Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

ضرورت نمائندگان:۔

ضرورت نمائندگان:۔ ملک بھر سے پڑھے لکھے میل، فی میل حضرات فوری رابطہ کریں موبائل نمبر 03469200126

منگل، 16 جون، 2020

بلوچستان ۔/تحریر رحمت اللہ بلوچ /تمپ کے علاقہ دازن میں ایک اور خاتون کلثوم ڈکیتوں کے ہاتھوں شہید

تحریر رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان/تمپ کے علاقہ دازن میں ایک اور خاتون کلثوم ڈکیتوں کے ہاتھوں شہید ہوئی بلوچستان کیچ میں یہ دوسرا خاتوں ڈکیتوں نے شہید کردیا مگر سوچنے کی بات ہے کہ ڈکیت اس گھر میں جاکر ڈکیتی کرتے ہیں جہاں خواتین اکیلی بچوں کے ہمراہ رہتی ہے ایسے واقعات میں ڈکیتوں کی پشت پناہی کہیں سے ضرور ہورہی ہوگی اور اہل علاقہ کو یہ اندازہ ضرور ہوگا کہ علاقہ میں ایسے واردات کون کس کے ذریعہ کرارہی ہیں یہ ایسے واردات ہیں کہ خاموشی سے ایسے وارداتوں میں آئے روز اضافہ ہوسکتا ہے کمی نہیں ہوگی خاموشی اسکی بنیادی وجہ ہوسکتی ہے اور مقامی انتظامیہ کیلئے مسائل میں اضافہ ہو سکتی ہے اگر مقامی انتظامیہ نے ایسے حالات میں شامل افراد کو قابو میں نہیں لایا تو ڈکیت مزید ایسی کاروائیاں تیز کرسکتے ہیں خواتین کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتیی ہے اور بڑھ کر مالدار لوگ بھی ایسے واقات کی لپیٹ میں آسکتے ہیں یہ ایک جتھا نہیں بلکہ یہ ایک گینگ ہوسکتا ہے اسکے نتائج بہت ہی بیانگ نکل سکتے ہیں ایسے واقعات کے اثرات دوردراز تک پھیل سکتی ہیں ایسے واقعات میں سیاست سے ہٹ کر قومی رسم و رواج کو پروان چڑانے کیلئے پورے صوبے کے بااثر افراد کو یکجہتی سے آواز بلند کرنا پڑے گا اگر ایسے نہیں کیا گیا تو ہر گھر طاقتور ہو یا غریب متاثر ہوگا جب غریب کے پاس کچھ نہ ہوگا تو پھر ان ڈکیتوں سے طاقتور گھر بھی محفوظ نہیں ہونگے وجہ یہ کہ پھر ڈکیت ہی طاقتور ہونگے
 سانحہ ڈنک کے بعد تمپ دازن میں دوسری خاتون کو ڈکیتوں نے شہید کردیا
 ڈکیتی کے دوران کلثوم نامی خاتون  کے کانوں سے سونے اتارے اور گھر کے دیگر قیمتی سامان لے گئے۔
::::: مقامی انتظامیہ کے مطابق ضلع کیچ کا علاقہ تمپ میں گھر پر ڈکیتی کی واردات،

مزاحمت کرنے پر ڈاکؤں نے خاتون کا گلہ کاٹ کر قتل کردیا،
 ڈاکو جانبحق خاتون کے کان سے (بیس مسکال) بالیاں اتارنے اور گھر کا صفایا کرنے کے بعد فرار ہوگئے.  (لیویز زرائع)
 ڈاکو گھر میں موجود بائیس ہزار روپے کیش رقم بھی اپنے ہمراہ لے گئے.
خاتون کا شوہر خلیج میں مزدوری کا کام کرتا ہے
 جانبحق خاتون کے چار چھوٹے بچے ہیں جو واقعہ کے وقت ماں کی آغوش میں سو رہے تھے.::::: خاندانی زرائع
گزشتہ پندرہ دنوں میں ضلع کیچ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر خاتون کی ہلاکت کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے.
 اس سے پہلے تربت ڈھنُک میں ڈاکؤں کی فائرنگ سے ایک خاتون جانبحق اور بچی زخمی ہوگئی تھی.
:::: علاقائی ذرائع کے مطابق نامعلوم ڈاکو گذشتہ رات ایک گھر میں داخل ہوئیں جہاں گھر کے قیمتی سامان کا سفایا کیا گیا جبکہ کلثوم نامی خاتون کو اسی دران چھری سے قتل کردیا گیا۔

خیال رہے گذشتہ دنوں اسی نوعیت کا ایک واقعہ تربت کے علاقے ڈھنک میں پیش آیا تھا جہاں ملک ناز نامی خاتون جانبحق اور اس کی بچی برمش زخمی ہوئی تھی۔
ڈھنگ واقعے کے خلاف بلوچستان سمیت بیرون ممالک میں احتجاج کیا جارہا ہے۔
بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں کے مطابق ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر معاشرتی برائیوں اضافہ ہونے لگا
آج تمپ میں پیش آنے والے واقعے میں آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ :::::
نیشنل پارٹی کیچ کے ترجمان نے کیچ کے علاقے دازن میں پیش آنے والے دلخراش واقعہ جس میں کلثوم نامی خاتون کا گلا اسکے کمسن بچوں کے سامنے کاٹا گیا، پر ردعمل دیتے ہوۓ کہا کہ اس واقعہ نے نہ صرف  ہمیں گہرے رنج و غم اور صدمے سے دوچار کیا ہے بلکہ پورے معاشرے کو سخت ترین ذہنی کوفت اور خوف  میں مبتلا کردیا ہے۔ ترجمان نے کہا جب سے باپ کی نام نہاد حکومت وجود آئ ہے تب سے نہ صرف کیچ بلکہ پورا بلوچستان شدید بدامنی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ چوری، ڈکیتی،راہزنی اور دیگر جرائم خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا یہ عوام دشمن حکومت ہے اسکو عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نہ صرف امن و امان بلکہ یہ کسی بھی شعبہ میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ شہید کلثوم کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جاۓ::::::
انسانی حقوق کی رپورٹ تمپ میں خاتون کو بچوں کے سامنے چھری سے ذبح کیا گیا،
ایچ آر سی پی(پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق) اسپیشل ٹاسک فورس تربت مکران کے ترجمان نے تمپ دازن میں پیش آنے والے واقعہ جس میں مسلح ڈاکو ایک گھر میں داخل ہوئے اور ڈکیتی کے دوران کلثوم بنت سعید نامی عورت کو مزاحمت کے دوران قتل کرنے کی پر زور مذمت کی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ یہ واقعہ رات وقت تین بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب مسلح ڈاکو دازن میں ایک گھر میں لوٹ مار کی نیت سے داخل ہوئے اس دوران کلثوم بنت سعید نامی عورت جس کی شوہر نبی بخش مزدوری کے لیئے ملک سے باہر ہیں گھر میں موجود اکیلی خاتون چار کمسن بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں خاتون نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو  ڈاکوﺅں نے ان کی چار کمسن بچوں کے سامنے خاتون کو چھری سے ذبح کردیا۔
 یہ واقعہ انتہائی سفاکانہ، غیر انسانی، غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس سے پہلے ڈنک میں 26 مئی کی رات ایک ایسا سانحہ پیش آیا تھا جب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ملک ناز نامی عورت کو شھید کردیا گیا جن کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کچھ عرصے سے تربت اور ضلع کیچ میں ایسے واقعات پے در پے پیش آرہے ہیں جو باعث تعجب ہیں۔
 جو تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سے پہلے تربت گلشن آباد میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا اس کے بعد آبسر، گوکدان، نوک آباد میں بھی ایسے دلخراش واقعات ہوئے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت ان واقعات کی روک تھام میں مسلسل ناکام ثابت ہورہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کے جان و مال کی تحفظ جیسی بنیادی ذمہ داری کی فریضہ ادا کرے لیکن تربت اور ضلع کیچ میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں مسلسل ناکام ہورہے ہیں۔
انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے کہا ہے کہ دازن تمپ واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرے اور حالیہ مہینوں میں رونما ہونے والے ایسے تمام واقعات کے ملزمان کا فوری سراغ لگا کر ان کو گرفتار کر کے قانون کے تقاضے پوری کرے۔

میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے ۔۔انتخاب ظفر اعوان


بیوی کو شادی کے چند سال بعد خیال آیا
کہ اگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے
تو شوہر کیسا محسوس کرے گا
یہ خیال اس نے کاغذ پر لکھا
"اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی
میں اب بور ہو گئی ہوں تمہارے ساتھ
میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے"
اس کاغذ کو اس نے میز پر رکھا
اور جب شوہر کے آنے کا ٹائم ہوا تو
اس کے رد عمل دیکھنے کے لئے بستر کے نیچے چھپ گئی
شوہر آیا اور اس نے میز پر رکھا کاغذ پڑھا
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اس کاغذ پر کچھ لکھا
پھر وہ خوشی کے مارے جھومنے لگا
گیت گانے لگا، رقص کرنے لگا اور کپڑے بدلنے لگا
پھر اس نے اپنے فون سے کسی کو فون لگایا اور کہا
"آج میں آزاد ہو گیا
شاید میری بیوقوف بیوی کو سمجھ آ گیا
کہ وہ میرے لائق ہی نہیں تھی
لہذا آج وہ گھر سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی
اس لئے اب میں آزاد ہوں
اور تم سے ملنے کے لئے میں آ رہا ہوں
کپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کے
میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ"
شوہر باہر نکل گیا
آنسو بھری آنکھوں سے بیوی بستر کے نیچے سے نکلی
اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذ پر لکھی لائن پڑھی
جس پر لکھا تھا
"بیڈ کے نیچے سے پاؤں دکھائی دے رہے ہیں باولی
پارک کے قریب والی دکان سے بریڈ لے کے آ رہا ہوں
تب تک چائے بنا لینا
میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے

  1. آدھی تجھے ستانے سے ہے

 آدھی تجھے منانے سے ہے

پیر، 15 جون، 2020

بھکر: دریاخان کے پانچ صحافیوں کو عدالت نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا

بھکر: دریاخان کے پانچ صحافیوں کو عدالت نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا گو یہ صحافتی حلقوں کے لیئے ایک بڑی خبر ہے  یقیناً  اس سے صحافتی حلقوں میں خوشی کی لہر بھی پیدا ہوئی ہو گی اور اس کا سہرا روزنامہ سچائی کے چیف ایڈیٹر آصف خان نیازی کے سر جاتا ھے نیشنل پریس کلب رجسٹرڈ بھکر کر تمام ممبران کی طرف سے آصف خان اور باعزت بری ہونے والے تمام صحافیوں کو مبارک باد قبول ہو
علاقہ تھل سے تعلق رکھنے والے صحافی چونکہ پیڈ نہیں ہوتے اس لیئے وہ فل ٹائم صحافت نہیں کر سکتے اس لئے ان کا ذریعہ معاش دوسرا بھی ہو سکتا ہے یہ کوئی اچنبھے والی بات بھی نہیں ھے انسان کئی درائع سے روزی کما سکتا ھے لیکن دریا خان کے ڈی ایس پی نے پولیس اختیارات کا غلط استعمال کرتے ھوئے جس طرح صحافت کی تذلیل کی اور اپنے منصب کا غلط استعمال کیا وہ کسی طرح بھی قابل ستائش اقدام نہیں ھے ڈی پی او بھکر کیپٹن (ر) محمد علی ضیا ایک فرض شناس آفیسر ھیں ہمیں امید ہے وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کیس کو میرٹ پر دیکھیں گے اور ڈی ایس پی دریاخان کے خلاف اخیارات کے غلط استعمال پر ان کے خلاف کاوائی عمل میں لائیں گے

ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا ۔جس سے وہ بے حد پیار کرتی تھی ۔۔۔انتخاب ۔ظفر اعوان

ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ بے حد پیار کر تی تھی ،سانپ تقریباً سات فٹ لمبا تھا جس نے اچانک ایک دن کھانا پینا بند کردیا..
خاتون نے کئی ہفتوں سانپ کو کھانا کھلانے کی کوشش جاری رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس پر خاتون اپنے پالتو سانپ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئی..
خاتون نے ڈاکٹر کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا جس پر ڈاکٹر نے سوال کیا کہ کیا ہر رات سانپ آپ کے ساتھ سوتا تھا؟
خاتون نے جواب دیا جی ہاں..
ڈاکٹر نے پھر سوال کیا ‘ جب سے اس نے کھانا پینا چھوڑ ہے کیا یہ آپ کے جسم کے بے حد قریب لیٹ کر اپنے جسم کو اکٹراتا تھا؟
جس پر خاتون نے برجستہ جواب دیا‘ جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے اور مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں اپنے سانپ کو بہتر محسوس کرانے کیلئے اس کی کوئی مدد نہیں کر پار ہی ہوں..
ڈاکٹر نے خاتون کا جواب سننے کے بعد کہا ‘محترمہ آپ کا سانپ بیمار نہیں ہے بلکہ یہ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہاہے‘سانپ آپ کی جسامت کا روزانہ اندازہ لگاتا رہا ہے اور اس نے کھانا پینا اس لیے بند کر دیا ہے کہ آپ کو کھانے کیلئے وہ جگہ بنا سکے..
خاتون ماہر کی یہ بات سن کر سکتے میں آ گئی..
اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے ارد گرد موجودسانپوں کو پہچاننا ہے جوکہ آپ کے نہایت قریب ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں..
ضروری نہیں کہ آپ کے آس پاس پھرنے والے لوگ آپ کے ساتھ کھانے پینے اوراٹھنے بیٹھنے والے تمام لوگ آپ کے ہمدرد ہیں ‘ بس آپ نے ان کو پہچاننا ہے..نجانے کتنے ایسے سانپ ہیں جو آپکی آستین میں چھپے بیٹھے ہیں۔۔

*

اسلامی سزائیں ۔۔سعدیہ ھمآ شیخ

اسلامی سزائیں

پاکستان میں جرائم کی شرح بڑھنے کہ سب سے بڑى وجہ اسلامى سزاوں کا نفاذ نہ ہونا ہے 

پاک میں اسلامى سزاوں کے نفذ کے لىے اسلامى فوجدارى قوانین کے نفاذ کی کوشش کہ گى اور اس سلسلے ميں حدود آرڈیننس مجریہ 1979 عمل میں لایا گیا اور اسى سلسلے میں قصاص اور دیت کا قانون 1990 جارى ہوا اسلامى فوجداری قوانین کی چار اقسام ہیں حد ،تعزئر،قصاص اور دیت

