عوام کا ساتھ دیا اور ان میں سے کرونا وائرس کی وبا سے متاثر بھی ہوئے یا اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ ہمارے اصل ہیروز ہیں اور ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
موجودہ بجٹ کا محور عوامی ترجیحات کو مفاد میں رکھتے ہوئے بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر ، محکمہ صحت میں اصلاحات، پیداواری شعبوں سے مزید بہرہ مند ہونے ، سماجی تحفظ کے لیے اقدامات، تعلیم ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، امن و امان کی مکمل بحالی ہے .
حصہ اول (اخراجات)
جائزہ بجٹ: (Budget Review 2019-2020)
جناب اِسپیکر!
آ ئندہ مالی سال2021 -2020کا بجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ موجودہ مالی سال 2019-20 کا نظرثانی شدہ بجٹ معززایوان کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بعد میں معزز ایوان کو موجودہ صوبائی حکومت کے نئے مالی سال 2020-21کے اِقدامات کے بارے میں آگاہ کرونگا۔جاری مالی سال کے کل بجٹ کا اِبتدائی تخمینہ419.922 بلین روپے تھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2019-20کا تخمینہ 380.327بلین روپے ہوگیا ہے۔
٭ مالی سال 2019-20کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 293.579بلین روپے تھاجو نظر ثانی شدہ تخمینے میں کم ہو کر 276.150بلین روپے رہ گیا ہے۔
٭ مالی سال 2019-20 کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 108.133 بلین روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینے میں کم ہو کر 81.824 بلین روپے ہو گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے بلوچستان کے Share وفاقی ٹرانسفر 306.015 ارب سےکم کر کے 275.979 ارب روپے کر دیا ہے جو گذشتہ مالی سال کی نسبت 9.8 فیصد کم ہے جس نے بلوچستان کی مجموعی ترقیاتی اہداف پر گہرے منفی اثرات مرتب کر دیئے ہیں۔
جائزہ بجٹ: (Budget Review 2020-2021)
٭ آئندہ مالی سال 2020-2021 کے ترقیاتی بجٹ (PSDP) کا کل حجم 118.256بلین روپے بشمول 12.177 بلین روپے FPA شامل ہیں ۔
٭ جاری ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد 934جس کے لیے 60.875بلین روپے مختص
٭ نئی ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد1634 جس کے لیے 57.381بلین روپے مختص
٭ آئندہ مالی سال 2020-2021 کے غیر ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 309 بلین روپے ہے۔
٭ علاوہ ازیں حکومت بلوچستان اگلے مالی سال 2020-2021 کے لیے 6840 خالی آسامیوں کا اعلان کرتی ہے۔
صحت : (Health)
جناب اِسپیکر!
٭ طب کے شعبے سے وابستہ افرادی قوت ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف، نرسز جو کہ کورونا وائرس کی وباءسے نمٹنے کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں کے لیے ہیلتھ پروفیشنل الا ¶نس کا اجراءیقینی بنایا گیا ہے۔
٭ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں تھیلیسیمیا سینٹرز کا قیام جبکہ گوادر میں نئے سول ہسپتال کی نئی عمارت پر کام کا آغاز۔
٭ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں موذی مرض کینسر کے علاج کے لیے نئے بلاک پر کام کا آغاز جبکہ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں امراض قلب کے لیے آئی سی یو سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔
٭ صوبے کے 8 اضلاع میں ضلعی ہسپتالوں میں بیچلرز ہوسٹلز کے قیام کے لیے اقدامات۔
٭ کوئٹہ شہر میں واقع نواں کلی کے علاقے میں 30 بستروں پر مشتمل نئے ہسپتال کا قیام۔
٭ ضلع قلعہ عبداللہ کے شہر چمن میں نئے ضلعی اسپتال کے کام کی تکمیل کو یقینی بنایا گیا۔
٭ صوبے میں قائم نئے میڈیکل کالجز جن میں جھالاوان، مکران اور لورلائی میں تعمیراتی کام میں وسعت اور تعینات فیکلٹی ممبرز کی مارکیٹ کے مطابق تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔
٭ 18 اضلاع میں نئے18 گردوں کے ڈئیلائسسز سینٹرز کا قیام ۔
٭ ہماری حکومت کا سب سے اہم قدم پی پی ایچ آئی بلوچستان (PPHI Balochistan)میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرز (MERC) کے پہلے فیز میں کوئٹہ ۔کراچی ۔چمن شاہراہ پر 8 میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کا قیام ہے،
٭ پی پی ایچ آئی کی جانب سے ٹیلی میڈیسن کے پہلے مرحلے میں دور افتادہ علاقوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔
٭ نئے مالی سال 2020-2021 میں توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) کو مزید مربوط بنانے کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے پہلی مرتبہ اس پروگرام سے متعلق انتظامی ڈھانچہ بنایا جارہا ہے جس کے لیے علیحدہ فنڈز اور ڈی ڈی او کوڈ کا اجرائ۔
٭ مالی سال 2019-2020میںفاطمہ جناح جنرل و چیسٹ ہسپتال کوئٹہ کو انسٹیٹیوٹ برائے امراض سینہ کی سطح پر اپ گریڈ کر دیا ہے اور اس کے قیام کے لیے فیکلٹی پوسٹوں اور اس ادارے کے موجودہ بجٹ کو 423 ملین روپے سے بڑھا کر 525 ملین روپے کیا جا رہا ہے ۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) کے لیے مفت ویکسی نیشن کے لیے 35 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 کے لیے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ بلوچستان (PGMI) کو مکمل طور پر فعال کیا جائے گا اور 167 فیکلٹی پوسٹیں رکھی جا رہی ہیں ۔ اس اقدام سے شیخ زید ہسپتال بھی مکمل طور پر فعال ہو جائے گا، جس سے کوئٹہ اور بلوچستان بھر میں ایک اور ٹرثری کیئر ہسپتال مکمل طور پر کام شروع کرےگا۔
٭ ضلعی ہسپتالوں جن میں تربت، چمن ، خضدار، لورالائی، مستونگ، نصیر آباد، پشین اور ژوب میں 20 بستروں پر مشتمل انتہائی نگہداشت یونٹ کے لیے نئے آئی سی یوز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
٭ پاکستان کے تمام صوبوں میں ڈینٹل کالجز کا قیام بہت عرصہ پہلے عمل میں لایا گیا تھا لیکن بلوچستان میں اب تک BMC میں ایک ڈینٹل شعبہ کے طور پر کام کر رہا ہے ،اب ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں ایک باقاعدہ ڈینٹل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس کے لیے آئندہ مالی سال میں 79 فیکلٹی کی آسامیاں رکھی جا رہی ہیں جو کہ ایک تاریخ ساز عمل ہوگا۔
٭ صوبے کے دور دراز علاقوںمیں معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ، ملک کے دوسرے صوبوں میں بہت سے ضلعی ہسپتالوں کو ٹیچنگ کا درجہ دیا گیا تھا لیکن بلوچستان میں اب تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ،ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم 8مزید DHQ ہسپتالوں کو ٹیچنگ کا درجہ دیں گے۔ اس سلسلے میں ان ہسپتالوں کے لیے میڈیکل ٹیچنگ کی آسامیاں اور خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔
٭ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہیلتھ ایمرجنسی ائیر ایمبولینس شروع کرنے کے لیے اور ائیر ایمبولینس کی خریداری کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 2.5 ارب روپے مختص۔
٭ نئے مالی سال 2020-2021 میںمحکمہ صحت کے لیے 1266 نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں ، اس کے علاوہ 468 نئی آسامیاں میڈیکل ایجوکیشن کے لیے الگ سے تخلیق کی گئی ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے غیر ترقیاتی فنڈز موجودہ 23.981 بلین سے بڑھا کر 31.405 بلین روپے رکھے جا رہے ہیں جو کہ گذشتہ مالی سال کی نسبت 32فیصد زیادہ ہے جبکہ ترقیاتی مد میں 7.050بلین روپے مختص کئے ہیں۔
زراعت(Agriculture)
جناب اسپیکر!
زراعت کا شعبہ بلوچستان کے پیداواری شعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔
٭ ٹڈی دل کے حملوں سے زرعی پیداوار میں خاطر خواہ کمی بھی دیکھنے میں آرہی ہے ، جس کے لیے حکومت بلوچستان نے دسمبر 2019 کو ٹڈی دل ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا تھا ، عالمی ادارہ خوراک نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹڈی دل کے حملوں کا دورانیہ دو سال سے بھی طویل ہونے کا خدشہ ہے ، حکومت اس امر سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات اٹھا رہی ہے مگر اس ضمن میں وفاقی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کا تعاون بھی ناگزیر ہے ۔
٭ ٹڈی دل کے خطرات کے پیش نظر محکمہ زراعت نے 181 مختلف ٹیموں کو اس کے تدارک کے لیے ذمہ داریاں تفویض کی ہیں اور اس کے تدارک کے لیے اسپرے و دیگر بنیادی اقدامات اٹھانے کے لیے آئندہ مالی سال 2020-2021 میں 500ملین روپے رکھے ہیں ، جبکہ رواں مالی سال 2019-20 اس مد میں 404 ملین روپے کا اجراءکر دیا گیا ہے۔
٭ صوبے کی زرعی پیداوار کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے آئندہ مالی سال 2020-2021 میں زرعی ایکسپو کا انعقاد کیا جائےگا جس کے لیے ملکی و بین الاقوامی ماہرین کو زرعی پیداوار بڑھانے اور موجودہ پیدا ہونے والی زرعی اجناس کے لیے نئی منڈیوں کا حصول شامل ہوگا ۔
٭ حکومت بلوچستان نے مالی سال 2019-20 صوبے بھر کے زمینداروں اور کاشتکاروں میں زرعی پیداوار کی بہتری کے لیے 31445 کلوگرام زرعی بیج، 5229 زرعی آلات، 7387روئی کے بیگز تقسیم کئے۔
٭ صوبے میں جدید کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے 11اضلاع میں 85ٹنل فارمنگ میں 55کو شمسی توانائی کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے اور اسی طرح 53750 پختہ نالیاں تعمیر کی گئیں جنہیں میرانی ، سبکزئی اور کچھی کینال کمانڈ ایریا کے ساتھ منسلک کیا گیا
٭ مالی سال 2020-2021 میں حکومت میرانی ڈیم کمانڈ ایریا فیز۔II ،سبکزئی ڈیم فیز۔III ،کچھی کینال کے کمانڈ ایریا کی ترقی کے اقدامات زیر غور ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے میں مدد ملے گی۔
٭ مالی سال 2020-21 میں صوبے میں کسانوں کو کھاد کی فراہمی کے لیے 24 ملین روپے سبسڈی کی مد میں مختص
٭ زراعت کے شعبے میں زراعت افسران اور فیلڈ اسسٹنٹ کا ایک کلیدی کردار ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک تیکنیکی مہارت کے حامل افرادی قوت کے لیے بجٹ میں کوئی سہولت نہیں دی گئی لیکن اب ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اہم پیداواری شعبہ کے افسران اور تیکنیکی عملے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے بجٹ فنڈز رکھے جائیں اور اس سلسلے میں تمام ضلعی و ڈویژنل افسران کے لیے آئندہ مالی سال 2020-2021 میں گاڑیاں اور ایک ہزار سے زائد فیلڈ اسسٹنٹ کے لیے موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے لیے فنڈز رکھے جائیں گے۔مجموعی طور پر اس ضمن میں محکمہ زراعت کی بہتری کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ میں 640.775 ملین روپے فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔
٭ آئندہ مالی سال کے لیے ضلع قلعہ سیف اللہ اور قلات میں کولڈ سٹوریج کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص
٭ زراعت کے شعبہ کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 263نئی آسامیوں کااجراءکیا گیا ہے
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 4.121 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.071بلین روپے مختص کئے ہیں۔
کالجز ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن (Higher & Technical Education)
جناب اسپیکر!
موجودہ دور میں ہائیر ایجوکیشن کی اہمیت سے انکار نہیں ، اگرچہ پچھلی حکومتوں نے HEC کے فیصلے کے تحت چند ڈگری کالجز میں BS پروگرام کا آغاز کیا تھا لیکن ان کالجز میں متعلقہ شعبوں میں ناتو کوئی تعیناتی عمل میں لائی اور ناہی کوئی فنڈز رکھے گئے ،اب ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ڈگری کالجز جن میں BS پروگرام جاری ہے ان میں فیکلٹی کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی اور فنڈز بھی فراہم کئے جائیں گے ۔
٭ 39 انٹر کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دیا جا رہا ہے اور ان کے لیے 301 ملین روپے غیر ترقیاتی بجٹ سے مختص کئے جا رہے ہیں تاکہ معیاری BS پروگرام کا آغاز کیا جا سکے ۔
٭ گرلز کالجز کا ہائیر ایجوکیشن میں ایک اہم کردار ہے اس سلسلے میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 19 ڈگری گرلز کالجز کے پرنسپلز کو گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں فیز۔I کے تحت صوبے کے 79 ڈگری کالجز میں بہترین تعلیم کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں جس کے تحت ہر کالج میں کمپیوٹرز ، سمارٹ بورڈ، لائبریری کتب ، سائنسی آلات کی فراہمی، انٹر نیٹ کی سہولت، کھیلوں کے سامان وغیرہ کی خریداری کے ایک پیکج ترتیب دیا گیا جس کے لیے 569 ملین روپے فراہم کئے جائیں گے، سائنس اور انگلش مضامین کے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مالی سال 2020-2021 مقررہ تنخواہ پر ہنگامی بنیادوں پر ضرورت کے مطابق متعلقہ مضامین پڑھانے کے لیے 118.500ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ گرلز کالجوں میں بسوں کی فراہمی کے لیے مختص کردہ 300 ملین سے 33 بسوں کی خریداری عمل میں لائی جا چکی ہے۔
٭ جامعات کے لیے یونیورسٹی فنانس کمیشن کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جبکہ آئندہ مالی سال 2020-2021 میں 8 پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے لیے Grant in Aid کی مد میں 3.94بلین روپے رکھے جا رہے ہیں۔
٭ تمام انٹر کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دیا جا رہا ہے ،جس کے لیے پہلے سے مختص کردہ 450 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔
٭ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ کینٹ میں تمام سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے لیے 50 ملین روپے مختص کئے گئے تھے، دوسرے مرحلے میں مزید 5کالجز میں ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائےگا۔
٭ رواں مالی سال میں تمام کیڈٹ اور ریذیڈنشل کالجز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ارب 29کروڑ روپے میں 57کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ کیڈٹ کالجز قلعہ عبداللہ، خاران اور آواران میں باقاعدہ کلاسز کا اجراءعمل میں لایا جائےگا۔
٭ نئے مالی سال میں رکھنی ضلع بارکھان میں لورالائی یونیورسٹی کا سب کیمپس قائم کرنے کی تجویز ہے۔
٭ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے حکومت مزید 2پولی ٹیکنیک ادارے قائم کرنا چاہتی ہے جس میں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ دالبندین اور چمن شامل ہیں جس کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 150 ملین روپے مختص ۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 11.783بلین روپے مختص کئے ہیں۔
ثانوی تعلیم(Secondary Education)
جناب اسپیکر!
٭ مالی سال 2020-2021 میں فیز۔I کے تحت صوبے کے 100 ہائی سکولز میں بہترین تعلیم کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں جس کے تحت ہر سکول میں کمپیوٹرز ، سمارٹ بورڈ، لائبریری کتب ، سائنسی آلات کی فراہمی، انٹر نیٹ کی سہولت، کھیلوں کے سامان وغیرہ کی خریداری کے ایک پیکج ترتیب دیا گیا جس کے لیے 22 ملین روپے فراہم کئے جائیں گے، سائنس اور انگلش مضامین کے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مالی سال 2020-2021 مقررہ تنخواہ پر ہنگامی بنیادوں پر ضرورت کے مطابق متعلقہ مضامین پڑھانے کے لیے 89 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ 53 پرائمری سکولوں کو مڈل سکول کا درجہ اور 53 مڈل سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دیا جا رہا ہے۔
 ٭ GPE پروجیکٹ" کے تحت قائم 47 گرلز پرائمری سکولز کو مڈل کا درجہ دیا جائےگا، اسی طرح GPE" پروجیکٹ " کے تحت قائم شدہ 18گرلز مڈل سکولز کو ہائی کا درجہ دیا جائےگا۔
٭ "بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام "کے تحت قائم 85 پرائمری سکولز کو مڈل کا درجہ دیا جائےگا۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں صوبے بھر میں موجود سکولوں کی مزید بہتری کے لیے 402.8 ملین روپے اور فرنیچر کی خریداری کے لیے 415 بلین روپے بھی مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں صوبے کے تمام دوردراز علاقوں کے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کی فراہمی کے لیے بسوں کی خریداری کے لیے 169 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ "بلوچستان ایجوکیشن فا ¶نڈیشن "کے زیر اثر خدمات سرانجام دینے والے کمیونٹی سکولز کے لیے (Grant in Aid)کی مد میں 295 ملین روپے سے بڑھا کر 409 ملین روپے کر دی گئی ہے۔
٭ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر بلوچستان بھر کے 450 ہائی سکولز میں آئی ٹی ٹیچرز کی آسامیاں تخلیق کی جا رہی ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں صوبے کے 158 شیلٹر لیس سکولوں کو Chief Minister Education Initiativeکی مد میں 1.5 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کے لیے 200 ملین روپے رکھے گئے ہیں
٭ نئے مالی سال 2020-21 کے دوران صوبے کے 16اضلاع کے سکولز میں ڈیجیٹل لائبریریوں کے قیام کے لیے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت لورالائی اور تربت کے اضلاع میں نئے مالی سال 2020-21 کے دوران لڑکیوں کے لیے بورڈنگ (Boarding)سکولز کی تعمیر کے لیے 100ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 کے لیے شعبہ ثانوی تعلیم میں 1486نئی آسامیوں کی تخلیق کی گئی ہے جنہیں بلوچستان پبلک سروس کمیشن اور ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے یقینی بنایا جائےگا۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں شعبہ تعلیم کے مجموعی ترقیاتی مد میں 9.107 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 51.873بلین روپے مختص کئے ہیں۔
خوراک(Food)
جناب اسپیکر!
کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت فوڈ سیکورٹی کے لیے خاطر خواہ ذخیرہ رکھتی ہے تاکہ بحرانی کیفیت سے فوری طور پر بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ صوبائی کابینہ نے اس مد میں مالی سال 2020-2021 میں ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دی ہے جس کے لیے 6 ارب روپے State Trading کے تحت رکھے گئے ہیں۔
٭ آئندہ مالی سال 2020-2021 کے دوران گندم کی خریداری کے لیے اور غیر مالیاتی اداروں کو بلاسود قرضہ کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 کے لیے فوڈ سبسڈی کی مد میں 300ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
٭ آئندہ مالی سال کے دوران 4نئے گوداموں کی تعمیر کے لیے 70ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں PR سینٹر میں گندم کے ذخیرے کی بہتر نگرانی اور ترسیل کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ڈیجیٹل سرویلنس سسٹم کے قیام کے لیے 75 ملین روپے مختص ۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.382 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 743.578 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
دیہی ترقی(Local Government)
جناب اسپیکر!
کورونا وائرس وباءکے پیش نظر دیہی ترقی میں ہنگامی بنیادوں پر 27.37 ملین روپے ایمرجنسی ریسپانس کے لیے جاری کئے گئے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ صوبے کے تمام دورافتادہ علاقوں میں ایمرجنسی میونسپل سروسز کی فراہمی جس میں کورونا وائرس سے بچا ¶ کے لیے قائم تمام قرنطینہ و آئیولیشن سینٹرز، عوامی مقامات، سرکاری دفاتر، ٹرانسپورٹ و دیگر جگہوں کو جراثیم کش اسپرے کرنے، واک تھرو گیٹس کی تنصیب و صفائی ستھرائی کے لیے کوشاں ہے۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبہ کے لیے 105 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں ۔
٭ مالی سال 2019-20 میں لوکل گورنمنٹ کی 74 اسکیمات کے لیے 2 ارب روپے رکھے تھے جن پر ترقیاتی کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
٭ ہماری صوبائی مخلوط حکومت لوکل گورنمنٹ سسٹم کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے جس کے لیے مالی سال 2020-2021 میں Grant in Aid کی مد میں 11.42 ملین روپے مختص۔
٭ آئندہ مالی سال 2020-2021 میں صوبے کے تمام یونین کونسلز کو ضلعی سطح پر پیدائش اور فوتگی رجسٹریشن کے اندارج کے لیے نادرا (NADRA) کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے اور اس مد میں 515 کمپیوٹرز کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے مکمل طور پر فعال کر دیا جائیگا۔
٭ آئندہ مالی سال 2020-21 میں سپن کاریز میں ماڈل تفریحی پارک کے قیام کے لیے 50 ملین روپے مختص
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 4.184 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 12.995 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
مواصلات و تعمیرات(Communication & Works)
جناب اسپیکر!
٭ تعمیراتی شعبہ میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں "ڈیزائن سیل " کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، واضح رہے کہ موجودہ سرکاری شعبہ کا انفراسٹرکچر کی ڈیزائننگ کا کام پرائیویٹ ڈیزائنرز سے کروایا جا تا ہے، اس اہم منصوبے کے لیے مالی سال 2020-2021میں 60 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو جدید مشینری جس میں گریڈرز کی خریداری کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 350 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ ہماری مخلوط حکومت بیروزگار ڈپلومہ ہولڈرز اور انجینئرز کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اجراءکیا ہے اور اس اہم منصوبے کے لیے مالی سال 2020-2021میں 45 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ صوبے بھر میں شہری ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کا قیام بھی مالی سال 2020-2021 میں لایا جائے گا۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں بلوچستان سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں نئی سمارٹ بلڈنگ، نئے بلاک اور بے بی ڈے کیئر سینٹر کی تعمیر کے لیے 395 ملین روپے مختص ۔
٭ نئے جوڈیشل کمپلیکسز (کوئٹہ، پسنی، ژوب اور کوہلو) کی تعمیر کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 239ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 33.873 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.397 بلین روپے مختص کئے ہیں۔