حد حد کاطلب ہے روک ،منع کرنا 

شریعت کے اعتبار سے حد اس مقررہ سزا کو کہتے ہیں جو اللہ تعالى کا حق ہو اس کہ پانچ اقسام ہیں

زنا کہ حد

نامحرم مرد اور عورت سے تعلق قاىم کرنا اسبکى حد جارى کرنے کے لئے چار مردوں کی گواہى ضرورى ہے اگر گواہى میں شک و شبہ پیدا ہو جاے کا مجرم اقرار نہ کرے تو زناء کہ حد لاگو نہیں ہو گى اس کہ سزا سو درےباور شادى شدہ کہ سزا سنگسار ہے 

حد کہ دوسرى قسم کا اطلاق شرابى پر ہوتا ہے اگر شرابىباس حالت میں گرفتار ہو کہ اس کے منہ سے بو آ رہى ہو تو اس پر حد لاگو ہو گى اس کے نفاذ کے لئے دو مردوں کہ گواہى ہو گى اس کہ سزا آزاد مرد تیس کوڑے اور غلام کو چاُلیس کوڑے ہیں

حدبکى تیسرى  قسم قذف ہے شریعت میں اس کے معنى تہمت لگانے کے ہیں اور یہ قذف زناء کے الزام میں ہے دوسرے الزامات ميں نہیں. اس میں مجرم کو کوڑے مارے جائیں گے اور کبھى اس کہ گواہى قبول نہ ہو گى

چوتھى قسم حد کہ چورى ہے اگر کوى شخص کوى ائسى شے چورى کر لے جو قیمت رکھتى ہو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاے گا

ڈاکہ حد کى پانچویں قسم ہےسر عام لوٹنا رہزنى اس میں شامل ہے اور اس کہ سزا دائاں ہاتھ اور بایاں پاوں کاٹا جاے گا

تعزیر

اس سزا جو کہتے ہیں جو حد سے کم ہو اس کہ دو اقسام ہیں 

ائک بندے کا حق اور دوسرا اللہ کا حق تعزئر بندے کا حق ہے اس جو بندہ معاف کر سکتا ہے حد بچوں پر نافذ نہیں ہوتى مگر تعزیر بچوں کو بھی دى حاتى ہے حد معین ہے اور تعز یر غئر معین. 

قصاص

اسلام میں کسى بھی مسلمان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے اور اس پرقصاص واجب ہے   اس کے لئے تئن چئزوں کا ہونا ضرورى ہے قاتل کا اقرار ،گواہوں سے ثابت ہونا مقتول کے ورثاء کا موجود ہونا

دیت

ئہباس مال کو کہتے ہیں جو جان کے بدلے واجب ہوتا ہے ائسے جراىم جن میں اسلام نے دئت کہ اجازت دىنہے ان میں قتل خطا شامل ہے 

ان قوانین کے ہوتےبىوے جراىم کہ شرح میں اضافہ اس لىے ہے کہ ئہاں سزاوں کو ظلم سمجھا جاتا ہے اور ورثاء لالچ میں معاف کر دیتے ہیں اور اس وجہ سے معاشرے میں عدم توازن اور نا انصافى ہے اسلامى فوجداری قوانین بہت واضح ہیں اور ان کا مکمل نفاذ ہى ایک مثالى معاشرہ قاىم کر سکتا ہے

سعدیہ ہما شیخ

اتوار، 14 جون، 2020

شاپ کیپر بھیا ۔۔۔۔نمرہ ملک

شاپ کیپر بھیا !!!
کچھ
بغض وحسد،
سیاہی والے دل!
فتنہ فساد والے

بہتان،تہمتیں
باندھنے والے
بے پرواہ تعلق!

بے حیا رابطے

بے ریا دوستی پہ
بدنما کالکیں!

گندے کردار
قبیہہ تعلق
دھونے ہیں

کوئی ان سارے
جراثیم سے پاک
سیف گارڈ
مل سکتا ہے۔؟؟۔

یا پھر سرف ایکسل
جس سے
بدنما دلوں کے
داغ دھلتے ہوں ؟؟۔۔۔

نمرہ ملک

گروپ انشورنس اور ملازمین۔ ملک نذر حسین عاصم

گروپ انشورنس اور ملازمین۔
ملک نذر حسین عاصم 
0333 5253836
===================
سرکاری ملازمین کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں دوران ملازمت ان کی تنخواہ سے مختلف قسم کی کٹوتیاں بھی ہوتی ہیں جیسے BF کٹوتی، GPF کٹوتی، اور گروپ انشورنس کٹوتی وغیرہ
ملازمین کی تنخواہ میں سے تین فیصد ہر ماہ BF کٹوتی ہوتی ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں سے ملازمین کے بچوں کو ہرسال تعلیمی بہتری کی بنیاد پر  وظیفہ دیا جاتا ہے اگر سرکاری ملازم کے والدین میں سے کوئ ، بچہ/بچی یا بیوی فوت ہوجائے تو سکیل کے مطابق تجہیزوتکفین فنڈ دیا جاتا ہے اگر بچی/بچے کی شادی ہوتو میرج گرانٹ کے نام پر بھی فنڈ ملتا ہے اسی طرح تمام ملازمین کی تنخواہ میں سے ماہانہ کی بنیاد پر گروپ انشورنس فنڈ کی کٹوتی کی جاتی ہے یہ کٹوتی سکیل کے تناسب سے ہوتی ہے مثلا" سکیل نمبر 16 کا ملازم ہر ماہ تین سو سے چارسو کے درمیان کٹوتی کرواتا ہے چونکہ یہ فنڈ صرف دوران ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے ورثاء کو دیا جاتا ہے اور ریٹائر ہونیوالے ملازمین اس سے مکمل محروم رہتے ہیں جبکہ اپنی تیس یا چالیس سالہ ملازمت کے دوران انہوں نے لاکھوں روپے اپنی تنخواہ سے کٹوتی کروائے ہوتے ہیں لیکن ریٹائرمنٹ پر اس مد سے ملازمین کو کچھ نہیں ملتا جبکہ ملازم کی کٹوتی سے جمع ہونیوالی خطیر رقم خزانے میں موجود ہوتی ہے  اسی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین نے ہائ کورٹ سے رجوع کیا کہ گروپ انشورنس کے نام پر ہونیوالی کٹوتی سے سکیل کے مطابق ملازمین کو فنڈ فراہم کیا جائے چنانچہ ہائ کورٹ نے ملازمین کے حق میں فیصلہ دے دیا کہ گروپ انشورنس کی رقم ملازمین کو دی جائے۔ KPK  حکومت نے بھی ملازمین کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے فنڈز جاری کرنے کی حمایت کردی لیکن محکمے نے ہائ کورٹ میں جاکر  یہ موقف اختیار کیا کہ ریٹائر ہونیوالے سارے ملازمین کو فنڈز کی فراہمی ناممکن ہے  حقیقت یہ ہے کہ گروپ انشورنس کے نام پر کی جانیوالی کٹوتی ہمارے ملازمین کی جمع شدہ پونجی ہے پھر انہیں حق سے محروم رکھنا کس قدر زیادتی کی بات ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تعمیروطن میں اپناحصہ ڈالا ہے اپنی زندگی کے ماہ وسال ملازمت کی چھتری تلے گذارے ہیں یہ ملازمین نوعمر تھے جب دفتروں میں داخل ہوئے اور اب اپنی عمر کا ایک طویل حصہ محکمے کو دیکر خم کمر کے ساتھ گھروں کو لوٹ رہے ہیں انکے بچوں کے تعلیمی اخراجات ہیں انکے شادی بیاہ اور دیگر اخراجات کابوجھ انکے ناتواں کاندھے پر ہے پھر ایسے میں انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ ان میں معذور لوگ بھی ہیں خواتین بھی ہیں اور نحیف اور کمزور بیمار اور لاچار افراد بھی ہیں آج ہرطرف گروپ انشورنس کے حوالے سے بحث مباحثہ ہوتا ہے لوگ مختلف وکلاء سے رجوع کررہے ہیں بعض لوگ عدالتوں میں جا چکے ہیں ہر ریٹائر ہونیوالا شخص گروپ انشورنس کی وصولی کی آس لگائے بیٹھا ہے حکومتیں جو آئے روز مختلف کاموں کے حوالے سے اربوں روپے کے فنڈز جاری کر تی ہیں ملازمین کو گروپ انشورنس کی رقم دینا حکومت کیلئے معمولی کام ہے اگر یہ کام حکومت وقت کرجاتی ہے تو حکمرانوں کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا

عملی ادبی حلقوں میں ایک معتبر نام ایم زیڈ کنول ((تحریر کائنات ملک))

عملی ادبی حلقوں میں ایک معتبر نام ایم زیڈ کنول

((تحریر کائنات ملک)) 

علمی ادبی سماجی حلقوں میں ایم زیڈ کنول کے نام سے پہچان رکھنے والی خوبصورت پروقار سادہ سی شخصیت کا اصل نام مسرت زہرہ کنول ہے ۔
ایم زیڈ کنول نے اپنی ساری عمر اس
کائنات میں محبت امن احساس عزت محبت احترام کا پیغام سجاے واقف کردی ہے اور اس کے اس عظیم مقصد کی خوشبو ملک کے کونے کونے میں پھیل رہے ہے۔ایم زیڈ کنول اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاے رہتی ہے وہ کبھی کسی کے رویعوں سے دکھی ہوسکتی ہے مگر مایوس ہونا اس کی گھٹی میں شامل ہی نہیں ہے۔ شاداب چہرے چمکتی انکھوں سچےجزبوں کے بھرپور احساس کے ساتھ اداب کی اس دنیا میں اداب کی خدمت کا سفر جاری رکھے ہوے ہے۔ اداب سے محبت کرنے والوں کے لیے اداب کی فحفلیں انعقاد کرتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا جاے اپ یہ کام کیسے کرلیتی ہیں۔ تو مسکرا کر کہتی ہیں میں نے کونسا ایسا کام کردیا بس ایک چھوٹا سا کام تو کیا ہے ۔واقعی اس کا چھوٹا سا کام اس کی کردار اور اداب کے مقام کو بہت بلند کردیتا ہے۔ بہت عرصہ سے میری خوائش تھی اس گوہر نایاب پر کچھ لکھوں مگر میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں ہیں کہ میں یہ جسارت کروں مگر پھر بھی اپنے چند ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے ساتھ اس خوبصورت ہستی ہو خراج تحسین ضرور پیش کرنا چاہوں گی ۔اور یہ اس کا مجھ پر حق بھی ہے۔ گو میں خود ادب کی دنیا میں ابھی اداب کی ابتدائی تعلیم حاصل کررہی ہوں اور سیکھنے کے مراحل سے گزر رہی ہوں ۔ مگر میں ایسی شخصیت پر قلم اٹھاوں اس کے فن پر کچھ لکھوں میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں اس کی کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرہی نہیں سکتی ابھی میں اس مقام تک نہیں پہنچی پھر بھی ایک جھوٹی سی کوشش ضرور کرنے کی گستاخی کررہی ہوں۔ شاید اداب۔ایم زیڈ کنول اور ایم زیڈ کنول سے محبت کرنے والے لوگوں کو یہ چھوٹی سی میری کاوش پسند اجاے۔ ایم زیڈ کنول مجھے لاہور میں رائیزنگ سٹار گروپ جس کی روح رواں ڈاکٹر راشدہ قریشی جو خود ماہر تعلیم ۔خوبصورت شاعرہ اور اینکر پرسن ہیں کے گھر میٹنگ میں ملی تھی جہاں پاکستان کے کونے کونے سے اے ہوے نامور صحافی۔ادیب۔شاعر محقق ماہر تعلیم۔اور انسان دوست سٹار موجود تھے ۔تین چار گھنٹے کی اس میٹنگ میں بہت سے دوستوں سے تعارف ہوا گپ شپ رہی ہنسی مزاق کے ساتھ ادبی محفل ہوئی لنچ ہوا اور پھر خوبصورت یادوں کے ساتھ سب اپنی اپنی راہ کو چل دیے ۔اس محفل میں ایم زیڈ کنول دھمیے لہجہ میں بولتی ہوئی ایک عام عورت محسوس ہوئی۔ جب میری ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں ایک شاعرہ اور پبلیشر ہوں کتابیں چھاپتی ہوں مجھے یہ بات سن کر بہت خوشی ہوئی کہ مرد پبلیشر تو سنے تھے ۔مگر ایک خاتون پبلیشر کا ہونا میرے لیے باعث مسرت تھا۔اور ایسی باہیمت خواتین کی میں دل سے قدر اور احترام۔کرتی ہوں ۔بس یہی سے ہماری دوستی چل نکلی فون پر کبھی کبھار گپ شپ ہوجاتی ۔ایک دن ایم زیڈ کنول نے کہا کائنات میں تمہارے اعزاز میں مشاعرہ رکھنا چاہتی ہوں ۔بولو کب وقت نکال کر لاہور اسکتی ہو۔اس دوران میری کچھ مصروفیات ایسی نکل ائیں کہ میں کچھ ماہ وقت نہ نکال سکی ۔مگر ایم زیڈ کنول نے ہیمت نہ ہاری اور اگست کے ماہ میں لاہور الحمرا ادبی بیٹھک میں میرے اعزاز میں سلام پاکستان کے نام سے مشاعرہ کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوے اس پروگرام کی پوسٹ بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیں ۔ ایم زیڈ کنول کی دوستوں سے محبت اور اداب سے عشق اور اپنی مقصد سے روحانی لگاو سے انتہاہ دیکھی ۔خوبصورت ادبی محفل کے بعد وہ مجھے اپنے گھر لیں گئی وہاں ان کے کمرے میں بے شمار۔ شیلڈ ایوارڈ۔ گولڈ میڈل۔ اور ان کی بے شمار کتابیں دیکھ کر حیران ہی رہ گی خود کو ایک عام سی خاتون کہلانے والی کتنی خاص ہے ۔اور وہ گوہر نایاب ہیں جو انکھ سے اوجھل رہے کر عام پتھروں کو تلاش کرکے ان کی تراش خراش کا کام کرتی ہیں انہیں تراش کر ہیرا بناتی ہیں ۔ اور یہ وہ روشنی کا چراغ ہیں جو خود جلتا رہتا ہے مگر دوسروں کو روشنی عطا کرتا ہے۔ یہ سب صرف ایم زیڈ کنول ہی کرسکتی ہیں ۔کسی اور میں یہ دم کہاں ۔میرے ان کے گھر دودن کے قیام سے ان کی شخصیت ۔ان کی گفتار ان کے عمل ان کی اداب سے عشق اپنے روحانی رشتوں چاہے سے جڑت وہ خون کے ہوں یا خلوص کے ہوں ۔ایک بات کو جانا ہے۔ ایم زیڈ کنول ہر ایک کام میں ماہر اور نمبر ون ہیں اور اپنے از خود زمہ لیے کاموں کو پوری سچائی اور ایمانداری سے نبھارہی ہیں۔ وہ تو میری سوچ سے بھی بہت عظیم اور بلند ہیں اللہ تعالی ہمیشہ اس کو وہ تمام خوشیاں عطا کرے جس کی انہوں نے خوائش کی ہو اللہ پاک اسے اس کے عظیم اور نیک مقصد میں ہمیشہ کامیاب کرے امین ۔وہ اداب سے پیار کرنے والے گمنام لوگوں کو دھونڈھ کر بغیر کسی صلہ کے بغیر کسی زبان رنگ نسل کے اس محفل میں لاکھڑا کردیتی ہیں۔ جہاں اس کی نیشنل اور انٹر نیشنل کی سطح پر ایک پہچان شناخت بن جاتی ہے ۔ادابی حلقے اور اداب کو پرموٹ کرنے کے لیے جگنو انٹرنیشنل کے نام سے ادبی تنظیم بنارکھی ہے ۔ایم زیڈ کنول اپنے کام میں متحرک ادبی مجلس کے تمام اداب سے خوب واقف ہے۔
ایم۔زیڈ کنول خوبصورت مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت حرف کی عظیم شاعرہ اور ماہر تعلیم بھی ہیں۔ایم زیڈ کنول شاعری کے تمام پہلو سے خوب واقف ہیں۔اللہ تعالی نے ان کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔وہ ہر موضوع پر لکھنے کے فن سے خوب اشنا ہیں۔اج کل پوری دنیا اور میڈیا میں ہر عام وخاص کی زبان پر زیر بحث رہنے والا موضوع کرونا وبا ہے۔ اس وبا نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوے ۔ اپنی معثبت اور منفی اثرات چھوڑے ہیں وہاں پر ادبی حلقہ بھی اس اثرات سے بچ نہ سکا ہے اور اس کا زندہ ثبوت ایم زیڈ کنول ہیں ۔انہوں نے کرونا وبا پر اپنا شعری مجموعہ شائع کرکے کمال مہارت کے ساتھ اپنے احساسات اور محسوسات کی خوب ترجمانی کی ہے۔ ایم زیڈ کنول کے ایک ایک لفظ میں انسانی جان کس قدر قیمتی ہے۔اس کی حفاظت کتنی اہم ہے ۔کے جزبوں کو نمایاں جگہ دی ہے۔ایم زیڈ کنول اپنے بھرپور اعتماد ۔یقین قوت ایمانی اور پوری استقامت کے ساتھ اس صورتحال کے سامنے انکھوں میں انکھیں ڈال کر کھڑی ہیں۔کرونا وائرس وبا پر کسی بھی ادبی دنیا میں یہ پہلا شعری مجموعہ ہے۔اور یہ اعزاز ایم زیڈ کنول کے حصے میں ایا ہے۔
تین ماہ کے مختصر عرصے میں ایسی شاعری کی تخیلق اور پھر لاک ڈاون جیسے نامسائد حالات میں اسے شائع کرا کر قارین کے ہاتھوں تک پہچانا دل اس کی ہیمت کو داد کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔وہ واقعی میں ایک استاد اور اپنے مقصد میں سچی اور اپنے ارادوں کی پکی اور باہیمت خاتون ہیں ۔اور ہمارے ادبی دنیا اور پاکستان کا ہم دوستوں کا قیمتی اثاثہ ہیں اللہ پاک اسے سلامت رکھے اور اس کے عظیم نیک مقصد میں اسے ہمیشہ کامیاب وکامران رکھے امین۔تاکہ حبس کے اس دور میں تازہ ہوا کا جھونکا بن کر ادب کی سانسوں کو بحال رکھنے اور اسے زندہ سلامت رکھنے میں معاون ومددگار رہیں امین ۔

رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے ۔۔۔تبدیلی سونگ


جمعہ، 12 جون، 2020

رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان/بلوچستان ہر وقت ہر حکومت میں نئے سال بجٹ پیش ہونے سے پہلے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی ایک دوسرے کو عوام کے سامنے مقبول بنانے کیلئے کوئی بجٹ پیش ہونے سے پہلے ایک دوسرے کی صفائی پیش کرنے کی کوشش

رپورٹ رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان/بلوچستان ہر وقت ہر حکومت میں نئے سال بجٹ پیش ہونے سے پہلے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی ایک دوسرے کو عوام کے سامنے مقبول بنانے کیلئے کوئی  بجٹ پیش ہونے سے پہلے ایک دوسرے کی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں حزب اختلاف کا رونا کہ ہمیں ہمارے علاقے کی مطابق بجٹ میں حصہ نہیں دیا جارہا ہے اس سے حزب اختلاف اپنی صفائی عوام کے سامنے پیش کرتا ہے اور حزب اقتدار بھی عوام کے سامنے اپنا کردار کو بڑھ چڑھ کر پیش کرتا ہے کہ پورے صوبے میں ترقیاتی کام زرو شور سے جاری ہیں حالانکہ گراٶنڈ پر کچھ بھی نہیں اب عوام کے سامنے حزب اقتدار اپنے صفائی پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ حزب اختلاف عوام سے مخلص نہیں ہمیں کام کرنے نہیں دیتے جہاں میرا ایک ذاتی رائے ہے کہ ہردوسر ایک دوسرے کی صفائی عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اسکا واضع مثال دوسرے دن کمیٹی بن گئی اور ہردوسر راضی ہوگئے  جو کل حزباختلاف اور حزب اقتدار نے عوام کے سامنے دکھانے کیلئے جو کچھ کیا وہ قائرین کے خدمت میں پیش ہے اہم حکومتی اتحادی جماعت بی این پی کا وفاقی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ، ذرائع

وفاقی بجٹ،اہم اتحادی جماعت حکومتی رویے سے نالاں
چھ نکاتی ایجنڈے پر کوئی عملددرآمد نہ ہوسکا،
لاپتہ افراد کی بازیابی کے برعکس تعداد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے،
حکومت ابتک نادرا ایکٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی آرڈننس میں ترامیم نہ کرسکی،
حکومتی مذکراتی کمیٹی غیر فعال ہوچکی ہے،
پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصبوبوں کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، بی این پی ذرائع
مفت میں ثواب کے لئے پی ٹی آئی کے حمایتی نہیں بن سکتے،پارٹی رہنماؤں کا موقف
 *بلوچستان نیشنل پارٹی کے سی سی ممبر ایم این اے رخشان ڈویژن حاجی میر محمد ہاشم نوتیزئی نے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر آحمد شاہوانی ۔چئیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اختر حسین لانگو ۔ضلع کوئٹہ کے صدر میر آحمد نواز بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں کے گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نااہل صوبائی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے جمہوری احتجاج ہر کسی کا جمہوری اور آئینی حق ہے بلوچستان میں بی این پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آنے والی بجٹ میں نظر انداز کرنے اور صوبائی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی تو انھیں پابند سلاسل کیا گیا انہوں نے کہا کہ تحریکیں جیل اور قید و بند کی صعوبتوں سے مزید مضبوط ہوتی ہیں بی این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہوئی ہے پارٹی کے  پارلیمانی اراکین کی گرفتاریاں صوبائی حکومت کی نااہلی اور منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے بی این پی کے اراکین اسمبلی نے بلوچستان کے عوام کی آواز بن کر آواز بلند کردی جس سے نااہل صوبائی حکومت سیخ پا ہوگئی اور پارٹی رہنماؤں کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بی این پی کے ساتھ ہیں اور اراکین اسمبلی کی بے جا گرفتاری پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سے سے خیر کی توقع رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ بی این پی  حکمرانوں کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق ،سچ اور عوام  کی حقوق کے لیئے آواز بلند کرتی رہے گی  اور اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کبھی مرعوب نہیں ہو سکتے۔*کوئٹہ میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعلیٰ ہاﺅس کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا معاملہ
کوئٹہ ریڈ زون کو رکاوٹیں لگانے ،احتجاج کی اجازت نہ دینے پر بلوچستان اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع
اپوزیشن جماعتیں پرامن احتجاج کیلئے وزیراعلیٰ ہاﺅس جانا چاہتی تھیں،تحریک استحقاق کا(متن)
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے نہ صرف رکاوٹیں لگائی گئیں بلکہ اراکین اسمبلی سے بدتمیزی بھی کی گئی،
اراکین اسمبلی کے ساتھ اس طرح کے رویے کی ذمہ داری آئی جی پولیس،ڈی آئی جی پر عائد ہوتی ہے،
اراکین اسمبلی کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھنے سے انکا استحقاق مجروح ہوا ہے،متن
 کوئٹہ اپوزیشن رہنماوں کی میڈیا سے بات چیت
ظالم اور جابر حکمرانوں نے ہماری وجہ سے میڈیا کا راستہ بھی روکا،
ہماری آواز سنے کیلئے ان ظالم کو میڈیا گوارہ نہیں۔
میڈیا پر پورے ملک میں پابندی لگی ہے اس کی مذمت کرتے ہیں
 ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے حکمرانوں کو پسند نہیں۔
 جماعتوں نے  بلوچستان کے عوام کے حقوق کی آواز  ہمیشہ بلند کی ہے۔
 وزیراعلی صوبے کے انتظامی سربراہ ہے وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کریں۔
چند دن قبل وزیر اعلیٰ کی جانب سے اطلاع آئی کہ بجٹ کیلئے تجویز دیں۔
ہم نے اپنے حلقوں میں ضروریات کو مدنظر رکھ کر تجویز دیں۔
لیکن آج  تک ہمارے تجاویز پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
کورونا سے متعلق وزیر اعلیِ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تین کمیٹیاں بنانے کا وعدہ کیا گیا ۔
آج تک کمیٹیاں نہیں بنائی گئی اور نہ ہی کوئی میٹنگ ہوئی
 اس سےبڑا دھوکہ آج تک بلوچستان کی عوام کو نہیں دیا گیا،
آج آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کے ساتھ دشنوں والا سلوک کیا جاتا ہے۔
اس وقت کورونا سے بلوچستان میں کئی لوگ مر چکے ہے،
ہمارے حلقے بھی جام کے حلقے کے برابر لوگ ہے  لیکن انہیں نظر انداز کی جارہا ہے۔
اپوزیشن کے حلقوں میں کو بھی برابر سمجھا جائے، ہمارے حق کو تسلیم کرنا ہوگا اور ہم تسلیم کرائیں گے،
کورونا کے مدد میں طبی عملے پر کوئی خرچ نہیں کی گئی۔
کورونا سے متعلق ایک ایک پائی کا حساب لینگے۔
حکومت کورونا کے پھیلاو کو روکنے میں ناکام ہوگئی ہے اسے مستعفی ہونا چاہیئے،،ملک سکندر ایڈووکیٹ
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بی این پی پارلیمنٹیرینز اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی غیرقانونی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
ساجد ترین کا کہنا تھا کہ مجھے اس کے بارے میں دیر سے معلوم ہوا جب میں آج مستونگ سے واپس آیا ، میں ان سے  جیل میں ملوں گا اگر نااہل حکومت انھیں فورا رہا نہیں کرتی ہے تو ہم اس معاملے کو بلوچستان ہائیکورٹ میں لے کر جائیں گے اور بلوچستان کے وکلاء حزب اختلاف کے رہنماؤں کے لئے آواز اٹھائیں گے ..
نااہل حکومت نے نااہلی کی تمام حدیں پار کردی ہیں اور ہم حکومت کو اب مزید اس صوبے کا مذاق اڑانے نہیں دینگے۔
خاران بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی غلام حسین بلوچ نے اپنے ایک بیان میں بی این پی کے اراکین صوبائی اسمبلی پارلیمانی لیڈر  ملک نصیر شاہوانی ضلعی صدر کوئٹہ آحمد نواز بلوچ اختر حیسن لانگو کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ھیکہ پارٹی کے ارکین صوبائی اسمبلی کو ایک جمہوری احتجاج کے دوران گرفتار کرکے صوبائی حکومت نے اپنی بوکھلاہٹ ثابت کر دی ہے انھوں نے کہا کہ حق کی بات کرنا اور ناانصافی کے خلاف بولنا اور سرپاء احتجاج بننا بلوچستان میں اپوزیشن اراکین کا حق ہے صوبائی حکومت کا ٹریفک یکطرفہ ہے اور بی این پی کے اراکین اسمبلی کو انکے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کے حلقوں میں مداخلت کرکے انکے فنڈز کو روکا گیا ہے جو انتقامی کاروائی ہے انھوں نے کہا کہ بی این پی کے اراکین صوبائی اسمبلی بلوچستان کے عوام کی اجتماعی آواز ہے انکی گرفتاری کسی صورت قابل قبول نہیں حاجی غلام حسین بلوچ نے کہا کہ ملک نصیر شاہوانی اخترحسین لانگو اور آحمد نواز کی گرفتاری سے شدید تشویش لاحق ہے کوئٹہ انتظامیہ نے انکے کھانے پینے کی اشیاء سمیت پانی تک چھین کر ناکام صوبائی حکومت کے ایجنڈے کو دوام بخشی ہے حاجی غلام حسین بلوچ نے پارٹی کے پارلیمانی اراکین کی فوری رہائی کا مطالعبہ کی ہے:::
حکومتی ترجما کی وضاحت اور پارٹی ارکان کے حزب اختلاف کے احتجاج پر رد عمل:: ترجمان بلوچستان حکومت کی اپوزیشن کی احتجاجی ریلی کے دوران کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری کی سختی سے تردید
۔پولیس نے ریلی میں شامل کسی بھی رکن اسمبلی کو گرفتار نہیں کیا۔
۔ریلی میں شامل تما م اراکین اسمبلی ریڈ زون میں داخل ہو کر وزیراعلئ سیکریٹریٹ کے سامنے موجود ہیں۔
۔حکومت کی جانب سے پولیس اور انتظامیہ کو نہ تو گرفتاری کی ہدایت کی گئ اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔
۔پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے استحقاق مجروح کیۓ جانے کا اپوزیشن کا الزام درست نہیں۔
۔ریلی کے شرکاءکا پانی  اور دیگر سامان ضبط کرنے کا دعوی بھی بے بنیاد ہے ۔
۔اپوزیشن کی ریلی دفعہ 144کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ ریڈ زون میں داخل ہوئ  پولیس نے نرمی کا مظاہرہ کیا۔ترجمان
 کوئٹہ
بلوچستان عوامی پارٹی کےسنیئر صوبائی رہنماحاجی میر نوراللہ لہڑی نے وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان عالیانی کےخلاف اپوزیشن جماعت کی جانب سے کی جانے والی احتجاج اورنعرے بازی کی شدید الفاظ میں مذمت  کرتے ہوئے کہا ہےکہ پرامن اپنے جائزمقاصد کےلیےاحتجاج کرنا ہرکسی کاحق ہےمگر غیرقانونی،غیرآئینی اورغیر جہموری اقدارکی پامالی کرکے ذاتیات کےبیناد پرکسی کو ہدف بنانے کا احتجاج جہموری روایات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اگر کوئی بھی غیرقانونی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے تو قانون حرکت میں آنے کے عمل کو غلط نہ سمجھ جائے انہوں نے کہاکہ بجٹ قریب آتے ہی اپوزیشن کو احتجاج یاد آگئی ہے کیونکہ انہوں نےعوام کےلیےکچھ نہیں کیا اب واویلا کرکےعوامی اعتماد حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے تاکہ بلوچستان کے آنے والی عوام دوست بجٹ سے توجہ ہٹایا جائے جام کمال خان تمام علاقوں کی یکساں ترقی اورخوشحالی پر یقین رکھتے ہیں اورانہوں نے تمام اراکین اسمبلی کو بلاتاخیرفنڈز کی فراہمی کو ہمیشہ یقینی بنایاہےانہوں نےکہاکہ وزیر اعلی جام کمال خان عالیانی اوراس کے والد پرنس محمد یوسف عالیانی سمیت جام خاندان کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے انہوں نے بلوچستان کے عوام کی جو خدمت کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی اب جام کمال خان عالیانی کی قیادت میں صوبائی حکومت صوبے سے پسماندگی کے خاتمے اور عوام کی معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جو عملی اقدامات کیے جارہے ہیں ماضی کی کسی بھی حکومت نے نہیں کیئے ہیں  جام کمال خان عالیانی بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ صوبے اور عوام کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھکر حکومت کے ساتھ ملکر صوبے کی تعمرو ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں
 صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ اپوزیشن اراکین کا وزیر اعلی جام کمال خان کے لیے نازیبہ الفاظ استعمال کرنے کا مقصد اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لیے گرفتار ہونا چاہتے ہیں ایسی زبان استعمال کرنا شائستہ قوموں کی پہچان نہیں ہے کیونکہ بلوچستان تیز ترین ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے اپوزیشن کی تمام تر رکاوٹوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود ہماری صوبائی حکومت انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ عوامی خدمت میں مصروف ہیں لیکن اپوزیشن کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہےوزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر اپوزیشن اراکین کو معافی مانگنی چاہیے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے آفس سے جارہی بیان میں کیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ خالق اباد سمیت پورے صوبے میں ہمہ گیر ترقی کا دور شروع ہو چکا ہے جس پر محکمنہ کوششیں قابل ستائش ہیں انہوں نے کہا کہ میں قلات سمیت خالق اباد کی تیز رفتار ترقی چاہتا ہوں صوبے کے تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ اضلاع کی صف میں کھڑا کرینگے موجودہ صوبائی حکومت عوامی فلاح وبہبود کے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے ماضی کی حکومتیں اور پارٹیاں عوام کو زبانی جمع خرچ اور کھوکھلے نعروں پر ٹرخاتی رہیں مگر آج عوام ماضی اور موجودہ حکومت کے کام میں واضح فرق محسوس کرنے لگے ہیں ہم عوام کے اعتماد کو ہر گز ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ۔اختر حسین لانگو اور ملک نصیر شاھوانی اپنی اوقات اور حد میں رہیں
ملک نصیر شاہوانی و دیگر اپوزیشن اراکین کی جانب سے نواب آف لسبیلا وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور مرحوم بابا جام محمد یوسف کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اپوزیشن سیاست کرے نہ کہ زاتیات ہمارے نواب شریف ہیں لیکن لسبیلا کی محب وطن غیور عوام اپنے نواب جام آف لسبیلا کے دفاع کا حق بہتر طریقے سے جانتی ہے
سیاست اپنی جگہ ہمارے بڑوں کے خلاف نا زیبا الفاظ برداشت نہیں کئیے جائینگے
اپوزیشن کی اس حرکت سے اہلِ لسبیلا کی عوام کی دل آزاری ہوئی ہے ملک نصیر شاہوانی و دیگراپوزیشن ارکان اپنے اس حرکت پر عوام سے معافی مانگیں
عبدالشکور اکبر رونجھا بلوچستان عوامی پارٹی لسبیلا بلوچستان
"اپوزیشن لیڈران کی جانب سے وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہے . میر عارف جان محمد حسنی
سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ہمارے لیڈر اور قائد جام کمال خان کی ذات اور خاندان کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال نہایت تکلیف دہ بات ہے۔
 اختلافات اور تنقید کو سیاست کی خوبصورتی مانا جاتا ہے مگر سیاسی لیڈروں کی ذات پر نازیبا الفاظ کسنا اخلاقیات اور سیاست کے زمرے میں نہیں آتا اور اس طرح کے عمل کا ہمیں نہ ہی ہماری ثقافت اجازت دیتی ہے اور نہ ہی ہمارا مذہب اور نہ معاشرہ۔
 وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ایماندارانہ طرز حکمرانی سے بلوچستان عوامی پارٹی اپنی مخلوط حکومت میں صوبے میں تاریخی منصوبوں اور ترقیاتی کاموں کا جال بچھارہی ہے مگر اپوزیشن رہنماؤں کو یہ ترقی اور ایمانداری نظامِ حکومت سے اپنی سیاست دفن ہونے کا ڈر ہے جس سے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ہمارے قائد کے ذات پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے پراترآئے جو کہ قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت ہے۔
مزاکرات: کوئٹہ حکومتی وزراء کی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن میں ابتدائی بات چیت اختتام پذیر،  اپوزیشن نے احتجاج جمعہ تین بجے تک موخر کر دیا گیا،  ایم پی اے میر احمد نواز بلوچ
 وزراء سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں،  سربراہ صوبائی حکومت سے یقین دہانی چاہتے ہیں،  اپوزیشن اراکین
  صوبائی وزراء کی درخواست پر جمعہ تین بجے تک احتجاج موخر کرتے ہیں مذاکرات صرف وزیر اعلی سے ہی ہونگے اپوزیشن اراکین
 اپوزیشن نے وزیر اعلی بلوچستان سے مذاکرات کے لئے ملک سکندر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں پارلیمانی لیڈرز کی تین رکنی کمیٹی نامزد کر دی،  میر احمد نواز بلوچ
 کمیٹی کے سربراہ اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ اور اراکین بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی اور پی کے میںپ کے نصراللہ زیرے ہونگے،  میر احمد نواز بلوچ
 کمیٹی وزیر اعلی کے سامنے دو ٹوک موقف رکھے گی شکست خوردہ افراد کو ترقیاتی فنڈز سے دور رکھا جائے ، میر احمد نواز بلوچ
 اپوزیشن کے تمام حلقوں کو حکومتی اراکین کے تناسب سے آئینی حق دیا جائے ، اپوزیشن اراکین کا مطالبہ
اپوزیشن کے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پورے صوبے میں ہڑتال کی کال دیں گے،  اپوزیشن اراکین 

روح اقبال سے معذرت کے ساتھ کچھ شکوے نمرہ ملک کے قلم سے


(روح اقبال سے معذرت کے ساتھ کچھ شکوے
نمرہ ملک کے قلم سے)

اقبال! تیرے دیس کی کیا بات کروں میں 
اقبال! سچ کہوں یا جذبات لکھوں میں 
اقبال! ساری قوم ہی بے حس ہو گئی
اقبال! قوم کی کیا کیا بات لکھوں میں 

اقبال! ہم سارے ہی کرپٹ لوگ ہیں 
بظاہر بڑے شریف بڑے دین دار ہیں 
اندر خباثتوں کے ہیں گند پڑے ہوئے
ویسے نمازی حاجی ہم جی دار ہیں 

اقبال! اسلام کو ہم نے پردہ بنا لیا 
اور اندر کے میلے پن کو خدا بنا لیا
غیروں نے سارا خلق ہمارا اٹھا لیا
بدلے میں ہم نے ان کا وطیرہ سجا لیا

اقبال! تیرے دیس میں وبا پھیل گئی
اور پوری قوم کو مل گیا ہے کھیل 
سب اپنی زندگی کا مذاق بنا رہے ہیں 
اور موت پنجے تیز کئے بنا رہی ہے جیل

اقبال! خدائی عذاب ہے وبا بنا ہوا 
اور لاک ڈاؤن طوطی کی صدا بنی رہی
مسنخرے بنے رہے،کرونا کو دیکھ کر
ہائے ہونٹوں کی ہر دعا ،بد دعا بنی رہی

اقبال! تیرے دیس میں خطباء زلیل ہیں 
اسلام دشمنی میں فقہاء زلیل ہیں 
سچ کی پاداش میں یہاں گواہ زلیل ہیں 
ذلت کی بات ہے کہ علماء زلیل ہیں

اقبال !بے حیاؤں کو ہے عزت ملی ہوئی 
یہاں جو جتنا چور ہے،وہ عزت دار ہے
اقبال! سچ کہوں تو قوم ہی مر گئی 
اقبال!جس قوم کا ایمان ہی کاروبار ہے

اقبال !تیرے دیس میں کوئی ناخدا نہیں 
اقبال !کوئی راہبر رہانہ کوئی رہنما ہے
اقبال! تیرے شہر میں فرعون بہت ہیں
اقبال! تیرے دیس کا ہر شخص خدا ہے

اقبال! راہزنوں نے ہیں ڈیرے جما لیے
زردار،شریف،خانوں نے ڈیرے سجا لیے
کوڑے کے ڈھیر ہوس کے گند سے بھر گئے 
منصف نے نام عدل پہ ڈالر کما لیے

اقبال اس قوم کےلیے دیکھے تھے خواب کیا؟
اس خواب کی تعبیر میں ملے ہیں جواب کیا؟
اقبال!اس خواب کے لیے سہے تھے عذاب کیا؟
اقبال!اس خواب کے لیے لٹے تھے حجاب کیا؟

اقبال! اخ تھو! تیرے دیس کے عدل پہ
اقبال! اخ تھو !تیرے شرفا کی چپ پر
اقبال! اخ تھو ! اس سیاست کے کھیل پر
اقبال! اخ تھو !تیرے بادشاہ کی چپ پر