امن و امان(Law and Order)
جناب اِسپیکر!
٭ صوبے بھر میں امن و امان کی بحالی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار ہمیشہ سے قابل تقلید رہا ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ پولیس اور بلوچستان کانسٹبلری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ انہیں جدید ساز وسامان کی فراہمی کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 822 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-21 کے دوران لیویز فورس کی تنظیم نو اور بہتری کے لیے 1117 ملین روپے رکھے جا رہے ہیں
٭ کوئٹہ شہر کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ (جو کہ عرصہ دراز سے تعطل کا شکار تھا) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
٭ گوادر سیف سٹی پراجیکٹ کی باقاعدہ منظوری ہو چکی ہے۔
٭ آنے والے مالی سال 2020-21 کے دوران CTD ،QRG اور Socio Economic Unit کے لیے کثیر المقاصد سینٹرز کی تعمیر کے لیے 100 ملین روپے مختص
٭ نئے مالی سال 2020-21 میں ہر ڈویژنل سطح پر Disaster Management Villages کے قیام کے لیے 200 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے میں مجموعی طور پر غیر ترقیاتی مد میں 44 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
آبپاشی (Irrigation)
جناب اِسپیکر!
٭ رواں مالی سال میں دریا بولان کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بولان ڈیم اور گوادر میں شنزانی کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
٭ مالی سال 2020-21 کے لیے مختلف نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے 265 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ کچھی کینال کمانڈ ایریا کی ترقی و توسیع جس میں ہزاروں ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت آ سکے گی کے لیے 600 ملین روپے مختص۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 3.723 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
آبنوشی(Public Health Engineering)
جناب اسپیکر!
کوئٹہ شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے منگی ڈیم منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، برج عزیز خان اور بابر کچ ڈیمز کی فیزیبلٹی سٹڈی جاری ہے جن کے بننے سے کوئٹہ شہر اور گردونواح کے علاقوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہو سکے گا۔
٭ کینال واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے جعفر آباد ، نصیر آباد، صحبت پور اور سبی کے اضلاع اور ژوب شہر کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے سبکزئی ڈیم سے پانی مہیا کرنے کے اقدامات اور فزیبلٹی بنانے پر کام ہو رہا ہے ۔
٭ گوادر، پسنی اور گردونواح کے علاقوں کو شادی کور، آکڑہ کور ڈیمز سے پائپ لائن کی مدد سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی جاری ہے جو کہ اس سے قبل لوگ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر تھے۔
٭ مالی سال 2020-21 کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے 12 نئی اسکیمات کی مد میں 354.20 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں آبنوشی و آبپاشی کے لیے مجموعی ترقیاتی مد میں 15.006 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.553 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
معلومات عامہ (Information)
جناب اسپیکر!
محکمہ اطلاعات کا حکومت اور پریس کے مابین خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں ہمیشہ سے کلیدی کردار رہا ہے۔ کورونا وائرس کی خطرناک صورتحال کے دوران پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات ، پالیسیوں کو اجاگر کرنے کے لیے محکمہ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، خاص طور سے بروقت معلومات تک رسائی اور عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے محکمہ کے افسران و اہلکاران فرنٹ لائن پر دن رات کام کر رہے ہیں ۔
٭ رواں مالی سال میں جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ اور ہاکرز ویلفیئر فنڈکی پالیسیز میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ترامیم زیر غور ہیں جس کے تحت جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ اور ہاکرز ویلفیئر فنڈ میں سرمایہ کاری سے حاصل منافع کو صحافیوں اور ہاکرز کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائےگا۔
٭ رواں مالی سال 2019-20 کے دوران حکومت بلوچستان نے صحافیوں کی رہائشی کالونی کے لیے اراضی کے دستاویزات کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔
٭ رواں مالی سال کے دوران نظامت تعلقات عامہ میں کثیر المقاصد ہال کی تعمیرکا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔
٭ محکمہ تعلقات عامہ میں گورننس پالیسی پراجیکٹ (World Bank) کے مالی تعاون سے الیکٹرانک اینڈ سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل کے قیام کے لیے Concept Paper کی باقاعدہ منظوری ہو چکی ہے جس پر جلد کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
٭ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اب تک ریڈیو ذرائع اطلاعا ت کا اہم ذریعہ ہے صوبائی حکومت نے اس ذرائع کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نئے FM ریڈیو اسٹیشن کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبہ میں افرادی قوت بڑھانے کے لیے نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 0.657 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
معدنیات و معدنی وسائل (Mines and Minerals)
جناب اسپیکر!
٭ موجودہ مالی سال میںکورونا وائرس اور لاک ڈا ¶ن کے باوجود مختلف معدنیات کی مد میں 2 ارب 50 کروڑ روپے وصول کئے گئے اور صوبائی خزانے میں جمع کئے گئے۔
٭ بلوچستان کے رائلٹی نظام کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کمپیوٹرائزڈ کانٹے لگائے گئے ہیں اور مائننگ چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔
٭ محکمہ معدنیات اپنی رائلٹی اور فنانس کے معاملے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے Digitization of Royalty Regimeکے نام سے پراجیکٹ شروع کر رہا ہے۔
٭ Balochistan Mineral Exploration Company کے قیام کی تجویز زیر غور ہے جس کے لیے ابتدائی طور پر 1.4 بلین روپے رکھے جا رہے ہیں۔
٭ آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں کرشنگ پلانٹس کے قیام اور توسیع کے لیے 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.534 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 3.624 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
ماہی گیری (Fisheries)
جناب اسپیکر!
٭ ماہی گیروں کو وزیر اعلیٰ بلوچستان گرین بوٹس اسکیم کے تحت کشتیوں کی فراہمی کے لیے 500 ملین روپے مختص کئے گئے تھے جس کو مالی سال 2020-2021 میں مکمل کر لیا جائےگا۔
٭ ساحلی پٹی کی ترقی جس میں سیاحت اور صوبے کے آمدن میں اضافے کے لیے بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے جبکہ اتھارٹی نے مختصر عرصہ میں ساحلی سیاحتی مقامات کی نشاندہی، Eco-Tourismکے فروغ اور ترقی کے لیے فیزیبلٹی کو یقینی بناتے ہوئے اقدامات اٹھائے جس کے لیے مالی سال 2020-2021 میں فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائےگا۔
٭ صوبے کی تاریخ میںپہلی مرتبہ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کا قیام عمل میںلایا گیا ہے جس کے لیے 59 ملین روپے (Grant in Aid) کا اجراءکیا گیا ہے ۔
٭ آئندہ مالی سال کے دوران ساحلی پٹی کے سیاحتی مقامات پر آرام گاہیں، ریسٹورینٹس، موٹلز ، بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز ، واش رومز اور ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کے قیام کے لیے 150 ملین روپے رکھے جا رہے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.827 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.232 بلین روپے مختص کئے ہیں۔

توانائی(Energy)
جناب اسپیکر!
٭ صوبے میں توانائی بحران کے حل اور اس میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے توانائی کے نئے ذرائع کے حصول کے لیے محکمہ دستیاب وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے صوبے کے دیہی اور شہری علاقوں کو توانائی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں تیکنیکی تجربہ گاہ برائے محکمہ توانائی نے سالانہ پی ایس ڈی پی اسکیم کے ذریعے گھریلو جانچ پڑتال برائے قابل تجدید توانائی کے آلات اور روشن بلوچستان فیز۔IIشمسی نظام کی تنصیب کے منصوبے زیر غور ہیں۔
٭ سال 2020-2021 کے دوران LIEDA میں 132 KV گرڈ اسٹیشن کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص
٭ ضلع لسبیلہ اور گوادر میں بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے تیل صاف کرنے کے لیے ریفائنریزکا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، یہ سرمایہ کاری صوبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے سینکڑوں مواقع فراہم کرے گی۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 2.518 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 6.851 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
ماحول و ماحولیاتی تبدیلی(Environment & Climate Change)
جناب اسپیکر!
٭ محکمہ ماحولیات کے زیر اثر Environmental Protection Agency سے متعلق مرتب کردہ قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی "گرین فورس "کی فوری تشکیل کا فیصلہ تاکہ ماحول اور ماحولیات آلودگی کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے، جبکہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر گرین فورس ایف آئی آر (FIR) بھی درج کر سکے گی۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں حکومت انوائرمنٹل لیبارٹریز اور گوادر میں اتھارٹی کے دفتر قائم کرے گی تاکہ ساحلی ماحول اور سمندری حیات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
٭ آئندہ مالی سال کے لیے فضائی آلودگی کے معیار کو جانچنے کے لیے 10موبائل لیب کی خریداری کے لیے 100 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.200 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 0.450 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
امور حیوانات (Live Stock)
جناب اسپیکر!
بلوچستان کی زیادہ تر آبادی کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ لائیواسٹاک سے منسلک ہے، موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ بلوچستان لائیو اسٹاک پالیسی کا اجراءکیا ہے جو کہ آئندہ دس سال کے لیے بنائی گئی ہے۔
٭ رواں مالی سال 150 نئے ویٹرنری ڈاکٹرز کی آسامیوں کو بذریعہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن مشتہر کیا گیا تھا اور اس پر پیش رفت جاری ہے۔
٭ حکومت 100 ملین روپے کی لاگت سے موجودہ مذبحہ خانہ کوئٹہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کھالوں کی مارکیٹ کے قیام کا عمل لا رہی ہے۔
٭ موجودہ حکومت نے لائیو اسٹاک کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ادویات کی مد میں 30 ملین روپے کو بڑھا کر 360 ملین روپے مختص کر دئیے ہیں۔
٭ 599.44 ملین روپے سے ژوب میں ویٹرنری کے ادارے کے قیام کے لیے سفارش کی جاتی ہے۔
٭ صوبے کے چھ اضلاع میں ویٹرنری و بنیادی سہولیات کے ساتھ منڈیوں کے قیام کے لیے سفارش کی جاتی ہے جس کا تخمینہ لاگت 472.68 ملین روپے ہے۔
٭ Liquid Nitrogen Plant کی بحالی کے لیے 6ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ ریسرچ سنٹر بیلہ کی تکمیل کے لیے 13ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.949 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.592 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
محنت و افرادی قوت (Labour and Manpower)
جناب اسپیکر!
٭ لیبر سے متعلق تین پرانے قوانین جو 1936, 1394 اور 1961 سے نافذ العمل تھے ان کو (ILO) انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق ڈرافٹ بل 2019 کی صورت میں صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی میں پیش کر دئیے گئے ہیں۔
٭ چائلڈ لیبر سروے جس کا تخمینہ 124.232 ملین حکومت بلوچستان اور 95.12 ملین (UNICEF)کل مالیت 219.35 ملین PWDP کے اجلاس میں منظور ہو چکا ہے تاکہ بلوچستان میں چائلڈ لیبر کی صحیح تعداد کا اندازہ ہو اور حکومتی سطح پر اس کا سدباب کیا جائے۔
٭ بلوچستان میں پہلی مرتبہ بلوچستان میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اتھارٹی کمپلیکس بننے جارہا ہے اور اس کے لیے اسپنی روڈ پر تین ایکڑ اراضی بھی مختص کی گئی ہے ۔
٭ ورکرز ویلفیئر بورڈ وفاقی حکومت کے فنڈز سے 496 فلیٹس/لیبر کوارٹرز، 446 بیرکس صنعتی اور کان کنی سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے لیے تیار کئے گئے ہیں ان کی الاٹمنٹ قرعہ اندازی کے ذریعے کرایہ داری کی بنیاد پر ورکرز ویلفیئر بورڈ کی پالیسی کے مطابق کی جائے گی۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.061 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2.258 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
صنعت و حرفت(Industries and Commerce)
جناب اِسپیکر!
٭ اس اہم پیداواری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے شعبے کو ہر سطح پر ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ ٹیکسوں میں چھوٹ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
٭ اس وقت یہ شعبہ پرانے قوانین کے تحت کام کر رہا ہے لیکن ہماری حکومت اس کے قوانین میں بہتری لانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد پہلی مرتب شدہ بلوچستان کامرس پالیسی کو نافذ کیا جائے گا۔
٭ محکمہ صنعت و حرفت کے توسط سے 18 سینٹرز کا قیام۔
٭ آئندہ مالی سال کے دوران ضلع چاغی کے علاقے تفتان میں LPG ٹرمینل کے قیام کے لیے 300 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ ضلع لسبیلہ میں کستور آئل پراسسنگ یونٹ کے قیام کے لیے 30 ملین روپے مختص ۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.524 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.946 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
سماجی بہبود و تحفظ(Social Security & Welfare)
جناب اسپیکر!
بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ جس کا اجراءہماری حکومت نے اپنے قیام کے شروعات میں سرانجام دیا تھا اس پروگرام کے اجراءکے بعد غریب، نادار، مستحق اور خصوصی افراد کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کے مستند ہسپتالوں میں عصر حاضر سے ہم آہنگ طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے جو کہ مہنگے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے ۔
٭ اب تک اس پروگرام کے تحت تقربیاً 1000 مریضوں کو سات موذی اور جان لیوا امراض کے علاج و معالجہ کے لیے پینل پر موجود ہسپتالوں میں بالکل مفت علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،جن کے اخراجات حکومت بلوچستان اٹھا رہی ہے جس کے لیے اب تک تقریباًایک ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔
٭ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ میں 77 ملین روپے سے زائد کی رقم صوبے کے معذور یا اسپیشل افراد کی بحالی کے لیے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے اب تک 500 ٹرائی موٹر سائیکل اور 66 الیکٹرک وہیل چیئر فراہم کرنے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں ۔
٭ صوبے کے 9 اضلاع لورالائی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، بولان، سبی، سوراب، خضدار اور پنجگور میں بلوچستان ہنر مند پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو قابو کرنے میں مدد مل سکے۔
٭ منشیات کے عادی افراد کے علاج، بحالی اور تربیت کے مرکز میں 2018 سے اب تک تقریباً 1545 افراد کا علاج کر کے نہ صرف انہیں منشیات کی لعنت سے آزاد کیا بلکہ ان میں سے 840 افراد کو بنیادی کمپیوٹر آپریٹنگ ، الیکٹریشن،ٹیلرنگ اور جوتے بنانے جیسے 4 مختلف ہنر بھی سکھائے گئے تا کہ وہ معاشرے میں واپس جا رکر مفید شہری بن سکیں۔
٭ صوبے میں بچوں کے لیے 6چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کئے جا چکے ہیں جبکہ مزید 6کی منظوری دی گئی ہے۔
٭ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے لیے 250 ملین روپے کی اسکیم تجویز کی گئی ہے۔
٭ آئندہ مالی سال کے دوران اقلیتی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے 100 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ کوئٹہ قرآن اکیڈمی کی تعمیر کے لیے 30 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ گریجویٹ طالبات کے لیے وویمن انٹرن شپ پروگرام کا اجراءکے لیے 50 ملین روپے مختص ۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 1.444 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.711 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
کھیل وامور نوجوانان(Sports and Youth Affairs)
جناب اسپیکر!
٭ محکمہ کھیل و امور نوجوانان کی کے لیے نئے مالی سال 2020-21 کے لیے مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد اور صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 550 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ صوبے بھرمیں75 فٹسال گرا ¶نڈ جو کہ ہماری حکومت نے مختلف عرصہ میں تعمیر کئے ہیں جس کے لیے نئی 75 انچارج فٹسال گرا ¶نڈ کی آسامیاں تخلیق کی ہیں۔
٭ صوبے کے ہر میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی میں فٹسال گرا ¶نڈ تعمیر کئے جا رہے ہیں جو 2020-2021 میں مکمل ہو جائیں گے۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 5.340 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.041 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
ثقافت و سیاحت و آثار قدیمہ (Culture, Tourism and Archives)
جناب اسپیکر!
حکومت بلوچستان نے سیاحت و ثقافت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں چیدہ چیدہ اور اہم یہ ہیں۔
٭ بلوچستان کے آرٹسٹوں کی فلاح و بہبود کے لیے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کا قیام۔
٭ بلوچستان میں لاک ڈا ¶ن سے متاثرہ آرٹسٹوں کے لیے ریلیف پیکج کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔
٭ بلوچستان کے تاریخی ورثہ اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے کوئٹہ میں نیا میوزیم تعمیر کیا گیا ہے جو عنقریب عوام کے لیے کھول دیا جائےگا۔
٭ ہزاروں سال پرانے نوادرات کی صوبہ سندھ کے نیشنل میوزیم سے منتقلی عمل میں لائی گئی ہے ۔
٭ بلوچستان کی قدیم تاریخ اور ورثے کو مد نظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی آف بلوچستان کے اشتراک سے پہلی مرتبہ شعبہ آثار قدیمہ قائم کیا گیا ہے جس میں گریجویٹ کلاسز کے پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔
٭ نئے مالی سال میں بلوچستان آثار قدیمہ کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ڈویژنل اور زونل سطح پر تمام سہولیات سے آراستہ ریکارڈ رومز کی تعمیر کے لیے 70 ملین روپے مختص ۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.941 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 0.465 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (Sceince & Information Technology)
جناب اسپیکر !
٭ حکومت بلوچستان کا دفتری امور میں مزید بہتر لانے کے لیے مختلف محکمہ جات میں E-Filing System کو رائج کرنے کی منظوری اور کام کا آغازباقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے جس کی باقی محکموں تک توسیع عمل میں لائی جائےگی
٭ حکومت بلوچستان کے قوانین کیDigitilization کرنا جبکہ تاحال 1300 سے زائد قوانین کی باقاعدہ Degitilization مکمل ہو چکی ہے۔
٭ صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آئی ٹی کی ایجوکیشن کی ترویج کے لیے مزید 5 اضلاع میں آئی ٹی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔
٭ نئے مالی سال 2020-21 کے دوران Digi Bizz: ، Freelancing اور Entrepreneurship کے لیے 50ملین روپے ،جبکہ Emerging Digital Balochistan (Mobile Apps Portal) کے لیے 20 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.869 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 0.398 بلین روپے مختص کئے ہیں۔
حصہ دوئم
ریو نیو کے وسائل بڑھانے کے لئے اقدامات
جناب اِسپیکر!
٭ سابقہ حکومتوں نے صوبے اور اس کے نظام محصولات کے نظام کو مستحکم بنانے پر بہت کم توجہ دی اس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں آمدن کے حصول میں بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا ۔
٭ حکومت بلوچستان دسویں قومی مالیاتی کمیشن (NFC)میں بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ شیئر کے حصول کے لیے کثیر الفارمولہ بنیادوں پر صوبے کے حق میں مضبوط کیس تیار کر رہی ہے ۔
Balochistan Tax Revenue Mobilization Strategy
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی ٹیکس ریونیو موبلائزیشن پالیسی کا نفاذ کیا جا رہا ہے ، پالیسی کے نفاذ سے ٹیکس اصلاحات ممکن ہونگی جبکہ متعلقہ محکموںکو زیادہ سے زیادہ ٹیکس کے حصول میں رہنمائی ملے گی اور صوبے کی اپنی آمدن میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ خسارے کو بھی کم کرنے میں خاطرخواہ مدد ملے گی۔
جناب اِسپیکر!
٭ حکومت سروسز ٹیکسز ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے دیگر ٹیکسوں کی وصولی کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اورOne Linkسے ایک معاہدہ کریگی یہ اقدامات نہ صرف ٹیکس نادہندگان کے لئے مدد گار ثابت ہوگا بلکہ کار کردگی شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی یقینی بنائے گا۔
٭ حکومت بلوچستان نے تمام سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے Ease of Doing Business Cell کا قیام عمل میں لایا ہے جس کی سٹیرنگ کمیٹی کی صدارت خود وزیراعلیٰ بلوچستان کرتے ہیں۔
٭ آئندہ مالی سال 2020-2021 میں بلوچستان بورڈ آف انوسٹمنٹ میں Business Registration Portal کا قیام عمل میں لایا جائےگا، جہاں سرمایہ کار پبلک آفسس جانے کے بجائے اپنی رجسٹریشن آن لائن مکمل کر سکیں گے۔
٭ سرمایہ کاروں کی رہنمائی کے لیے ایک Balochistan Investment Guide تشکیل دی گئی ہے ۔
٭ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے پرائیوٹ سیکٹر کو حکومت کے ساتھ اشتراک اور بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کے لیے الگ Land Lease Policy ، اس کے علاوہ 2 اہم فنڈز جوکہ Project Development Fund اور Viability Gap Fund قائم کردیئے گئے ہیں جس کے لیے مالی سال 2019-2020 میں 2 ارب روپے Invest کئے گئے ہیں۔
فنانس بل 2020
جناب اِسپیکر!
٭ آنے والے مالیاتی سالوں میں مالیاتی خسارے کو کم سے کم رکھنے کے لئے حکومت مجموعی مالیاتی خسارے کو ممکنہ حد تک کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے ۔
٭ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 119 کے تحت صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ پبلک فنانشل امور پر قانون سازی کرے اور آج ہم اس مقدس ایوان میں پبلک فنانس مینجمنٹ بل 2020 اسمبلی میں آج پیش کرنے جا رہی ہے جس سے صوبے مالی معاملات میں بہتر مالی نظم و نسق کو مربوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا ، بلوچستان پہلا صوبہ ہوگا جو کہ اس سلسلے میں 47 سال بعد قانون سازی کر رہا ہے ۔
٭ مزید برآں بلوچستان اسمبلی کے رواں بجٹ سیشن میں حکومت فنانس بل 2020 پیش کرنے جا رہی ہے جس میں مختلف پرانے ٹیکسوں اور مائننگ فیس میں نظر ثانی کرنے کی تجویز ہے۔ جس سے صوبے کی اپنی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔
حصہ سوئم
امدادی وفلاحی اقدامات
جناب اِسپیکر!
٭ کورونا وائرس کی غیر معمولی صورتحال نے ہمارے پورے سماجی و معاشی نظام کو متاثر کر رکھا ہے، حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر عوام کو ٹیکس ریلیف دینے کےلئے اپریل تا جون 2020 تک درج ذیل اقدامات اٹھائے ہیں۔
٭ حکومت بلوچستان پبلک فنانس مینجمنٹ کو مستحکم بنانے اور صوبے میں مالی نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ خزانہ میں انٹرنل آڈٹ یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے اور پبلک فنانشل مینجمنٹ کو بہترین بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے صوبائی ریونیو مینجمنٹ یونٹ اور ڈیبٹ اینڈ انوسٹمنٹ یونٹ قائم کیا ہے۔
٭ حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کرنے والے صحت کے ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کے لیے فوری طور پر 2 بنیادی بیسک تنخواہوں کے مساوی ہیلتھ رسک الا ¶نس کا اعلان کیا۔
٭ صوبائی حکومت کے تحت کام کرنے والے مختلف کیٹیگریز کے ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لیے ہیلتھ پروفیشنل الا ¶نس کی منظوری دی۔
٭ حکومت نے میڈیکل کالجز لورالائی، خضدار اور کیچ کے ٹیچنگ اسٹاف کے لیے ٹیچنگ الا ¶نس کی اجازت دی۔
٭ صوبائی سیکریٹریٹ کے مختلف کیڈر کے افسران کے لیے ایگزیکٹو الا ¶نس کی منظوری دی۔
٭ حکومت نے سردی اور گرمی کی تعطیلات کے دوران ثانوی اور ہائیر ایجوکیشن کے ٹیچنگ اسٹاف کے لیے کنوینس الا ¶نس کی منظوری دی۔
٭ معذوروں کے کوٹے پر تعینات ہونے والے ملازمین کے لیے اسپیشل کنوینس الا ¶نس کی بھی منظوری دی۔
 حصہ چہارم
 مالی سال 2020-2021 بجٹ کے تخمینے
جناب اِسپیکر!
اب میں بجٹ 2020-2021کے اہم اعدادو شمار پیش کرنے جارہا ہوں جس میں مالی سال 2020-2021کے اخراجات کے بجٹ کا کل حجم 465.528 بلین روپے ہے جبکہ آمدن کا کل تخمینہ 377.914 بلین روپے ہے ، اس طرح سال 2020-21 کے لیے بجٹ خسارہ کا تخمینہ 87.614بلین روپے ہوگاجس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
آمدن
بلین روپے میں
تفصیلات
بجٹ 2020-21 کا تخمینہ
وفاقی ٹرانسفر ز
302.904
 صوبے کی اپنی محصولات
46.407
فارن فنڈڈ پراجیکٹس اسسٹنس (FPA)
3.538
کیپٹل محصولات
14.698
 Cash Carry over
10.366
ٹوٹل آمدن
377.914
ٹوٹل اخراجات