نمرہ ملک


منگل، 9 جون، 2020

تم پاس رھو میرے /نمرہ ملک ۔تلہ گنگ

”تم پاس رہو میرے“

نمرہ ملک
”تم پاس رہو میرے
میری ہر تحریر بھی تم۔۔میری ہر تصویر بھی تم!
جو خواب کبھی دیکھے۔۔ان کی تعبیر بھی تم!
میرے ماتھے پہ لکھی۔۔دلکش تقدیر بھی تم!
کیا تم سے کہوں جاناں!تم ہو تو میں ہوں جاناں!
پہلے ترا نام لکھوں۔۔جب کچھ بھی لکھوں جاناں“!
درثمن بلال کا کتابی شکل میں آیا یہ ناول نام سے ہی اتنا دلر با لگتا ہے کہ بے اختیار گنگنانے کو دل کرتا ہے کہ ”تم پاس رہو میرے“!اتنا دلکش،اتنا نیچرل اور محبت بھرے رشتوں سے گندھا یہ ناول بے اختیار قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔بلا مبالغہ یہ ناول میں نے اک ہی نشست میں پڑھا اور پڑھنے کے بعد دیر تک اس کے زیر اثر رہی اور مجھے یقین ہے یہ ناول بہت سارے محبت کرنے والوں کے لیے اچھے تحفے کی صورت اختیار کرے گا۔
درثمن بلال کے لفظوں نے مجھے کب سے متاثر کرنا شروع کیا نہیں معلوم!لیکن جب جب میں نے خواتین کے رسائل میں اس کی کوئی تحریر،کوئی تبصرہ دیکھا تو دل کرتا کہ اس اپنے جیسی لڑکی سے ملا جائے!در ثمن کی اک عام سے گھر کی خواہش کرتی،اپنے گھر کے لیے دل و جان سے قربان ہوتی،انا کے لیے دل پہ پاؤں رکھ لینے والی،امید پہ قائم اور خوددار سی ہیروئن بالکل اپنی کہانی لگتی ہے،پھر سب سے بڑی بات کہ درثمن لفظوں میں الجھانے کے بجائے صاف سیدھی اور کھری بات کر جاتی ہے بالکل یوں لگتا ہے کہ میں نے سو چا اور درثمن نے میری سوچ کو لفظوں میں ڈھال دیا!ہے نا عجیب بات!!
درثمن نے لکھنا تو شائد تب سے شروع کر دیا جب وہ کہانیوں کو اپنے شعور میں محسوس کرتی تھی،لیکن اس کی پہلی باقاعدہ ناول کی صورت آئی تحریر ماہنامہ ’کرن‘ میں چھپی جس کا نام تھا ”چلو کچھ دئیے جلائیں“اس کے ناول کے نام ہی اس قدر دلکش ہیں کہ پڑھے بنا بندہ نہیں رہ سکتا۔”اے عشق ترے ہیں کھیل عجب“!بھی درثمن کا دل کو چھو لینے والا ناول ہے۔حال ہی میں کتابی شکل میں آنے والا نیا ناول ”تم پاس رہو میرے“جب مجھے ڈاک سے موصول ہوا تو درثمن کے عید کے اس تحفے سے ذیادہ اس کے ان لفظوں نے مری عید کروا دی۔
”نذر نمرہ ملک
آسمان صحافت پر چمکتا ستارہ جو اپنی محبت امیز کرنوں سے دلوں کی دھرتی کو ہمہ وقت منور کئے ہوئے ہے!
جسے نمرہ ملک کہا جاتا ہے“!!
صاحب!سچ کہتی ہوں،درثمن بلال کو محبت کی مٹی سے گوندھا گیا ہے!
ایسی مٹی جس میں ملاوٹ کی گنجائش ہی نہیں بنتی!
ایسی مٹی جس کے لفظوں کے زروں میں ہجر کی خاک اڑتی ہے مگر جو امید کے پانی سے کبھی خالی نہیں ہوتی!
درثمن کے لفظ بنجر زندگیوں کو بھی اس خوبصورتی سے صفحہ قرطاس پہ سجاتے ہیں کہ بے اختیار دل کہہ اٹھتا ہے کہ وصال کے لمحوں سے تو ہجر کی چاشنی میں زیادہ مزا ہے!
اندازہ کریں جب ہجر میں اتنی مٹھاس بھر دیتی ہے یہ لڑکی تو وصل کے لمحوں کو تو وصل بھی شوق سے پڑھتا ہو گا!!
”تم پاس رہو میرے“ درثمن کا ایسا ہی ناول ہے جس میں درد جھانجھریں چھنکاتا پھرتا ہے،ہجر کا خونخوار جبڑا مسلسل جوانیوں کو روگ لگائے پھرتا ہے مگر امید کہیں بھی دامن سے الگ نہیں ہوتی۔اس ناول کے مرکزی کردار ماہین اور دوریز جیسے دو مکمل انسان لیکن محبت کے ادھورے روگی ہیں جو اک حاسد دوست کی لگائی آگ میں اٹھارہ سال جلتے ہیں لیکن بالاخر اک دوسرے کو مل جاتے ہیں تو نفرت کی ساری دیواریں گرا دیتے ہیں۔اسی ناول کا اک اور کردار عارفہ ہے جو دنیا دار،حاسد اور مفاد پرستی کی گہرائیوں میں گری ہے،جسے نہ اپنی نسوانیت عزیز ہے نہ ہی اپنی بیٹی پریشے!۔وہ صرف دولت کی پجارن ہے،اور کئی شادیوں کے بعد بھی نامراد رہتی ہے۔وہ ماہین اور دوریز کی زندگی میں جھوٹ اور حسد کا زہر گھولتی ہے لیکن آخر تنہا رہ جاتی ہے،خدا کی پکڑ اسے گرفت میں لیتی ہے اور دنیا اور آخرت تباہ کر کے کینسر جیسے مرض کے ہاتھوں سسک کر مرجاتی ہے۔اس کا شوہر سہیل بھی اسی جیسا ہے جو دو شادیاں کر کے بھی سکھ نہیں پا سکتا۔درثمن نے بہت خوبصورتی سے ان کرداروں کے زریعے معاشرے کے ان ناسوروں کو بے نقاب کیا ہے جو ہمارے گرد بہتان اور حسد کے زریعے جال بنتے اور کئی گھر تباہ کرتے ہیں لیکن اخیر میں ان کا مقدر زلت اور رسوائی ہی ہوتی ہے۔
پریشے عارفہ کی بیٹی ہے جسے اپنی ماں کی روش سے نفرت اور اس کے تجربات کی وجہ سے اک ایسے گھر کی چاہ ہے جسے وہ جان مار کر گھر کہہ سکے۔ سمیر اوراس کی ماں سارہ جو عارفہ کے ڈسے ہوئے ہیں،اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا پول کھل جاتا ہے۔پریشے گھر بچانے کے لیے طلاق کے بعد حلالہ کرنے کے لیے انزک جیسے شریف النفس اور خوددار انسان سے نکاح کرتی ہے مگر سمیر کی اصلیت سامنے آنے پہ انزک کے ہی گھر کو ترجیع دیتی ہے۔انزک افاق کا خاندان محبت،خلوص اور روایت کا گہوارہ ہے جو کورٹ میرج کر کے آئی پریشے کو دل سے قبول کرتے ہیں۔یہاں انزک کی ماں صابرہ کا اک جملہ اس کے اعلی کردار اور خاندانی اوصاف کی گواہی دیتا ہے جب وہ انزک کو تنبیہ کرتے ہوئے کہتی ہے”بس ایک بات کا خیال رکھنا،پری نے تمہاری خاطر بہت بڑی قربانی دی ہے،کبھی پچھتاوے کا احساس اس کے دل میں جگہ نہ بنا پائے،وہ ہمیشہ اپنے انتخاب پہ ناز کرتی رہے“۔حالانکہ پریشے سمیر سے طلاق کے بعد محض حلالہ کی نیت اور سمیر کے انتظار میں سانزک کے ساتھ رہ رہی ہے لیکن انزک کی شرافت،اس کا خاندانی ماحول اور محبت اسے جکڑ لیتی ہے۔وہ ہمارے معاشرے کے عام خاندان کی نسبت اک ایسے مخلص گھرانے میں آتی ہے جو کورٹ میرج والی لڑکی سے بھی خاندانی بہو جیسا بے مثال سلوک کرتے ہیں۔در ثمن کا تخلیق کردہ یہ خاندان اس کی اچھی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہین اور دوریز نے بھی اگرچہ گھر والوں کی مرضی کے بغیر شادی کی اور ان سے الگ ہوئے تھے لیکن  بیس سال بعد خون کے رشتوں نے پائیداری کا ثبوت دیتے ہوئے ماہین کو گلے سے لگا کر ثابت کیا کہ خون پانی سے بہت گہرا ہوتا ہے جو کبھی نہیں مٹ سکتا۔
اسی کہانی کے تین کردار ماہین کے دو بھتیجے شاہ ویز،انوش اور پارس ہیں جو الگ الگ حثیت میں اپنی زات کا سکہ جماتے ہیں۔شاہ ویز بگڑا ہوا ہمارے معاشرے کا وہ مرد ہے جو انا پہ چوٹ برداشت نہیں کرتا اور سانپ کی طرح بدلہ لینے پہ کمربستہ ہے،انوش اس کی محبت بھی ہے اور بدلہ بھی لیکن یہاں محبت بدلے پہ حاوی آجاتی ہے۔دوسری طرف پارس اک ایسے نوجوان کا کردار ہے جس کے نزدیک رشتے زاتی خواہشات سے بہت آگے ہیں۔وہ انوش سے منگنی کی بجائے شاہ ویز کی اس سے نسبت کروانے میں کردار ادا کر کے اعلی ظرفی کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتا ہے۔ لکھاری اپنی سوچ کو ہی کاغذ پہ لفظوں کا جامہ پہناتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ درثمن اپنی اعلیٰ سوچ کو یہاں پیش کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوئی ہے۔
انزک کی پھوپھو ستارہ اگرچہ شوہر کے ظالمانہ سلوک کی وجہ سے بے جی (انزک کی دادی)کے پاس ہے،لیکن جب شوہر شرمسار ہو کر اس کے پاس لوٹتا ہے تو وہ اولاد اور گھر بچانے کے لیے چلی جاتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ عفو و درگزر عورت کا ہی ظرف ہے۔یہاں در ثمن نے خوبصورتی سے بتایا کہ عورت کا شوہر کتنا ہی برا اور بد کردار کیوں نہ ہو،ہمارے معاشرے میں ہر حال میں عورت کو ہی سمجھوتہ کر کے گھر بچانا پڑتا ہے۔عورت اگر قربانی نہ دے تو شائد کوئی گھر بھی قائم نہ رہے۔
اسی کہانی کا اک کردار ریکھا اگروال ہے جو دوریز سے شدید محبت کرتی ہے،وفا کی مثال قائم کرتے ہوئے اس کی مرضی سے شادی کر لیتی ہے۔دوریز،ریکھا،پری،پارس،بے جی اور حمیرا بھابھی محبت کے اعلی کردار بن کے سامنے آتے ہیں۔
درثمن کی تحریریں اس کی زات کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہیں،اس کی کہانیاں ہمارے ارد گرد کی حقیقی کہانیاں ہیں۔ا س ناول کے بعد جملے دل کو چھو جاتے ہیں۔ملاحظہ کیجیے
”غلطی کی معافی اک بار ملتی ہے،جبغلطیوں کی عادت پڑنے لگے تو معافی نہیں ملا کرتی“۔
”جہاں آپ جیسی بھابھیاں ہوں،وہاں میکے کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے“
”ستارہ پھوپھو!کچھ لوگوں کو کو جانے سے نہیں روکتے،انہیں روک لین تو زندگی رک جاتی ہے۔زندہ رہنے کے لیے کچھ لوگوں پہ زندگی کے دروازے ہمیں خود بند کرنا پڑتے ہیں“۔
”زندگی بھر خود فریبی اور خوشگمانیوں میں رہنے سے بہتر ہے کہ انسان اک بار ہی خود کو جھلستی ہوئی حقیقت کے سپرد کر لے“۔
”میری وہ بددعائیں جو میں نے تمہیں کبھی بول کر نہیں دیں،وہ تمہیں ہمیشہ ڈراتی رہیں گی،پیچھا کرتی رہیں گی“۔
”میاں بیوی کو اک دوسرے سے دور کرنا شیطان کا من پسند کام ہے،بیوی کو شہر کے نصف ایمان کا وارث کہا گیا ہے اور اچھی بیوی وہی ہوتی ہے جس سے اس کے شوہر کو سکون حاصل ہو“۔
”دھوکا انسان کو مار ڈالتا ہے۔جو تعلق انتقام کے لیے جوڑے جاتے ہیں،انہیں قدرت جلد منظر عام پہ لے آتی ہے تاکہ ہم زندگی کو اس وقت جینا سیکھیں جب زندگی ہمیں ہمارے پیاروں اور چاہنے والوں کے زریعے ”مار“ رہی ہوتی ہے لیکن اس کے بعد ہم مضبوط ہو جاتے ہیں“۔
اک اک جملے میں مصنفہ نے بہ گہرے رویے سمو دئیے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ شاعری کا خوبصورت انتخاب قاری کے شاعرانہ زوق کی بھرپور تسکین کرتا ہے۔
درثمن بلال کا یہ ناول معاشرتی رویوں کا شاہکار ہے۔اس نے ہر ہر کردار سے بھرپور انصاف کیا ہے۔بس ایک گلہ ہے کہ اس نے کہیں کہیں اردو میں بھی انگریزی استعمال کی ہے۔جیسے یلو ڈریس پہن رکھا تھا،وغیرہ۔اردو لکھاریوں کو اردو کی ترویج کے لیے اردو کے ہی الفاظ استعمال کرنے چاہیں البتہ ماحول اور کردار جیسے بھی بولیں ان کے حالات کے مطابق ہر زبان استعمال کی جاسکتی ہے۔
صاحب!درثمن کو اللہ نے حسن قلم عطا کیا ہے،وہ کرداروں کے روئیے،ارد گرد کے ماحول اور خوبصورتی کو بہت دلنشین انداز میں سامنے لاتی ہے۔یہ اک لکھاری کی بڑی کامیابی ہے کہ قاری اس کی تحریر میں کھو جائے اور خود کو کرداروں میں ڈھلتا محسوس کرے۔اللہ اس کے قلم کی روانی،جولانی اور جوانی قائم رکھے۔

ہفتہ، 6 جون، 2020

فرشتہ یا جلاد ---- ملک نذر حسین عاصم

فرشتہ یا جلاد
---------------------------
ملک نذر حسین عاصم
0333 5253836
===================
اسلام نے ہمیں صرف انسان پر ہی نہیں چوپائے،  پرندوں اور ہر قسم کی مخلوق پر رحم کرنے کا حکم۔دیا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم اس پر کتنا عمل کرتے ہیں آپ نے انسان اور کتے والی بات ضرور سن رکھی ہوگی کہ ایک مسافر کسی رستے پر جا رہا تھا کہ اس کی نظر ایک کتے پر پڑی    جسکی زبان پیاس کی شدت کی وجہ سے باہر نکلی ہوئ تھی اور وہ نڈھال ہوچکا تھا اس شخص کو کتے پر ترس آگیا چنانچہ اس نے کنویں سے پانی نکالا اور کتے کو پلایا تو اسکی جان میں جان آگئ اور وہ دم ہلا ہلا کر اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے لگا۔
موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو انسان وحشی درندہ بن چکا ہے رشتوں کا تقدس اور احترام آدمیت کی تمام حدود و قیود پھلانگ چکا ہے بڑے چھوٹے، اپنے پرائے، اقربا خویش، معصوم، مظلوم،مجبور بےکس، محتاج، غریب، درویش اور جابر قاہر،ظالم سبھی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے بزرگوں سے اکثر سنتے آئے ہیں کہ غریب کی بددعا سے بچو، اسکی بددعا اثر ضرور دکھاتی ہے لیکن سارا معاشرہ ایک ہی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے حضرت انسان ایسے ایسے ظلم ڈھا رہا ہے کہ عرش کانپ جاتا ہے مگر انسان کو دوسرے انسان پر، اپنے ہی بھائ پر ترس نہیں آتا، اسکی چھری کسی کا گلا کاٹنے کیلئے ہروقت تیار ہے جبرو زیادتی کی تمام داستانیں اولاد آدم ہی سے منسوب ہیں کبھی یہ انسان فرشتہ بن جاتا ہے اور کبھی جلاد۔ اسکے کئ روپ ہیں کبھی یہ حادثات میں زخمیوں کیلئے خون دے رہا ہے اور کبھی کوئ جہاز گرتا ہے تو یہ ان لوگوں کا مال متاع لوٹنے میں مصروف ہے
کہیں بے سہارا بچیوں کو جہیز دیکر انکا گھر آباد کر رہا ہے تو کہیں معصوم زینب کے قتل کا مرتکب بن رہا ہے۔
خبر آئ ہے کہ آٹھ سالہ معصوم بچی جو کسی گھر میں خادمہ تھی اس سے کبوتر اڑ جانے کی پاداش میں اسقدر تشدد کیا گیا کہ ابدی نیند سلادی گئ۔یہ کوئ پہلا واقعہ نہیں ہے آئے روز ایسے واقعات ہماری سمع خراشی کرتے  ہیں اخبار میں دو کالم خبر لگتی ہے اعلی افسران کے بیانات جاری ہوتے ہیں اور کہانی ختم ہو جاتی ہے کبھی کسی ملازمہ پر زیور چوری، کبھی پرس چوری ، اور نہ جانے کون کون سے الزامات لگا کر بنت حوا پر ظلم و زیادتی کی انتہا کردی جاتی ہے مجبور و بے کس، نادار و مفلس بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر پھر بھی باز نہیں آتے۔ صاحب اور بیگم ہی نہیں، انکے لاڈلے بھی غریب خادموں سے ہتھوڑے کی زبان بولتے ہیں مگر غربت کے بحر بیکراں میں رہنے والوں کی کوئ زبان نہیں ہوتی۔ صاحب جی کی وفاداریوں میں انکی زندگیاں بیت جاتی ہیں ان غریبوں کا سب کچھ یہ بڑے لوگ ہوتے ہیں کیونکہ انہی کے گھر سے انکا چولہا وابستہ ہے سارے وڈیرے ظالم نہیں ہوتے، ساری بیگمات ڈائنیں نہیں ہوتیں۔ چند لوگ ہوتے ہیں جنہیں دولت کا بخار اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق کو حشرات الارض سمجھتے ہیں لیکن کب تک آخر ظلم و زیادتی کی یہ داستانیں سانسیں توڑتی رہیں گی۔اوپر ایک ذات ہے جو عادل ہے وہ انصاف ضرور کرتی ہے دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔

ایک شخص کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائ گئ تو قریبی احباب نے دریافت کیا کہ تم نے قتل کرکے ہم سے بات چھپائے رکھی اور آج قتل ثابت ہو گیا ہے  اس شخص نے جوابا" وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں چاہو تسلی لے لو یہ قتل میں نے نہیں کیا۔ لیکن چند سال قبل فلاں جو قتل ہوا تھا وہ میں نے کیا تھا مجھے اس قتل کی سزا مل رہی ہے

"شکوہ شکایت " تمنا ظفر سموں کراچی

"شکوہ شکایت "

از قلم تمنا ظفر سموں کراچی

اگر کوئی غلطی پر ہو تو اس کو " وتواصو بالحق" ضرور کرنا چاہیئے-  دل میں ہی رکھے ہوے بد گمانی پالتے رہنا ہرگز  درست نہیں ہوتا ۔ چھوٹی سی بھی” ناپسندیدہ بات“ اگر ذہن میں آجاۓ تو دوسروں سے شکوہ شکایت نہیں کرنا چاہئے -
’’ شکوہ چاہے اللہ سے ہو یا بندوں سے شکوہ انسان کی قدر و قیمت کم کر دیتا ہے اور یہی عمل اسے انسانیت کے معیار کہیں نیچے لے آتا ہے-،،
اول تو کسی رنجش کو دل میں جگہ نہ دیں۔۔۔ لیکن اگر دوسروں سے متعلق  کبھی کوٸی شکوہ  آپ کو زبان تلک لانا ہی پڑے، تو اس کیلیے ایک موثر انداز سیکھئے،  کہ کس طرح دوسروں کی دل آزاری کیے بغیر ان کی تصحیح کی  جا سکتی ہے -  مثلا" ایک شخص کے دل میں آپ کی بہت قدر و اہمیت ہے - مگر آپ جب اُس کی ذات بارے شکایات شروع کریں گے، تو ایک دم گراف نیچے آکر گرتا ہے -
کیونکہ ’’ شکر اور شکوہ میں فرق ہے۔ بلکہ دونوں ایک دوسرے کا متضاد ہیں۔ “ شکر ادا کرنے والے کو مزید عطا کیے جانے کا وعدہ ہے جبکہ شکوہ شکایات کرنے والے رزق اور خیر برکت اٹھا لی جاتی ہے ۔

عورتیں جہنم میں کیوں زیادہ ہوں گی ؟
ناشکری کی وجہ سے، بہت زیادہ شکوہ و شکایت کی وجہ سے- مردوں کے نسبت عورتوں میں یہ شکوہ شکایت کی بیماری نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے - تو ہمیں چاہیئے خود پر قابو رکھیں ، دوسروں کی اغلاط اور ناپسندیدہ اعمال پر صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا سیکھیں ۔۔۔ ایسے زبان کو شکوہ آلود نہیں کرنا چاہیے اور اگر ضرورت پیش آ بھی رہی ہوتو اس کا بہتر سے بہتر انداز کیا ہوسکتا ہے ؟ ........’’ بھول جانا، درگزر یا معاف کر دینا ۔۔۔ اور خدا کے نزدیک سب سے بہترین عمل بھی یہی ہے یعنی مخلوقِ خدا کے ساتھ درگزر کا معاملہ رکھنا ۔
اور
یہ ہم سب کیسے سیکھیں گے۔۔۔۔کیا کریں گے؟ ہمیں سیکھنا ہے  اُن لوگوں سے جو  ’’اھدنصراطالمستقیم ہیں، انعمت علیھم “ ہیں - ان کے ہاں کیا طریقہ تھا  شکوہ شکایت کا؟......................شکایت کرنا ہو تو اس کے انداز بیان  کیا ہونا چاہئے ؟ یہ آپ کے معاملات اور  زبان سے تعلق رکھتا ہے - ......ہمارے آس پاس بہت سی مائیں کیا کرتی ہیں بچوں کو ذہنی انتشار میں مبتلا کرنے کے ساتھ ایک ہی دھمکی دیتی پاٸی جاتی ہیں ”تمہارا باپ آئے گا شکایت کرتی ہوں تمہاری ،“ اور پھر باپ کے سامنے ہی بچے کو ذلیل کرنا شروع کر دیا جاتا ہے  !!!.......
غور کریں کہ بچے کی نظر میں ماں کا کیا مقام رہ جاتا ہے ؟
ذرا سوچئیے اس عمل کا انجام کس قدر یہ خطر ناک ہو سکتا  ہے۔ بچے کے دل و دماغ پر اس سب کا کیا اثر پڑ سکتا ہے ۔۔۔؟!!
اکثر والدین اپنی معاملات میں ایسی شکایات اور عادات کی آبیاری کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا    کہ وہ کتنی سگین  قسم کی غلطی کر رہے ہیں  یعنی آپ کو اگر بچے کے باپ سے شکوہ کرنا ہے یا کوئی بھی ایسا سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ زیرِ بحث لانا ہی ہے، تو بچے کے سامنے مت کریں !!!
ورنہ  بچے کے دل پر اس سب کا کیا اثر پڑ سکتا ہے ہم سوچ ہی نہیں سکتے ۔۔۔بچہ اپنی طفلانہ سوچ کے مطابق خیال کرتا ہے کہ مجھے تو نہ ماں چاہتی ہے نہ ہی باپ۔۔۔ اور برا تو میں ہوں ہی لہذا میں کچھ اور ہی برائی کیوں نہ کرلوں ؟ ..........یعنی ایک غلطی ، ایک گناہ مزید سہی ۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے بھلا ۔۔۔۔؟
بچے کو سمجھانے کا تعلق ”حکمت “ سے ہوتا ہے ۔  بندے کو حکمت سے ، سمجھداری سے بچوں کے معاملے حل کرنے چاہیں۔
 بعض   لوگ بقیہ تمام دنیاوی معاملات میں بہت عقلمند اور زیرک  ہوتے ہیں لیکن اپنی اولاد اور رشتہ داروں یا دوستوں   کے متعلق اکثر و بیشتر شکوہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں ۔

ہمارا اکثر مئسلہ یہ ہی ہوتا ہے معاملات میں ، گھر میں کاروبار میں کیونکہ حکمت اور درگزر سے کام نہیں لیتے اس لیے صرف شکوہ شکایت کرتے پاۓ جاتے ہیں۔  حکمت اللہ دیتا ہے اور حکمت یہ ہے کہ ہمیں بندوں سے اپنے معاملات کس طرح رکھنے ہیں ان تمام احکام پر عمل کیسے کرنا چاہئیے جو خداوند تعالیٰ نے مخلوقات بارے فرماۓ ہیں ۔۔۔
ایسے تمام علوم بے کار و بے مایا ہیں جو آپ کو کچھ بھی نہیں سکھاپاتے پھر چاہے آپ کے کتنی ہی بڑی ڈگریاں کیوں نہ ہوں سب بیکار اور کاغذی کھیل ہیں  ۔۔۔۔- اس لئیے بہت ضروری ہے کہ ہمیں اپنا تجربہ اور مشاہدہ بڑھانا ہوگا کہ خدا کے پسندیدہ لوگ  مختلف معاملات کو کیسے حل کرتے ہیں۔ کس طرح سب سے پیش آتے ہیں ۔۔۔۔بہت لازم ہے   ..............دنیا میں  کامیاب صرف وہی نہیں جو مال و دولت کے انبار رکھتا ہو بلکہ وہ بھی ہے جو مفلس ہے مگر اپنے معاملات میں صالح ہے۔

مثال کے طور پر ایک سنجیدہ بیماری میں مبتلا مریض ہے مگر اس کے پاس آنے والے تمام لوگ اس مریض کو صبر و رضا پر پاتے ہیں اس کی زبان سے شُکر کے کلمات سنتے ہیں ۔ جبکہ کوٸی دوسرا مریض ایسا بھی ہوتا ہے جو ایک چھوٹے سے عارضے کو لے خدا سے شکوے شکایات میں مبتلا پایا جاتا ہے  ۔  
 اللہ تبارک و تعالی' نے بھی کچھ ایسے ہی فرمایا ہے -’’ میں اپنے مومن بندے کو آزماتا ہوں جو بیماری کی حالت میں میری شکایت نہیں کرتا،  پھر میں اس کو پہلے سے بھی زیادہ اچھا خون اور زیادہ بہترین  صحت دے دیتا ہوں - کیونکہ بیماری میں بندہ تو ایک تکلیف دہ دور سے  گزرتا ہے۔۔۔۔
روز اول سے ہی شکوہ شکایت عورتوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے ۔۔۔۔ یعنی ہمہ وقت کسی نہ کسی سے شکایت پالے  رکھتی ہیں ...ہمیں احسن طریقے سے بتانا ہوگا ، لکھ کر پہنچانا ہوگا کہ شکوہ شکایت کا یہ عمل ہرگز منافع بخش نہیں  بلکہ یہ انسان کی قدر و قیمت کھو دیتا ہے  اس عمل کو کسی نہ کسی طریقے سے ختم کرنا چاہئیے تا کہ مسلئے  حل ہوں نہ کے بگڑ جائیں

سب کا احتساب ضروری ۔کائنات ملک

سیاست ۔عدلیہ۔فوج۔بیوروکریٹ عام ادمی سب کا
احتساب ضروری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تحریر کائنات ملک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز دوستو ایک بات تو طے ہے
کہ جب تک ہم خود ہی ٹھیک نہیں ہونگے۔ اس وقت تک کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ۔ہمیں اگر سب کچھ ٹھیک کرنا ہے۔تو شروعات خود سے کرنی پڑے گی ۔دل پر پتھر رکھ کر اور ہمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اندر سے تبدیلی لانا پڑے گی ۔اپنی سوچ میں اپنے عمل میں ورنہ ساری زندگی تبدیلی کا راگ الاپتے الاپتے اس کائنات سے گزر جائیں گے ۔کبھی اکیلے بیٹھ کر سوچا کہ ہم لوگ ایسے کیوں ہیں ۔کیا ہمارے مفادات ایسے لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں ۔جنہوں نے ملک خدا داد کو بے دردی سے لوٹا ترقی سے روکے رکھا۔مگر خود ترقی کرتے کرتے۔کئی کئی مربعے زمینوں کئی کئی شادی حال کے مالک بن گئے۔ اور سوئٹزر لینڈ کی بینکوں،اور لندن کے فیلٹوں تک پہنچ گے۔ کیا ہماری تواقعات ان لوگوں سے وابستہ ہیں جنہوں نے عام ادمی کو تو پسماندہ دی ،مگر اپنے بچوں کو لندن ،امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لیے بھیج دیتے ہیں ۔ تو کیا ہم ان لوگوں کی شخصیت پرستی کی قید میں ہیں۔جن لوگوں کی وجہ سے غریب لوگوں کے بچے کچرے سے کھانا ڈھونڈ کر کھاتے ہیں ۔اور اکثر بھوکھے پیٹ ہی سوجاتے ہیں ۔۔مگر ان لوگوں کے کتے،گدھے، گھوڑے ،بادام ،شہد،کھاتے ہیں ۔ہمیں ان مظلوم لوگوں کے آنسو نظر کیوں نہیں اتے۔جو بھوک افلاس تنگدستی اور بے روزگاری سے تنگ اکر ایک روٹی چوری کرلے تو اسے ضمانت نہیں ملتی اور وہ کئی کئی سال جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑتے رہتے ہیں ۔اور اس کے مقابلے میں ایک امیر آدمی جس نے پورے ملک کو لوٹا ہو ۔اسے جیل کی کال کوٹھڑی سے بچایا جاتا ہے۔ گو اس میں کوئی شک نہیں پاک فوج بھی ایک ادارہ ہے پاک فوج سے ہم بہت پیار کرتے ہیں ۔مشکل کی گھڑی ہو پوری عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ۔مگر پاک فوج میں ماضی اور حال میں ایسے لوگ بے نقاب ہوے ہیں جو ملک کے خلاف دشمنوں سے ملکر جاسوسی کے کام سرانجام دینے پر مامور رہے جنہیں خود پاک فوجی عدالتوں نے سزائے موت دی۔اس ادارے کے ایک ان فرد کا بھی احتساب ہونا چاہیے ۔ کوئی ادارہ یا فرد واحد یا کوئی خاندان قانون سے زیادہ طاقتور نہیں ہونا چاہیے ۔چاہیے وہ عام بندہ ہو یا کوئی طاقت ور سیاستدان ۔بیورو کریٹ ہو یا ایک جرنیل جس کو سزائے موت کی سزا سنادی گئی ہو۔ اور اس پر یہ ظلم کہ اس پر یہ ردے عمل ہو کہ اس کی سزا کلادم قرار دے دی جاے۔اور ایسے مجرم کو جس کو عدالت تاحیات نااہل قرار دے کر مجرم بھی ثابت کرچکی ہو اسے پچاس روپے کے اسٹام پر چھٹی والے دن ضمانت منظور کرکے ملک سے باہر بھیج دیا جاے
۔غریب ادمی وہ بریف کیس نہیں دے سکتا۔اور اپنے لیے انصاف نہیں خرید سکتا اس لیے اسے بھیانک سزا ملتی ہے ۔ انصاف کی دیوی نے ترازو اس لیے پکڑا ہوا ہے۔کہ ایک طرف رقم ڈالو دوسری طرف اپنی مرضی کا فیصلہ لو۔افسوس بے گنہاہ غریب ادمی کے لیے ثبوت بناے جاتےہیں۔اور گنگار امیر ادمی کے لیے ثبوت مٹاے جاتے ہیں ۔ اور پھر ان غریب انسانوں کی غریب اور مجبوریوں کو خرید کر اپنے حق میں نعرے لگواے جاتے ہیں۔ایک طرف ہم نعرہ لگاتے ہیں احتساب سب کے لیے۔ ان میں سیاست دان بیوروکریٹ اور فوج بھی شامل ہے۔جب احتساب کا وقت اتا ہے۔تب ہم مخالفت شروع کردیتے ہیں۔
ان ادروں اور ان کرپٹ لوگوں کو مقدس گاے سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ وہ کرپٹ ادارے اور کرپٹ لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ہوے ہیں ۔ ایک دوسرے کا فائدہ اٹھاتے بھی ہیں اور وقت انے پر ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے بھی ہیں ۔
ہمارے ملک کا طاقتور طبقہ فوج بھی ہے ان کو بھی احتساب میں انا چاہیے۔ ہم خدا پرست کی بجاۓ، شخصیت پرست ہوچکےہیں۔ہم اپنی سوچ اور اپنی زبان کی بجاے ان کی سوچ سوچتے ہیں ۔ اوران کی زبان بولنا شروع کردیتے ہیں ۔ہم غلط کو غلط اور صیح کو صیح نہیں کہ سکتے۔ہم خوشامد میں اس قدر اگے نکل جاتے ہیں ۔ کہ اپنی شخصیت کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ سچ ہے ۔"جوبیج بویا جائے گا اسی کی فصل کاٹےگا"ہم کب شخصیت پرستی کے حصار سے نکل کر پاکستان کے بارے میں سوچیں گے وہ پاکستان جو ہم سب کا گھر ہے ۔وہ پاکستان جس کی وجہ سے ہماری عزت ہے۔وہ پاکستان جو ہماری شناخت ہے۔ہم کب پاکستان کی ترقی عوام کی بھلائی اور اپنے بچوں کی ترقی اور فلاح کا سوچے گے۔۔ پلز اپ تمام سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر اس طرف تو سوچ کر دیکھیں اخر کب تک ان کرپٹ لوگوں کی کرپشن کا دفاع کرتے رہیں گے۔جنہوں نے ہمارا پیسہ لوٹ کر باہر تجوریاں بھر رکھی ہیں ۔یہاں غریب عوام دو وقت کی روٹی۔روزگار اور ایک چھت کے لیے ترس رہی ہے۔اور ان لوگوں نے اپنے کئی کئی محل بنا رکھے ہیں ۔شاید انھیں اس عذاب کی خبر نہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ ۔یا ان لوگوں کو موت کا ڈر نہیں۔ کہ ان لوگوں نے مرنا ہی نہیں ۔یا پھر یہ اس دولت کے نشے میں مست ہیں۔کہ اللہ کو دولت دے کے خود کو بخشوا لیں گے۔۔یہ تووہ ظالم لوگ ہیں۔جو انصاف کے ساتھ بڑی صفائی سے نہ انصافی کرتے ہیں ۔یہ وہ ظالم لوگ ہیں جو سیاست کو عبادت کہ کرگنہاہ کماتےہیں۔ یہ وہ بے حس لوگ ہیں جو اپنے فائدے کے لئے لوگوں کو زندہ جلادیتے ہیں ۔یہ وہ ظالم لوگ ہیں جوغریب تک کا نوالہ تک چھین لیتے ہیں یہ وہ ظالم لوگ ہیں جو یتیموں کا حق کھاجاتے ہیں ۔کسی مظلوم کی آہ و بکا تک سنائی نہیں دیتی ان کویہ بہرے بن جاتے ہیں ۔یہ وہ پتھر دل لوگ ہیں۔کہ بیمار کی ادویات تک گم کردیتے ہیں ۔دیہاڑی دار کی دیہاڑی کھاجاتے ہیں۔ یہاں ہر ادارے میں انسان نما گدھ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔جو انسان ہوکر انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں ۔انسانوں کے خواب ۔خوائیش،ارمان ، زندگی تک