اخراجات جاریہ
309.032
فارن فنڈڈ پراجیکٹس اسسٹنس (FPA)
12.201
وفاقی ترقیاتی پراجیکٹس (Outside PSDP)
38.216
صوبائی PSDP
106.079
ٹوٹل اخراجات
465.528
مجموعی خسارہ
(87.614)

جناب اسپیکر!
اپنی تقریر کے اختتام پر میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے بجٹ کی تیاری میں معاونت کی اور ساتھ ہی میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھ پر اور میری پوری ٹیم پر اعتماد کیا اور ہماری رہنمائی کی آخر میں ، میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگوں ہوں کہ وہ ہمیں بلوچستان کو حقیقی معنوں میں خوشحال ، ترقی یافتہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

پاکستان زندہ باد ۔۔۔بلوچستان پائند ہ آباد

جمعہ، 19 جون، 2020

کرونا توبہ کی مہلت ہے،!! عمران سرورجبی

کرونا توبہ کی مہلت ہے،!!
عمران سرور جبی
اگر موجودہ مہنگائی کا طوفان دیکھا جائے اور ملکی حالات پہ نظر ڈالی جائے تونہ صرف ہم اخلاقی برائیوں میں بری طرح ملوث ہیں بلکہ گناہ کبیرہ میں بھی غرق ہیں۔ زنا شراب جوا ناپ تول میں کمی ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری چیزوں میں ملاوٹ اور بھی بہت کچھ جو ہم  ہہت ہی ذمہ داری سے کررہے ہیں۔۔۔
قارئین!!
گذشتہ دنوں زندگی میں وہ کچھ دیکھنا پڑا جو بہت ہی تکلیف دہ اور اذیت ناک تھا مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہم وہ قوم ہیں جو گزری قوموں کی تمام برائیوں کا مجموعہ ہیں ہر وہ برائی جو پوری پوری قوموں کا تباہی کا باعث بنی۔ چاہیے وہ قوم لوط تھی جو زناکار تھی،چاہے قوم شعیب کی طرح وزن میں کمی کرتے تھے ،یا چیزوں میں ملاوٹ کرتے تھے۔اگلی قوموں کی عذاب کی حامل برائیاں شراب ، جوا ، زنا، جھوٹ و مکروفریب اور بت پرستی تھی ۔اج ان سب برائیوں کا مجموعہ ہم ہیں۔ہماری خوش بختی ہے کہ ہماری بچت ہمارے پیارے آقائے دوجہاں کی امت ہونے کی وجہ سے ہو گئی اور اللہ نے دنیا میں عذاب سے بچائے رکھا ہے،سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساری ساری رات امت کے لیے کئے سجدے ہمیں پار لگا گیے ورنہ پہلے تو ایک برائی پر پوری پوری امت برباد ہوئی،تباہ ہوئی اور نشان عبرت بن گئی۔
ان دنوں کورونا وائرس کی وبا  پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے خوف کی فضا ہر سو پھیلی ہوئی ہے اور افسوسناک امر کہ اب بھی ہم توبہ کیطرف رجوع نہیں کر رہے بلکہ پہلے سے زیادہ لوٹ مار کیطرف بڑھے ہیں انسانی جان بچانے والی ادویات سے لیکر روزمرہ کی اشیاء تک ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری عروج پر ہے۔ ہر کوئی منہ چھپائے پھرتا ہے۔ اوپر سے ہمارے حکمران بھی کسی عذاب الہی سے کم نہیں جنکا ہر فیصلہ عوام کی پریشانیوں میں اور زیادہ اضافے کا باعث بن ہررہا ہے کٹھ پتلی وزیراعظم سے لیکر کٹھ پتلی انتظامیہ کی مثال ۔ڈگڈگی پر ناچتے بندر کی سی ہے جن میں نہ قوت فیصلہ ہے اور نہ ہی حکومتی رٹ قائم رکھنے کی ہمت !۔ایسا لگتا ہے پوری کابینہ جگت بازوں پر مشتمل ہے ایک سے بڑھکر ایک فنکارسٹیج پر موجود ہے ملکی معشیت گھٹنے ٹیک چکی ہے۔۔ حکومت کا کوئی بھی نیا آڈر کتنی پریشانیوں کو بڑھائے  گا،کتنی بری طرح بالخصوص چھوٹے طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے گا،کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔
ہم حکومت کی پالیسیوں اور اعمال کے ذمہ دار نہیں لیکن ہم اپنی حد تک تو تبدیلی لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔جہاں کہیں بھی ہماری ذات سے مثبت تبدیلی آسکتی ہے،ہمیں  رور اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔اپنے طور پہ ہر شخص ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کم کرنے میں مدد کرے،اک دوسرے کے لیے ایثار اختیار کریں،اس دور میں بھی کئی اللہ کے بندے ایثار کا معیار قائم کئے ہوئے ہیں،مفت کپڑے ،کھانا تقسیم کر رہے ہیں،کئی لوگ اک وقت کا کھا کر دوسروں کے لیے آسانیاں مہیا کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں ۔
کوشش کیجئے اپنی ذات کی حد تک اصلاح  کیجئے۔اخلاقی اور معاشرتی برائیوں سے توبہ کر کے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔شاید قدرت کو ہمارے حال پہ رحم آجائے ۔ اب یہی ایک صورت بچت کی رہ  جاتی ہے۔موت سر پر کھڑی ناچ رہی ہے،اللہ ابھی بھی توبہ کا موقعہ دے رہا ہےکہ آخرت کا توشہ کر لیجئے ۔دوسروں کیطرف دیکھتے رہے تو وقت گزر جائے گا۔
اللہ ہم سب کے حال پہ رحم فرمائے۔آمین
 اللہ تعالی آپکا حامی و ناصر ہو۔ ۔۔۔۔۔

فتح پور ۔محمد کامران سے ۔محمد اکرم سندھو میڈیکل سٹور والے کرونا کی وجہ سے وفات پا گئے ۔



جمعرات، 18 جون، 2020

سینئر صحافی و تجزیہ نگار ۔کالم نگار و ادیب و اینکر پرسن //محترم ایم۔ ایچ۔ بابر۔ صاحب کو آر اے نیوز کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر مقرر کر دیا گیا ہے ۔سرکاری و نیم سرکاری ادارے نوٹ فرمالیں ۔ادارہ //03469200126

ہم اپنے پیارے بھائی محترم ایم ایچ بابر صاحب کو اور اے نیوز کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر بننے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سےخوش
۔۔آمدید اور  مبارکباد پیش کرتے ہیں
ظفر اعوان  ایڈیٹر 

اسلام آباد( پ ر )ایم۔این اے محمد ثناءاللہ خان مستی خیل کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر تفصیلی اظہار خیال

اسلام آباد( پ ر )ایم۔این اے محمد ثناءاللہ خان مستی خیل کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر تفصیلی اظہار خیال۔۔۔۔مستی خیل نے قومی اسمبلی میں اپنے بجٹ خطاب میں حلقے اور ضلع بھکر کے مسائل اجاگر کئے اور اپوزیش پر سخت تنقید کی۔مستی خیل نے ایم ایم روڈ کی تعمیر پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور اسے جلد از جلد تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا مستی خیل نے کہا کہ میٹرو اور اورنج ٹرین پر جھولے لینے والے ایم ایم روڈ پر سفر کرنے والوں کی مشکلات اور تکالیف کیا جانیں ہم اس قاتل روڈ پر لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے یہ بہت بڑا مسئلہ تھا جسے حل کرنے پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے مشکور ہیں اب اس روڈ کی تعمیر کے جلد از جلد ٹینڈر کئے جائیں۔مستی خیل نے کہا کہ بھکر میں تھل انڈسٹریل زون قائم کیا جائے تھل ملکی پیداوار کا 85 فیصد چنا پیدا کرتا ہے۔مستی خیل نے دریا خان کلورکوٹ دلے والا جنڈانوالہ کہاوڑ کلاں کوٹلہ جام کو سوئی گیس کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا جبکہ مستی خیل نے کہا گروٹ اور چشمہ کئ آٹامک انرجی کمیشن کے ہسپتالوں میں بھکر کے مریضوں کے لئے پرائیوٹ چیک آپ کے لئے فیس میں 50 فیصد رعایت دی جائے۔گریٹر تھل کینال کے لئے فنڈز ۔مختص کرنا احسن اقدام ہے۔۔مستی خیل نے کہا کہ بجٹ پر اپوزیشن کی تنقید بلا جواز ہے اپوزیشن پارٹیوں نے 50 سال حکومت کی ہے انہوں نے ملکی معیشت کا کباڑہ نکال دیا ہر ادارہ خسارے میں چھوڑا۔ملک کو تباہ کر دیا اپوزیشن کی حکومت پر تنقید بلا جواز ہے ملک کو تباہ کر کےمظلوم بھی اپوزیشن بن رہی ہے۔اپوزیش کے دور حکومت میں ہر ادارہ خسارے میں تھا ملک کو گروی رکھ دیا گیا تھا وزیر اعظم عمران خان ایک مخلص اور دیانت دار شخص ہے جسکی پوری دنیا معترف ہے سابقہ دور حکومت میں ملک عالمی سطح پر آئسولیٹ ہو چکا تھا عمران خان نے آکر دنیا میں پاکستان کو عزت دلوائی۔انہوں نے کہا کہ کرونا نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے ہر ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے ان حالات میں بجٹ متوازن پیش کیا گیا ہے۔مستی خیل نے کہا کہ 50 سال تک ملک پر حکمرانی کرنے والے اپنا علاج باہر کے ملکوں میں کرواتے ہیں ایل این جی۔آئی پی پیز میں لوٹ مار کی گئی۔نامساعد حالات میں ایک اچھا اور متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے

بھکر (آفتاب برنی) ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر)محمد علی ضیاء کی خصوصی ہدایت پر تھانہ حیدرآباد پولیس نے کیری ڈبہ سوزوکی بولان چور کو گرفتار کر لیا

بھکر (آفتاب برنی)  ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر)محمد علی ضیاء  کی خصوصی ہدایت پر تھانہ حیدرآباد  پولیس نے کیری ڈبہ سوزوکی بولان چور  کو گرفتار کر لیا۔ملزم مسمی عبدالرحمن ولد فرمان علی سکنہ شیخوپورہ کے قبضہ سے ایک  عدد کیری ڈبہ سوزوکی بولان نمبر 8315۔16A۔LE جوکہ شیخوپورہ تھانہ A ڈویژن مقدمہ نمبر 438 میں چوری شدہ برآمد کر کے ملزم کے خلاف زیر دفعہ 411ppc کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے ۔ڈی پی او بھکر نے اچھی کارکردگی پر ایس ایچ او اور پوری ٹیم کو شاباش دی ۔مزید جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی تیز کرنے کی ہدایات کی۔

بھکر (آفتاب برنی) ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء کے زیر صدارت دریاخان سرکل کی کرائم میٹنگ۔تمام مقدمات کا انفرادی طور پر تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تفتیشی افسران کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق جرائم کے خاتمے، مجرمان کی سرکوبی اور پولیس ورکنگ کا جائزہ لینے کیلئے ڈی پی او بھکر نے سرکل وائز تمام تھانوں کی کرائم میٹنگ منعقد کرنے کے احکامات

بھکر (آفتاب برنی) ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء کے زیر صدارت دریاخان سرکل کی کرائم میٹنگ۔تمام مقدمات کا انفرادی طور پر تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تفتیشی افسران کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق جرائم کے خاتمے، مجرمان کی سرکوبی اور پولیس ورکنگ کا جائزہ لینے کیلئے ڈی پی او بھکر نے سرکل وائز تمام تھانوں کی کرائم میٹنگ منعقد کرنے کے احکامات دیے ہیں۔کرائم میٹنگ میں متعلقہ سرکل کے تمام تھانہ جات کے زیر التواء مقدمات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس ضمن میں میٹنگ ہال ڈی پی او آفس میں دریاخان سرکل کی کرائم میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ میں ایس ڈی پی او دریاخان سرکل عامر عباس شیرازی،جملہ ایس ایچ اوز اور انویسٹی گیشن  افسران دریاخان سرکل نے شرکت کی۔ اس دوران تھانہ وائز تمام زیر تفتیش مقدمات کو انفرادی طور پر ڈسکس کیا گیا ۔ ہر تھانے کے زیر تفتیش مقدمات، چوری کی وارداتیں، مجرمان اشتہاریوں کی گرفتاری، نامزد ملزمان کی گرفتاری، اسلحہ و منشیات کی برآمدگی، سود خوروں کے خلاف کاروائی، اخلاقی برائیوں کے خلاف اقدامات اور موٹر سائیکل و دیگر گاڑیوں کی چوری ہونے کے حوالے تفصیلی استفسار کیا گیا۔

ڈی پی او بھکرنے اس موقع پر موجود جملہ پولیس افسران و اہلکاران کو ہدایت کی کہ پولیس ورکنگ کے حوالے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔ موٹر سائیکل و دیگر گاڑی چوری کرنیوالے گینگ کے خلاف کاروائی کرے۔گشت کے نظام کو  مزید موثر بنایا جائے اور اس ضمن میں ملحقہ اضلاع سے بھی معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔مجرمان اشتہاری و نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کو یقینی بناتے ہوئے زیر التواء مقدمات کو حقائق کی روشنی میں جلد از جلد یکسو کیا جائے۔ معاشرتی برائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید موثر و تیز کیا جائے۔ ہر ایس ایچ او و تفتیشی افسر کی انفرادی کارکردگی کو باریک بارینی سے مانیٹر کیا جارہا ہے ۔

اختر مینگل کے 6 مطالبے . . تحریر کائنات ملک

. .   اختر مینگل کے 6 مطالبے
. .  تحریر کائنات ملک
میں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اختر مینگل کےحکومت سے  6 مطالبے کی تائید کرتی ہوں ۔لاپتہ افراد کے مسلے کو بختہ جزبوں کے ساتھ حل کیا جاے۔اور ائندہ اسے واقعات سے گریز کیا جاے۔نیشنل ایکشن پر مکمل عمل کیا جاے۔تمام سیاسی جماعتیں مل کر بلوچستان کی ابادیاتی تشخص اور بلوچستان کےحقوق کا تحفظ کیا جاے۔قدرتی معدنیات کی تقسیم پر از سر نو جائزہ لیا جاے۔اور شفافیت کوبرقرار رکھتے ہوے صوبے کو اس کا فایدہ دیا جاے۔سونا ۔تانبہ۔اور دیگرے معد نیات کی ریفائر بلوچستان میں لگائی جائیں۔زیر زمین پانی کے زخیرے بھرنے کے لیے بڑے بڑے ڈایمز پلوچستان میں تعمیر کیے جاے۔فیڈرل سروسز میں پلوچستان کا کوٹہ 6,فیصد اور فارن سرسوسز میں بھی بلوچستان کا کوٹہ ہونا چاہیے۔۔
وقت اگیا ہے کہ بلوچستان کی محرمیوں کا ازالہ کرتے ہوے۔بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنی چاہیئے ۔اس کے حقوق انہیں  دیے جانے چاہے ۔سابقہ حکومتوں نے جس طرح اس صوبے کا حق کھایا اسے تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا اج یہ وقت ان تمام سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کا وقت ہے سردار اختر مینگل کے تمام مطالبات جائز ہیں بلوچستان کو اللہ تعالی نے قدرتی  معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے ۔جب قدرت نے اس صوبے کو مالا مال کیا ہوا ہے تو اس کو پسماندہ رکھ کر پورے ملک کو پسماندہ رکھا ہوا ہے۔حکومت وقت کو چاہیے کہ اپنے ملک پاکستان کی قدرتی وسائل کو بروے کار لاکر یہاں کی عوام کا مطالبہ پورا کرے ناراض بلوچ بھائیوں کو واپس قومی دھارے میں منا کر شامل کیا جاے ۔اپ سب کو پتہ ہے کہ دشمن وطن اور خاص کر بھارت نے ہمیشہ بلوچستان میں اپنی گندی سرگرمیاں جاری رکھے ہوے ہے۔اور یہاں کے لوگوں کو پاکستان سے علیحدگی پر اگساتا رہتا ہے۔را کےایجنٹ اور کئی خطرناک  دہشت گرد بلوچستان سے گرفتار کیے جاچکے ہیں اور کئی خفیہ گمین گائیں بھی موجود ہونگی جہاں معصوم اور محروم لوگوں کو پنجاب اور پاکستان کی نفرت کی تربیت دی جاری ہوگی ماضی میں یہ سب ہوتا رہا ہے۔اور ہمارے احساس اداروں نے ایسے کئی کمین گاہوں پر چھاپے ڈالے ہیں جہاں پاکستان کے خلاف پرنٹ مواد کے زریعے سے لوگوں کی پاکستان کے خلاف زہین سازی کی تربیت دی جاری تھی۔۔۔یہ پی ٹی ائی حکومت کا امتحان ہے اور سابقہ دور حکومتوں کے دیے گے محرمیوں غلط پالیسوں کی بدولت بلوچستان کی عوام اور حکومت میں بے چینی کو ختم کرکے ان کے حقوق اور جائز مطالبات تسلیم کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست کا میدان جیت سکتی ہے۔تمام سیاسی پارٹیوں پر سبقت لے کر بلوچستان کی عوام کا دل جیت سکتی ہے۔اور سپماندہ علاقوں۔اور صوبوں کی ترقی اور خوشحالی  نئے پاکستان  کا جو نعرہ پی ٹی ائی حکومت نے لگایا تھا اس کو شرمندہ تعبیر کرسکتی ہے یہ اس کے لیے سنہری موقع ہے ۔۔۔

کیاحال سنائیں دُنیا کا، کیا بات بتائیں لوگوں کی////انتخاب ۔۔۔تابندہ ضیاء

کیا حال سنائیں دُنیا کا،
کیا بات بتائیں لوگوں کی..
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں،
لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی!

کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں،
دنیا کو سنانے کے قابل..
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں،
بس دل میں چھپانے کے قابل!

کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں،
اک بار گئے تو آتے نہیں..
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں،
پرچھائیں بھی انکی پاتے نہیں!

کچھ لوگ خیالوں کے اندر،
جذبوں کی روانی ہوتے ہیں..
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح،
پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں!

کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں،
کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں..
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو،
تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں!

کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ،
کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا..
کچھ لوگ مثال ابر رواں،
کچھ اونچے درختوں کا سایہ!

کچھ لوگ چراغوں کی صورت،
راہوں میں اجالا کرتے ہیں..
کچھ لوگ اندھیروں کی کالک،
چہرے پر اچھالا کرتے ہیں!

کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں،
دو گام چلے اور رستے الگ..
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا،
ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ!