ختم کردیتے ہیں ۔ہمارا ملک وہ بدقسمت ملک ہے یہاں انسان تو بہت نظر اتے ہیں مگر انسانیت بہت ہی کم نظر آتی ہے۔شرفا تو بہت ہیں ۔مگر شریف بہت کم نظر اتے ہیں ۔یہاں حاجی تو بہت ہیں ۔مگر ایماندار بہت نظر اتے کم ہیں یہاں دین دار تو بہت ہیں ۔مگر پرہیزگار بہت کم نظر اتے ہیں ۔یہاں تعلیم یافتہ تو بہت ہیں مگر شعور والے بہت کم نظر اتے ہیں۔ یہاں بولنے والے تو بہت ہیں مگر سچ بولنے والے بہت کم مقدار میں ہیں ۔یہاں مسلمان تو بہت ہیں ۔مگر سچے مسلمان بہت کم نظر ایئں گے ۔یہاں انصاف کا پرچار کرنے والے بہت ہیں ۔مگر انصاف دینے والے بہت کم ہیں ۔بات انصاف اور برابری کی ہے۔ ہمارے ملک کی ہے، یہاں پر ایک جرنیل سے لیکر وزیراعظم ایک بیوکرٹ سے لیکر کلرک تک سب جوابدہ ہونے چاہیے ،اگر میں کہیں کام کرتی ہوں میرے امدن سے زائد اثاثہ جات ہیں۔تو مجھے بھی اس کا حساب ضرور دینا چاہیے۔ اگر ہمارا دامن صاف ہے تو میں کیوں ڈرنا چاہیے۔ مجھے کیوں چھپنا چاہیے ۔ اور مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں اتی جب کوئی سیاست دان ۔بیورو کریٹ ۔جج جرنیل کرپشن کرتا ہے۔تو کیا وہ ہم سے مشورہ کرکے کرتا ہے۔یا ہمارے سامنے کرتا ہے تو ہم سے پوچھ کر نہیں کرتا اپنی نسلوں اورکئی انے والی نسلوں کے لیے سوچتا ہے ۔لیکن جب کبھی اس سے اس کے اثاثہ جات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ اس کا حساب اس سے مانگا جاتا ہے ۔تو ہم لوگ کیوں ان کی کرپشن کا دفاع کرنے کے لیے اگے اجاتے ہیں ۔ کیا جو لوگ ان کی کرپشن کا دفاع کررہے ہوتے ہیں۔ وہ بھی ان جیسے ہوتے ہیں ؟ یا وہ بھی ان کی کرپشن میں حصہ دار ہوتے ہیں ؟ ۔یا پھر ان کو دیہاڑی دار مزدور کے طور پر ملازم رکھا جاتا ہے؟ جب ہم کہتے ہیں کرپشن سے پاک پاکستان ۔ تو قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے ۔چاہیے وہ کمزور طبقہ ہو یا طاقت ور طبقہ سب کو یکساں برابری کی سطح پر انصاف حاصل ہو۔تو پھر جب کسی کمزور طبقہ پر قانون کی گرفت پڑتی ہے۔ تو ہم سب خاموش تماشائی کیوں بنے ہوتے ہیں۔اس وقت ہماری انسانیت کیوں نہیں جاگتی۔ہماری انسانیت اور ہمدردیاں صرف مخصوص طبقے کے لیے کیوں ہوتی ہیں؟ ۔جب کوئی غریب ادمی کسی چھوٹے سے جرم میں پکڑا جاے تب تو ہم کہتے ہیں۔ جس نے جوجرم کیا وہ بھگتے ۔لیکن جب کسی پیسے والے پر قانون ہاتھ ڈالتا ہے ۔تب ہماری اس سے پہلے کیوں چیخیں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں ۔اس کو بے گنہاہ اور معصوم ثابت کرنے کی ہمارے پاس ایک ہزار دلیلیں نکل کر آرہی ہوتی ہیں۔ ہم غضبناک ہوے محاظ سنبھالے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ہمارا دن کاچین رات کا سکون سب ختم ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے سامنے سب کچھ عیاں ہوتا ہے ۔ اور ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ خدا کے لیے دوغلے پن سے چھٹکارا پاو اپنا نقاب اتارو ۔ اپنی آنکھیں کھولو اپنے اندر جھانکو۔رزق۔عزت۔ زندگی اور موت دینے والا میرا رب رحیم ہے۔ اس پر بھروسہ اور توکل کرو ۔اپنے ضمیر کی آواز سنو ۔کل کو اپ نے اپنے خدا کے حضور جانا ہے اپنے کیے کا جوابدے ہونا ہے۔کسی کے لیے اپنی قبر مت خراب کرو اپ نے اپنی قبر میں جانا ہے ۔اپنے اپنے کیے کا حساب دیناہے۔اپ نے ان پیسوں والوں کا حساب نہیں دینا ۔اور نہ ہی قیامت کے دن پیسے والے اکر اپ کے حق میں گواہی دیں گے ۔نہ ہی ان لوگوں نے خدا سے اپ کے لیے سفارش کرنی ہے ۔ یہ تو سب گمہراہ ہوچکے ۔تم ہی بعض اجاو خدا کےدیے ہوے راستے پر چلو۔خدا کے لیے جس نے جو جو جرم کیا ہے ان کو خود کو حساب دینے دو ۔اگر وہ بے قصور ہونگے ۔تو باعزت بری ہونگے۔اگر وہ گنہگار ثابت ہوے تو اپنے حصے کی سزا بھگتےگے۔اللہ اللہ خیر صلہ ۔ ان لوگوں کو خود بولنے دو۔اپ ان کی زبان مت بنو۔ان لوگوں کو اپنا کندھا مت استعمال کرنے دو۔ وہ اپنا حساب خود دیں ہم لوگ کیوں ان کا ایدھن بنیں۔ان کو احتساب سے بچاتے ر ہیں ۔۔اس لیے یہاں کبھی کچھ ٹھیک نہیں ہوسکتا ۔جب تک ہم خود ٹھیک نہیں ہونگے ۔پھر امید بھی رکھتے ہیں۔یہاں پر سب ٹھیک ہو۔اس طرح تو کبھی قیامت تک کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ رہے جاے گی ہمارے ساتھ تو ہماری رسوائی۔۔۔

جمعہ، 5 جون، 2020

سانحہ دنک کےمرکزی ملزم گرفتار۔/رپورٹ رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان

سانحہ ڈنک کے مرکزی ملزم گرفتار۔/رپورٹ رحمت اللہ بلوچ نمائندہ روح عصر بلوچستان

  سانحہ ڈنک کے مرکزی ملزم سمیر سبزل کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔
تفصیلات کے مطابق 26 مئی کو کیچ کے مرکزی شہر تربت ڈنک کے مقام پر ڈکیٹی کے دوران مزاحمت پر شہید ہونے والی ماں کے قتل اور بیٹی کو زخمی کرنے کی جرم میں ملوث گروہ کے سرغنہ سمیر سبزل کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے

واضح رہے سانحہ ڈنک کے واقعے کے بعد احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں نے پورے بلوچستان کو اپنے لپیٹ میں لیا ہے اس سانحہ کے خلاف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ تربت گوادر خاران وڈ خضدار سوراب اور دیگر شہروں میں تمام مکاتب فکرسیول سوسائٹی خواتین طالب علموں نے جلوس ریلیاں نکالیں نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک سینیٹر اکرم دشتی ماہر قانون دان ناظم الدین و دیگر نے ڈنک واقعہ کے خلاف تربت میں سب سے بڑی ریلی نکالی گئی ریلی کی شرکاء سے نیشنل پارٹی کے مرکزی عہدیداروں نے خطاب میں کہا کہ جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوتے نیشنل پارٹی احتجاج جاری رکھے گی اور ملزمان نے روایت کو پامال کیا ملزمان ایک منصوبے کے تحت حالات خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کو بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے جو یو آئی سوراب کے صدر خالد ولید سیفی نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف منظم عوامی تحری کی ضرورت ہے روایتی مزمت ناکافی ہیں انھوں کہا کہ ایک ٹولہ دانستہ طور امن و امان خراب کرنے کی در پہ ہے یہ چادر چاردیواری کی پامالی ناقابل برداشت ہے بی این پی کی کارکنان نے بھی ریلی نکالی عبداللطیف قلندارانی نے خطاب میں کہا کہ گھر میں گھس کر خواتین اور بجوں پر فائرنگ کرنا افسوس ناک واقعہ ہے یہ پہلا واقعہ نہیں بلوچستان ایسے واقعات پہلے بھی ہوئے مگر بلوچستان حکومت ہر وقت ایسے واقعات پر خاموش تماشائی ہے حکومت ناکام ہوچکی ہے بلوچستان حکومت کو مزید حکمرانی کی حق حاصل نہیں واضع رہے کہ یہ واقعہ تربت کے علاقہ ڈنک میں پیش آیا رات کے وقت کچھ عناصر نے گھر میں گھس کر فائرنگ کی واقعہ میں گودی ملک ناز بلوچ شہید جبکہ چھوٹی بچی برمش زخمی ہوئی تھیں برمش علاج کے بعد صحت یاب ہوکر گھر پہنچ گئیں ہیں اہل علاقہ اس مسلہ کے خلاف مزید لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف ہیں

جام پور وگردنواح میں تمباکو پیسنے کے سکوٹے عوام کیلئے وبال جان ۔(تحریر کائنات ملک )

جام پور وگردنواح میں تمباکو پیسنے کے سکوٹے عوام کیلئے وبال جان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(تحریر کائنات ملک )