کیا حال سنائیں اپنا تمہیں،
کیا بات بتائیں جیون کی ؟
اک آنکھ ہماری ہستی ہے،
اک آنکھ میں رت ہے ساون کی!

ہم کس کی کہانی کا حصہ،
ہم کس کی دعا میں شامل ہیں۔؟
ہے کون جو رستہ تکتا ہے،
ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں!

کس کس کا پکڑ کر دامن ہم،
اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں،
اس بات کو صاحب جانے دیں!

کچھ درد سنبھالے سینے میں،
کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے..
اک عمر گنوائی ہے اپنی،
کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے!

دل خرچ کیا ہے لوگوں پر،
جان کھوئی ہے غم پایا ہے..
اپنا تو یہی سرمایہ ہے،
اپنا تو یہی سرمایہ ہے!!

اللّه اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا ۔۔انتخاب //گلشن ناز

اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !
وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ہے !
یوسف کو بادشاہی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !
خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !
یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ہے ،،خوشبو نہیں آنے دی !
اگر خوشبو آ گئی تو باپ ے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !
سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ہے
 کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !
اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !
یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،
جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔
یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا
اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : این آر او " کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،،
 وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وہی قحط ہانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ،
فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ہے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں،یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔
تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے :
سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !
واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون !
اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !
یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !
منقول

اہمیت_تحریر: گلشن ناز

#اہمیت___!!
                         (تحریر: گلشن ناز)
زندگی میں گرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سنبھلنا,
ہارنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جیتنا,
زندگی میں زوال کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی عروج کی,
ناکامیوں کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کامیابی کی,
رونا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ہنسنا مسکرانا!!
غمگین کیفیت کو بھی اتنی ہی ترجیح ہے جتنی خوشی کو،
ٹوٹنا بکھرنا بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا اپنی ذات اپنے وجود کا استحکام لازم ہے،
انسانی رویوں کی تلخی کو سہنا اور سمجھنا اتنا خآص ہے جتنا رشتوں کو جاننا،
مشکلات اتنی ہے قابل قدر ہیں جتنی آسودگی و خوش حالی،
گمنامی , بدنامی بھی اتنی ہے مستحق ہیں جتنی شہرت اور عزت,
مرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ جینا،
دراصل زندگی ہے ہی دہرے آئینہ کی طرح جس کا ایک رخ پر کچھ ہے تو دوسرے پر کچھ
ہم نے مثبت سوچنا چھوڑ دیا مسائل کو بوجھ اور آزمائش کو ظلم سمجھنے لگے ہیں ..
ہمارا یہ تو کامل یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا ہم اللہ کی حکمت کے خیال سے دل کو تسلی اور صبر کی طرف لے آتے ہیں لیکن ہم برے وقت کو خوشدلی سے قبول نہیں کرتے ہم اللہ کی نعمتوں کے ناشکرے بن کر اس کی قدر وشان پر شکوے کرنے لگتے ہیں لقد صدق اللہ
”و ما قدر اللہ حق قدرہ .“
اللہ تبارک و تعالٰی  نے سچ ہی فرمایا کہ انھوں نے اللہ کی شایان شان قدر نہیں پہچانی .
ہم رب العزت کے اس دعوے کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں جو کہتا ہے کہ
”لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا“.
 کہ اللہ تعالٰی کسی پر اس کی جان سے زیادہ بوجھ نہں ڈالتے
ہم مالک کائنات کی اس خوش خبری پر بھی شکی رہتے ہیں کہ جو تاکیدا کہتا ہے
”ان مع العسر یسرٰی فان مع العسر یسرٰی“
بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے, بےشک ے بعد آسانی ہے
زندگی میں مایوسی کو جب جگہ ملتی ہے جب ہم مثبت ڈگر سے ہٹ جاتے ہیں سہل پسند ہونے لگتے ہیں امیدوں کو حتمی نتائج سمجھ کر خدا کی حکمتوں پر عقل انسانی کی جگتں لگانے کی کوشش کرتے ہیں, جب تک وقت برا نہ ہو انسان کو خود کی بھی پہچان نہیں ہوتی انسان اپنے رب کو پہچانتا ہی اپنے عزائم اپنی امیدوں کے ٹوٹنے سے ہے,
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے
”عرفت ربی بفسخ العزائم“
اور میں نے اپنے ارآدوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا ,
بس مشکلات کو مثبت رخ دیجیے
دکھوں کے سیلاب پر توکل کے بند باندھ دیجیے
غموں کے حبس کو صبر کی باد نسیم سے دور کیجیے
اپنے رب کی پہچان اور قرب ہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے جو زندگی کی تلخیوں کو سہے بغیر نہ پڑھا جا سکتا ہے نہ سیکھا جا سکتا ہے,

رجوع_الی_اللہ__تحریر:گلشن ناز


#رجوع_الی_اللہ___

                             (تحریر:گلشن ناز)

"انسان کی زندگی میں مشکلات بھی آتی ہیں غم بھی ملتے ہیں،
تکلیف بھی سہنا پڑتی ہے، اداسی سے بھی گزرنا پڑتاہے،
 ملال بھی ہوتا ہے اضطراب کی کیفیت بھی طاری ہوتی ہے،
 انسان جذبات و کیفیات کے کئ پُر پیچ مراحل سےگزر جاتا ہے
وہ دھوکے بھی کھاتا ہے،
ٹھکرایا بھی جاتا ہے،
رویوں کی تلخیاں بھی جھیلتا ہے،
امیدوں کے ٹوٹنے پر آزردہ بھی ہوتا ہے،
اور خوابوں کے بکھرنے پر خود بھی بکھر جاتا ہے، .
الغرض غم و تکلیف کی ہر کیفیت کو سہتے سہتے انسان مضبوط اور مستحکم ہوجاتاہے اور یا تو تعمیر نو کی طرف گامزن رہتا یے یا پھر مایوسی کا شکار ہوکر تخریبی راستے پر چل پڑتا ہے,
انسان مصائب و مشکلات سے مقابلہ اپنی قوت ایمانی سے کرتا ہے کیوں کہ مصآئب کے پے درپے حملوں سے اس کی قوت ارادی بھی ایک مقام پر جواب دے چکی ہوتی ہے اس وقت اس کے پاس صرف ”قوت ایمانی“ ہی سرمایہء کُل ثابت ہوتا ہے ,
”رجوع الی اللہ“ یعنی یہ خیال کہ عنقریب ہم سب مشکلات , دکھ درد ,تکالیف , مصائب ,غم و حزن ہر قسم کے اضطراب کا بوجھ اس فانی دنیا میں اپنے کاندھوں سے پھینک کر اپنے رب کی طرف خوشی خوشی لوٹ جائیں گے،
جب انسان ہر مشکل میں ایسا سوچنے لگتا ہے تو اللہ کے قرب اور بخشش کا احساس باقی رہنے والی زندگی کی جانب توجہ اس کے ہر غم کو عارضی کیفیت میں بدل دیتی ہے اور صبر و توکل اور جوش ایمانی سے اس کا دل نفس مطمئنہ کا پیکر بن جاتا ہے اور وہ اس دن کا منتظر ہوتا ہے جب اس کے لیے بھی کہا جارہا ہوگا،

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ،ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً،فَادْخُلِي فِي عِبَادِي،وَادْخُلِي جَنَّتِي  (سورۃ الفجر آیت نمبر30_89:27)

”اے اطمینان پانے والی روح! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، تومیرے ممتاز بندوں میں شامل ہوجا اور میری بہشت میں داخل ہوجا“

بدھ، 17 جون، 2020

بلوچستان /رحمت اللہ بلوچ /۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلی بلوچستان رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل وفاق میں حکومت کی اتحادی تھے

تحریر رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان/ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلی بلوچستان رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل  وفاق میں حکومت کی اتحادی تھے بدھ کو قومی اسمبلی میں 50 منٹ کی طویل خطاب میں حکومت سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا اکثر سیاستدان بجٹ کے دنوں میں ایک دوسرے سے گلے شکوے  ناراضگی کی اظہار کرکے اتحاد ختم کرنے کی اعلان کرتے ہیں پھر اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے سے رابطوں میں شروع ہوجاتے ہیں جمعت علماء اسلام نے بھی بی این پی کی علیحدگی کو سراہا پپلز پارٹی نے بھی بی این پی کی سربراہ سے رابطہ کیا مگر سیاستدانوں کی ایک دوسرے پر اعتماد کی فقدان ہے ہر ایک دوسرے کو کراس کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں  عدم بھروسہ کیوجہ سے اپوزیشن میں اتحاد مشکل نظر آرہا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آجکل یو ٹرن نے بھی شہرت حاصل کر رکھی ہے یعنی پیچھے چل کا بھی موقع مل جائے تو دیر نہیں اعلانات بھی ہوتے ہیں اتحاد بھی ہوتے ہیں جدائی بھی سیاست میں ہوتی ہے منانے والے بھی سیاستدانوں کو واپس آنے دوستی کو قائم رکھنے میں ذہین ذین راستے ہموار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں سیاست میں کوئی اعلان حرف          آخر نہیں ہوتا ہے  2018 کے عام  انتخابات کے بعد جب بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل) نے مرکز میں پاکستان تحریک انصاف
 بی این پی نے پی ٹی آئی کی حمایت کا فیصلہ کیا چھ نکات پی ٹی آئی کے سامنے رکھے جو انھوں ان چھ نکات کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی جو ابھی تک چھ نکات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
انتخابات کے بعد خان صاحب بظاہر بدل گئے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے وعدوں سے مکر گئے اور بلوچستان ان کی ترجحات میں شامل نہیں رہا۔ سرداراخترمینگل صاحب اسوجہ سے بھی حکمران جماعت سے نالاں تھے اور بدھ کے روز بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے مکمل حکومت کی اتحاد سے علیحدگی کی اعلان کیا انھوں نے اپنے خطاب میں کہا
پی ٹی آئی بلوچستان کے مسائل حل کرے لیکن تسلیوں کے باوجود کچھ نہ ہوا
 پی ٹی آئی کو بی این پی کے خدشات سے آگاہ کرنا تھا۔آگاہ کیا ہوگا
  پی ٹی آئی حکومت کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں مانگی جس سے میری ذات یا جماعت کو فائدہ ہو۔ ہم نے صرف صوبہ ( بلوچستان) کے لوگوں کے لیے انصاف مانگا ہے۔ ہم تو بلوچستان اور بلوچ قوم کی صرف حقوق کی بات کرتے ہیں مگر وہاں بھی پی ٹی آئی نے بی این پی کو مایوس کیا
 پی ٹی آئی  نے لاپتہ افراد کے معاملہ میں اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے اور نہ ہی وفاقی ملازمتوں پر بلوچستان کے چھ فیصد کوٹہ پر عمل درآمد کیا ہے۔
 اختر مینگل نے بتایا کہ حکمران جماعت نے ہمارے ساتھ لاپتہ افراد اور بلوچستان کی ترقی کے حوالہ سے معاہدہ کیا،لیکن کیا ان معاہدوں پر عمل کیا گیا، آج بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس معاہدہ پر شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور یار محمد رند کے دستخط ہیں۔ اختر مینگل نے کہا کہ ہم کوئی کالونی نہیں، ہمیں اس ملک کا شہری سمجھا جائے،ہم نے دو سال انتظار کیا، ابھی بھی وقت مانگا جارہا ہے۔اخترمینگل نے یہ بھی بتایا کہ ایک لڑکی جس کا بھائی 4 سال سے لاپتہ ہے، اس نے احتجاج کرتے کرتے خود کشی کرلی۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ پہلے بلوچ مردوں کی لاشیں ملتی  اب بلوچ عورتو کی انھوں نے کہا
صوبے سے متعلق انھوں کہ ہم ایوان میں موجود رہنگے اور اپنی آواز بلند کرتے رہینگے سوئی گیس کی رائلٹی کو چھوڑ کر ہم کو گیس سونگھنے کیلئے بھی نہیں ملتی ہے لوگوں کے مجھے میسجز آئے کہ ہمارے بچوں کو مت پڑھاٶ اگر ہمارے بچے پڑھ کر تو حق اور نا حق میں فرق کرنا سیکھ جائیں گے نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، ہم نے سیاسی طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کی، ہمارے نکات سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہونے تھے لیکن ساتھ لے کر تو چلا جائے۔
انھوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ آج دن تک بتائیں کہ بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ہوا تھا،اگر نوٹیفکیشن ہوا تو کیا ایک میٹنگ بھی بلائی گئی یا ٹی او آرز بنائے گئے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں کے ساتھ تو تعاون کیا جائے،آئی ڈی پی کیمپوں میں جاکر پوچھا جائے کہ کون ذمہ دار ہے۔
پی ٹی آئی سے تعلق پر اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے حکمرانوں سے ہاتھ ملایا، جب بھی ووٹ مانگا دیا لیکن آپ نے کیا دیا۔
اختر مینگل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ بوسنیا اور فلسطین کےلئے احتجاج کرتے ہیں، ٹماٹر ، چینی پر بحث ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کے خون پر بات نہیں ہوتی۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا بلوچستان کے لوگوں کے خون کا رنگ ٹماٹر سے زیادہ سرخ نہیں ہے اس لئے اس پر بات نہیں کرتے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کو کالونی سمجھتے ہیں اور ہمارے ساتھ وہی ہورہاہے جو غلاموں کے ساتھ ہوتاہے
تحریک انصاف کو شاید ہماری ضرورت نہیں تھی ‘ حکومت نے وعدے پورے نہیں کئے
سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی اجلاس سے 50 منٹ طویل خطاب
انصاف ملتا نہیں بکھتا ہے ‘ آج تک اس ملک میں کسی کو انصاف نہیں ملا۔
بلوچستان اس ملک کا حصہ ہے کالونی نہیں ‘ ہمیں شہری سمجھو’’
آٶ حساب کرو ‘ آپکے سر کا بال بھی بلوچستان کا قرضدار ہے۔
 ‘بلوچستان آپکا نہیں
بلوچستان جو آپکے ہاتھ سے جارہا ہے اس کے مسئلہ پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟
بلوچستان کو موٹروے نہیں چاہیے صرف ایک ڈبل شاہراہ چاہیے مگر اسکو بجٹ سے نکال دیا گیا۔
 قومی اسمبلی میں اخترمینگل کی گھن گرجدار خطاب
چمن سے کراچی تک سڑک کی بنیاد 1973 میں رکھی گئی تھی، ساڑھے چار ہزار لوگ اس سڑک پر حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔ ہمیں 6 لین سڑک کی بجائے دو لین سڑک ہی دے دیں۔
گزشتہ پی ایس ڈی پی میں جو رقم اس سڑک کے لیے رکھی گئی تھی اس کو کورونا یا ٹڈی دل کھا گئی
کورونا کی علاج کے بارے میں کوئی کہتا ہے ثنامکی کھا لو، کوئی کہتا کلونجی کھا لو، ہم تو سب سجیاں کھا کر تھک گئےہم نے کورونا کو نظر انداز کرکے تفتان بارڈر ایسے کھولا جیسے ماضی کی طرح ڈالرز آئیں گے
تفتان بارڈر کھولنا تھا تو احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں
تفتان بارڈر پر نالائقی سے جو ہلاکتیں ہوئیں انکی ایف آئی آر حکمرانوں کیخلاف کاٹی جائیں
ٹڈی دل سے بلوچستان کے 32 اضلاع متاثر ہیں، کوئی فصل اور باغ نہیں بچا
جب بھی کہا تو جواب آیا کہ اسپرے کے لیے جہاز نہیں ہے
وزیراعلی کے لیے تو جہاز لیا جاسکتا لیکن اسپرے کے لیے کیوں نہیں
اگر اب بھی اسکا تدارک نہ کیا گیا تو اگر آج اسکی تعداد لاکھوں میں تو اگلے سال کروڑوں میں ہوگی
ٹڈی دل سے پھر آپکے عرب دوست بھی نہیں بچا سکیں گے
بلوچستان روز اول سے معاہدات کا مارا ہوا ہے
نواب اکبر بگٹی کو کہا گیا کہ آپ اسلام آباد آئیں
اس ضعیف شخص کو اسلام آباد لانے والے جہاز میں فنی خرابی ہوجاتی ہے، بعد میں نواب اکبر بگٹی کو شہید کردیا گیا۔ جمہوری وطن پارٹی نے بھی حکومت کی اتحاد سے علیحدگی کی عندیہ دیا ہے
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے سردار اختر مینگل کو منانے کیلئے کوششیں جاری ہیں شبلی فرازوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ‏اخترمینگل ہمارے حلیف تھے اور رہیں گے،
 ‏اخترمینگل سے رابطہ کررہے ہیں، بی این پی کی سربراہ کے تمام تحفظات جلد دور کرلیں گے
 ‏اختر مینگل کے6نکاتی مطالبے پر کمیٹی بنائی تھی،
‏ممبر کا تقرر ہوتےہیں اختر مینگل کےتحفظات دور ہوجائیں گے
‏بلوچستان صوبہ ہمارےلیے بہت اہم ہے،
ایک دو روز میں تمام مسائل حل ہوجائیں گے،وزیراطلاعات  شبلی فراز