تحصیل جام پور پاکستان میں تمباکو کی کاشت اور کاروبار کے لحاظ سے ایک منفرد حیثیت کی حامل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ افسوس ناک عمل یہ ہے کہ جتنے بھی تمباکو کے کارخانے قائم ہیں وہ انتظامیہ کی ملی بھگت کی وجہ سے آبادی میں ہیں جب یہ کارخانے کام کرنے لگتے ہیں تو نزدیکی آبادی ان سے نکلنے والے مضر صحت گردوغبار سے مختلف بیماریوں جن میں ٹی بی ۔دمہ ۔کھانسی ۔سانس کی تکالیف ۔ الرجی سمیت دیگر بیماریوں کی وجہ سے کئی لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔جام پور تحصیل میں لاکھوں ایکڑر قبہ پر کاشت کی جانے والی تمباکو کی فصل علاقائی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔اور اس کے کاروبار سے مقامی کاشتکار ، زمیندار، دوکاندار، سکوٹہ مالکان ، مزدور ، کھاد اور زرعی ادویات سمیت لاکھوں لوگوں کا روزگار وا بستہ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کاروبار سے 27ارب روپے کا مارکیٹ میں لین دین ہوتا ہے۔ جام پور میں تمباکو کی فصل پچھلے 70سالوں سے کاشت کی جارہی ہے۔مگر آج تک کسی ادارے نے اسے مضرِ صحت قرار ۔
نہیں دیا۔تمباکو کی فصل کاشت کرنے سے پہلے درج زیل باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔1۔تمباکو کے بیج کو بوائی سے پہلے تیزدھوپ میں اچھی طرح خشک کیا جاتا ہے 2۔کاشت ہونے والی زمین کو اچھی طرح سے ہل چلا کر بالکل نرم کیا جاتاہے اور زمین کو اچھی طرح دھوپ لگوا کر خشک کی جاتی ہے 3۔ تمباکو کی پنیری لگاتے وقت پودوں کے درمیان فاصلے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ تاکہ فصل میں اگ انے والی جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے میں آسانی رہے ۔اس سلسلے میں تین سے چار فٹ چوڑائی آٹھ سے بارہ فٹ لمبائی تک کا فاصلہ رکھا جاتا ہے ۔تمباکو کی پنیری کو ایک سے دو دن کے وقفے سے بویا جاتا ہے۔تمباکو کی پنیری دس اکتوبر سے دس نومبر تک بوائی جاتی ہے۔اور اس کی کاشت پندرہ جنوری تک مکمل کی جاتی ہے۔تمباکو کی تیار کھڑی فصل ساٹھ ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی بیگہ کے حساب سے فروخت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پیسا ہوا تمباکو پانچ ہزار سے آٹھ ہزار روپے فی من بکتا ہے اور اس کی ردی ایک ہزار سے پندرہ سوروپے فی من فروخت کی
جاتی ہے۔ اس تمباکو کے خریدار بلوچستان اور کے پی کے سے اتے ہیں ۔ اس وقت جام پور میں 100 کے قریب تمباکو کے سکوٹے غیر قانونی طور پر موجود ہیں ۔جام پور شہر ڈیرہ روڈ ۔چوٹی روڈ داجل روڈ ،راجن پور روڈ ، وگرد ونواح میں قائم تمباکو کے سکوٹہ عوام کے لئے وبال جان بن گئے ہیں جن کی گرد سے پورے علاقے کی فضاء الودہ ہوجاتی ہے اور تعفن سے سینکڑوں شہری روزانہ کی بنیاد پر مختلف اقسام کی بیماریاں پھیل چکی ہیں جن میں کینسر ،گلے،ناک۔ آنکھ
سانس، ٹی بی ،دمہ ،پھیپھڑوں، الرجی، گردوں ہیپاٹائٹس سی، بی جلد کے امراض کی بیماریاں شامل ہیں لوگوں کی بہت بڑی تعداد ان بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ تمباکو کی کاشت سے زیر زمین پینے کا میٹھا پانی خراب اور زہریلہ ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ غازی چوک سے جام پور پائی پاس تک سفر کرنا ناممکن بن چکاہے ۔ روزانہ درجنوں مسافروں کی حالت خراب ہوجاتی ہے۔ محکمہ ماحولیات کے افسران اور ضلعی انتظامیہ، تحصیل انتظامیہ، نے ماہانہ لاکھوں روپے  کی مبینہ منتھلی کے عوض خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ وہ ان تمباکو کے سکوٹہ جات کو آبادی سے باہر منتقل کراے تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے کر ان موذی بیماریوں سے بچ سکیں۔۔

منگل، 2 جون، 2020

2 جون سقوط ملتان #BlackDay (تحریر کائنات ملک )


2 جون سقوط ملتان
#BlackDay
(تحریر کائنات ملک )
قلعہ ملتان جسے قلعہ کہنہ بھی کہا جاتا ہے، جو برصغیر پاک و ہند کے طرز تعمیر اور دفاعی لائحہ عمل کا شاہکار ۔ یہ قلعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں ایک پہاڑی پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ یہ قلعہ، برطانوی سامراجی دور میں برطانوی افواج کے ہاتھوں تباہ ہوا۔
یہ قلعہ اپنے اندر موجود دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ طرز تعمیر میں بھی الگ مقام رکھتا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق، اس قلعہ کی دیواریں تقریباً 40 سے 70 فٹ (21 میٹر) اونچی اور 6،800 فٹ (2 کلومیٹر) کے علاقے کا گھیراؤ کرتی تھیں۔ اس کی دیواریں برج دار تھیں۔ اور اس کے ہر داخلی دروازے کے پہلو میں گشتی اور حفاظتی مینارے تعمیر کیے گئے تھے۔ اس قلعہ کے چار داخلی دروازے تھے، جن میں قاسمی، سکی، حریری اور خضری دروازے شامل ہیں۔ قلعے کی حفاظت کے لیے اس کے ارد گرد 26 فٹ گہری اور 40 فٹ چوڑی خندق بھی کھودی گئی تھی، جو بیرونی حملہ آوروں کو روکنے میں مددگار ثابت رہتی تھی۔
قلعہ کی بیرونی فصیلوں کی حصار میں اندر کی جانب ایک مورچہ نما چھوٹا قلعہ تعمیر کیا گیا تھا، جس کے پہلو میں 30 حفاظتی مینار، ایک مسجد، ہندوؤں کا مندر اور خوانین کے محل تعمیر کیے گئے تھے۔ 1818ء میں رنجیت سنگھ کی افواج کے حملے میں اندرونی چھوٹے قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔
اس قلعہ کو راجپوتوں کی شہنشاہی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔
2 جون 1818 کو پنجاب کے پنجابی حکمران رنجھیت سنگھ نے ملتان پر اپنی افواج کے ساتھ حملہ کردیا اس حملے میں ہزاروں بےگناہ معصوم سرائیکیوں کو شہید کر دیا گیا۔اس حملے کا مقصد ملتان کی سرائیکی عوام کو سکھ حاکمیت قبول کرنا مقصود تھی۔ مگر سرائیکی عوام نے مرنا قبول کیا اور سکھ حاکم کی اطاعت قبول نہیں کی ۔
اس حملے میں نواب آف ملتان مظفر خان اور ان کے سات بیٹے بھی لڑتے ہوئے شہید ہوگئے .
ملتان کی جنگ درانی سلطنت کے ایک وزیر اور سکھ سلطنت کے مابین لڑائی تھی۔ جو مارچ 1818 میں شروع ہوئی اور 2 جون 1818 کو ہی ختم ہوگئی۔
رنجھیت سنگھ کی فوجیوں نے ملتان پر حملہ کرکےقلعے پر قبضہ کر لیا ۔ دو جون کا دن تاریخی اہمیت کا اس لیے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ دو جون کا دن
’’ سقوط ملتان ‘‘ اور نواب مظفر خان شہید کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور آج کے دن کو سرائیکی عوام اس دن کی عظیم قربانی کی یاد کے طور پر مناتی ہے ۔پورےسرائیکی خطہ میں سیمینار اور ریلیوں جلوسوں جلسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اور مقررین نواب مظفر خان کی عظیم لازوال قربانی پر اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ اور ظالم حاکم رنجیت سنگھ کے ظلم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ نواب مظفر خان بیرونی جارحیت کے خلاف مزاحمت اور دھرتی کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے قربان والے عظیم انسان اور ملتان سرائیکی عوام کےہیرو ہیں ۔ آج سے تقریبا 200سو سال قبل تخت لاہور کے حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجیوں نے ملتان پر اس نیت سےحملہ کیا تھا ۔ کہ نواب مظفر خان سکھ دربار کی حاکمیت قبول کر لیں لیکن ملتان کے بیٹے نواب مظفر خان نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حاکمیت قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجیوں کا بھرپور انداز میں چار ماہ تک خوب مقابلہ کیا ۔ تاریخ میں اسے
’’ جنگ ملتان ‘‘ کے نام سے لکھا گیا ہے ۔ چار ماہ تک جاری رہنے والی یہ جنگ مارچ 1818 ء میں شروع ہوئی اور 2 جون 1818 ء کو ختم ہوئی ۔
مہارا رنجیت سنگھ کی فوجیوں نے قلعہ ملتان پر قبضہ کر لیا ۔اور اس لڑائی میں نواب مظفر خان اپنے سات بیٹوں اور دیگر عزیز و اقارب سمیت شہید
ہو گئے ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ آج کل پنجابی قوم پرستوں کے ہیرو ہیں اور نواب مظفر خان سرائیکی قوم پرستوں کے لیے وطن پرست اور دھرتی سے محبت کی علامت ہیں ۔اور سرائیکی دھرتی کے لوگ ہر سال دو جون کو ان کی دھرتی ماں سے محبت کی لازوال قربانی پر یہ دن بڑے جوش وجزبے سے مناتی ہے۔ جو انسان اپنی دھرتی ماں کے لیے اپنی اور خاندان والوں کے ساتھ جان تک کی بازی لگادے اصل ہیرو تو وہ کہلاتا ہے۔اور تاریخ میں اس کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے ۔نواب مظفر خان نے ایسا کرکے دکھایا۔ حالانکہ تاریخ توحملہ آوروں ، نو آبادیوں اور سامراجیوں نے خود مرتب کی ہے ۔ انہوں نے ’’ حق ‘‘ رائج کرنے کے لیے دنیا کو تاراج کیا اور مزاحمت کرنے والے مقامی باشندوں کو بدبخت اور گمراہ قرار دے دیا ، اس کے باوجود تاریخ کے اصل ہیروز حملہ آور نہیں بلکہ مزاحمت کار
اور دھرتی پرقربان ہونے والے لوگ ہیں ۔ نواب مظفر خان افغان سدوزئی اور غیر مقامی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نواب مظفر خان نے ملتان کا دفاع اپنے خون سے کیا ۔ انہوں نے اپنے سات بیٹے سمیت اپنا پورا خاندان اس دھرتی پر قربان کردیا ۔ دھرتی کی مٹی کو اپنے اور اپنے خاندان کے خون سے رنگین کر دیا ۔ ملتان کے لوگوں نے اس جنگ میں نواب مظفر خان کا ساتھ دیا ۔ نواب مظفر سے زیادہ ’’ دھرتی کا مخلص بیٹا اور کون ہو گا ۔ سلطنت ملتان کے لوگ تو آج تک تخت دہلی کے حکمران سلطان غیاث بلبن کے بیٹے شہزادہ محمد کے احسان مند ہیں ۔ شہزادہ محمد بھی مقامی نہیں تھا اور وہ 13 ویں صدی میں کچھ عرصے کے لیے ملتان کا گورنر بن کر آیا تھا ۔ ان کے والد نے انہیں ملتان پر تاتاریوں ( منگولوں ) کے حملے روکنے کے لیے گورنر بنا کر بھیجا تھا ۔ تاتاری ملتان اور ارد گرد کے علاقوں پر حملہ آور ہو کر وحشیانہ انداز میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے رہتے تھے۔ اور یہاں کا سب کچھ لوٹ کر چلے جاتے تھے ۔ شہزادہ محمد تاتاریوں سے لڑتا ہوا شہید ہو گیاتھا۔ اور آج تک وہ اس علاقے کی شاعری اور ادب میں وطن پرستی اور مزاحمت کا استعارہ ہیں ۔ رنجیت سنگھ کی فوجیں پہلے بھی حملہ آور ہوئی تھیں اور انہوں نے ملتان میں لوگوں کا قتل عام کیا تھا ۔ اور اس غارت گری کو روکنے کے لیے نواب مظفر نے تخت لاہور کی اطاعت قبول کرنے اور تاوان دینے سے انکار کیا تھا ۔ جس کے نتیجے میں یہ" جنگ ملتان" مسلمانوں اور سکھوں و ہندؤوں کے درمیان تھی یا مقامی یا غیر مقامی لوگوں کے درمیان تھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ نواب مظفر کی شہادت کے بعد لاہور اور ملتان کے درمیان محبت کا جو رشتہ قائم تھا وہ اس حملے اور نواب مظفر خان کی شہادت کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ماضی کی طرح اج بھی سرائیکی عوام تخت لاہور کی حکمرانی اس لیے بھی قبول نہیں کرتے کہ اج بھی اس سرائیکی دھرتی کے ساتھ سوتیلہ سلوک کیاجارہا ہے۔ اس بات کے قطع نظرکہ ابوالفضل نے ’’ آئین اکبری ‘‘ میں ملتان کو ایک بہت بڑی اقلیم اور ایک الگ جغرافیائی وحدت قرار دیا ۔ تاریخ میں یہ الگ سلطنت ہونے کے بارے میں کئی ثبوت موجود ہیں ۔ ایک طرف ٹھٹھہ ، تو دوسری طرف فیروز پور ، جیسلمیر اور کیچ مکران تک کے علاقے اس سلطنت میں شامل تھے ۔ نواب مظفر خان ، جنہوں نے بیرونی جارحیت کو للکارا اور اپنی اور اپنے سات بیٹوں کی زندگیاں اس دھرتی پرقربان کر دیں ۔
جب بھی کسی قوم کو بیرونی جارحیت کے خلاف دو ٹوک اور جرأت مندانہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا ، اسے یقینا

نواب مظفر خان شہید جیسے لوگوں کی کمی ضرورت محسوس ہو گی۔۔۔

پیر، 1 جون، 2020

سانگھڑ /ظفر اعوان سے / کشمیر باڈر پر شہید ہونے والے فوجی جوان کاشف جٹ کی نماز جنازہ چک نمبر 23 جمڑاؤ کے قبرستان میں فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی کردی گئی شہید کے جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا

سانگھڑ کشمیر باڈر پر شہید ہونے والے فوجی جوان کاشف جٹ کی نماز جنازہ چک نمبر 23 جمڑاؤ کے قبرستان میں فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی کردی گئی شہید کے جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا
نماز جنازہ میں سیاسی سماجی اور اہل علاقہ  نے بڑی تعداد میں شرکت  کی شہید کے جسد خاکی کو پاک آرمی کے جوانوں نے سلامی دیتے ہوئے سپردے خاک کیا
اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی شہید کے ورثاء کو اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کرتے ہوئے کہا کاشف جٹ نوجوان بہادر سپاہی تھا ملک و قوم کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دے دی