سرکاری ملازمین اور بجٹ کا جھٹکا۔ ملک نذر حسین عاصم

سرکاری ملازمین اور بجٹ کا جھٹکا۔
ملک نذر حسین عاصم

0333 5253836

================
موجودہ حکومت نے ایک کروڑ خاندانوں کو 12000 روپے دیئے ہیں 60 فیصد آبادی کو ہیلتھ کارڈ جاری کئے ہیں بیواؤں کیلئے راشن کارڈ بنائے گئے ہیں لیکن بجٹ کے بعد سرکاری ملازمین کی امیدوں پر پانی پھر گیا اکثریتی نچلے طبقے کے ملازمین کے گھریلو اخراجات کا دارومدار صرف اور صرف تنخواہ پر e بڑھتی ہوئ گرانی کے ساتھ اگر تنخواہ میں اضافہ نہ ہوتو ملازمین سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں یہی صورتحال پینشنرز کی بھی ہے لیکن آمدہ اطلاعات کے مطابق ملکی حالات ذرا سے بہتر ہونے پر منی بجٹ کے ذریعے تنخواہ اور پینشن میں اضافے کیلئے سوچ بچار جاری ہے آئ۔ایم۔ایف نے تنخواہ اور پینشن میں اضافے کی حمایت کردی ہے وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشن میں اضافے کا عندیہ دیا ہے کہ حالات بہتر ہونے پر حکومت درآمدات میں پانچ فیصد سرچارج لگا کر پیسے اکھٹے کرسکتی ہے جس سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے یہ اضافہ منی بجٹ میں ہی ممکن ہے ادھر اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف نے بھی تنخواہیں اور پینشن نہ بڑھانے پر حکومتی فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئ۔ایم۔ایف کے کہنے پر تنخواہ اور پینشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہے۔ ہر دور حکومت میں خواہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہو،مسلم لیگ ( ن) نواز شریف کی حکومت ہو یا پرویز مشرف مسند اقتدار پر ہو سبھی نے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کا خیال رکھا ہے بلکہ پیپلز پارٹی نے تو ایکبار 50 فیصد تک تنخواہ میں اضافہ کیا تھا لیکن 20 فیصد 15 فیصد اور 10 فیصد کی مثالیں عام ہیں اگر مختلف ادوار میں مہنگائ کا تناسب دیکھا جائے تو بھٹو دور میں یعنی 1978 میں سونے کی قیمت 714 روپے تولہ تھی ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں 714 سے بڑھکر 3300 تک پہنچ گئ 1988 میں یہ قیمت 3478 اور 1999 میں 6100 تک بڑھ گئ پھر 2008 میں 23500 تک پہنچ گئ زرداری دور میں 29500 تک اور 2013 میں 49500 تک چلی گئ 2014 میں نواز شریف حکومت میں 50 ہزار سے تجاوز کرگئ 2017 میں 56200 اور 2018 میں 56200 سے یکدم 68000 تک چھلانگ لگائ 2019 میں 73430 سے 85660 اور 2020 میں یہ قیمت بڑھکر 86500  سے 101000 تک پہنچ گئ۔
اب گرانی کی چھلانگیں دیکھیں اور ایک مزدور کے شب وروز دیکھیں۔ ہر حکومت نے ملازمین کی تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے جو محض ایک دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوئے

*” اسلام میں عورت کا سماجی مقام و مرتبہ،،تحریر /تمنا ظفر کراچی

تحریر :تمنا ظفر کراچی

الحمد للہ رب العالمین ایاک نعبدو وایا ک نستعین

 کراچی، سکھر، حیدرآباد، لاڑکانہ مٹیاری، نواب شاہ، سانگھڑ دادو، جیکب آباد، ٹھٹھہ، میر پور خاص، حیدرآباد، کینجھر سے کشمور  تک............. ،،،،، مقابلہ میں شامل ہوئے بھائیو، بہنوں ماؤں اور میری سہلیوں کو مبارک باد دینا چاہوں گی کہ  مقابلہ میں شامل ہر فرد کی جیت ہے مقابلہ میں فقط حصہ لینا ہی اول جیت ہے ـ
اور میری سندھ میں موجود جدید یا قدیم  لکھاری” خدا کی دانش اور طاقت سے بے شمار تحائف سے اتھا گہرائیوں میں بند ہیں،،
مگر! جب ایمان والے آدمی جاگتے ہیں تو خدا کے تحفے تحائف کی جانب حرکت کرتے ہیں ـ
جیسا کہ:
"اسلامک راٸٹرزموومنٹ پلیٹ فورم پاکستان" پاک وطن کی سرزمین کے لیے ترقی کے لیے محنت کرتا ہے پاک وطن کے نوجوانوں میں چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ” ایمان اور سچ،، قبول کرنے سے لکھاریوں کو عقل اور ذہانت مسترد کرتا ہے ـ منہ بولتا ثبوت ہے جو صوبہ سندھ کو مدنظر رکھتے ہوئے،
” بعنوان اسلام میں عورت کا سماجی مقام،، مقابلہ کے لیے  عنوان انتخاب کیا ہے ـ
میں مبارک باد دینا چاہوں گی اسلامک راٸٹرزموومنٹ پلٹ فورم پاکستان کی انتظامیہ کو اور اس میں صوبہ سندھ کے زمہ داران کو کامیابی تحریری مقابلہ کے انعقاد پر سلیوٹ کرتی ہوں آپ کا کام سر انجام دینے پر،،،، ،،، _____________________ موجودہ دور میں اب تک اسلامک راٸٹرزموومنٹ پلیٹ فورم مختلف نظر آتا ہے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں اسلامک رائٹرز پلیٹ فورم پاکستان سے  لکھاری اپنی زندگی کی ترقی اورانکشاف کے لیے  نہایت شدت کے ساتھ دلچسپی لیتا ہے ـ
____________*___________
میں شکر گزار ہوں انتظامیہ اور ججز کی 40 بڑے شہروں پر مشتمل، صوبہ سندھ اور اس سے ہونہار لکھاریوں کی تحریروں میں شامل میری تحریر ملک بھر کے نامور پلیٹ فورم  اسلامک رائٹرزموومنٹ پلیٹ فورم پاکستان میں جھلک رہا میرا نام الحمدللہ ثم الحمدللہ

ہمارے ملک پاکستان کے چارو صوبوں میں ابھی تک عورت کے ساتھ بعض باطل قسم کے تصورات وابسطہ ہیں- اور جب بات ہو صوبہ سندھ کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اکثریت ایسی ہے جہاں عورت ذات کو ناجائز طور پر آج بھی دبایا جاتا ہے- ”ایسی صورت میں واحد طاقت *خداﷻ* ہے اور جو لوگ *خداﷻ* کے   ساتھ ہیں ان کے اچھے خیالات کے ساتھ *خداﷻ* ان کے اندر زندہ روح کی مثال ہے-
 ایسے ہی اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان صوبہ سندھ کے زیرِ اہتمام صوبائی تحریر مقابلہ بعنوان
*” اسلام میں عورت کا سماجی مقام و مرتبہ،،* کا موقع فراہم کر کے سندھ بھر کے لکھاری خواتین و حضرات میں موجود قلم کی طاقت کی قدر کرتے ہوئے لکھاری،  کو ایک اہم درجہ دیا ہے-

منگل، 16 جون، 2020

کیا واقعی ہم جاحل قوم ہیں ؟؟؟ کائنات ملک کے قلم سے

۔ ۔ کیا واقعی ہم جاہل قوم ہیں ؟؟؟
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (تحریر کائنات ملک )
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان میں اس وائرس
سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
ایک طرف اپوزیشن جماعتیں اور لوگ کرونا وائرس کے بڑھتے ہوے مریضوں اور ہلاکتوں پر حکومت حکومتی اقدامات پر تنقید کررہی ہے۔تو دوسری طرف یہی لوگ کرونا وائرس کے حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کرکے اس اپنے لیے موت کا سامان پیدا کررہے ہیں۔ اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر نام نہاد فلاسفر اور تجزیہ نگار بنے ہوے ہیں۔

سلام ہے ڈاکٹر راشدہ یاسمین صاحبہ کو جہنوں نے لہوریوں کو عجیب مخلوق اور پوری قوم کو جاہل کہہ کے لہوریوں کے حوالے سے پوری قوم کو ان کا ایئنہ دیکھایا ہے ۔ ہمیں کرونا وبا کے بارے جو ردِ عمل دکھایا گیا ہے ، کچھ لوگ تو برا مان گے تو کچھ لوگ سوشل میڈیا پر اس بات کو مزاق سمجھ کر چٹ پٹے مسالہ دار لطیفے بنا کر خوب انجواے کررہے ہیں۔ اور شوخیاں بکھیرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحبہ کی سیریس اور اہم بات کو سمجھنے کی بجاے ان کی اس بات کا مزاق اڑارہے ہیں، یہ وہ سازشی عناصر ہیں۔جو چاہتے کہ ملک میں کروناوبا کی وجہ سے معاشی سماجی ملکی حالات بگڑیں۔اور افراتفری پھیلے۔ اور ہم ان کی باتوں پر عمل کرکے خود کو اور اپنے پیاروں کو خطرے میں روز بروز ڈالتے جارہے ہیں ۔ ملک میں کرونا کی وجہ سے اس وقت مشکل حالات پیدا ہورہے ہیں۔ اور روز بروز بگڑتے جارہے ہیں۔اور لوگ حکومتی بیانوں اور ڈاکٹر حضرات کی دی گی ہدایات کو نظر انداز کرتے جارہے رہے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے اقدامات کو ہوا میں اڑا رہے ہیں۔حکومت سوشل میڈیا۔ پرنٹ میڈیا۔ الیکڑنک میڈیا۔ کے ساتھ ساتھ ۔ریڈیو اور فون سم تک ۔بار بار اشتہارات۔ جاری  پیغامات کے زریعے سے کرونا وبا کے نتائج سے ان کو اگاہ اور  خبردار کررہی ہے۔ اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ان کو بار بار ہدایات دے رہی ہے۔ مگر بدقسمتی سے  یہ قوم فضول باتوں پر کئی کئی گھنٹے بحث کرکے اپنا اور دوسرے لوگوں کا وقت ضائع کرنے والی کے دماغ میں کام کی اور قیمتی باتیں  ان کی اپنی جان کی حفاظت کی یہ سب باتیں ان  کے دماغ میں گھستی ہی نہیں ہیں۔ یہ قوم احتیاطی تدابیروں کو فضول سمجھ کر کرونا وائرس کو اپنے گھروں میں لے کر ارہے ہیں۔ اور حکومت پر بے جا تنقید بھی فرما رہے ہیں کہ حکومت اس کرونا وبا کے پھیلاو کو کنٹرول کیوں نہیں کررہی ہے جب کہ لوگ خود کنٹرول سے باہر ہوچکے ہیں ۔ یہ سب باتیں ہم سب عوام کو جاہل ثابت کرنے لیے کافی ہیں۔

بلوچستان ۔/تحریر رحمت اللہ بلوچ /تمپ کے علاقہ دازن میں ایک اور خاتون کلثوم ڈکیتوں کے ہاتھوں شہید

تحریر رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان/تمپ کے علاقہ دازن میں ایک اور خاتون کلثوم ڈکیتوں کے ہاتھوں شہید ہوئی بلوچستان کیچ میں یہ دوسرا خاتوں ڈکیتوں نے شہید کردیا مگر سوچنے کی بات ہے کہ ڈکیت اس گھر میں جاکر ڈکیتی کرتے ہیں جہاں خواتین اکیلی بچوں کے ہمراہ رہتی ہے ایسے واقعات میں ڈکیتوں کی پشت پناہی کہیں سے ضرور ہورہی ہوگی اور اہل علاقہ کو یہ اندازہ ضرور ہوگا کہ علاقہ میں ایسے واردات کون کس کے ذریعہ کرارہی ہیں یہ ایسے واردات ہیں کہ خاموشی سے ایسے وارداتوں میں آئے روز اضافہ ہوسکتا ہے کمی نہیں ہوگی خاموشی اسکی بنیادی وجہ ہوسکتی ہے اور مقامی انتظامیہ کیلئے مسائل میں اضافہ ہو سکتی ہے اگر مقامی انتظامیہ نے ایسے حالات میں شامل افراد کو قابو میں نہیں لایا تو ڈکیت مزید ایسی کاروائیاں تیز کرسکتے ہیں خواتین کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتیی ہے اور بڑھ کر مالدار لوگ بھی ایسے واقات کی لپیٹ میں آسکتے ہیں یہ ایک جتھا نہیں بلکہ یہ ایک گینگ ہوسکتا ہے اسکے نتائج بہت ہی بیانگ نکل سکتے ہیں ایسے واقعات کے اثرات دوردراز تک پھیل سکتی ہیں ایسے واقعات میں سیاست سے ہٹ کر قومی رسم و رواج کو پروان چڑانے کیلئے پورے صوبے کے بااثر افراد کو یکجہتی سے آواز بلند کرنا پڑے گا اگر ایسے نہیں کیا گیا تو ہر گھر طاقتور ہو یا غریب متاثر ہوگا جب غریب کے پاس کچھ نہ ہوگا تو پھر ان ڈکیتوں سے طاقتور گھر بھی محفوظ نہیں ہونگے وجہ یہ کہ پھر ڈکیت ہی طاقتور ہونگے
 سانحہ ڈنک کے بعد تمپ دازن میں دوسری خاتون کو ڈکیتوں نے شہید کردیا
 ڈکیتی کے دوران کلثوم نامی خاتون  کے کانوں سے سونے اتارے اور گھر کے دیگر قیمتی سامان لے گئے۔
::::: مقامی انتظامیہ کے مطابق ضلع کیچ کا علاقہ تمپ میں گھر پر ڈکیتی کی واردات،

مزاحمت کرنے پر ڈاکؤں نے خاتون کا گلہ کاٹ کر قتل کردیا،
 ڈاکو جانبحق خاتون کے کان سے (بیس مسکال) بالیاں اتارنے اور گھر کا صفایا کرنے کے بعد فرار ہوگئے.  (لیویز زرائع)
 ڈاکو گھر میں موجود بائیس ہزار روپے کیش رقم بھی اپنے ہمراہ لے گئے.
خاتون کا شوہر خلیج میں مزدوری کا کام کرتا ہے
 جانبحق خاتون کے چار چھوٹے بچے ہیں جو واقعہ کے وقت ماں کی آغوش میں سو رہے تھے.::::: خاندانی زرائع
گزشتہ پندرہ دنوں میں ضلع کیچ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر خاتون کی ہلاکت کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے.
 اس سے پہلے تربت ڈھنُک میں ڈاکؤں کی فائرنگ سے ایک خاتون جانبحق اور بچی زخمی ہوگئی تھی.
:::: علاقائی ذرائع کے مطابق نامعلوم ڈاکو گذشتہ رات ایک گھر میں داخل ہوئیں جہاں گھر کے قیمتی سامان کا سفایا کیا گیا جبکہ کلثوم نامی خاتون کو اسی دران چھری سے قتل کردیا گیا۔

خیال رہے گذشتہ دنوں اسی نوعیت کا ایک واقعہ تربت کے علاقے ڈھنک میں پیش آیا تھا جہاں ملک ناز نامی خاتون جانبحق اور اس کی بچی برمش زخمی ہوئی تھی۔
ڈھنگ واقعے کے خلاف بلوچستان سمیت بیرون ممالک میں احتجاج کیا جارہا ہے۔
بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں کے مطابق ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر معاشرتی برائیوں اضافہ ہونے لگا
آج تمپ میں پیش آنے والے واقعے میں آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ :::::
نیشنل پارٹی کیچ کے ترجمان نے کیچ کے علاقے دازن میں پیش آنے والے دلخراش واقعہ جس میں کلثوم نامی خاتون کا گلا اسکے کمسن بچوں کے سامنے کاٹا گیا، پر ردعمل دیتے ہوۓ کہا کہ اس واقعہ نے نہ صرف  ہمیں گہرے رنج و غم اور صدمے سے دوچار کیا ہے بلکہ پورے معاشرے کو سخت ترین ذہنی کوفت اور خوف  میں مبتلا کردیا ہے۔ ترجمان نے کہا جب سے باپ کی نام نہاد حکومت وجود آئ ہے تب سے نہ صرف کیچ بلکہ پورا بلوچستان شدید بدامنی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ چوری، ڈکیتی،راہزنی اور دیگر جرائم خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا یہ عوام دشمن حکومت ہے اسکو عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نہ صرف امن و امان بلکہ یہ کسی بھی شعبہ میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ شہید کلثوم کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جاۓ::::::
انسانی حقوق کی رپورٹ تمپ میں خاتون کو بچوں کے سامنے چھری سے ذبح کیا گیا،
ایچ آر سی پی(پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق) اسپیشل ٹاسک فورس تربت مکران کے ترجمان نے تمپ دازن میں پیش آنے والے واقعہ جس میں مسلح ڈاکو ایک گھر میں داخل ہوئے اور ڈکیتی کے دوران کلثوم بنت سعید نامی عورت کو مزاحمت کے دوران قتل کرنے کی پر زور مذمت کی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ یہ واقعہ رات وقت تین بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب مسلح ڈاکو دازن میں ایک گھر میں لوٹ مار کی نیت سے داخل ہوئے اس دوران کلثوم بنت سعید نامی عورت جس کی شوہر نبی بخش مزدوری کے لیئے ملک سے باہر ہیں گھر میں موجود اکیلی خاتون چار کمسن بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں خاتون نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو  ڈاکوﺅں نے ان کی چار کمسن بچوں کے سامنے خاتون کو چھری سے ذبح کردیا۔
 یہ واقعہ انتہائی سفاکانہ، غیر انسانی، غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس سے پہلے ڈنک میں 26 مئی کی رات ایک ایسا سانحہ پیش آیا تھا جب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ملک ناز نامی عورت کو شھید کردیا گیا جن کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کچھ عرصے سے تربت اور ضلع کیچ میں ایسے واقعات پے در پے پیش آرہے ہیں جو باعث تعجب ہیں۔
 جو تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سے پہلے تربت گلشن آباد میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا اس کے بعد آبسر، گوکدان، نوک آباد میں بھی ایسے دلخراش واقعات ہوئے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت ان واقعات کی روک تھام میں مسلسل ناکام ثابت ہورہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کے جان و مال کی تحفظ جیسی بنیادی ذمہ داری کی فریضہ ادا کرے لیکن تربت اور ضلع کیچ میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں مسلسل ناکام ہورہے ہیں۔
انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے کہا ہے کہ دازن تمپ واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرے اور حالیہ مہینوں میں رونما ہونے والے ایسے تمام واقعات کے ملزمان کا فوری سراغ لگا کر ان کو گرفتار کر کے قانون کے تقاضے پوری کرے۔

میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے ۔۔انتخاب ظفر اعوان


بیوی کو شادی کے چند سال بعد خیال آیا
کہ اگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے
تو شوہر کیسا محسوس کرے گا
یہ خیال اس نے کاغذ پر لکھا
"اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی
میں اب بور ہو گئی ہوں تمہارے ساتھ
میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے"
اس کاغذ کو اس نے میز پر رکھا
اور جب شوہر کے آنے کا ٹائم ہوا تو
اس کے رد عمل دیکھنے کے لئے بستر کے نیچے چھپ گئی
شوہر آیا اور اس نے میز پر رکھا کاغذ پڑھا
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اس کاغذ پر کچھ لکھا
پھر وہ خوشی کے مارے جھومنے لگا
گیت گانے لگا، رقص کرنے لگا اور کپڑے بدلنے لگا
پھر اس نے اپنے فون سے کسی کو فون لگایا اور کہا
"آج میں آزاد ہو گیا
شاید میری بیوقوف بیوی کو سمجھ آ گیا
کہ وہ میرے لائق ہی نہیں تھی
لہذا آج وہ گھر سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی
اس لئے اب میں آزاد ہوں
اور تم سے ملنے کے لئے میں آ رہا ہوں
کپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کے
میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ"
شوہر باہر نکل گیا
آنسو بھری آنکھوں سے بیوی بستر کے نیچے سے نکلی
اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذ پر لکھی لائن پڑھی
جس پر لکھا تھا
"بیڈ کے نیچے سے پاؤں دکھائی دے رہے ہیں باولی
پارک کے قریب والی دکان سے بریڈ لے کے آ رہا ہوں
تب تک چائے بنا لینا
میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے

  1. آدھی تجھے ستانے سے ہے

 آدھی تجھے منانے سے ہے

پیر، 15 جون، 2020

بھکر: دریاخان کے پانچ صحافیوں کو عدالت نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا

بھکر: دریاخان کے پانچ صحافیوں کو عدالت نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا گو یہ صحافتی حلقوں کے لیئے ایک بڑی خبر ہے  یقیناً  اس سے صحافتی حلقوں میں خوشی کی لہر بھی پیدا ہوئی ہو گی اور اس کا سہرا روزنامہ سچائی کے چیف ایڈیٹر آصف خان نیازی کے سر جاتا ھے نیشنل پریس کلب رجسٹرڈ بھکر کر تمام ممبران کی طرف سے آصف خان اور باعزت بری ہونے والے تمام صحافیوں کو مبارک باد قبول ہو
علاقہ تھل سے تعلق رکھنے والے صحافی چونکہ پیڈ نہیں ہوتے اس لیئے وہ فل ٹائم صحافت نہیں کر سکتے اس لئے ان کا ذریعہ معاش دوسرا بھی ہو سکتا ہے یہ کوئی اچنبھے والی بات بھی نہیں ھے انسان کئی درائع سے روزی کما سکتا ھے لیکن دریا خان کے ڈی ایس پی نے پولیس اختیارات کا غلط استعمال کرتے ھوئے جس طرح صحافت کی تذلیل کی اور اپنے منصب کا غلط استعمال کیا وہ کسی طرح بھی قابل ستائش اقدام نہیں ھے ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر) محمد علی ضیا ایک فرض شناس آفیسر ھیں ہمیں امید ہے وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کیس کو میرٹ پر دیکھیں گے اور ڈی ایس پی دریاخان کے خلاف اخیارات کے غلط استعمال پر ان کے خلاف کاوائی عمل میں لائیں گے